تحفظ کی غرض سے ایرانی طیاروں کی نور خان ایئربیس پر موجودگی سے متعلق رپورٹ ’گمراہ کُن اور بے بنیاد‘ ہے: پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان نے امریکہ ٹی وی چینل ’سی بی ایس نیوز‘ کے اس دعوے کو ’بے بنیاد، سنسنی خیز اور گمراہ کُن‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے جس کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے بعد اس (پاکستان) نے ایرانی طیاروں کو ممکنہ امریکی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے جگہ دی ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نوعیت کی قیاس آرائیوں کا مقصد علاقائی استحکام اور امن کے لیے جاری کوششوں کو کمزور کرنا ہے۔‘
امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے ’سی بی ایس نیوز‘ نے 11 مئی کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ اپریل کے اوائل میں راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر متعدد ایرانی طیارے بھیجے گئے جن میں ایک آر سی 130 طیارہ بھی شامل ہے۔
اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’پاکستان نے خود کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک سفارتی رابطہ کار کے طور پر پیش کرتے ہوئے خاموشی سے ایرانی فوجی طیاروں کو اپنے ہوائی اڈوں پر کھڑا ہونے کی اجازت دی، جس سے ممکنہ طور پر وہ امریکی فضائی حملوں سے محفوظ رہ پائیں۔‘
سی بی ایس نے امریکی حکام، جن کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپریل کے اوائل میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے چند دن بعد تہران نے متعدد طیارے پاکستان ایئر فورس کے نور خان ایئر بیس پر بھیجے۔‘
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ اس ایرانی فوجی ساز و سامان میں ایرانی فضائیہ کا ایک آر سی-130 طیارہ بھی شامل تھا، جو لاک ہیڈ سی-130 ہرکیولیس ٹیکٹیکل ٹرانسپورٹ طیارے کا ایک جاسوسی اور انٹیلیجنس معلومات اکٹھی کرنے والا خصوصی ماڈل ہے۔
پاکستانی وزرات خارجہ نے اپنے بیان میں ایک طیارے کی پاکستان میں موجودگی کی تصدیق کی ہے تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ، رپورٹ میں کیے گئے دعوے کے برعکس، یہ طیارہ جنگ بندی کے دوران یہاں پہنچا تھا اور ’اس کا کسی بھی عسکری یا تحفظ کے لیے کیے جانے والے انتظامات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘
پاکستان کا مزید کہنا ہے کہ امریکہ، ایران جنگ بندی کے بعد اسلام آباد میں مذاکرات کے پہلے دور کا انعقاد ہوا تو ایران اور امریکہ سے متعدد طیارے پاکستان پہنچے تھے تاکہ سفارتی اور انتظامی عملے کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اہلکاروں کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کی جا سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پاکستان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دیگر ادوار کی توقع پر یہ طیارے اور اُن کے عملے کے کچھ افراد عارضی طور پر پاکستان میں ہی مقیم رہے۔
’اگرچہ باضابطہ مذاکرات ابھی دوبارہ شروع نہیں ہوئے، تاہم اعلیٰ سطح کے سفارتی تبادلوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ اور اِسی تناظر میں، ایرانی وزیر خارجہ کے اسلام آباد کے دوروں کے دوران پہلے سے موجود انتظامی اور لاجسٹک انتظامات کے تحت سہولت فراہم کی گئی۔‘
پاکستانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اِس وقت پاکستان میں جو ایرانی طیارہ کھڑا ہے، وہ جنگ بندی کے دوران یہاں پہنچے تھا اور ان کا کسی بھی عسکری یا تحفظ کے لیے کیے جانے والے انتظامات سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اگر اس کے برعکس کوئی بھی دعویٰ کیا جاتا ہے تو وہ ’قیاس آرائی پر مبنی اور گمراہ کُن‘ ہے۔
