لائیو, انقرہ میں ٹرمپ اور اردوغان کی ملاقات: امریکہ کا ترکی پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان

صدر ٹرمپ نے کہا کہ صدر اردوغان کی قیادت میں ترکی فوجی لحاظ سے ’بہت مضبوط‘ ہو گیا ہے۔ انھوں نے نیٹو کے حوالے سے اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اتحاد سے ’بہت مایوس‘ ہیں۔ امریکی صدر نے اشارہ دیا کہ اگر نیٹو سربراہی اجلاس ترکی میں منعقد نہ ہو رہا ہوتا تو شاید وہ اس میں شرکت نہ کرتے۔

خلاصہ

  • فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں کے دورۂ دمشق کے دوران دو دھماکے
  • بلوچستان کے ضلع زیارت میں مسلح افراد کا حملہ، نو پولیس اہلکار ہلاک
  • امریکہ یا تو ایران کے ساتھ معاہدہ کرے گا یا پھر 'کام تمام کر دے گا': صدر ٹرمپ
  • دھمکیاں جاری رہیں تو مذاکرات نہیں ہوں گے، اپنے دستخط کی عزت رکھیں: ایران
  • عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر پر میزائل حملہ
  • قم میں سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات جاری

لائیو کوریج

  1. سابق وزیر اعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی کے خلاف درخواستوں پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل، آئی جی جیل خانہ جات اور نیب کو نوٹس جاری کر دیے, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی کے خلاف درخواستوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’قیدِ تنہائی اور جیل میں خلاف قانون سلوک کے سنگین الزامات نظر انداز نہیں کر سکتے۔‘

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس خادم حسین سومرو نے علیمہ خانم اور مبشرہ مانیکا کی درخواستوں پر 10 صفحات کا تحریری حکم جاری کر دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’درخواستوں میں قیدِ تنہائی اور جیل میں خلاف قانون سلوک کے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔‘

    عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ ’ان الزامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا نہ ہی دوسرے فریق کو نوٹس جاری کیے بغیر یا جیل حکام کی رپورٹ کے بغیر مسترد کیا جا سکتا ہے؟‘

    عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ ’ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے قیدی کو جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں سخت قید اور سادہ قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قید تنہائی کی سزا بالکل بھی نہیں دی گئی۔‘

    عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ ’نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے کے الزامات جھوٹے ہیں اور نیب پراسیکیوٹر کے مطابق سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ایسے الزامات لگائے گئے ہیں۔‘

    عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ ’عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی سے متعلق سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل حقائق پر مبنی تفصیلی رپورٹ پیش کریں اور اس کے ساتھ یہ بھی بتائیں کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اگر قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے تو کس اتھارٹی کے حکم پر ایسا کیا گیا ہے؟ اور انھیں کس قانون کے تحت قیدِ تنہائی میں جیل حکام نے رکھا ؟‘

    عدالت نے اپنے حکم نامے میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ ’اگر قیدِ تنہائی ہے تو اس کی مدت کیا ہے؟‘ اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل حکام سے دونوں قیدیوں کی جیل میں حالت اور جیل رولز کے مطابق دی گئی سہولیات پر بھی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

    عدالت نے ان کیسز سے متعلق جیل کے مکمل ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات کے ساتھ مجاز افسر کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم بھی دیا ہے۔

    عدالت نے ان درخواستوں پر سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل، آئی جی جیل خانہ جات اور نیب کو نوٹس جاری کردیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل کے سپریٹنڈنٹ کی رپورٹ آنے کے بعد ہی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے کا تعین کیا جا سکے گا۔

    عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ان درخواستوں کی مزید سماعت چھ اگست کے مقرر کی جائے۔

  2. اٹلی آئندہ ہفتے اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کرے گا

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اٹلی نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے اسرائیل اور لبنان کی حکومت کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کی میزبانی کرے گا۔

    اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے ایکس پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ اٹلی کو ان مذاکرات کی میزبانی پر خوشی ہے، جبکہ یہ بات چیت امریکہ کی ثالثی میں جاری رہے گی۔

    اطالوی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق دونوں ممالک کے سفیروں کی سطح پر ہونے والے یہ مذاکرات 15 جولائی سے شروع ہوں گے اور دو روز تک جاری رہیں گے۔

    یہ رواں سال موسمِ بہار کے بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا چھٹا دور ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات معطل ہیں اور قانونی طور پر وہ اب بھی حالتِ جنگ میں ہیں۔

