’آٹھ لاکھ روپے کا ایک رن‘: پی ایس ایل کی نیلامی میں کروڑوں روپے میں فروخت ہونے والے کرکٹرز کی کارکردگی کیسے رہی؟

صائم ایوب، نو لُک شاٹ

،تصویر کا ذریعہEPA

    • مصنف, اسد صہیب
    • عہدہ, بی بی سی اردو
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 11 میں لیگ میچز کا اختتام ہو گیا ہے، ملتان سلطانز، حیدر آباد کنگز مین، پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیمیں پلے آف مرحلے میں مدمقابل ہوں گی۔

پی ایس ایل 11 کا جائزہ لیا جائے تو بہت سے ایسے کھلاڑی جو نیلامی میں کروڑوں روپوں میں فروخت ہوئے، لیگ میچز میں خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے۔

پاکستان ٹیم کا مستقل حصہ رہنے والے اوپنر صائم ایوب کی فارم پی ایس ایل میں بھی واپس نہ آ سکی۔

صائم ایوب کو نئی فرنچائز حیدر آباد کنگزمین نے 12 کروڑ 60 لاکھ روپوں میں خریدا تھا۔ وہ 10 میچز میں صرف 151 رنز بنا سکے۔

دوسری جانب پاکستان کے اوپنر صاحبزادہ فرحان نے پاکستان ٹیم کے لیے اپنی شاندار کارکردگی کا تسلسل پی ایس ایل میں بھی جاری رکھا۔

ملتان سلطانز نے پانچ کروڑ 70 لاکھ روپے کے عوض صاحبزادہ فرحان کی خدمات حاصل کی تھیں۔

پی ایس ایل سیزن 11 میں مہنگے کھلاڑیوں کی کارکردگی کیسی رہی اور وہ کون سے کھلاڑی تھے جن سے اُمیدیں نہ ہونے کے باوجود وہ اس سیزن میں چھائے رہے۔

Saim Ayub

،تصویر کا ذریعہGetty Images

صائم ایوب

اتوار کو نیشنل بنک سٹیڈیم کراچی میں صائم ایوب بیٹنگ کے لیے آئے تو اُن کی ٹیم حیدر آباد کنگز مین کو راولپنڈیز کے خلاف میچ میں تیزی سے رنز بنانے تھے، تاکہ وہ بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر لاہور قلندرز کو پیچھے چھوڑ کر پلے آف مرحلے تک رسائی حاصل کر لے۔

صائم ایوب نے جارحانہ انداز میں بیٹنگ کا آغاز کیا، لیکن وہ ایک چھکے اور ایک چوکے کی مدد سے چھ گیندوں پر صرف 12 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

یوں پی ایس ایل کے 10 لیگ میچز میں وہ صرف 151 رنز سکور کر سکے۔

سلمان علی آغا

پاکستان کے ٹی 20 کپتان سلمان علی آغا بھی پی ایس ایل 11 میں اپنی روٹھی ہوئی فارم واپس نہ لا سکے۔

پی ایس ایل 11 میں اُنھوں نے نو میچز کھیلے اور وہ صرف 112 رنز بنا سکے۔

اُنھیں پی ایس ایل 11 کے لیے کی جانے والی نیلامی میں کراچی کنگز نے پانچ کروڑ 85 لاکھ روپے میں خریدا تھا۔

کراچی کنگز کی ٹیم 10 میں سے پانچ میچز جیت سکی تھی اور رن ریٹ بہتر نہ ہونے کی وجہ سے پلے آف مرحلے تک رسائی حاصل نہیں کر سکی تھی۔

Salman Agha

،تصویر کا ذریعہGetty Images

صاحبزادہ فرحان

پاکستان کے جارح مزاج اوپنر نے پی ایس ایل 11 میں بھی اپنی جارحانہ بلے بازی کا سلسلہ جاری رکھا۔

ملتان سلطانز کی جانب سے اُنھوں نے 168 کے سٹرائیک ریٹ سے نو میچز میں ایک سنچری اور دو نصف سنچریوں کی مدد سے 365 رنز بنائے۔