پاکستان کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان نے ایک غیر جانبدار اور ذمہ دار ثالث کے طور پر مکالمے اور کشیدگی میں کمی کے فروغ میں مسلسل اپنا کردار ادا کیا ہے اور اسی کردار کے تحت، جہاں ضرورت پڑی وہاں پاکستان نے لاجسٹک اور انتظامی تعاون فراہم کیا، اور اس کے ساتھ تمام متعلقہ فریقوں سے مکمل شفافیت کے ساتھ باقاعدہ رابطہ برقرار رکھا ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان مکالمے کے فروغ، کشیدگی میں کمی، اور علاقائی و عالمی امن، استحکام اور سلامتی کو آگے بڑھانے کے لیے تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت کے عزم پر قائم ہے۔
سی بی ایس کی اِسی رپورٹ میں ایک سیینئر پاکستانی عہدیدار نے نور خان ایئر بیس پر ایرانی طیاروں سے متعلق دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ’نور خان بیس (راولپنڈی) شہر کے عین وسط میں واقع ہے، اور وہاں بڑی تعداد میں طیاروں کی موجودگی عوام کی نظروں سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
اس رپورٹ میں افغانستان کے حوالے سے بھی اسی نوعیت کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے پڑوسی ملک افغانستان میں بھی اپنے مسافر طیارے پارک کرنے کے لیے بھیجے۔
افغان طالبان کے ترجمانِ ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان میں کسی بھی ایرانی طیارے کی موجودگی کی تردید کرتے ہوئے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ’نہیں، یہ درست نہیں ہے اور ایران کو ایسا کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔‘
سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرنے والے افغان سول ایوی ایشن کے ایک عہدیدار کے مطابق ماہان ایئر سے تعلق رکھنے والا ایک ایرانی مسافر طیارہ جنگ کے آغاز سے کچھ دیر قبل کابل میں لینڈ کیا تھا اور اس کے بعد ایرانی فضائی حدود بند ہونے کے بعد یہ طیارہ کابل ایئرپورٹ پر ہی کھڑا رہا۔
سی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق جب مارچ میں پاکستان نے افغان طالبان حکومت پر یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ وہ شدت پسند گروہ تحریک طالبان پاکستان کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کر رہی ہے، کابل پر فضائی حملے شروع کیے تو طالبان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اس طیارے کو ایران کی سرحد کے قریب واقع ہرات ایئرپورٹ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ اقدام کابل ایئرپورٹ پر پاکستانی طیاروں کی ممکنہ بمباری سے اس جہاز کو محفوظ رکھنے کے لیے اٹھایا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یاد رہے کہ 11 اپریل کو جب ایران، امریکہ مذاکرات کا پہلا دور ہوا تو اس سے چند روز پہلے، امریکی وفد کی آمد سے قبل اُن کی سکیورٹی اور پروٹوکول کے اہلکاروں کو لے کر کئی جہاز اسلام آباد پہنچے تھے۔ اسی طرح ایرانی وفد بھی طیاروں میں ہی اسلام آباد پہنچا تھا۔
اس وقت ایک حکومتی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ امریکی سی 17 مال بردار طیارہ جمعرات (نو اپریل) کو قطر کے امریکی العدید ایئر بیس سے اسلام آباد کے نور خان ایئر بیس پہنچا تھا۔
اہلکار کے مطابق ’یہ بہت بڑا طیارہ ہوتا ہے جس میں بکتر بند گاڑیاں اور ٹینک وغیرہ بھی آ سکتے ہیں۔ اس جہاز میں امریکی وفد کے لیے مخصوص گاڑیاں اسلام آباد پہنچی ہیں۔‘
اہلکار کے مطابق جمعہ (10 اپریل) کو بھی قطر کے العدید اور پھر جرمنی میں قائم امریکی فوجی ہوائی اڈے سے اسی نوعیت کے بڑے مال بردار جہاز مخصوص گاڑیاں اور سکیورٹی اور پروٹوکول کے عملے کو لے کر پہنچے تھے۔
انھوں نے بتایا تھا کہ ’امریکی وفد کے ممبران بنیادی طور پر پاکستان میں قیام کے دوران یہ گاڑیاں استعمال کریں گے۔ یہ بنیادی طور پر نائب صدر کا ایڈوانس دستہ ہے اور ان کے پروٹوکول کی تیاری ہوتی ہے جو ان کے پہنچنے سے پہلے مکمل کر لی جاتی ہے۔‘
اسلام آباد میں سرکاری حکام نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اسی طرح ایران کے وفد کی آمد سے پہلے ان کا ایڈوانس دستہ بھی اسلام آباد پہنچ گیا تھا جس نے ان کی سکیورٹی اور پروٹوکول کے انتظامات مکمل کیے تھے۔
























