لائیو, ایران نے امریکہ سے مذاکرات کی نئی تجویز پاکستان کو بھیج دی: ایرانی میڈیا
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے متعلق نئی تجویز جمعرات کے روز پاکستان کو بھیج دی گئی ہے۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی یکطرفہ ایرانی انتظامات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
خلاصہ
ایران نے جنگ شروع نہیں کی صرف اپنے دفاع کا حق استعمال کیا ہے: تہران کا سکیورٹی کونسل میں خلیجی ممالک کے خط کا جواب
پاکستانی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا
تہران میں فضائی دفاعی نظام نے چھوٹے ڈرونز کو نشانہ بنایا: ایرانی خبر ایجنسی
تہران میں فضائی دفاعی نظام نے چھوٹے ڈرونز کو نشانہ بنایا: ایرانی خبر ایجنسی
ایران فُٹبال ورلڈ کپ کے میچز امریکہ میں کھیلے گا: فیفا صدر
ایران معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے، اس کی جوہری صلاحیت ختم کر دی: صدر ٹرمپ کا دعویٰ
لائیو کوریج
ایرانی وزیر خارجہ کا سعودی عرب سمیت چھ ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطہ
،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب، مصر، ترکی، قطر، عراق اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق وزیرِ خارجہ نے ان ممالک کے وزرائے خارجہ کو علاقائی پیش رفت اور جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ایران کے موقف سے آگاہ کیا۔
عباس عراقچی نے جمعے کو ہی یورپی یونین کے خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی نمائندہ کاجا کالس سے علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
ایران نے امریکہ سے مذاکرات کی نئی تجویز پاکستان کو بھیج دی: ایرانی میڈیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے (ایرنا) کے مطابق ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے متعلق تازہ ترین تجویز پاکستان کو بھیج دی ہے۔
تہران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایران نے ثالثی کرنے والے پاکستان کو یہ تجویز جمعرات کے روز بھیجی۔
یاد رہے کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد اسلام آباد نے تہران اور واشنگٹن کے وفود کے درمیان مذاکرات کے ایک دور کی میزبانی کی تھی تاہم بہت سی کوششوں کے بعد مذاکرات کا دوسرا دور ابھی تک نہیں ہو سکا۔
ایران کے حالیہ بیان سے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت میں پاکستان باقاعدہ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس معاملے میں بہت سے ممالک مدد کے لیے تیار ہیں تاہم مذاکرات میں پاکستان ہی باضابطہ ثالث ہے۔‘
’جنگ سے امریکہ کو اب تک 100 ارب ڈالر کا نقصان ہوا‘: ایرانی وزیر خارجہ کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی محکمہ دفاع پر جنگ کی اصل قیمت کے بارے میں رائے عامہ کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اعلان کردہ اعداد و شمار حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں عراقچی نے کہا کہ ’پینٹاگون جھوٹ بول رہا ہے، نیتن یاہو کے جوئے کی وجہ سے امریکہ کو اب تک تقریباً 100 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے بالواسطہ اخراجات ’بہت زیادہ‘ ہیں، ہر امریکی خاندان کا ماہانہ خرچہ 500 ڈالر کے لگ بھگ ہے جو تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ہمیشہ ’اسرائیل فرسٹ‘ کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اخر میں آتا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
’آبنائے ہرمز میں کسی بھی یکطرفہ ایرانی انتظامات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا‘: یو اے ای صدارتی مشیر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور محمد قرقاش نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی یکطرفہ ایرانی انتظامات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
