بکری چوری کا مبینہ واقعہ جو ’48 ہلاکتوں‘ کا باعث بنا: سندھ میں خونی دشمنی کا تصفیہ اور جرگہ سسٹم پر اُٹھتے سوال

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، شکارپور
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
ایک کمرے پر مشتمل مدرسے میں دو درجن کے قریب بچے قرآن پڑھ رہے ہیں، اِسی مدرسے سے متصل سکول کی دو عمارتیں ہیں جن میں سے ایک تو کھنڈر بن چکی ہے جبکہ دوسری غیر آباد ہے اور یہاں موجود ویرانی کی وجہ دو مقامی برادریوں کے درمیان کئی برسوں سے چلا آ رہا تنازع تھا، جس نے یہاں کے سکولوں کو بھی ویران کر دیا تھا۔
شمالی سندھ کے ضلع شکار پور میں گذشتہ نو برسوں سے ’جونیجو‘ اور ’کلہوڑا‘ برادریوں کے درمیان تنازع جاری تھا جس میں حکام کے مطابق مجموعی طور پر 48 افراد جان کی بازی ہارے۔
اس عرصے میں دونوں برادریوں کے لوگوں نے اپنے اپنے علاقوں کو دوسروں کے لیے ’نو گو زونز‘ میں بدل دیا تھا اور اس صورتحال کے باعث اس علاقے میں موجود سکول بھی متاثر ہوئے اور بلآخر ویران ہو گئے۔
گذشتہ ماہ ان دونوں فریقوں نے ایک جرگے کے ذریعے اپنے معاملات کا تصفیہ کر لیا ہے، تاہم عدالتوں کے ہوتے ہوئے اور قانونی قدغن کے باوجود جرگے کے انعقاد پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
گذشتہ نو سال سے جاری اسی لڑائی اور کشیدگی نے اس برادریوں اور یہاں بسنے والے دیگر افراد کی زندگی کیسے اذیت ناک بنائے رکھی، یہ جاننے کے لیے بی بی سی نے گذشتہ دنوں اندرون سندھ کا سفر کیا۔
’بکری کی چوری‘ سے شروع ہونے والا تنازع

جلالپور تقریباً 200 گھرانوں پر مشتمل گاؤں ہے جہاں ہماری ملاقات قربان علی جونیجو سے ہوئی۔
قربان کے مطابق ’جونیجو‘ اور ’کلہوڑا‘ برادریوں کے درمیان اِس تنازع میں اُن کا ایک بھائی اور دو بھتیجے اُس وقت ہلاک ہو گئے جب وہ نزدیک واقع کچے کے علاقے میں اپنے مال مویشی چرانے گئے تھے۔ قربان کا دعویٰ ہے کہ اُن کے بھائی سمیت اُن کی برادری کے 23 لوگ اس دُشمنی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔
قربان بتاتے ہیں کہ نو سال قبل اس دشمنی کا آغاز بکری چوری کے ایک واقعے سے ہوا تھا جس میں ملوث مبینہ چور اور بکری کے مالک کا تعلق ’جونیجو‘ او کلہوڑا‘ برادریوں سے تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
قربان اور مقامی پولیس اہلکاروں کے مطابق چوری کے اس واقعے میں ایک بکری چور مبینہ طور پر بکری مالکان کی فائرنگ سے مارا گیا تھا۔
اُن کے بقول چور کا تعلق کلہوڑو برادری سے تھا اور بعد میں صلح کے لیے ہونے والے جرگے کے دوران بکری کے مالک نے اس مبینہ واردات میں ملوث تین افراد کو تو معاف کر دیا تاہم ایک شخص کو معاف کرنے سے انکار کیا۔
