روسی طیارے یوکرین کے خلاف سب سے مؤثر سمجھے والے گلائیڈ بم اپنے ہی علاقوں پر کیوں گرا رہے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہRUSSIAN DEFENCE MINISTRY
- مصنف, ویٹالی شیوچنکو
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
20 اپریل 2023 کی رات گئے ایک دھماکے نے روسی شہر بلگورود کو ہلا کر رکھ دیا۔
واقعے کے مقام سے حاصل کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک تیز سیٹی نما آواز سنائی دیتی ہے جیسے کسی جیٹ انجن کی ہوتی ہے۔ اس آواز کے فوراً بعد ایک زبردست دھماکہ ہوتا ہے۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ رہائشی علاقے کے وسط میں ایک گہرا گڑھا بن گیا اور ایک گاڑی اچھل کر ایک دکان کی چھت پر جا گری۔
بلگورود میں ہونے والا یہ دھماکہ کسی روسی لڑاکا طیارے کی جانب سے غلطی سے اپنے ہی علاقے پر بم گرائے جانے کا ایک ایسا واقعہ ہے جسے بہتر انداز میں ریکارڈ کیا گیا۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ واقعہ ایک بڑے شہر میں پیش آیا تھا۔
تاہم محققین دعویٰ کرتے ہیں کہ اس طرح کے سینکڑوں واقعات اور بھی ہوئے ہیں جنھیں روسی حکام خفیہ رکھنا چاہتے ہیں۔
آزاد میڈیا ادارے آسٹرا کے اندازے کے مطابق فروری 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے آغاز کے بعد سے روسی جنگی طیارے روس یا روسی قبضے میں موجود یوکرینی علاقوں میں کم از کم 334 بم غلطی سے گرا چکے ہیں۔ آسٹرا کے مطابق صرف اس سال اب تک کم از کم 26 بم اس طرح ضائع ہوئے ہیں۔
آسٹرا کی ایڈِٹر ان چیف اناستازیا چُماکووا کے مطابق یہ ایک محتاط اندازہ ہے جس میں صرف ان واقعات کو شامل کیا گیا ہے جن کی تصدیق ایمرجنسی سروسز کے ذرائع، عینی شاہدین یا دستاویزی شواہد سے ہوئی۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔‘
حال ہی میں رپورٹ ہونے والے واقعات میں سے ایک میں ریلوے لائن پر بم گرنے کے بعد مسافر ٹرین پٹری سے اتر گئی تھی جبکہ ایک اور واقعے میں اس وقت ایک شخص ہلاک ہو گیا جب ایک بم غلطی سے اس کے گھر پر گر گیا۔ یہ دونوں حادثات مئی کے مہینے میں یوکرین کی سرحد سے متصل روس کے یلگورود خطے سے رپورٹ ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہRUSSIAN MINISTRY OF DEFENCE
روسی جنگی طیاروں سے ضائع ہونے والے ہتھیاروں کی بھاری اکثریت گلائیڈ بموں پر مشتمل ہے۔ یہ بم حال ہی میں تیار کی گئی ایسی کٹس پر انحصار کرتے ہیں جن میں کھلنے والے پروں جیسے حصے نصب ہوتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان گلایڈ بموں کو تیار کرنے کا مقصد روسی طیاروں کو صلاحیت فراہم کرنا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود کے اندر اور یوکرینی فضائی دفاع کی پہنچ سے باہر رہتے ہوئے ان بموں سے یوکرین میں اپنے اہداف کو نشانہ بنا سکیں۔ یو ایم پی گلائیڈ کٹ سے لیس یہ بم ہوا میں تیرتے ہوئے اپنے ہدف تک پہنچتے ہیں۔
لیکن جب ان بموں کے ساتھ گلائیڈ کٹ کے پر نہیں کھلتے تو ایسے میں یہ بم روسی علاقوں میں ہی گر جاتے ہیں۔

آزاد تحقیقاتی گروپ کانفلکٹ انٹیلیجنس ٹیم کے سربراہ رسلان لوییف کا خیال ہے کہ اس کی ایک ممکنہ وجہ وہ دھماکہ خیز چارجز ہیں جو ایک سپرنگ کو متحرک کرتے ہیں اور یہی سپرنگ گلائیڈ کٹ کے ان پروں جیسے حصوں کو کھولتا ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایسے بم طویل فاصلے تک جانے والے گلائیڈ ہتھیاروں کے بجائے سادہ بم بن جاتے ہیں جو محض نیچے گرتے ہیں۔‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
300 سے زیادہ بم ایک بڑی تعداد ہے تاہم لوییف کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے استعمال کیے جانے والے گلائیڈ بموں کی مجموعی تعداد کو دیکھتے ہوئے ضائع ہونے والے بموں کا تناسب غیر معمولی نہیں۔
’جنگوں میں ایسا ہونا معمول کی بات ہے۔ کبھی کبھار جدید ترین نظاموں میں بھی خرابی آ جاتی ہے۔‘
ان کے خیال میں آسٹرا کی جانے سے بتائی گئی تعداد اتنی زیادہ نہیں۔ ’ان کے اندازے کے مطابق یہ سالانہ ایک یا دو سو کے درمیان ہے لیکن روس ہر ماہ ایسے چھ ہزار سے زیادہ بم استعمال کرتا ہے۔‘
بی بی سی روسی سروس میں دفاع اور ہوا بازی کے نامہ نگار پاویل اکسیونوف کے مطابق روسی بمبار طیاروں کی مسلسل تعیناتی بھی ان ناکامیوں کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ایسے میں طیاروں کی دیکھ بھال کا معیار کم ہو جاتا ہے۔ ’ایک صورتِ حال تو یہ ہوتی ہے کہ آپ جنگی مشن سے واپس آئیں تو اگلے چند روز تک ماہرین آپ کے طیارے کی جانچ پڑتال کریں لیکن جب آپ جنگی مشن سے واپس آئیں اور فوراً ہی دوبارہ آپ کو ایک اور مشن پر بھیج دیا جائے تو یہ بالکل مختلف صورتحال ہوتی ہے۔ اس سے بہت زیادہ خرابی پیدا ہوتی ہے۔‘
محققین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر حادثاتی بمباری روس کے بلگورود خطے میں ہوتی ہے۔ یہ یوکرین کے صنعتی اعتبار سے اہم خارکئیو خطے سے متصل ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ سرحد پار سے داغے جانے والے روسی گلائیڈ بموں کا ہدف یہی علاقے ہوتے ہیں۔
خارکئیو خطے کی ریاستی انتظامیہ کے سربراہ اولیہ سینیہوبوف کے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر موجود رپورٹس کے مطابق 2026 کے آغاز سے لے کر 29 جون تک روس اس خطے پر 473 گلائیڈ بم حملے کر چکا۔

،تصویر کا ذریعہSTATE EMERGENCIES SERVICE DSNS
روس میں حادثاتی بمباری کو تقریباً کبھی باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا اور حکام اس مسئلے کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے گرد رازداری کے باعث اس کے حقیقی اثرات کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالی نقصان کے علاوہ ان واقعات میں متعدد شہری ہلاک اور زخمی بھی ہوئے لیکن جب تک گلائیڈ بم روس کے اسلحہ خانے کے مؤثر ترین اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والے ہتھیاروں میں شامل رہیں گے، روس ایسے جانی نقصانات کو یوکرین کے خلاف جنگ جاری رکھنے کی قیمت کے طور پر قبول کرتا رہے گا۔

