ایکس پر اپنے پیغام میں انھوں نے لکھا کہ ’آبنائے ہرمز پر جاری بحث میں، اجتماعی بین الاقوامی مرضی اور بین الاقوامی قانون کی دفعات، اس اہم راستے کے ذریعے جہاز رانی کی بنیادی ضامن کے طور پر ابھرتی ہیں، جو جنگ کے بعد کے مرحلے میں خطے اور عالمی معیشت کے استحکام کے لیے ہیں۔‘
محمد قرقاش نے یہ بھی کہا کہ ’ایران کی جانب سے اپنے پڑوسیوں کے خلاف جارحیت کے بعد کسی بھی یکطرفہ ایرانی انتظامات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔‘
مذاکرات کو مسترد نہیں کیا لیکن ہم ڈکٹیشن قبول نہیں کرتے: چیف جسٹس ایران
ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسن عجی کا کہنا ہے کہ ان کے ملک نے مذاکرات سے فرار اختیار نہیں کی اور نہ ہی وہ اس سے خوفزدہ ہیں۔
اپنے بیان میں غلام حسین محسن عجی نے کہا کہ مذاکرات کا مطلب یہ نہیں کہ دھمکیوں کے ذریعے جو حکم دیا جائے یا مسلط کیا جائے، ہم اسے قبول کر لیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’دشمن جو اہداف جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کر سکا، وہ سفارت کاری کے ذریعے حاصل نہیں ہوں گے کیونکہ ہم سمجھوتہ نہیں کریں گے۔‘
مشرق وسطیٰ میں بحران: روس پرامن حل کے حصول کے لیے سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم
جنیوا میں روس کے مستقل نمائندے کا کہنا ہے کہ 29 اپریل کو امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ فون کال میں صدر پوتن نے تصدیق کی کہ روس مشرق وسطیٰ میں بحران کے پرامن حل کے حصول کے لیے سفارتی کوششوں میں سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
میخائل الیانوف نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ صدر پوتن نے ایرانی جوہری پروگرام پر اختلافات کو دور کرنے میں مدد کے لیے کئی تجاویز بھی پیش کیں۔
بیان کے مطابق ’اس مقصد کے لیے ایرانی نمائندوں، خلیجی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ساتھ اسرائیل اور امریکہ کی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ بھی فعال رابطے جاری رہیں گے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کر دیا: وفاقی وزیر توانائی کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کا کہنا ہے کہ ملک میں بجلی کی لوڈ مینجمنٹ کا خاتمہ کر دیا گیا۔
جمعے کے روز اپنے ایک ویڈیو پیغام میں وزیر توانائی نے کہا کہ حالیہ دنوں میں گیس کی کمی کے باعث محدود وقت کے لیے لوڈ شیڈنگ کرنا پڑی تاہم حکومت نے ذمہ دارانہ فیصلے کرتے ہوئے مہنگی بجلی سے عوام کو بچانے کو ترجیح دی۔
وزیر توانائی نے یہ بھی بتایا کہ یہ لوڈ شیڈنگ کسی کوتاہی، کسی نظام کے فعال نہ ہونے یا بجلی کی پیداوار کی صلاحیت، نہ رکھنے کی وجہ سے نہیں بلکہ بجلی پیدا کرنے کے لیے جو گیس چاہیے، وہ ایران امریکہ جنگ کی وجہ سے موصول نہ ہونے کی وجہ سے ہو رہی تھی۔
اویس احمد خان لغاری نے یہ بھی بتایا کہ نظام کی بہتری کے لیے بروقت اقدامات کیے گئے ہیں اور پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی ’صحت بہترین‘ ہے: سپریم لیڈر دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران میں سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ’صحت بہترین‘ ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔
بین الاقوامی امور کے نائب محسن قمی نے کہا ہے کہ ’دشمن ان کی صحت کے بارے میں افواہیں پھیلا کر ہمیں رد عمل پر مجبور کرنا چاہتا ہے اور اس ردعمل کو اپنی سازشوں کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔‘
واضح رہے کہ جب سے مجتبیٰ خامنہ ای برسراقتدار آئے ہیں، ان کی کوئی ویڈیو یا آڈیو جاری نہیں کی گئی اور میڈیا نے صرف ان سے منسوب تحریری پیغامات ہی شائع کیے ہیں۔