ان کے مطابق یہ معاملہ آگے چل کر طول پکڑا اور بعدازاں مسلح تصادم میں بدل گیا جس کے باعث ناصرف علاقے میں کاروبار کو نقصان پہنچا بلکہ لوگوں کے معاملات زندگی بھی بُری متاثر ہوئے اور بہت سے لوگ اپنے جان سے گئے۔
تاہم اب دونوں برادریوں میں جرگے کے ذریعے صلح کے بعد قربان جونیجو پراُمید ہیں کہ اس سے فائدہ ہو گا اور علاقے کے لوگ بھی خوشحال ہوں گے۔
جلالپور نامی یہ گاؤں قومی شاہراہ سے ایک کلومیٹر دور واقع ہے۔ اس گاؤں میں بی بی سی کی ٹیم کو ایک پرانا تھانہ بھی نظر آیا جس کے بارے میں مقامی افراد نے دعویٰ کیا کہ یہ گذشتہ بہت عرصے سے ویران ہے اور پولیس یہاں سے منتقل ہو گئی ہے۔
بعد ازاں ہمیں تقریباً 13 کلومیٹر دور قومی شاہراہ کے قریب پولیس کی چیک پوسٹ نظر آئی۔
جدید اسلحہ اور مورچے

جلالپور سے ہم کچے کے علاقے میں مزید اندر کی طرف آگے بڑھے۔ دریا کے قریب واقع علاقے کے دونوں اطراف ہزاروں ایکڑ پر گندم کی فصل تیار تھی اور کئی مقامات پر اس کی کٹائی جاری تھی۔
اس علاقے میں پہنچنے کے لیے پکی سڑک نہیں ہے، اس لیے بارش کی وجہ سے راستہ دشوار گزار تھا اور ہماری گاڑی بھی بعض مقامات پر کیچڑ میں پھنستی رہی۔
ہم تقریباً 15 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے کلہوڑو برادری کے گاؤں ’میرل کلہوڑو‘ پہنچے۔ گاؤں کی ایک بڑی بیٹھک میں جیسے ہی ہم داخل ہوئے تو وہاں دیوار پر آر پی جی مارٹر، ایل ایم جیز، ایس ایم جیز جیسا جدید اسلحہ ٹنگا ہوا تھا۔
مقامی افراد نے بتایا کہ اُن کے گاؤں کی چار بیٹھکوں میں اسی نوعیت کا اسلحہ موجود ہے۔
حفیظ کلہوڑو کے مطابق اُن کے والد سمیت ان کی برادری کے 28 افراد اس لڑائی میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
اُنھوں نے ہمیں مٹی کی بوریوں کی مدد سے بنایا گیا ایک مورچہ بھی دکھایا اور بتایا کہ اس مقام پر 24 گھنٹے پہرا دیا جاتا تھا کیونکہ حملہ کس وقت بھی ہو سکتا تھا۔ تاہم ان کے مطابق چونکہ اب اب صلح ہو چکی ہے تو اب پہلے کی طرح سخت پہرا نہیں دیا جاتا۔
ان کے مطابق صلح سے قبل اُن کے پورے گاؤں کے چاروں اطراف ایسے مورچے تھے۔
وہ بھی اس تنازع کی ابتدا کی وجہ بکری چوری کے واقعے ہی کو بتاتے ہیں۔ لیکن ان کا الزام ہے کہ چور جونیجو کمیونٹی سے تھا جو چوری کی مبینہ واردات کے دوران ہلاک ہو گیا تھا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کشیدگی کے دنوں میں اُن کا اسلحہ رکھنے اور دیگر سکیورٹی اقدامات پر ماہانہ کتنا خرچہ آتا تھا، تو ان کا کہنا تھا کہ تنازع کی شدت کے دونوں میں تو 50 لاکھ سے بھی زیادہ کا خرچہ آ جاتا تھا۔

ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ وہ یہ جدید اسلحہ کہاں سے لاتے ہیں۔ اس پر ان کا کہنا تھا کہ یہ سب تعلق کی بنیاد پر تھا۔ ’جیسے میں نے آپ کو پہنچایا، اور آپ نے مجھے پہنچایا۔‘