صاحبزادہ فرحان کی خدمات پانچ کروڑ 70 لاکھ روپے کے عوض ملتان سلطانز نے حاصل کی تھیں۔

Sahibzada Farhan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

فہیم اشرف

اسلام آباد یونائیٹڈ نے دیگر فرنچائز مالکان کے ساتھ سخت مقابلے کے بعد فہیم اشرف کو آٹھ کروڑ کی بولی دے کر اُن کی خدمات حاصل کی تھیں۔ لیکن پی ایس ایل میں وہ متاثر کن کارکردگی نہ دکھا سکے۔

فہیم اشرف نو میچز میں صرف سات وکٹیں حاصل کر سکے جبکہ بیٹنگ میں بھی وہ کوئی بڑا سکور نہیں کر سکے۔ نو میچز میں اُنھیں چار مرتبہ بلے بازی کا موقع ملا جس میں وہ صرف 53 رنز بنا سکے۔

Faheem Ashraf

،تصویر کا ذریعہGetty Images

محمد عامر

محمد عامر کو راولپنڈی کی ٹیم نے پانچ کروڑ 40 لاکھ روپے کے عوض حاصل کیا تھا۔ لیکن سابق پاکستانی فاسٹ بولر زیادہ موثر ثابت نہ ہو سکے۔

وہ 10 میچز میں صرف 12 وکٹیں حاصل کر سکے۔ اتوار کو حیدر آباد کنگز مین کے خلاف آخری لیگ میچ میں اُنھوں نے چار اوورز میں 57 رنز دیے اور کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکے۔

Mohammad Amir

،تصویر کا ذریعہGetty Images

فخر زمان

بولی کے دوران فخر زمان کے لیے سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا تھا۔ چار کروڑ 20 لاکھ کی بنیادی قیمت والے اوپنر کو انھیں ریلیز کرنے والی ٹیم لاہور قلندرز نے سات کروڑ 95 لاکھ روپے کی بولی دے کر دوبارہ ٹیم میں شامل کر لیا۔

پی ایس ایل 11 میں فخر زمان کی کارکردگی اچھی رہی اور اُنھوں نے آٹھ میچز میں 151 کے سٹرائیک ریٹ سے 401 رنز بنائے، جس میں ایک سنچری اور چار نصف سنچریاں شامل تھیں۔

لیکن لاہور قلندرز کی ٹیم پلے آف مرحلے تک رسائی حاصل نہ کر سکی۔

Fakhar Zaman

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بابر اعظم

پاکستان کے سابق ٹی 20 کپتان اور پی ایس ایل میں پشاور زلمی کی قیادت کرنے والے بابر اعظم کے لیے پی ایس ایل 11 فارم میں واپسی کا باعث بنا۔

پی ایس ایل 11 کی نو اننگز میں ایک سنچری کی مدد سے اُنھوں نے 485 رنز سکور کر کے اپنے ناقدین کو خاموش کیا تو وہیں اُن کی ٹیم پشاور زلمی 10 میں سے آٹھ میچز جیت کر لیگ میچز میں سرفہرست رہی۔

بابر اعظم نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف 52 گیندوں پر سنچری سکور کر کے اپنی ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔

بابر اعظم نے پی ایس ایل 11 میں تین نصف سنچریاں بھی سکور کیں اور اُن کا سٹرائیک ریٹ 141 رہا۔

پشاور زلمی نے بابر اعظم کو پلاٹینم کیٹیگری میں برقرار رکھا تھا اور انھیں پی ایس ایل 11 میں شرکت کے لیے سات کروڑ روپے ملیں گے۔

Babar Azam

،تصویر کا ذریعہGetty Images

غیر ملکی کھلاڑیوں کی کارکردگی کیسی رہی؟

غیر ملکی کھلاڑیوں کی بات کی جائے تو سری لنکا کے کوشال مینڈس، آسٹریلیا کے سٹیو سمتھ اور مارنس لبوشین نے پی ایس ایل 11 میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

