کیا میں ایک قاتل سے شادی کر لوں؟ محبت کی وہ کہانی جس نے ایک مجرم کو بے نقاب کر دیا

،تصویر کا ذریعہNetflix
- مصنف, یاسمین روفو
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
اگر آپ جس شخص سے محبت کرتے ہیں وہ آپ کو بتائے کہ اس نے ایک آدمی کو قتل کر دیا ہے تو آپ کیا کریں گے؟
یہ تصور کرنا آسان ہے کہ آپ عقل، اخلاقیات اور کسی ہچکچاہٹ کے بغیر فیصلہ کریں گے لیکن کیا میں ایک قاتل سے شادی کر لوں؟ نیٹ فلکس پر سچے جرائم پر مبنی دستاویزی سیریز ہمیں یہ بتاتی ہے کہ حقیقی زندگی میں محبت ہر چیز کو پیچیدہ بنا دیتی ہے۔
2017 میں شراب کے نشے میں دھت گاڑی چلانے والے الیگزینڈر میک کیلر جنھیں سینڈی کے نام سے جانا جاتا ہے، نے سکاٹ لینڈ کے علاقے آرگل اینڈ بیوٹ میں سائیکل سوار ٹونی پارسنز کو ٹکر مار کر ہلاک کر دیا۔
سینڈی اور ان کے جڑواں بھائی رابرٹ نے بعد ازاں پارسنز کی لاش دفن کر دی۔ لاش تین برس تک لاپتہ رہی، یہاں تک کہ میک کیلر کی نئی گرل فرینڈ ڈاکٹر کیرولین میورہیڈ کو حقیقت معلوم ہوئی اور انھوں نے پولیس کو اس قبر تک پہنچایا۔
جب ہدایت کار جوش ایلوٹ نے پہلی بار یہ کہانی سنی تو وہ ’یقین نہیں کر سکے کہ یہ حقیقی ہے۔‘ ان کے بقول ’مجھے لگا یہ کسی ڈرامے کی کہانی ہے اور اصل زندگی میں ایسا کسی کے ساتھ نہیں ہو سکتا۔‘
سیریز کی پروڈیوسر کلیئر بیوس کہتی ہیں کہ ’اس کہانی کی رپورٹنگ میں جو حصہ غائب تھا وہ میورہیڈ کی گواہی اور ان کا اپنا بیان تھا۔‘
تین حصوں پر مشتمل یہ سیریز بڑی حد تک میورہیڈ کے نقطۂ نظر سے بیان کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہNetflix
سیریز کا آغاز میورہیڈ کے ایک تکلیف دہ بریک اپ کے بعد ہوتا ہے، جس کے بعد 2020 کے موسم خزاں میں ان کی ملاقات ٹنڈر پر سینڈی سے ہوتی ہے۔ چند ہی ہفتوں میں یہ تعلق منگنی تک پہنچ جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منگنی کے فوراً بعد، میورہیڈ نے سینڈی سے پوچھا کہ کیا اس کے ماضی میں کوئی ایسی بات ہے جو ان کے مشترکہ مستقبل کو متاثر کر سکتی ہو۔
سینڈی ان کو بتاتے ہیں کہ چند سال قبل انھوں نے اپنے بھائی کے ساتھ ایک ہوٹل سے گھر لوٹتے ہوئے ایک سائیکل سوار کو ٹکر مار دی تھی مگر طبی مدد حاصل نہیں کی۔ بعد میں سامنے آیا کہ پارسنز کے زخم اتنے شدید تھے کہ مدد نہ ملنے کی صورت میں وہ صرف 20 یا 30 منٹ ہی زندہ رہ سکتے تھے تاہم یہ امکان کم تھا کہ وہ موقع پر ہی ہلاک ہو جاتے۔
دونوں بھائی وہاں سے نکل گئے اور پھر ایک دوسری گاڑی میں واپس آئے، اس کے بعد پارسنز کی لاش کو قریبی علاقے آچ سٹیٹ لے جا کر دفن کر دیا۔ اس انکشاف نے میورہیڈ کو شدید کشمکش میں ڈال دیا۔۔۔ ایک طرف وفاداری، تو دوسری طرف درست کام کرنے کی ذمہ داری۔