تاہم اب وہ پراُمید ہیں کہ صلح کے بعد ان کا اسلحے اور سکیورٹی پر اٹھنے والا خرچہ کم ہو جائے گا۔
حفیظ کلہوڑو کا کہنا تھا کہ کشیدگی کی وجہ سے علاقہ مکینوں کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک بھی آنے جانے میں دشواری تھی جبکہ مقامی افراد کو دن، رات پہرہ دینا پڑتا تھا۔
’اب جب سے یہ مسئلہ حل ہوا ہے تو اب حالات پہلے سے بہت بہتر ہیں۔‘
اگرچہ یہ سندھ کا علاقہ ہے تاہم بی بی سی کی ٹیم نے دیکھا کہ یہاں جو شخص نظر آتا تھا اس نے کندھے پر کسی نہ کس قسم کا اسلحہ اٹھایا ہوا ہوتا تھا۔
گاؤں کے افراد نے بتایا کہ لوگ آزادانہ طور پر باہر نہیں جا سکتے تھے اور کیونکہ تقریباً پورے گاؤں کے مردوں کے خلاف متعدد مقدمات درج ہیں لہذا اپنے علاقے سے باہر نکلنے کی صورت میں انھیں فریق مخالف کے علاوہ گرفتاری کا خدشہ بھی رہتا ہے۔
’سردار پولیس کو کہے گا تو گرفتاری ہو گی‘

شکار پور سمیت شمالی سندھ کے کئی علاقوں میں مبینہ سیاسی اور انتظامی پشت پناہی کی وجہ سے برادریوں کے سردار اپنا بڑا اثرو رسوخ رکھتے ہیں۔ یہاں زرعی زمینوں کی حد بندی، مال مویشی کی چوری اور دوسرے قبیلے میں پسند کی شادی کرنے پر تنازعات جنم لیتے رہتے ہیں ہیں۔
بہت سے مقامی افراد نے بتایا کہ برادریوں کے سرداروں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے لوگ تنازعات کے حل کے لیے مقامی قبائلی روایات اور غیر رسمی نظامِ انصاف، جیسا کہ جرگوں پر انحصار کرتے ہیں۔
کلہوڑو اور جونیجو برادریوں کا تصفیہ بھی ایک جرگے کے ذریعے ہی ممکن ہوا ہے۔ اس جرگے میں دونوں فریقوں پر ایک دوسرے کا جانی و مالی نقصان کرنے پر مجموعی طور پر 14 کروڑ 91 لاکھ جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ مستقبل میں حملہ آور پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
بی بی سی نے حفیظ کلہوڑو سے دریافت کیا کہ ماضی میں اس نوعیت کا تصفیہ کیوں ممکن نہیں ہو پایا؟ اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ تو سرداروں کو پتہ ہو گا۔ اِس وقت چونکہ حکومت کا بھی زور تھا اور سرداروں کی بھی کوششیں تھیں، تو پھر مل جل کر فیصلہ ہو گیا۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’اگر جرگے نہ ہوں تو پھر مسئلے حل نہیں ہو سکتے ہیں۔ جرگے اس لیے ہوتے ہیں کیونکہ عدالت برس ہا برس مقدموں پر کارروائی نہیں چلاتی۔ آٹھ، آٹھ سال کیس آگے نہیں بڑھتے۔‘
اس فیصلے کے امین سردار غوث بخش مہر ہیں، جو سابق رکن قومی اسمبلی اور سپیکر سندھ اسمبلی بھی رہ چکے ہیں۔
