’ہم دو ہزار کلو میٹر دُور اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں‘: یوکرین کے ’اُڑتے پرندوں‘ کے حملے جنھیں پوتن بھی تکلیف دہ سمجھتے ہیں

Robert Brovdi durante su entrevista con la BBC.
،تصویر کا کیپشنبروودی نے روس کے مکمل پیمانے پر حملے سے ذرا پہلے لڑائی کے لیے خود کو رجسٹر کروایا
    • مصنف, سارا رینسفورڈ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

’ہم دشمن کو اشتعال دلاتے ہیں، کیونکہ ہم جنگ کو اس کی سرزمین تک لے جا رہے ہیں تاکہ وہ بھی اس کا اثر محسوس کرے۔‘

یہ کہنا ہے ایک یوکرینی فوجی کمانڈر کا جن کی یونٹ میں روس پر حملہ کرنے کے لیے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز بنائے جا رہے ہیں۔ بی بی سی کی ٹیم نے اس یونٹ کا دورہ کیا۔

یوکرین نے گذشتہ چند ہفتوں میں طویل فاصلے کے حملوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے، خاص طور پر روس کی تیل برآمد کرنے والی تنصیبات کو پہلے سے کہیں زیادہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یوکرین کے تمام بغیر پائلٹ نظاموں کے کمانڈر نے ایک غیر معمولی انٹرویو میں بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملے مزید تیز ہوں گے اور دعویٰ کیا کہ ان کی ڈرون فورسز محاذ پر روسی پیش قدمی کو روک بھی رہی ہیں، جس کے نتیجے میں روسی فوج کا بڑا جانی نقصان ہو رہا ہے۔

کمانڈر رابرٹ بروودی کا دعویٰ ہے کہ روسی سرزمین کے اندر 1500 سے دو ہزار کلومیٹر کا علاقہ اب پرامن علاقہ نہیں رہا۔

وہ یوکرینی ڈرونز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’آزادی پسند یوکرینی پرندہ جہاں اور جب چاہے اُڑتا ہے۔‘

مشرقی یوکرین میں خفیہ لانچ بیس پر ایک بارش زدہ میدان میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون تیار کیے جا رہے ہیں۔

بروودی کہتے ہیں کہ ہماری ٹیمیں تیزی سے کام کرتی ہیں، اس سے پہلے کہ روسی افواج ہم تک پہنچ جائیں اور ہماری جانب بیلسٹک میزائل داغ سکیں۔

اسی دوران ایک شخص زوردار انداز میں بولتا ہے اور انجن کی گرجدار آواز آتی ہے اور سفید چمک کے ساتھ ایک ڈرون چھوٹے جیٹ طیارے کی طرح روس کی سمت فضا میں بلند ہو جاتا ہے۔

صدر زیلنسکی ان طویل فیصلے کے حملوں کو ماسکو کے لیے ’انتہائی تکلیف دہ‘ قرار دیتے ہیں۔

اُن کے بقول اس سے روس کے توانائی کے شعبوں میں اہم نقصانات ہوتے ہیں جن کی مالیت دسیوں ارب ڈالر تک بتائی جاتی ہے۔

Dron

،تصویر کا ذریعہBBC/Moose Campbell

،تصویر کا کیپشنیوکرین نے حالیہ ہفتوں میں روس کے خلاف طویل فاصلے کے فضائی حملوں میں اضافہ کیا۔ بی بی سی نے مشرقی یوکرین میں ایسے ہی ایک ڈرون کی لانچ اپنی آنکھوں سے دیکھی

ان حملوں میں اضافے کی ایک وجہ ٹیکنالوجی بھی ہے۔ مقامی طور پر تیار کیے گئے ڈرون اب کم لاگت کے ہو چکے ہیں اور مزید دور تک پرواز کر سکتے ہیں: جو ماڈل ہم اڑتے دیکھتے ہیں وہ اب ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ تک جا سکتا ہے، جبکہ دوسرے اس سے دگنا فاصلے تک پہنچ چکے ہیں۔

لیکن بات اہداف کے انتخاب کی بھی ہے۔ فوجی اہلکاروں اور پیداوار کے علاوہ، روس کی توانائی برآمدات کو ایک اہم ہدف قرار دیا گیا ہے۔

کمانڈر بروودی ان حملوں کا جواز پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’پوتن قدرتی وسائل نکال کر انھیں پھر ہمارے خلاف خود کش ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کی صورت میں استعمال کرتے ہیں۔‘

روس کے بحیرۂ اسود کے ساحل پر واقع توآپسے کے رہائشی مقامی ریفائنری پر چند دنوں میں ہونے والے دوسری بڑے حملوں کے بعد زہریلی بارش کی شکایت کر رہے ہیں۔

کمانڈر بروودی کہتے ہیں کہ اگر تیل کی ریفائنری جنگ کے لیے استعمال ہونے والا پیسہ بنانے کا ذریعہ ہے تو ایک جائز عسکری ہدف ہے جسے تباہ کیا جا سکتا ہے۔