ایلوٹ کے نزدیک یہی جذباتی اور اخلاقی تناؤ اس کہانی کو نظرانداز کرنا ناممکن بنا دیتا ہے۔ ان کے بقول ’یہ مخمصہ آپ کے اپنے رشتے کے بارے میں بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے، آپ سوچتے ہیں کہ اگر آپ اس کی جگہ ہوتے تو کیا کرتے۔۔۔ یہ ایک ہولناک اور ڈراؤنے خواب جیسی صورتحال ہے۔‘
میورہیڈ نے اس جرم کی اطلاع پولیس کو دے دی مگر اس کے بعد انھوں نے جو کیا وہی اس کہانی کو غیر معمولی بناتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ یہ سیریز وجود میں آئی۔
رشتہ ختم کرنے کے بجائے میورہیڈ نے تعلق جاری رکھا، اسی دوران خفیہ طور پر پولیس کے ساتھ رابطے میں رہیں اور تفتیش میں تعاون کرتی رہیں اور سینڈی کو یہ معلوم نہ ہو سکا کہ پولیس کو اطلاع دینے والی ان کی پارٹنرتھیں۔

،تصویر کا ذریعہNetflix
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سینڈی کے میورہیڈ کے سامنے اعتراف ابتدائی اعتراف کے تقریباً تین سال بعد جا کر انھیں قید کی سزا سنائی گئی۔
اس دوران میورہیڈ نے اپنے فون پر خفیہ اعترافات ریکارڈ کیے اور سینڈی کے ساتھ آچ سٹیٹ واپس گئیں، جہاں انھوں نے چپکے سے ایک ریڈ بُل کین اس جگہ شناخت کے طور پر رکھی اور بعد میں پولیس کو فون کر کے بتایا کہ لاش کہاں تلاش کی جائے۔
اگرچہ کچھ لوگ ان فیصلوں پر سوال اٹھا سکتے ہیں لیکن ایلوٹ کا کہنا ہے کہ میورہیڈ نے جرم کی اطلاع دے کر درست کام کیا۔ دسمبر 2020 میں دونوں بھائیوں کو گرفتار کیا گیا اور ضمانت پر رہا کیا گیا۔ ان پر فردِ جرم دسمبر 2021 میں عائد کی گئی۔
ایلوٹ وضاحت کرتے ہیں ’وہ توقع کر رہی تھیں کہ بھائیوں کو عدالتی تحویل میں بھیجا جائے گا، مقدمے کا سامنا کریں گے اور ہمیشہ کے لیے جیل میں ہوں گے اور ان کی زندگی سے نکل جائیں گے، مگر اس کے برعکس وہ دوبارہ ان کی زندگی میں آ گئے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ انھیں اس غیر یقینی دور سے اکیلے ہی گزرنا پڑا کیونکہ وہ ’تقریباً ایک سال تک ان کے سامنے بےبس چھوڑ دی گئی تھیں، اور انھی حالات میں وہ فیصلے سامنے آئے۔‘

،تصویر کا ذریعہNetflix
ایلوٹ کے مطابق میورہیڈ کی شخصیت کی پیچیدگی ہی انھیں ایک پُرکشش کردار بناتی ہے کیونکہ وہ ’ذہین تھیں، آٹھ سال کی طبی تربیت رکھنے والی ایک ابھرتی ہوئی پیتھالوجسٹ۔‘
’ان کی زندگی پوری طرح ٹریک پر تھی اور سینڈی سے ملنے اور ان کے بارے میں جاننے کے بعد سب کچھ بکھر گیا۔‘
سیریز میں میورہیڈ کھل کر بتاتی ہیں کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے انھوں نے شراب اور منشیات کا سہارا لیا۔