ایران جنگ کے باعث اربوں لوگوں کو خوراک کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کھاد بنانے والی کمپنی کے سربراہ کا انتباہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا میں کھاد تیار کرنے والی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایران میں جنگ کے باعث کھاد اور اس کے اہم اجزا کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر ہر ہفتے تقریباً دس ارب افراد کے لیے ایک وقت کی خوراک جتنی غذائی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔
یارا کمپنی کے چیف ایگزیکٹو سوین ٹورے ہولسیتر نے بی بی سی کو بتایا کہ خلیجی خطے میں جاری لڑائی جس کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی متاثر ہوئی ہے عالمی غذائی پیداوار کے لیے خطرے کا باعث بن رہی ہے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ کھاد کے کم استعمال کے باعث فصلوں کی پیداوار میں کمی آ سکتی ہے جس کے نتیجے میں خوراک کے لیے ممالک کے درمیان مسابقتی بولی کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
ان کے مطابق اس کا سب سے زیادہ اثر غریب ترین ممالک پر پڑے گا۔
سوین ٹورے ہولسیتر نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ قیمتوں کی جنگ کے اثرات پر سنجیدگی سے غور کریں کیونکہ اس کا بوجھ دیگر ممالک کے ’سب سے زیادہ کمزور‘ طبقات پر پڑ سکتا ہے۔
لندن میں دو یہودیوں پر چاقو سے حملہ کرنے والے شخص پر فردِ جرم عائد
میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق شمالی لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں دو یہودیوں پر چاقو سے حملے کرنے کے واقعے میں عیسیٰ سلیمان پر اقدامِ قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
45 سالہ عیسیٰ سلیمان پر بدھ کے روز پیش آنے والے اس واقعے کے سلسلے میں اقدامِ قتل کی دو دفعات اور عوامی مقام پر تیز دھار ہتھیار رکھنے کی ایک دفعہ کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ اسی دن اس سے قبل ساؤتھوَرک کے علاقے گریٹ ڈوور سٹریٹ میں پیش آنے والے ایک علیحدہ واقعے کے حوالے سے بھی ان پر اقدامِ قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
اس واقعے کے بعد جمعرات کو برطانیہ میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح بڑھا کر ’شدید‘ کر دیا گیا ہے۔
گذشتہ روز برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹامر کا کہنا تھا کہ ملک میں یہود مخالف حملوں میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ یہودی لوگ اب ’اپنی شناخت ظاہر کرنے سے خوفزدہ ہیں‘، انھیں یہ خوف لاحق ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہ یا یونیورسٹی جائیں یا نہ جائیں اور اپنے بچوں کو سکول بھیجیں یا نہیں اور اپنے ساتھیوں کو اپنی شناخت بتائیں یا نہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی حکومت ’نفرت پھیلانے والوں کو‘ ملک میں داخل ہونے سے روکے گی اور انھیں یونیورسٹی کیمپسز، سڑکوں اور کمیونٹیز سے دور رکھا جائے گا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں پاکستان ہی باقاعدہ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، اسماعیل بقائی
،تصویر کا ذریعہReuters
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت میں پاکستان باقاعدہ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اس معاملے میں بہت سے ممالک مدد کے لیے تیار ہیں، تاہم مذاکرات میں پاکستان ہی باضابطہ ثالث ہے۔‘