ہم نے ان سے سوال کیا کہ دونوں برادریوں میں اتنے عرصے تک تنازع چلتا رہا تو یہ مسئلہ پہلے کیوں حل نہیں ہو پایا؟ اُن کا کہنا تھا کہ ’پہلے انتطامی کمزوری تھی، اس لیے اس تنازع کا جرگہ نہیں ہو رہا تھا۔ اگر ایک قتل پر انتظامیہ سختی کرتی، گرفتاری کرتی اور عدالتوں سے جلد سزا و جزا ملتی، تو یہ حالات نہ بنتے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ منتخب نمائندوں نے بھی اس ضمن میں کوششیں کیں مگر وہ کامیاب نہیں ہوئیں کیونکہ مقامی انتظامیہ مدد نہیں کر رہی تھی۔ ’اب چونکہ انتظامیہ نے ڈنڈا اٹھایا ہے، تو لوگ سیدھے ہو رہے ہیں۔‘
قبائلی تنازعات کا خاتمہ حکومتی پالیسی کا حصہ
شکارپور سمیت شمالی سندھ کے آٹھ اضلاع قبائلی اور برادریوں کے درمیان جاری تنازعات سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ اس اضلاع میں خیرپور، شکارپور، لاڑکانہ، کشمور، سکھر، قمبر شہداد کوٹ، گھوٹکی اورجیکب آباد شامل ہیں۔
ان میں سے کچے کے بعض علاقے نو گو ایریاز بنے ہوئے ہیں۔
گھوٹکی اور شکار پور میں جاری قبائلی تنازعات کے حل کے لیے سرکٹ ہاؤس سکھر میں ایک گرینڈ جرگہ منعقد کیا گیا، جو تین روز جاری رہا۔ اس میں کچھ ایسے لوگ بھی شریک ہوئے جو ماضی میں انتظامیہ کی جانب سے ڈاکو قرار دیے جا چکے ہیں اور اُن کے سروں پر لاکھوں روپے انعام تھا تاہم بعد میں حکومت سندھ کی سرینڈر پالیسی کے تحت اُنھوں نے گرفتاریاں پیش کیں۔
ایس ایس پی شکارپور کلیم ملک کہتے ہیں کہ قبائلی تنازعات کے فیصلے بھی ’سرینڈر پالیسی‘ کا حصہ ہیں کیونکہ یہ واضح ہے کہ کئی ڈاکو قبائلی دشنمیوں کی وجہ سے ڈکیت بنے، ان قبائلی فیصلوں سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ دشمنی ختم ہو جاتی ہے اور پھر حکومت وہاں ترقیاتی کام کروا سکتی ہے۔
ان کے بقول پہلے یہ کوششیں انفرادی تھیں، اب یہ ایک باقاعدہ سرکاری پالیسی ہے جس میں پولیس، عدلیہ اور سیاسی قیادت ایک پیج پر ہیں۔

،تصویر کا ذریعہْBBC
’یہاں جو جرگہ سسٹم ہے، یا یہاں کا جو فیصلہ سسٹم ہے، یہ سندھ کی ثقافت کا حصہ رہا ہے۔ اب اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مقامی قبائلی رہنماؤں نے لوگوں کو اس بات پر متفق کیا ہے۔ اگر تمام قبائلی رہنما ان فیصلوں کے حق میں ہیں تو یہ بہت اچھی بات ہے۔ اگر فرض کریں کچھ مجرم مزاحمت کر رہے تھے، تو ان کے حوالے سے بہت سخت پالیسی ہے۔‘
جرگے کی روایت پاکستان کے پسماندہ اضلاع میں عام ملتی ہے۔ جرگہ عموماً بااثر بزرگوں، قبائلی سرداروں یا مقامی عمائدین پر مشتمل ایک غیر رسمی فورم ہوتا ہے، جہاں تنازعات کے حل کے لیے دونوں فریقوں کو سُنا جاتا ہے اور اُن کے درمیان تصفیہ کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔۔
عام طور پر دونوں جانب سے مؤقف پیش کیا جاتا ہے، پھر بزرگ مشاورت کرتے ہیں اور اس کے بعد جرمانہ، دیت، معافی، یا آئندہ حملے روکنے کی ضمانت جیسے فیصلے سامنے آتے ہیں۔
قتل یا قبائلی دشمنی کے مقدمات میں مالی جرمانے، خون بہا، یا باہمی ضمانتیں بھی اس عمل کا حصہ ہو سکتی ہیں۔
