ایران جنگ: خلیجی ممالک میں سوشل میڈیا پوسٹس کا نتیجہ قید، شہریت کی منسوخی یا ملک بدری کی شکل میں کیوں نکل رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
- مصنف, بی بی سی عربی
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
دو ماہ قبل ایران کی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد سے ہی خلیجی ریاستوں میں ایسے افراد کو گرفتاری، مقدمات اور ملک بدری کا سامنا ہے جن پر قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ سمجھے جانے والے مواد کی آن لائن اشاعت کا الزام ہے۔
حکام نے اس سلسلے میں نئے احکامات جاری کیے، عدالتی اپیل کے طریقوں کو محدود کیا اور موجودہ قوانین کا سختی سے اطلاق کیا ہے جن کے تحت بعض افراد کی شہریت تک ختم کر دی گئی ہے۔
69 افراد سے شہریت واپس لیے جانے کے بعد، بحرین میں وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ ’بحرینی شہریت اُن افراد سے واپس لے لی گئی ہے جن پر ایران کے جارحانہ اقدامات کی تعریف یا حمایت کرنے یا بیرونی فریقوں سے روابط رکھنے کا الزام ہے۔‘
سکیورٹی فورسز نے سوشل میڈیا صارفین اور ایکٹوسٹس کی نگرانی میں اضافہ کر دیا ہے۔ بین الاقوامی اور مقامی انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات رائے اور اظہارِ خیال کی آزادی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہیں۔
بحرین اور کویت جیسے ممالک میں گرفتار ہونے والوں کا تعلق مختلف شعبہ ہائے زندگی سے ہے۔ ان میں صحافی، انفلوئنسرز، انسانی حقوق کے کارکن اور عام افراد شامل ہیں۔
حکام کے مطابق ان پر عائد الزامات میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینا، جھوٹی خبروں کی اشاعت، موبائل فون کے غلط استعمال اور ریاستی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے دیگر اقدامات شامل ہیں۔
چند خلیجی ممالک نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں اپنی سرزمین پر ایرانی حملوں سے متعلق ویڈیوز یا معلومات کی فلم بندی اور اشاعت کے خلاف انتباہ جاری کیا تھا۔
بحرین اور کویت میں گرفتار افراد کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انھیں مقدمے کی منصفانہ کارروائی سے محرومی یا سزا یافتہ افراد کی شہریت منسوخ کیے جانے جیسے من مانے اقدامات کا خدشہ ہے۔
یہ خدشات کویت میں شہریت کے نئے قانون اور بحرین میں حالیہ شاہی فرمان کے بعد مزید بڑھ گئے ہیں۔
ایک کویتی ایکٹوسٹ، جس نے بی بی سی سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، کے مطابق حکام نے آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے جنگی نوعیت کے اقدامات متعارف کرائے ہیں۔
ان کے مطابق اس میں بعض سڑکوں پر شناختی چوکیاں شامل ہیں، جہاں اہلکار موبائل فون کی تلاشی لیتے اور پیغامات، تصاویر اور وائس نوٹس چیک کرتے ہیں۔
کویت میں درجنوں کو سزائیں، احمد شہاب الدین سمیت نو کی بریت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سوشل میڈیا کے مبینہ غلط استعمال کی تحقیقات کے سلسلے میں کئی ہفتوں کی حراست کے بعد، کویت کی سکیورٹی کورٹ نے 23 اپریل کو 135 افراد کے خلاف فیصلے سنائے۔
17 ملزمان کو سوشل میڈیا سے متعلق مقدمات میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی جبکہ بیرونِ ملک مقیم ایک ملزم کو غیر حاضری میں مجموعی طور پر 10 سال قید کی سزا دی گئی۔
عدالت نے 109 ملزمان کو سزا دینے سے انکار کرتے ہوئے انھیں بعض پیغامات حذف کرنے کا حکم دیا جبکہ نو افراد کو بری کر دیا گیا۔ ان تمام افراد پر فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی اور جھوٹی خبریں پھیلانے سمیت مختلف الزامات عائد کیے گئے تھے۔