    گزشتہ ماہ لبنان اور اسرائیل نے امریکہ کی ثالثی میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد ’دیرپا امن‘ کے حصول کی راہ ہموار کرنا ہے۔

    یہ معاہدہ اسرائیلی فوج اور لبنان کی حزب اللہ کے درمیان نافذ ہونے والی ایک نازک جنگ بندی کے پانچ روز بعد سامنے آیا تھا۔ حالیہ جھڑپوں کا آغاز اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد ہوا تھا۔

  3. انقرہ میں ٹرمپ اور اردغان کی ملاقات: امریکہ کا ترکی پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’امریکہ ترکی پر عائد پابندیاں ختم کرنے جا رہا ہے۔‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ترکی پر سنہ 2020 کے آخر میں عائد کی گئی ’سی اے اے ٹی ایس اے‘ پابندیاں ختم کر دے گا۔

    صدر ٹرمپ نے ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر ترک صدر رجب طیب اردغان کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات میں بڑی مثبت پیش رفت کا بھی عندیہ دیا۔

    امریکی صدر کے اس اعلان کو امریکہ اور ترکی کے درمیان دفاعی اور سفارتی تعلقات میں بہتری کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

    ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو صدر ٹرمپ نے کہا کہ صدر اردغان کی قیادت میں ترکی فوجی لحاظ سے ’بہت مضبوط‘ ہو گیا ہے۔ انھوں نے نیٹو کے حوالے سے اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اتحاد سے ’بہت مایوس‘ ہیں۔ امریکی صدر نے اشارہ دیا کہ اگر نیٹو سربراہی اجلاس ترکی میں منعقد نہ ہو رہا ہوتا تو شاید وہ اس میں شرکت نہ کرتے۔

    دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردغان نے کہا ہے کہ ’انھیں امید ہے کہ انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس سے ایف 35 جنگی طیاروں کے معاملے پر ’مثبت فیصلہ‘ سامنے آئے گا۔

    اردغان نے کہا کہ انقرہ میں صدر ٹرمپ سے ملاقات نے ’ہمیں مثبت طاقت دی ہے‘ اور انھوں نے اس دورے کی اہمیت پر زور دیا۔

    ترک صدر نے کہا کہ ترکی ایران اور امریکہ کے تعلقات کو ’مستحکم بنیادوں‘ پر استوار کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، جبکہ انقرہ عالمی امن کے قیام کے لیے بھی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ترکی ایف 35 طیاروں کے معاملے پر امریکہ کی سابقہ یقین دہانیوں کو مثبت انداز میں دیکھتا ہے اور صدر ٹرمپ ہمیشہ اپنے وعدوں پر قائم رہے ہیں۔

    ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو اردوان نے مزید کہا کہ ’وہ نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر صدر ٹرمپ کے ساتھ روس اور یوکرین کے درمیان جاری صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کریں گے۔‘

    ترک صدر کے مطابق وہ اور ان کے ’عزیز دوست‘ صدر ٹرمپ نیٹو اجلاس کو غزہ میں امن کے قیام کی کوششوں کے لیے انتہائی اہم سمجھتے ہیں۔

    واضح رہے کہ ترکی پر ’سی اے اے ٹی ایس اے‘ یعنی ’امریکہ کے مخالفین سے نمٹنے کے لیے پابندیوں کے قانون‘ کے تحت یہ پابندیاں سنہ 2020 میں اس وقت لگائی گئیں تھیں کہ جب اس نے روس سے فضائی دفاعی نظام خریدا تھا۔ امریکہ کا مؤقف تھا کہ روسی نظام کی خریداری نیٹو کے دفاعی نظام اور امریکی جنگی طیاروں کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

  4. نیٹو کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے امریکی صدر کی ترکی آمد

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو کے 2026 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی کے دارالحکومت انقرہ پہنچ گئے ہیں۔

    ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے منگل کے روز نیٹو کے دو روزہ سربراہی اجلاس کے آغاز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دارالحکومت انقرہ میں استقبال کیا۔

    بعد ازاں صدارتی محل میں ٹرمپ کے اعزاز میں سرکاری استقبالیہ تقریب منعقد کی جائے گی، جس کے بعد دونوں رہنما دوطرفہ ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات کریں گے۔ ان مذاکرات میں علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

    نیٹو کا 2026 سربراہی اجلاس منگل کے روز یعنی آج ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں 32 رکن ممالک کے سربراہان اور متعدد شراکت دار ممالک کے نمائندے آئندہ دو روز تک اعلیٰ سطحی مذاکرات میں شرکت کریں گے۔

    ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق اجلاس کے دوران دفاعی اخراجات میں اضافے، یوکرین کے لیے طویل المدتی حمایت اور نیٹو کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق امور سرفہرست رہنے کی توقع ہے۔

    نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے اور دیگر حکام کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک اس سربراہی اجلاس کے ذریعے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ دفاعی اخراجات میں اضافے سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ اجلاس کے دوران بڑے دفاعی معاہدوں کے اعلانات بھی متوقع ہیں۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  5. چین میں دو ارب یوان سے زائد مالیت کی رشوت لینے والے سابق سرکاری افسر کو عدالت نے سزائے موت سنا دی

    CCTV

    ،تصویر کا ذریعہCCTV

    مشرقی چین کی ایک عدالت نے ایک سابق سرکاری عہدیدار کو تقریباً 30 برس کے دوران دو اعشاریہ دو ارب یوان یعنی تقریباً 325 ملین امریکی ڈالر سے زائد رشوت لینے کے جرم میں سزائے موت سنا دی ہے۔

    چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق سنہ 1993 سے سنہ 2023 تک نانجنگ شہر میں مختلف سرکاری عہدوں پر فائز رہنے والے 69 سالہ یانگ یولِن کو رشوت لینے کے علاوہ سرکاری فنڈز میں خردبرد، اختیارات کے ناجائز استعمال اور منی لانڈرنگ کے جرائم میں بھی مجرم قرار دیا گیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق یانگ یولِن نے اپنے عہدوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف افراد کو ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکے، اراضی کی منتقلی اور مالی معاونت دلوانے کے بدلے بھاری رقوم اور قیمتی تحائف وصول کیے۔

    یہ تحقیقات چینی صدر شی جن پنگ کی ملک گیر انسدادِ بدعنوانی مہم کے تحت کی گئیں، جس کے دوران فوج، بینکاری اور دیگر اہم شعبوں میں بھی اعلیٰ حکام کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں۔

    پیر کے روز چانگژو شہر کی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یانگ یولِن کے جرائم ’انتہائی سنگین نوعیت‘ کے تھے اور ان کے باعث ’ریاست اور عوام کے مفادات کو غیر معمولی نقصان‘ پہنچا۔

    صدر شی جن پنگ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد چین میں بدعنوانی کے خلاف متعدد مہمات چلائی گئی ہیں تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ان مہمات کو بعض اوقات سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین میں مالی بدعنوانی جیسے وائٹ کالر جرائم پر سزائے موت نسبتاً کم دی جاتی ہے تاہم ایک ارب یوان سے زائد مالیت کی بدعنوانی کے مقدمات میں بعض اوقات یہ سزا سنائی جاتی ہے۔

    اس سے قبل سنہ 2021 میں چین کے سابق مالیاتی ادارے کے سربراہ لائی شیاومِن کو بھی 10 برس کے دوران ایک اعشاریہ آٹھ ارب یوان رشوت لینے کے جرم میں سزائے موت سُنا کر پھانسی دے دی گئی تھی۔

    چانگژو کی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ یانگ یولِن نے بھی تفتیش کے دوران حکام سے تعاون کیا، لیکن ان کے جرائم کی سنگینی اس قدر زیادہ تھی کہ یہ تعاون سزا میں نرمی کے لیے کافی نہیں تھا۔

    سرکاری میڈیا کے مطابق یانگ یولِن نے عدالت میں اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور اپنے آخری بیان میں ندامت کا اظہار بھی کیا۔

  6. ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت آج نجف منتقل کی جائے گی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت قم میں نمازِ جنازہ کے بعد آج عراق کے شہر نجف منتقل کی جائے گی۔

    ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی کے مطابق سابق رہبرِ اعلیٰ کے بڑے صاحبزادے مصطفیٰ خامنہ ای، ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف بھی میت کے ساتھ نجف جائیں گے اور عراق میں ہونے والی آخری رسومات میں شرکت کریں گے۔

    آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت کو عراق میں کربلا اور نجف لے جایا جائے گا جہاں اُن کی نمازِ جنازہ بھی ہو گی۔

    بعد ازاں میت کو جمعرات کے روز واپس ایران لا کر مشہد میں امام رضاؑ کے روضے کے احاطے میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