بی بی سی فارسی کے مطابق انھوں نے ایک ٹیلی وژن انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ اگر مذاکرات کے انعقاد کا فیصلہ ہوتا ہے تو ہم اس بارے میں باضابطہ طور پر سب کو مطلع کریں گے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ دورۂ روس اور صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ سٹریٹجک پارٹنرشپ معاہدے کے تحت ایران اور روس کے درمیان سیاسی، سکیورٹی اور معاشی شعبوں میں وسیع تعاون موجود ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ایران مختلف ممالک کے ساتھ بات چیت کر کے اپنے مؤقف کی وضاحت کر رہا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ روس اور چین کے ساتھ اس سفارتی تعاون کے نتیجے میں ایران اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ان کے بقول ’خطے کے بعض ممالک کی شرپسندانہ کارروائیوں‘ پر قابو پانے میں کامیاب رہا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے نتیجے میں لڑائی ختم ہو چکی ہے، ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ
ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئیر عہدیدار نے جمعرات کے روز دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اپریل کے اوائل میں ہونے والی جنگ بندی کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان لڑائی ختم ہو چکی ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وار پاورز سے متعلق کانگریس کی مقررہ ڈیڈ لائن ختم ہو رہی ہے۔
صدر ٹرمپ کے پاس جمعے تک کا وقت ہے کہ وہ یا تو ایران کے ساتھ جنگ ختم کریں یا پھر اسے جاری رکھنے کے لیے کانگریس سے رجوع کریں اور اس جنگ کی وجوہات پیش کریں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس عہدیدار نے انتظامیہ کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’وار پاورز ایکٹ کے حوالے سے 28 فروری کو شروع ہونے والی لڑائی ختم ہو چکی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ تین ہفتے قبل ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے امریکی اور ایرانی مسلح افواج کے درمیان کسی قسم کی لڑائی نہیں ہوئی ہے۔
1973 کے قانون کے تحت صدر کو یہ اجازت حاصل ہے کہ وہ کانگریس سے اجازت حاصل کیے بغیر 60 دن تک فوجی کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں، تاہم اس کے بعد یا تو اسے ختم کرنا ہو گا یا پھر مسلح افواج کی سلامتی کے لیے ’فوری فوجی ضرورت‘ کی بنیاد پر کانگریس سے اجازت یا 30 دن کی توسیع طلب کرنا ہو گی۔
امریکی سینیٹ میں ایران جنگ کے خاتمے کے لیے قرارداد چھٹی مرتبہ ناکام
،تصویر کا ذریعہU.S. Navy via Getty Images
جمعرات کے روز امریکی سینیٹ نے ایران میں امریکی فوجی کارروائیاں ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی قرارداد مسترد کر دی ہے۔
معروف ڈیموکریٹک سینیٹر ایڈم شِف کی جانب سے پیش کیے گئے وار پاورز بل کو 47 ووٹ ملے جبکہ اس کی مخالفت میں 50 ووٹ پڑے۔ یہ چھٹی مرتبہ ہے کہ سینیٹ نے اس طرز کے بل کو مسترد کیا ہے۔
پینسلوینیا سے تعلق رکھنے والے جان فیٹر مین واحد ڈیموکریٹ رکن تھے جنھوں نے اس بل کے خلاف ووٹ دیا، جبکہ دو ری پبلکن سینیٹرز، سوزن کولنز اور رینڈ پال نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ سوزن کولنز نے اس بل کی حمایت میں ووٹ دیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’جیسا کہ میں ایران کے تنازع کے آغاز سے کہتی آ رہی ہوں، بطور کمانڈر اِن چیف صدر کے اختیارات لامحدود نہیں ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق کانگریس کا جنگ اور امن سے متعلق فیصلوں میں ایک اہم کردار ہے۔ کولنز کا کہنا ہے کہ وار پاورز کے تحت غیر ملکی تنازعات میں امریکہ کی شمولیت کی منظوری یا خاتمے کے لیے 60 روز کے اندر کانگریس سے منظوری لازمی ہے۔
سوزن کولنز نے اس بات پر زور دیا کہ ’ایران کے خلاف کسی بھی مزید فوجی کارروائی کے لیے واضح مشن، قابلِ حصول اہداف اور تنازع کے خاتمے کی صاف حکمتِ عملی ہونا ضروری ہے۔ میں نے اس وضاحت کے سامنے آنے تک عارضی طور پر ان فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔‘
اسلحے ذخائر کی بحالی میں چند مہینوں سے لے کر چند برس تک لگ سکتے ہیں: امریکی وزیرِ دفاع
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کانگریس کے ارکان کو بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اور حالیہ برسوں میں دیگر فوجی تنازعات کے نتیجے میں استعمال ہونے والے امریکہ کے اسلحہ ذخائر کی بحالی میں ’چند مہینوں سے لے کر کئی برسوں‘ تک لگ سکتے ہیں۔
ایریزونا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مارک کیلی کی جانب سے سینیٹ کے فلور پر پیٹ ہیگسیتھ سے سوال کیا گیا کہ یہ ہتھیار دوبارہ بنانے میں کتنا وقت درکار ہو گا۔ ہیگستھ کا کہنا تھا: ’ان میں سے کئی کارروائیوں میں ہم اپنے بہترین ہتھیار استعمال کرتے ہیں، اور بڑی تعداد میں کرتے ہیں۔ اسی طرح انٹرسیپٹرز بھی استعمال ہوتے ہیں۔ یہ گولہ بارود راتوں رات تیار نہیں کیا جا سکتا۔‘
سینیٹر کیلی کا مزید کہنا تھا کہ بجٹ درخواست سے ظاہر ہوتا ہے کہ محکمۂ دفاع کو اس مسئلے کا ادراک ہے، اور انھوں نے ان نظاموں کی بحالی کے لیے ایک واضح ٹائم لائن کا مطالبہ کیا ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ نے جواب دیتے ہوئے کہا، ’یہی وہ سوال ہے جو پوچھے جانے کی ضرورت ہے۔‘ انھوں نے زور دیا کہ اسلحے ذخائر کی بحالی میں ہتھیاروں کے نظام کی نوعیت کے لحاظ سے چند مہینوں سے لے کر چند برس تک لگ سکتے ہیں۔
اگر ہم ابھی ایران کو چھوڑ دیں تو انھیں تعمیرِ نو میں 20 سال لگیں گے، ٹرمپ کا دعوی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
آمریکی نشریاتی ادارے نیوزمیکس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ’ہم ایران میں جنگ جیت چکے ہیں‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس جنگ کو ’مزید بڑے مارجن سے جیتنا چاہتے ہیں۔‘
سی بی ایس نیوز نے نیوزمیکس کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی بحریہ اور فضائیہ تباہ ہو چکی ہیں اور ملک کی قیادت کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ امریکی انتظامیہ جنگ کے ابتدائی دنوں سے ہی اس طرز کے دعوے یہ کرتی آ رہی ہے۔
تاہم اس معاملے سے متعلق خفیہ معلومات سے آگاہ متعدد امریکی حکام نے گذشتہ ہفتے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ایران کے پاس اب بھی وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کی جانب سے عوامی طور پر تسلیم کردہ فوجی صلاحیتوں سے کہیں زیادہ صلاحیتیں موجود ہیں۔
ان حکام میں سے تین نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ اپریل کے اوائل میں جنگ بندی کے آغاز تک ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے کا تقریباً نصف حصہ اور ان سے منسلک لانچ سسٹمز محفوظ تھے۔
جمعرات کے روز صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم نے سب کچھ تباہ کر دیا ہے۔ اگر ہم ابھی نکل جائیں تو اگر وہ کر پائے تو بھی انھیں تعمیر نو میں 20 سال لگیں گے۔‘ تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ’کافی نہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ہمیں اس بات کی ضمانت چاہیے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کریں گے۔
امریکہ کا ایرانی حکومت کے بیرونِ ملک موجود پنشن فنڈز کے اکاؤنٹس منجمد کرنے پر غور
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
امریکہ کے وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ایرانی حکومت کے بیرونِ ملک موجود پنشن فنڈز کے اکاؤنٹس منجمد کرنے پر غور کر رہا ہے۔
سکاٹ بیسنٹ نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ناکہ بندی کے علاوہ امریکہ ایران پر مزید سخت معاشی دباؤ برقرار رکھے گا۔
امریکی وزیرِ خزانہ کا مزید کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان سے ایران پر دباؤ بڑھانے کو کہا ہے.