بری ہونے والوں میں کویتی نژاد امریکی صحافی احمد شہابالدین بھی شامل تھے، جنھیں مارچ کے اوائل میں کویت میں اہلِ خانہ سے ملاقات کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
وہ ایک ایوارڈ یافتہ مصنف ہیں اور کئی بین الاقوامی میڈیا اداروں کے لیے کام کر چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان پر جھوٹی معلومات پھیلانے، قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور موبائل فون کے غلط استعمال کے الزامات تھے۔
ان کی بہنوں لارا اور لُما کے قانونی مشیر کیولیفِن گیلاگر نے ایک بیان میں کہا ’ہمیں اطمینان ہے کہ 52 دن حراست میں رہنے کے بعد احمد کو تمام الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔‘
شہریت کی منسوخی کے خدشات

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مارچ 2026 میں کویت نے ایک فرمان جاری کیا جس کے تحت فوج کو کمزور کرنے یا ’جان بوجھ کر اس پر اعتماد کو مجروح کرنے‘ والے مواد کی اشاعت پر تین سے دس سال تک قید اور پانچ سے دس ہزار کویتی دینار جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
حکومت نے قومی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے محمود شلابی کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باعث وسیع پیمانے پر خودساختہ سنسرشپ پیدا ہو گئی ہے، جس سے آزاد صحافت مزید مشکل ہو گئی ہے۔
بی بی سی نیوز نے ایک کویتی شہری سے بات کی جن کے رشتہ دار کو جنگ کے آغاز میں حراست میں لیا گیا تھا۔
ان کے مطابق گرفتاریاں سوشل میڈیا پر شائع یا پسند کیے گئے مواد کی بنیاد پر ہو رہی ہیں، جن میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت پر اظہارِ افسوس بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر زیرِحراست افراد کا تعلق شیعہ برادری سے ہے، جس کے باعث بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر رائے کے اظہار سے گریز کرنے لگے ہیں۔
اسی ذریعے کے مطابق بعض زیرِ حراست افراد کو کویت کی مرکزی جیل منتقل کیا گیا، جن میں حاملہ خواتین بھی شامل تھیں۔
ان کے مطابق غیر کویتی قیدیوں کو ملک بدری کے مراکز میں منتقل کیا گیا، تاکہ ایران جنگ کے باعث معطل ہونے والی فضائی سرگرمیوں کے بحال ہوتے ہی انھیں واپس بھیجا جا سکے۔
کویت میں شہریت کے نئے قانون کی شق 13 کے تحت قومی سلامتی، خدا یا امیرِ مملکت کی توہین کے علاوہ ملک کے سیاسی، سماجی اور معاشی نظام کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے متعلق جرائم ثابت ہونے کی صورت میں شہریت واپس لی جا سکتی ہے۔
شق 14 میں حکومت کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی شہری کی شہریت ختم کر دے اگر وہ کسی ایسی ریاست کے مفاد میں کام کرتا پایا جائے جو کویت سے جنگ کر رہی ہو یا اس سے سیاسی روابط منقطع کر دیے گئے ہوں۔
بی بی سی نیوز نے حراست میں لیے جانے کی وجوہات اور حالات پر کویتی حکام سے مؤقف لینے کی بارہا کوشش کی، مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

،تصویر کا ذریعہKuwait PM's office / Anadolu via Getty Images
بحرین میں 69 افراد کی شہریت منسوخ
کویت میں گرفتاریوں کے ساتھ ہی بحرین میں بھی اسی نوعیت کے واقعات پیش آئے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق بہت سے افراد کو اظہارِ رائے کے حق کے استعمال پر، ’جھوٹی خبروں‘ یا سوشل میڈیا کے غلط استعمال جیسے الزامات کے تحت مقدمات کا سامنا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ پر کام کرنے والے تنظیم کے محقق محمود شلابی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سارے عمل میں قانون کی پاسداری کے بارے میں ’شدید خدشات‘ پائے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’بحرین میں کچھ زیرِ حراست افراد کو وکیل تک رسائی نہیں دی گئی‘ جبکہ کویت میں قوانین میں حالیہ تبدیلی سے عدالتی سطح پر اپیل کا ایک موقع عملی طور پر ختم ہو گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بحرینی حکام نے 27 اپریل کو اعلان کیا کہ 69 افراد کی شہریت اس بنیاد پر منسوخ کی جا رہی ہے کہ وہ ’ایران کے دشمنی پر مبنی اقدامات کی تعریف یا حمایت‘ یا بیرونی فریقوں سے روابط میں ملوث تھے اور یہ تمام افراد غیر بحرینی نژاد تھے۔