  7. بریکنگ, دمشق میں دو مختلف مقامات پر دھماکے متعدد افراد زخمی، فرانسیسی صدر محفوظ ہیں: صدارتی دفتر کی تصدیق

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    فرانس کے صدر کی سرکاری رہائش گاہ اور صدارتی دفتر نے تصدیق کی ہے کہ منگل کی صبح دمشق کے وسطی علاقے میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں تاہم فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں محفوظ ہیں۔

    ایک سکیورٹی ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے دو بارودی آلات پھٹنے کے نتیجے میں ہوئے، جبکہ شامی میڈیا کے مطابق اس واقعے میں چار پولیس اہلکاروں سمیت 18 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    صدر میکخواں اس وقت شامی صدر احمد الشرع کے ساتھ صدارتی محل میں ملاقات اور مذاکرات کے لیے دمشق میں موجود ہیں۔

    شام کے دورے کے بعد صدر میکخواں نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی روانہ ہوں گے۔ ایلیزے پیلس یعنی صدارتی دفتر کے مطابق ان کا دورہ شیڈول کے مطابق جاری ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

    دھماکوں کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں دمشق کے ایک ہوٹل کے قریب ایک گاڑی سے دھواں اور شعلے اٹھتے دکھائی دیے۔

    اسی دوران شامی سرکاری ٹیلی ویژن نے اطلاع دی کہ صدر احمد الشرع نے صدارتی محل میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کا خیرمقدم کیا۔

    بی بی سی ویریفائی نے دھماکوں کی ویڈیو فوٹیج کا جائزہ لیا، جس کے مطابق دھماکے دمشق کے فور سیزنز ہوٹل سے تقریباً 125 میٹر کے فاصلے پر شُکری القوتلی سٹریٹ کے فٹ پاتھ پر ہوئے، جو دارالحکومت کی اہم شاہراہوں میں سے ایک ہے۔

    فرانسیسی حکام کے مطابق صدر میکخواں نے صدارتی محل جاتے ہوئے کسی بھی دھماکے کی آواز نہیں سنی۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پیر کی شام، شام پہنچنے والے فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں، بشار الاسد کے 24 سالہ دورِ حکومت کے خاتمے کے بعد شام کا دورہ کرنے والے یورپی یونین کے پہلے سربراہ بن گئے ہیں۔

    جولائی کے آغاز میں دمشق کے وسطی علاقے میں ایک مصروف کیفے میں ہونے والے بم دھماکے میں کم از کم نو افراد ہلاک جبکہ 22 دیگر زخمی ہوئے تھے، جس کی تصدیق شامی سرکاری میڈیا نے کی تھی۔

  8. ایرانی رکنِ پارلیمان کی آبنائے ہرمز میں یکطرفہ اقدامات کے خلاف تنبیہ

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر پر حملے کے بعد آبنائے ہرمز میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ چکی ہے۔ ایسے میں ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن علاء الدین بروجردی نے کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز میں ایران کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی بھی قدم اٹھایا گیا تو اس کا نتیجہ ناکامی ہے۔‘

    بروجردی نے آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے فیصلہ ’اعلیٰ ترین سطح‘ پر کیا گیا ہے اور اسے ’یقیناً نافذ کیا جائے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق قانون پارلیمان سے بھی منظور کرایا جائے گا۔

    بروجردی کے بقول ’ایران خطے میں ہونے والی پیش رفت پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے اور آبنائے ہرمز سے متعلق ہر اقدام کو اپنے قومی مفادات اور قومی سلامتی کے دائرے میں آگے بڑھاتا ہے۔‘

    یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چند گھنٹے قبل برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن نے اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر پر میزائل حملہ کیا گیا جس کے بعد اس میں آگ لگ گئی۔

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا: ’قطر کے آئل ٹینکر الرقایات نے امریکی بحریہ کی مدد سے آبنائے ہرمز میں عمانی راستے سے گزرنے کی کوشش کی، لیکن بار بار کی تنبیہ کو نظر انداز کرنے کے بعد اسے نشانہ بنایا گیا۔‘

    اس وقت ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں اور دیگر کشتیوں کی آمد و رفت کے لیے دو الگ الگ راستے مقرر کر رکھے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ جنوبی راستہ، جسے امریکہ کی حمایت حاصل ہے، ان ’ایرانی انتظامات‘ کی خلاف ورزی ہے جو امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں درج ہیں۔

  9. فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں کے دورۂ دمشق کے دوران دو دھماکوں کی آوازیں