بیسنٹ کے مطابق اسی وجہ سے امریکہ نے ایرانی تیل کے خریداروں کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ان صنعتوں اور بینکوں پر ثانوی پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو ایرانی تیل کی خرید و فروخت میں ملوث ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے اپنے شہریوں کے ایران، لبنان اور عراق سفر پر پابندی عائد کر دی
متحدہ عرب امارات نے’خطے میں موجودہ پیش رفت کی روشنی میں‘ اپنے شہریوں کے ایران، لبنان اور عراق کے سفر پر پابندی عائد کر دی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے اپنے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان ممالک سے فوراً واپس آ جائیں۔
،تصویر کا ذریعہx/mofauae
آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہے، اقوامِ متحدہ
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا کہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق گوتریس کا کہنا تھا کہ اگر پابندیاں فوراً ختم کر دی جائیں تو بھی سپلائی چینز کو بحال ہونے میں کئی مہینے لگیں گے، جس کے نتیجے میں معاشی پیداوار میں کمی اور قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے مزید حملے کیے تو وہ امریکہ کے خلاف ’طویل اور تکلیف دہ‘ حملے کرے گا۔
ایران نے جنگ شروع نہیں کی صرف اپنے دفاع کا حق استعمال کیا ہے: تہران کا خلیجی ممالک کی جانب سے سکیورٹی کونسل کو بھیجے گئے خط کا جواب
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشناقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایراوانی۔ فائل فوٹو
اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایراوانی کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک نے اپنی سرزمین پر قائم فوجی اڈے ایران کے خلاف جارحیت کے لیے فراہم کر کے اس میں حصہ لیا اور ان اڈوں سے ایران پر میزائل اور فضائی حملے کیے گئے۔
انھوں نے یہ بات اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو بھیجے ایک خط میں کہی۔ ایراوانی نے یہ خط خلیجی ممالک کی جانب سے ایران کے ان کی سرزمین پر کیے گئے مبینہ فوجی حملوں کے خلاف حالیہ احتجاجی خطوط کے ردِعمل پر لکھا تھا۔
اپنے خط میں ایرانی مندوب کا کہنا تھا کہ ایران نے ’اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں دیے گئے اپنے جائز حقِ دفاع کو جارحیت کے جواب میں استعمال کیا۔‘
امیر سعید ایراوانی کے مطابق ’ایران نے اس تنازع یا جنگ کا آغاز نہیں کیا‘۔
ان کے بقول ’جو ممالک ایران کے خلاف جارحیت میں شریک ہوئے یا جنھوں نے اپنے فوجی اڈوں، فضائی حدود، علاقائی پانیوں اور سرزمین کو ایران پر حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی، وہ ذمہ دار ہیں اور انھیں جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔‘
قطر، متحدہ عرب امارات، اردن، بحرین، کویت اور سعودی عرب کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجے گئے احتجاجی خطوط میں ایران پر ان کی سرحدوں کی خلاف ورزی اور فوجی حملے کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور ان حملوں کی مذمت کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستانی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
،تصویر کا کیپشنحکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے قبل پیٹول پمپس پر لوگوں کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں۔
پاکستانی حکومت نے ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں چھ روپے 51 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہوگی۔
اس کے علاوہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 19 روپے 39 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے فی لیٹر ہوگی۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز تقریباً سات فیصد اضافے سے برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 126 ڈالر سے اوپر چلی گئی تھی۔ یہ سنہ 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔
امریکہ اور ایران میں امن مذاکرات تعطل کا شکار دکھائی دیتے ہیں، مرکزی بحری گزر گاہ آبنائے ہرمز عملی طور پر بند ہے اور اس وجہ سے رواں ہفتے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