ایلوٹ اور بیوس واضح کرتے ہیں کہ ان کا مقصد واقعات کا متوازن بیان پیش کرنا ہے، تاہم بالآخر یہ اجاگر کرنا چاہتے ہیں کہ ’جرم کے دائرے کے کنارے پر ہونا، مگر اس میں ملوث نہ ہونا، کسی کی زندگی کے ساتھ کیا کر سکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہNetflix
اس تمام معاملے میں اس بات پر بھی توجہ دی گئی کہ جرم کی اطلاع دینے کے بعد پولیس نے میورہیڈ کے ساتھ اپنے تعلقات کیسے برقرار رکھے۔
ایلوٹ کا کہنا ہے کہ ’پولیس نہیں جانتی تھی کہ کیرولین کو کیسے سنبھالا جائے‘ اور اگر انھیں ’توجہ اور مہربانی ملتی تو شاید انھیں وہ فیصلے نہ کرنے پڑتے جو انھوں نے کیے۔‘
بیوس اس سے اتفاق کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ میورہیڈ کا تجربہ ’نظامِ انصاف میں موجود بہت سے لوگوں کے تجربات کی بازگشت ہے۔‘
’انصاف کا عمل بہت سست رفتاری سے چلتا ہے اور اس کا اثر لوگوں کی زندگیوں پر پڑتا ہے اور ہم یہی دکھانا چاہتے تھے۔‘
سکاٹ لینڈ پولیس اور وکٹم سپورٹ سکاٹ لینڈ نے اس سیریز میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔ میورہیڈ نے سکاٹ لینڈ پولیس کے خلاف متعدد شکایات درج کیں۔ پانچ سالہ تفتیش کے بعد، بیشتر شکایات درست ثابت نہ ہو سکیں اور پولیس کا مؤقف ہے کہ انھوں نے میورہیڈ کو مناسب تعاون فراہم کیا۔
’بیچ راہ چھوڑ دیا گیا‘
شو کے بارے میں ایک نوٹ میں میورہیڈ نے کہا کہ ’مجھے یقین تھا کہ نظام میرا ساتھ دے گا اور مجھے محفوظ رکھے گا جب میں سب سے زیادہ کمزور تھی لیکن میرا تجربہ ایسا نہ تھا۔‘
’مجھے امید ہے کہ بول کر اور اپنے ساتھ ہونے والے واقعات بیان کر کے ہم متاثرین اور گواہوں کے بہتر تحفظ پر ایک دیانت دارانہ گفتگو شروع کر سکیں گے اور یہ سمجھ سکیں گے کہ پولیس اور عدالتی نظام میں ذہنی صحت کے بارے میں گہری سمجھ کیوں ضروری ہے۔‘
’اکثر و بیشتر صدمے اور بدسلوکی کے اثرات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا مکمل طور پر مسترد کر دیا جاتا ہے، اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مجھ جیسے لوگوں کو سب کچھ سمیٹنے کے لیے تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔‘
جولائی 2023 میں، جب گلاسگو کی ہائی کورٹ میں بھائیوں کا مقدمہ شروع ہونے والا تھا، سینڈی نے اعتراف جرم کر لیا۔
ان کے بھائی کی جانب سے قتل کے الزام میں بے گناہی کی درخواست منظور کر لی گئی تاہم دونوں نے جرم کو چھپانے کے ذریعے انصاف کے تقاضوں کو ناکام بنانے کی کوشش کا اعتراف کیا۔
سینڈی میک کیلر کو 12 سال قید کی سزا سنائی گئی جبکہ ان کے بھائی کو پانچ سال اور تین ماہ قید ہوئی۔ اس کیس پر بی بی سی کی دستاویزی سیریز ’مرڈر کیس: دا وینشنگ سائیکلسٹ‘ میں پہلے بھی رپورٹنگ کی گئی تھی۔
کیا میں ایک قاتل سے شادی کروں؟ نیٹ فلکس پر دیکھی جا سکتی ہے۔


