    دمشق میں دھماکے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    شام کے دار الحکومت دمشق میں فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں کے دورے کے دوران دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    عینی شاہدین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ دھماکوں کے فوراً بعد اس مقام کے قریب سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا جہاں ایمانویل میکخواں نے رات قیام کیا تھا۔

    دھماکوں کی آوازیں دمشق کے مختلف علاقوں میں سنی گئیں، جس کے بعد دھویں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے اور ایمبولینسیں موقع کی جانب روانہ ہوئیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب میکخواں صدارتی محل میں شام کے عبوری صدر احمد الشرع کے ساتھ ملاقات کر رہے تھے۔

    ایمانویل میکخواں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق کا دورہ کرنے والے پہلے مغربی سربراہِ مملکت ہیں۔

    شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق عبوری صدر احمد الشرع نے دمشق کے صدارتی محل میں فرانسیسی صدر کا استقبال کیا۔ یہ ملاقات دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کے کچھ ہی دیر بعد ہوئی۔

    دھماکوں کے بعد سکیورٹی اقدامات کے تحت حکام نے دار الحکومت کی متعدد سڑکیں بند کر دی ہیں۔

  10. بلوچستان کے ضلع زیارت میں مسلح افراد کا حملہ، نو پولیس اہلکار ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    پولیس، فائل فوٹو

    ،تصویر کا ذریعہDaniel Berehulak/Getty Images

    بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے مانگی میں مسلح افراد کے حملے میں کم از کم نو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ضلع زیارت کے ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ مانگی ڈیم کے علاقے میں پیش آیا۔

    ان کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والے اہلکار مانگی ڈیم کے فیز تھری کے تعمیراتی مقام پر تعینات تھے۔

    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ حملے میں دو تھانوں کے ایس ایچ اوز سمیت کم از کم نو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ بعض اہلکار لا پتہ بھی ہیں۔

    اس واقعے کے خلاف گذشتہ شب سے ضلع پشین میں خانوزئی کراس کے مقام پر نیشنل ہائی وے پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔

    مظاہرین کا کہنا ہے کہ مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد علاقے میں آئی اور 20 سے زائد پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لیا۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا شاہد رند نے کہا ہے کہ ڈی ایس پی غلام سرور سمیت آٹھ پولیس اہلکار دشوار گزار پہاڑی راستوں سے بحفاظت تھانہ کچ پہنچ گئے، جبکہ رضوان نامی ایک کانسٹیبل کو بھی بازیاب کر لیا گیا ہے۔

    ان کے مطابق ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی لاشیں قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال زیارت منتقل کی جا رہی ہیں۔

    اس حملے کی ذمہ داری تا حال کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔ تاہم وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا شاہد رند کی جانب سے جاری کیے گئے بیانات میں کہا گیا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق ’فتنہ الخوارج‘ سے تھا۔

    اگست 2024 سے حکومت پاکستان نے تمام وزارتوں اور سرکاری محکموں کو احکامات جاری کیے تھے کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے ’فتنہ الخوارج‘ کی اصطلاح استعمال کی جائے۔

    مانگی کہاں واقع ہے؟

    مانگی بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ سے شمال مشرق کی جانب تقریباً 85 کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع زیارت اور ضلع ہرنائی کے سرحدی علاقے میں واقع ہے۔

    حکومتِ بلوچستان یہاں اربوں روپے کی لاگت سے مانگی ڈیم تعمیر کر رہی ہے، جس کا مقصد کوئٹہ کو درپیش پانی کی قلت پر قابو پانا ہے۔

    مانگی کے علاقے میں ماضی میں بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔

    اگست 2021 میں یہاں بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں لیویز فورس کے تین اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

  11. دھمکیاں جاری رہیں تو مذاکرات نہیں ہوں گے، اپنے دستخط کا پاس رکھیں: ایران

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر 13 بالکل واضح ہے، ’اگر دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا تو حتمی معاہدے سے متعلق مذاکرات شروع نہیں ہوں گے۔‘

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے پیغام میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے عوام اور مسلح افواج کسی دھمکی سے مرعوب نہیں ہوتے۔

    اس پیغام میں عباس عراقچی نے کسی کو مخاطب تو نہیں کیا لیکن چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان سامنے آ چکا ہے کہ امریکہ یا تو ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کرے گا یا پھر ’کام تمام کر دے گا۔‘