بحرینی وزارت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بحرین میں شہریت کے قانون کی شق 10 کے تحت شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ کی شاہی ہدایات کی روشنی میں کیا گیا۔ یہ شق ’مملکت کے مفادات کو نقصان پہنچانے‘ یا ریاست سے وفاداری کی ذمہ داری ادا نہ کرنے جیسے اقدامات پر شہریت واپس لینے کی اجازت دیتی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں بحرین انسٹی ٹیوٹ فار رائٹس اینڈ ڈیموکریسی میں ایڈوکیسی کے ڈائریکٹر سید احمد الواداعی نے اس اقدام کو ’جبر کے ایک خطرناک دور کا آغاز‘ قرار دیا، ’جس کے نتائج ان کے بقول ’نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہX
’گرفتاریاں صرف مجرمانہ اقدامات کی بنیاد پر‘
بی بی سی نیوز کو فراہم کردہ بیان میں حقوقِ انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد بحرین میں جبر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں پرامن احتجاج، جنگ مخالف اظہارِ خیال اور آن لائن مواد کی بنیاد پر گرفتاریاں شامل ہیں۔
ایک بحرینی کارکن نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک لگ بھگ 304 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں خواتین، نابالغ اور غیرملکی شہری بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے کچھ کو ملک بدر کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔
بی بی سی نیوز نے بحرینی حکام سے ان اعدادوشمار کی تصدیق کے لیے رابطہ کیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔
کارکن کے مطابق، مقدمات میں سوشل میڈیا کا استعمال اور قومی سلامتی سے متعلق الزامات جیسے غیر ملکی اداروں کے ساتھ بات چیت، معلومات یا کسی مقام کا پتا بھیجنا اور جھوٹی سمجھی جانے والی خبریں نشر کرنا شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بحرینی حکام نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ گرفتاریاں صرف اور صرف مجرمانہ اقدامات کی بنیاد پر کی گئی ہیں۔
ایک بیان میں سرکاری ترجمان نے کہا کہ سلامتی اور استحکام برقرار رکھنے اور اُن کے بقول ’ایران کی کھلے عام جارحیت‘ کا مقابلہ کرنے کی کوششوں کے تحت، متعدد افراد کو ایسے اقدامات کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے جو بحرینی قوانین کے تحت جرم قرار دیے گئے ہیں۔
ان میں کسی غیر ملکی ریاست یا ایرانی پاسدارانِ انقلاب جیسی اُن تنظیموں سے رابطہ کرنا جنھیں ترجمان کے مطابق دہشت گرد گروہ قرار دیا گیا ہے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آن لائن جھوٹی یا گمراہ کن معلومات پھیلانا بھی شامل ہے، جو ان کے بقول ’ایرانی جارحیت اور اس کی دہشت گرد گروپوں کی حمایت کے مترادف ہے۔‘
یہ پیش رفت ایک وسیع تر علاقائی تناظر میں سامنے آ رہی ہے، جہاں کئی خلیجی ممالک نے مبینہ طور پر حملوں کی منصوبہ بندی اور اندرونی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے الزامات میں خفیہ گروپوں کی گرفتاریوں کا اعلان کیا ہے۔
حکام کے مطابق ان میں سے بعض کا تعلق ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے جوڑا گیا ہے جبکہ دیگر کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ لبنان کی حزب اللہ سے وابستہ تھے۔