خفیہ مقام

کمانڈر زیرِ زمین گہرائی میں واقع ایک خفیہ مقام سے فضاؤں میں جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہمیں سیاہ شیشوں والی وین میں وہاں لے جایا جاتا ہے، پھر سیڑھیاں اتر کرسونے کے کیپسولز والی راہداریوں سے گزرتے ہوئے ایک جدید غار نما کمرے میں پہنچایا جاتا ہے جس کی دیواریں فرش سے چھت تک سکرینوں سے ڈھکی ہیں۔

پس منظر میں مسلسل بیپس اور دھاتی آوازیں سنائی دیتی ہیں، کیونکہ نئی معلومات درجنوں افراد کو بھیجی جا رہی ہیں جو ٹی شرٹس اور ہوڈیز پہنے، کنٹرولز اور کی بورڈز پر جھکے ہوئے ہیں۔ وہ ڈرون پائلٹس کی بھیجی گئی براہِ راست تصاویر دیکھ رہے ہیں جن کے نام کِٹ کیٹ اور انٹالیا جیسے ہیں۔

بروودی کی بغیر پائلٹ نظاموں کی فورس یوکرینی فوج کا صرف دو فیصد ہے، لیکن ان کے بقول اس وقت ملک بھر میں تباہ کیے گئے اہداف کے ایک تہائی کی ذمہ دار یہی فورس ہے۔

کمانڈ سینٹر فن پاروں سے بھرا ہوا ہے، جو رابرٹ بروودی کی جنگ سے پہلے کی زندگی کی طرف اشارہ ہے۔

Obra de arte en el centro de mando

،تصویر کا ذریعہBBC/Moose Campbell

ہر قسم کے ہر حملے کی ویڈیو بنا کر تصدیق کی جاتی ہے اور ریکارڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ایک دیوار پر موجود سکرینوں پر تفصیلی سکور بورڈ حقیقی وقت میں اپ ڈیٹ ہوتا رہتا ہے۔

گذشتہ ہفتے بروودی نے بتایا کہ ان کی فورسز نے مقبوضہ علاقوں میں روسی سکیورٹی سروس ایف ایس بی کے ایک درجن افسران اور خود روس کے اندر متعدد توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا ہے کہ پوتن کو بڑی فتوحات حاصل کرنے سے روکنے میں ان کی فورسز کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔

تاجر سے کمانڈر تک

چار سال قبل تک بروودی کریسٹیز جیسے نیلام گھروں میں گھر جیسا سکون محسوس کرتے تھے، لیکن اب وہ تاریک کیچڑ میں لت پت سرنگوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ چار سال قبل وہ اناج کے کامیاب تاجر تھے اور ساتھ ہی فن پاروں کے شوقین بھی تھے۔

ان کی جنگ سے پہلے کی زندگی کے آثار یوکرینی فنکاروں کی پینٹنگز اور مجسموں کی صورت میں بنکر میں جگہ جگہ نظر آتے ہیں، جو قبضے میں لیے گئے میزائلوں اور ڈرونز کے خولوں کے ساتھ رکھے گئے ہیں۔

وہ نسلی طور پر ہنگرین ہیں، مغربی یوکرین کے شہر اُژہورود سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنے فوجی کال سائن ’ماگیار‘ کے نام سے زیادہ مشہور ہیں۔

جنگ سے پہلے وہ شیو بناتے تھے مگر اب ان کی داڑھی لمبی، سرخی مائل اور سفیدی کی آمیزش لیے ہوئے ہے۔

یہ تاجر روس کے مکمل پیمانے پر حملے سے ذرا پہلے لڑنے کے لیے بھرتی ہو گئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں معلوم تھا کہ جنگ ناگزیر ہے۔ اُنھوں نے انتہائی شدید لڑائیوں میں بھی حصہ لیا جن میں باخموت بھی شامل ہے۔

Dron

،تصویر کا ذریعہBBC/Moose Campbell

،تصویر کا کیپشن

لیکن اس سے بھی پہلے، جب وہ خیرسون میں روسی گولہ باری میں پھنسے ہوئے تھے، تب انھیں پہلی بار ڈرونز کی صلاحیت کا اندازہ ہوا۔

بروودی کو وہ ڈیوائس یاد آئی جو انھوں نے اپنے بچوں کے لیے خریدی تھی اور انھوں نے اسی نوعیت کے دوسرے ڈرونز اپنی یونٹ میں متعارف کرانا شروع کر دیے۔

اُن کے ڈرونز روسی پوزیشنز کے اوپر اُڑ کر قریب موجود توپ خانے کو براہِ راست تصاویر بھیج سکتے تھے جس سے حملہ ممکن ہوا۔

چند ہی مہینوں میں، فوجی خود اپنے ڈرون بنانے لگے اور ان پر گولہ بارود نصب کرنے لگے۔ جلد ہی وہ 414ویں بریگیڈ کے طور پر مشہور ہو گئے، جسے ’ماگیار کے پرندے‘ کہا جاتا ہے۔