    عباس عراقچی نے امریکہ، ایران مفاہمتی یادداشت کی جس شق نمبر 13 کا حوالہ دیا، اس میں لکھا ہے: ’مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد، اور اس کی شق ایک، چار، پانچ، 10 اور 11 پر عمل در آمد کے آغاز اور ان اقدامات کے مسلسل جاری رہنے کی شرط کے تحت، امریکہ اور ایران حتمی معاہدے سے متعلق مذاکرات کا باقاعدہ آغاز کریں گے۔‘

    یعنی جب مفاہمتی یادداشت کی اوپر درج کی گئی شقوں پر عمل در آمد شروع ہو گا، اس کے بعد دونوں فریق حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کریں گے۔

    اور مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر ایک یہ کہتی ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو دھمکی تک نہیں دیں گے۔ شق کے الفاظ ہیں کہ امریکہ اور ایران ’اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ وہ آئندہ ایک دوسرے کے خلاف جنگ یا کسی فوجی کارروائی کا آغاز نہیں کریں گے اور ایک دوسرے کے خلاف دھمکی یا طاقت کے استعمال سے گریز کریں گے۔‘

    مفاہمت کی اس یادداشت پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے دستخط کیے تھے۔

    ایکس پر اپنے بیان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کسی کو مخاطب کیے بغیر لکھا: ’اپنے دستخط کا پاس رکھیں۔‘

  12. قم میں سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا آغاز

    قم میں علی خامنہ ای کی آخری رسومات

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    تقریباً چار ماہ قبل امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کے تابوت تہران سے قم منتقل کیے گئے جہاں اب ان کی آخری رسومات با ضابطہ طور پر شروع ہو گئی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق آیت اللہ جوادی آملی نے قم کی مسجد جمکران میں نمازِ جنازہ پڑھائی۔

    قم میں آخری رسومات کے بعد میتیں عراق منتقل کی جائیں گی۔

  13. عمان کے ساحل کے قریب آئل ٹینکر پر میزائل حملہ

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر پر میزائل حملہ کیا گیا ہے۔

    برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن (یو کے ایم ٹی او) نے اعلان کیا کہ اسے عمان کے شہر لیما کے مشرق میں آٹھ بحری میل کے فاصلے پر ایک واقعے کی رپورٹ موصول ہوئی ہے۔

    اس رپورٹ کے مطابق ایک آئل ٹینکر جنوب کی جانب سفر کے دوران بائیں جانب (بندرگاہ) سے ایک نا معلوم میزائل کی زد میں آیا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔

    اس واقعے میں کسی جانی نقصان یا ماحولیاتی آلودگی کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

    برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن نے اس علاقے سے گزرنے والے جہازوں کو احتیاط برتنے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع اس ادارے کو دینے کی ہدایت کی ہے۔

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے: ’قطر کے آئل ٹینکر الرقایات نے امریکی بحریہ کی مدد سے آبنائے ہرمز میں عمانی راستے سے گزرنے کی کوشش کی، لیکن بار بار کی تنبیہ کو نظر انداز کرنے کے بعد اسے نشانہ بنایا گیا۔‘

    یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب پیر، 6 جولائی کو ایل ایس ای جی شپنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوا کہ جاپان سے منسلک 10 جہازوں پر مشتمل ایک بیڑا آبنائے ہرمز سے نکل رہا تھا۔

    اس ڈیٹا کے مطابق بیڑے میں مشرقِ وسطیٰ کا ایک کروڑ 20 لاکھ بیرل تیل لے جانے والا ایک بڑا آئل ٹینکر، کیمیائی مواد لے جانے والے دو ٹینکر، ایک گاڑیاں لے جانے والا جہاز اور ایک کنٹینر بردار جہاز شامل تھے۔

    ایران نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کے لیے اپنے قریب ایک راستہ مقرر کیا ہے، جبکہ عمان نے بھی اپنے ساحل کے نزدیک ایک راستہ متعین کر رکھا ہے۔

    عمان کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایک عارضی بحری راستہ قائم کرنے کے اعلان کے بعد ایران کے پاسداران انقلاب نے خبردار کیا تھا کہ صرف ایرانی راستہ ہی ’محفوظ‘ ہے اور ضابطے کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں سے نمٹا جائے گا۔

  14. چین کے صوبے گوانگ شی میں طوفان کے باعث سیلاب

    چین میں سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہVCG via Getty Images

    چین کے جنوبی صوبے گوانگ شی میں مایساک نامی طوفان کے باعث سیلاب آ گیا ہے، حکام کے مطابق چار لاکھ 80 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