جرگہ نظام کے حامی کہتے ہیں کہ جہاں ریاستی ادارے کمزور ہوں، وہاں جرگے فوری حل فراہم کرتے ہیں تاہم ناقدین کا موقف ہے کہ یہ نظام عدالتی دائرہ کار سے باہر، قانونی تحفظات اور شفافیت کے بغیر چلتا ہے۔
جرگوں پر پابندی اور ’نجی عدالتوں‘ پر سوالات

سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ نے 10 سال قبل جرگوں کے انعقاد پر پابندی عائد کی تھی اور اس فیصلے میں جرگوں کو پرائیویٹ کورٹس قرار دیا گیا تھا۔
اس فیصلے کے درخواست گزار ایڈووکیٹ شبیر شر بتاتے ہیں کہ اُنھوں نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ سندھ میں جرگہ سسٹم کو غیر قانونی، غیر آئینی اور قانون کے خلاف قرار دیا جائے۔
اُن کے بقول آئین میں پرائیویٹ عدالتوں کی کوئی گنجائش نہیں تو پھر یہ ’عدالتیں‘ کیوں چل رہی ہیں؟ قتل کے مقدمات کے فیصلے ایسے فورم کیسے کر سکتے ہیں؟ یہ اختیار انھیں کس نے دیا؟
’عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ جہاں بھی جرگہ ہو گا یا پرائیویٹ عدالت لگائی جائے گی، پولیس اُس کی ایف آئی آر درج کرے گی اور اس میں خود مدعی بنے گی۔
انھوں نے کہا کہ حالیہ جرگوں کا انعقاد توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ لیکن توہین عدالت کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ تب دائر ہوتی ہے جب متاثرہ فریق عدالت میں جائے یا کوئی رضاکارانہ طور پر عدالت کو اطلاع دے کہ یہ جرگہ ہوا ہے۔
تاہم انھوں نے کہا کہ ’ان معاملات میں انتظامیہ اور پولیس خود پراکسی بنی ہوئی ہے۔‘
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ جرگہ اور پنچایت کا نظام پاکستان کے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے کیے گئے وعدوں اور ذمہ داریوں کے خلاف ہے۔

عدالت نے یہ بھی حکم جاری کیا تھا کہ پاکستان بھر کے قانون نافذ کرنے والے ادارے پابند ہیں کہ وہ چوکس رہیں اور اگر کسی جرگے کی رپورٹ درج نہ ہوئی ہو تو وہ خود ایف آئی آر درج کریں اور تفتیش کا عمل شروع کریں۔
اس پر سردار غوث بخش مہر کہتے ہیں کہ دونوں فریقوں کی مرضی سے جرگے کا انعقاد ہوتا ہے اور جب دونوں فریق رضا مند ہوتے ہیں تو تب ہی فیصلہ ہوتا ہے۔
تاہم جب اُن سے پوچھا گیا کہ کوئی جرگہ قتل وغیرہ کے معاملات کیسے طے کر سکتا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ ’لوگ ایک دوسرے کو معاف کر دیتے ہیں۔ مگر میں خود چاہتا ہوں یہ فیصلے عدالت میں جائیں۔ سزائیں ہوں۔ تب امن ممکن ہو گا۔‘
یاد رہے کہ سکھر کے سرکٹ ہاؤس میں ہونے والے تین روزہ گرینڈ جرگے میں پولیس اور انتظامیہ نے بھی سرداروں کو معاونت فراہم کی تھی۔
جونیجو اور کلہوڑو کمیونٹیز میں 10 سال پہلے بھی جرگے میں تصفیہ کروایا گیا تھا لیکن یہ پائیدار ثابت نہیں ہوا تھا۔


























