’لیاقت نے کہا شناختی کارڈ دکھاؤ، حملہ آور نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور دھماکہ ہو گیا‘

لیاقت علی

،تصویر کا ذریعہNasir Awan

مطالعے کا وقت: 6 منٹ

گیارہ مئی کی شام چھ بجے کا وقت تھا اور ضلع اٹک کے گاؤں منکور کے 40 سالہ لیاقت علی اپنے مویشیوں کے ہمراہ دریائے سندھ کے قریبی علاقے میں موجود تھے۔

منکور اٹک کی سرحدی تحصیل جنڈ کا گاؤں ہے۔ اس سے چھ سو میٹر دور دریائے سندھ بہتا ہے اور وہاں سے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔

لیاقت علی کے ساتھ اس وقت ان کے بڑے بھائی نوید علی کے علاوہ ان کے گاؤں کے لوگ بھی موجود تھے کہ انھیں ایک نوجوان دوڑتا ہوا چند میٹر کے فاصلے پر واقع خوشحال گڑھ چیک پوسٹ کی جانب بڑھتا ہوا دکھائی دیا۔

دیکھتے ہی دیکھتے لیاقت علی نے اپنے ہمراہیوں کا ساتھ چھوڑا اور اس نوجوان کی جانب بڑھے۔

نوید علی نے صحافی زبیر خان کو بتایا کہ انھوں نے اور موقع پر موجود علاقے کے لوگوں نے دیکھا کہ لیاقت علی نے اس نوجوان کے قریب پہنچ کر اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر اسے روک لیا۔

نوید کا کہنا ہے کہ وہ لوگ لیاقت علی اور اس شخص کی گفتگو واضح طور پر سن رہے تھے۔ ان کے مطابق ’لیاقت نے اس شخص سے دریافت کیا کہ تم کون ہو تو اس شخص کو بات سمجھ نہیں آ رہہ تھی کہ لیاقت اس سے کیا پوچھ رہا ہے۔جب بھائی نے اسے روکا تو اس (حملہ آور) نے کہا تھا کہ مجھے پنجابی نہیں آتی ہے۔‘

Punjab Police

،تصویر کا ذریعہEPA

نوید علی کے مطابق اس دوران اس شخص نے راستہ بدل کر دوسری طرف سے بڑھنے کی کوشش کی تو لیاقت پھر اس کے سامنے آ گئے اور اس سے اس کی شناخت دریافت کی۔

’لیاقت نے کہا تم کون ہو ، اپنا شناختی کارڈ دکھاؤ۔ یہ بات شاید اسے سمجھ آئی۔ اس (حملہ آور) نے شناختی کارڈ نکالنے کے بہانے جیب میں ہاتھ ڈالا اور دھماکہ ہو گیا۔‘

نوید علی کے مطابق دھماکہ ہوتے ہی دھواں پھیل گیا اور چیک پوسٹ پر موجود اہلکار بھی وہاں پہنچ گئے اور تھوڑی دیر میں پولیس اور ایمبولینس بھی آ گئی۔‘

’خودکش حملہ آور کی شناخت کی کوشش جاری ہے‘

اٹک پولیس کے مطابق ممکنہ طور پر شدت پسند پنجاب اور خیبر پختونخوا کی سرحد پر واقع جس چیک پوسٹ کو نشانہ بنانا چاہ رہا تھا اس وقت اس پر مختلف محکموں کے 30 سے زائد اہلکار موجود تھے۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر اٹک سردار اومان کے مطابق چیک پوسٹ پر موجود اہلکاروں کی نظر اس مشکوک شخص پر تھی۔

’جب یہ شخص چیک پوسٹ سے کوئی چار سو میٹر دور ہو گا تو ہمارے جوانوں نے اسے وارننگ دی تو یہ آواز وہاں پر موجود ہمارے سویلینز نے سنی، جن میں لیاقت علی بھی شامل تھا جو اس موقع پر تیزی سے آگے بڑھا اور اس شخص کو روکا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔‘

اٹک کے ڈپٹی کمشنر راؤ عاطف نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا کہ لیاقت کی لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ دھماکے کے باوجود لیاقت کی لاش قابل شناخت تھی جبکہ خودکش حملہ آور کی لاش قابل شناخت نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اٹک پولیس نے جائے حادثہ سے تمام شواہد جمع کر لیے ہیں اور خودکش حملہ آور کی شناخت کا عمل جاری ہے جبکہ اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔

پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے خوشحال گڑھ چیک پوسٹ کے قریب خودکش حملہ ناکام بناتے ہوئے جان دینے والے لیاقت علی کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف کا کہنا تھا کہ لیاقت علی نے اپنی جان قربان کر کے مقامی آبادی کو بڑی تباہی سے بچایا اور ان کی لازوال قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

’لیاقت سب کی مدد کے لیے آگے آگے ہوتا تھا‘

لیاقت علی پاکستان ریلوے کے ملازم تھے۔ انھوں نے اہلیہ، دو بیٹوں اور ایک بیٹی کو سوگوار چھوڑا ہے۔

ان کے بھائی نوید علی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں بھائی کی شہادت پر فخر ہے۔ میرا بھائی بہت بہادر انسان ہونے کے علاوہ ایک ہمدرد اور مخلص شخصیت تھا۔ گاؤں میں کسی کی غمی ہو یا خوشی سب کی مدد کرنے کے لیے آگے آگے ہوتا تھا۔‘

نوید علی کا کہنا تھا کہ ’کل شام سے ہمارے گھر پر تعزیت کے لیے بڑی تعداد میں لوگ آئے ہیں۔ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جنھیں ہم نے کبھی نہیں دیکھا اور کئی ایسے لوگ تھے جن کی لیاقت علی نے کبھی نہ کبھی مدد کی تھی۔‘

Attock Police

،تصویر کا ذریعہScreengrab

جنڈ کے ہی رہائشی اور لیاقت کے دوست عبدالصمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’لیاقت بہت ہنس مکھ انسان تھا اور دوست اس کا ساتھ پسند کرتے تھے۔‘

’ریلوے کے محکمے سے ریٹائرمنٹ کے بعد اس کی آبائی علاقے میں تھوڑی سی زمین تھی جبکہ اس کے ساتھ ساتھ اس نے بھیڑ بکریاں بھی پالی ہوئی تھیں جنھیں عیدِ قربان پر فروخت کرنے کا خیال تھا۔‘

عبدالصمد، جو خود بھی کھیتی باڑی کرتے ہیں، کا کہنا ہے کہ وقوعہ کے روز انھوں نے دوپہر کا کھانا مل کر کھایا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’کھانے کے دوران ہی لیاقت نے بتایا تھا کہ جانوروں کی فروخت سے جتنے پیسے جمع ہوں گے اس سے وہ اپنے گھر کی دوبارہ مرمت کے ساتھ ساتھ بچوں کے تعلیمی اخراجات کو بھی پورا کرے گا۔‘

نوید علی کے مطابق لیاقت علی کے جنازے پر ان کی ’بیٹی تابوت کے پاس بیٹھی بار بار کہہ رہی تھی کہ آپ نے تو وعدہ کیا تھا کہ مجھے پڑھائیں گے۔ اب مجھے کون تعلیم دلائے گا۔‘

اس بارے میں ڈپٹی کمشنر اٹک نے بی بی سی کو بتایا کہ ضلعی حکومت لیاقت کے اہلخانہ اور ان کے ورثا کا ہر ممکن خیال رکھے گی۔