    طوفان کی وجہ سے دریاؤں میں پانی کی سطح بھی بلند ہو گئی ہے اور شہر ناننگ میں ایک آبی ذخیرے کی دیوار تک ٹوٹ گئی، جس کے نتیجے میں پانی کا تیز ریلہ نکل پڑا۔

    حکام کے مطابق طوفان مایساک کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران گوانگ شی اور اس سے ملحقہ کئی صوبوں میں موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

  15. فٹبال ورلڈ کپ: ٹرمپ کی مدد کے باوجود امریکہ بیلجیم سے شکست کھا گیا

    امریکہ بیلجیم سے ہار گیا

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    بیلجیم کی فٹبال ٹیم نے امریکہ کو 4-1 سے شکست دے کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا ہے۔

    بیلجیم نے ایک منظم، جارحانہ اور متاثر کن کھیل پیش کرتے ہوئے 11 ویں منٹ میں پہلا گول کیا۔

    تاہم امریکہ کے اٹیکنگ مڈفیلڈر ملک ٹِلمین اور بائر لیورکوزن نے ایک فری کِک سے امریکہ کے لیے گول کر دیا اور دو منٹ کے لیے مقابلہ برابر کر دیا۔

    بیلجیم نے بہت جلد ایک اور حملے میں دوسرا گول کر لیا اور یوں پہلے ہاف کے اختتام پر اسے برتری حاصل تھی۔

    بلیجیم نے دوسرے ہاف میں بھی دباؤ برقرار رکھا اور تیسرا گول کیا۔

    اضافی وقت میں لوکاکو نے بیلجیم کا چوتھا گول بھی کر دیا۔ اس طرح بیلجیم نے کوارٹر فائنل مرحلے میں جگہ بنا لی، جہاں جمعے کو اس کا مقابلہ سپین سے ہو گا۔

    آج کا میچ فیفا کے اس غیر معمولی فیصلے کے باعث بھی توجہ کا مرکز رہا جس کے تحت امریکہ کے ایک سٹرائیکر فولارن بالوگن پر عائد جرمانہ معاف کر دیا گیا تھا، اور کہا گیا کہ اس فیصلے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارش بھی شامل تھی۔

  16. فٹبال ورلڈ کپ: سپین نے 90 ویں منٹ میں گول کر کے پرتگال کو شکست دے دی

    سپین نے پرتگال کو ہرا دیا

    ،تصویر کا ذریعہEPA / Shutterstock

    سپین کی فٹبال ٹیم نے ایک محتاط اور نہایت سوچ سمجھ کر کھیلے گئے مقابلے کے بعد، میچ کے 90 ویں منٹ میں واحد گول کیا اور 1-0 سے پرتگال کو شکست دے کر کوارٹر فائنل مرحلے میں جگہ بنا لی۔

    پہلے ہاف میں دونوں ٹیموں کی کارکردگی معمول کے مطابق رہی اور انھوں نے محتاط انداز میں کھیل پیش کیا۔

    دوسرے ہاف میں سپین بہتر ٹیم ثابت ہوا اور آرسنل کے کھلاڑی میکل میرینو نے میچ کے آخری لمحات میں پرتگال کی دفاعی لائن کے پیچھے جگہ بنا کر ایک درست شاٹ کے ذریعے میچ کا واحد گول کر دیا۔

    اضافی وقت میں بھی کرسٹیانو رونالڈو اور پرتگالی ٹیم کی کوششیں کافی ثابت نہ ہو سکیں اور یوں سپین اگلے مرحلے میں پہنچنے میں کامیاب رہا۔

  17. سری لنکا کی جیل میں ہنگامے، 26 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی

    سری لنکا جیل میں ہنگامے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مغربی سری لنکا کی ایک جیل میں ہونے والے ہنگاموں میں 26 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں سات محافظ شامل ہیں، جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    کولمبو کے شمال میں واقع ساحلی قصبے کی نیگومبو جیل میں دو روز تک جاری رہنے والا تشدد قیدیوں کے دو گروہوں کے درمیان جھڑپوں سے شروع ہوا۔

    قیدیوں پر الزام ہے کہ انھوں نے اتوار کے روز محافظوں کی بندوقیں چھین لی تھیں۔ اس دن دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔ بعد ازاں مرد قیدی اور ملحقہ یونٹ میں موجود خواتین جیل کی چھتوں پر چڑھ گئے اور اپنی رہائی کا مطالبہ کرنے لگے۔