کوشال مینڈس نے پشاور زلمی کی جانب سے نو میچوں میں 170 کے سٹرائیک ریٹ سے 500 رنز بنائے جن میں ایک سنچری اور چار نصف سنچریاں شامل تھیں۔

سٹیو سمتھ نے 10 میچز میں 163 رنز کے سٹرائیک ریٹ سے 367 رنز بنائے۔ اس میں ایک سنچری اور دو نصف سنچریاں بھی شامل تھیں۔

مارنس لبوشین نے 10 میچز میں 129 کے سٹرائیک ریٹ سے 274 رنز بنائے۔

سب سے زیادہ وکٹیں

پی ایس ایل 11 میں لیگ میچز کے دوران پشاور زلمی کے سفیان مقیم نے نو میچز میں سب سے زیادہ 19 وکٹیں حاصل کیں۔

دوسرے نمبر پر لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی رہے، جنھوں نے 10 میچز میں 16 وکٹیں حاصل کیں۔ حسن علی نے نو میچز میں 15 جبکہ شاداب خان نے آٹھ میچز میں 14 وکٹیں حاصل کیں۔

Shaheen Shah Afridi

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاکستان سپر لیگ میں کروڑوں روپوں میں فروخت ہونے والے کھلاڑیوں کی کارکردگی پر سوشل میڈیا پر بھی بات ہو رہی ہے۔ لیکن سب سے مہنگے پاکستانی کرکٹر صائم ایوب کی کارکردگی پر بھی سوال اُٹھائے جا رہے ہیں۔

سپورٹس جرنلسٹ سلیم خالق لکھتے ہیں کہ صائم ایوب کو دیکھنا ہو گا کہ اُن کے ساتھ کیا غلط ہو رہا ہے۔ انھیں آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود سے پوچھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کیا غلطی کر رہے ہیں۔ انھیں اپنی خامیوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ ابھی نوجوان ہیں اور ان میں ابھی کافی کرکٹ باقی ہے۔

سپورٹس جرنلسٹ سہیل عمران نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ پی ایس ایل میں صائم ایوب کی ایک رن کی قیمت آٹھ لاکھ 34 ہزار 437 روپے تھی۔ اسی کو آپ قیمت کہتے ہیں۔

عروج جاوید نامی صارف نے سلمان علی آغا اور صائم ایوب کی کارکردگی پر سوال اُٹھاتے ہوئے لکھا کہ دونوں کھلاڑیوں کو لگاتار دو ٹورنامنٹس میں پاکستان کے لیے ٹاپ آرڈر میں مواقع فراہم کیے گئے، جب کہ بابر اعظم اور فخر زمان جیسے پرفارمرز کو نظر انداز کیا گیا اور اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر اتنے چانس ملنے کے بعد بھی اگر کارکردگی نہیں آتی تو سوال اٹھانا بالکل درست ہے۔ ایک ٹیم صرف ناموں یا صلاحیتوں پر نہیں چلتی۔ سلمان آغا پاکستان کے ٹی 20 کپتان ہیں اور ایسی کارکردگی کے بعد کیا لوگ واقعی پاکستان کرکٹ کی ترقی کی توقع رکھتے ہیں؟

باسط سبحانی نامی صارف نے لکھا کہ پی ایس ایل 11 میں سب سے زیادہ مایوس کن کارکردگی صائم ایوب کی رہی۔ وہ آل راؤنڈر بننے کے بجائے اپنی بیٹنگ پر توجہ دیں، پاکستان کرکٹ کو بطور جارحانہ اوپنر اُن کی ضرورت ہے۔

سیج صادق نامی صارف نے محمد عامر کی کارکردگی پر سوال اُٹھاتے ہوئے لکھا کہ اُنھوں نے حیدر آباد کے خلاف میچ میں چار اوورز میں 57 رنز دیے، یہ ان کی سب سے بُری ٹی 20 کارکردگی تھی۔