پرندے اور کیڑے

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بروودی کی حکمتِ عملی صرف طویل فاصلے کے حملوں تک محدود نہیں۔ وہ ایک اور ترجیح پر بھی تفصیل سے بات کرتے ہیں اور وہ ہے روسی عددی برتری کو کم کرنا۔

یوکرین کے لیے یہ مسئلہ مزید سنگین ہو چکا ہے، جو محاذ کے لیے افراد کو متحرک کرنے میں جدوجہد کر رہا ہے۔

کمانڈر بروودی کہتے ہیں کہ ’جو لڑنا چاہتے تھے، وہ پہلے ہی لڑ رہے ہیں۔‘

اسی لیے ان کی ٹیموں کو براہِ راست حکم ہے کہ ہر ماہ روس کے بھرتی کیے جانے والے فوجیوں سے زیادہ دشمن فوجیوں کو ہلاک کیا جائے۔ یہ تعداد 30 ہزار سے زیادہ بنتی ہے۔

کمانڈر بروودی کہتے ہیں کہ ڈرونز کے ذریعے ان حملوں میں 30 فیصد روسی فوجیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’آپ چاہیں تو اسے صفایا کہہ سکتے ہیں کیونکہ ہم اپنے ہدف سے آگے نکل رہے ہیں۔‘

بروودی کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے مسلسل چار ماہ تک یہ ہدف پورا کیا۔ میں ان اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کر سکا، مگر وہ مجھے یقین دلاتے ہیں کہ ان کے لوگ واقعی ایسا ہی کرتے ہیں۔ ہر فوجی کی ہلاکت ویڈیو کے ذریعے ثابت ہونی چاہیے، ورنہ وہ شمار نہیں ہوتی۔

ان میں سے بعض ویڈیوز کمانڈ سینٹر کی سکرینوں پر بار بار چلتی رہتی ہیں، اور بروودی انھیں ٹیلی گرام پر بھی شائع کرتے ہیں، جہاں وہ اپنے ڈرونز کو ’پرندے‘ اور روسی اہداف کو ’کیڑے‘ کہتے ہیں جنھیں شکار کر کے ختم کرنا ہے۔

Ataque con drones a una refinería de petróleo

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیوکرین کے طویل فاصلے کے ڈرونز نے روس کے توآپسے میں اس جیسی تیل کی ریفائنریوں کو نشانہ بنایا ہے۔

وہ اپنے کمرے میں موجود سکرینوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’انسانی تاریخ میں دُشمن کی سب سے زیادہ ہلاکتیں اس کمرے کے ذریعے ہو رہی ہیں۔‘

ایک نرم لہجے والے شخص کی زبان سے ادا کیے گئے یہ سخت الفاظ ہیں، مگر بروودی اس معاملے میں ہمدردی پر یقین نہیں رکھتے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’پوتن نے روسی فوج کو اپنی سرحد سے باہر بھیجا اور وہ ہماری قوم کو تباہ کرنا چاہتے ہیں، اگر ہم انھیں نہیں ماریں گے تو وہ ہمیں ماریں گے۔‘

ہدف: روسی حوصلہ

کمانڈر اصرار کرتے ہیں کہ وہ کسی خوش فہمی کا شکار نہیں، ان کا مقصد روک تھام ہے، نہ کہ نئی جوابی کارروائیاں شروع کرنا یا وسیع علاقے واپس لینا۔

وہ کہتے ہیں کہ جارحانہ جنگ لڑنے کے لیے ہمارے پاس ایک مؤثر ہتھیار ہے تاکہ ہم دُشمن کو اپنی سرزمین کی جانب بڑھنے سے روک سکیں۔

وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ پوتن اپنی یلغار ختم کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ ناکامی کے خطرات بہت زیادہ ہیں۔

اس لیے کمانڈر بروودی کا ایک اور ہدف یہ ہے کہ روسی عوام کا حوصلہ توڑا جائے۔

اُنھیں اُمید ہے کہ بھاری جانی نقصان اور سرحد سے بہت دور تنصیبات میں لگنے والی بڑی آگ، روس میں کسی حد تک بے چینی پیدا کرے گی۔

ایک حالیہ ویڈیو، جو یوکرین میں وسیع پیمانے پر دیکھی گئی، توآپسے میں ایک روسی خاتون کو دکھاتی ہے جو شدت سے رو رہی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں صرف اپنے بیٹے کے ساتھ سمندر کے کنارے رہنا چاہتی تھی مگر سب کچھ برباد ہو گیا، یہ ڈرون اُڑتے ہیں اور سب کچھ تباہ کر دیتے ہیں۔‘

ہر ڈرون کے ساتھ، ان کا مقصد یہ ہے کہ مزید روسی اپنے ملک کی لڑی جانے والی جنگ اور اسے شروع کرنے والے صدر پر سوال اٹھائیں۔