    پیر کے روز تشدد کے مزید واقعات پیش آئے جب قیدیوں نے جیل کے دروازوں کی جانب دھاوا بولنے کی کوشش کی۔ سکیورٹی فورسز تعینات کی گئیں اور جیل کے اندر سے متعدد گولیاں چلنے کی آوازیں سنی گئیں۔

    اطلاعات کے مطابق یہ تشدد اس وقت شروع ہوا جب ایک قیدی نے جیل کے اندر منشیات کی سمگلنگ کے خلاف ایک آپریشن کی مخبری کی اور اس پر جھڑپ ہو گئی۔

    حکام کے مطابق مجموعی طور پر 23 جیل افسران اور 54 قیدی اب بھی زیرِ علاج ہیں۔

  18. بلوچستان کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینیئرنگ سردار عبدالرحمان کھیتران عہدے سے برطرف

    عبدالرحمان کھیتران

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے گورنر شیخ جعفر خان مندوخیل نے صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔

    گورنر مندوخیل نے وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی کے مشورے پر عبدالرحمان کھیتران کی وزارت سے برطرفی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے۔

    کھیتران کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے اور برطرفی سے قبل وہ پبلک ہیلتھ انجینیئرنگ اور واسا کے وزیر تھے۔

    اگرچہ سردار عبدالرحمان کھیتران کو وزارت سے ہٹانے کی کوئی وجہ سامنے نہیں آئی تاہم انھوں نے کوہ سلیمان کے نام سے نئے ڈویژن بنانے کے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے فیصلے کی اعلانیہ مخالفت کی تھی اور وزیر اعلیٰ کو اس پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

    سردار عبدالرحمان کھیتران آج کل یورپ کے دورے پر ہیں اور انھوں نے واپسی تک وزارت سے برطرفی کے فیصلے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

  19. انسانی سمگلنگ کے خلاف عالمی کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد ملزمان گرفتار

    انسانی سمگلنگ

    ،تصویر کا ذریعہInterpol

    انسانی سمگلنگ کے خلاف 59 ممالک میں ہونے والے ایک عالمی کریک ڈاؤن کے دوران ایک ہزار سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    انٹرپول کی زیرِ نگرانی ہونے والے آپریشن گلوبل چین میں اہلکاروں نے جنسی استحصال، جبری مشقت، مجرمانہ سرگرمیوں اور زبردستی بھیک منگوانے کے لیے کی جانے والی انسانی سمگلنگ کو ہدف بنایا۔

    حکام کے مطابق اس کارروائی کے دوران کمبوڈیا میں افراد کو آن لائن فراڈ کی سکیموں میں شامل کرنے کے لیے سمگل کرنے والے ایک نیٹ ورک اور یورپ میں سوشل میڈیا کے ذریعے بھرتی کی جانے والی کم عمر لڑکیوں کو جسم فروشی کے کاروبار پر مجبور کرنے والے ایک نیٹ ورک کا خاتمہ کیا گیا۔

    مجموعی طور پر 2,070 متاثرین یا ممکنہ متاثرین کی نشاندہی کی گئی جن میں sy اکثریت خواتین کی تھی۔ گرفتار ہونے والوں میں 334 افراد کو انسانی سمگلنگ اور 690 کو اس سے منسلک جرائم کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

    انٹرپول، جس نے یورپی یونین کی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کی ایجنسی یوروپول اور یورپی سرحدی ایجنسی فرنٹیکس کے ساتھ مل کر یہ کارروائی انجام دی ہے، نے کہا کہ آپریشن کے نتائج سے انسانی سمگلنگ کے بدلتے ہوئے راستوں اور طریقۂ کار کا پتا چلا ہے۔

  20. علی خامنہ ای اور اہلِ خانہ کے تابوت قم روانہ کر دیے گئے

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے انتظامات کرنے والے ادارے کے سربراہ حسن حسن زادہ کا کہنا ہے کہ تہران میں ہونے والا جلوس شیڈول کے مطابق ختم ہو گیا تھا جس کے بعد تابوتوں کو قم شہر بھجوا دیا گیا۔

    آج علی الصبح علی خامنہ ای اور ان کے بعض اہلِ خانہ کے تابوت، جو تقریباً چار ماہ قبل ان کے ہمراہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہوئے تھے، تہران کے مصلیٰ سے ایک ٹرالر پر روانہ کیے گئے تھے۔ اس جلوس نے آزادی سکوائر تک 10 کلومیٹر طویل راستہ طے کیا تھا جس میں کئی گھنٹے لگے۔