’بھوتوں کے ڈر‘ سے 34 برس پرانے قتل کا راز کھل گیا

- مصنف, ارجن پرمار
- عہدہ, بی بی سی، احمد آباد
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
قطب نگر کی گلی نمبر تین کے رہائشی جب گذشتہ بدھ کی صبح جاگے تو ایک حیرت ان کی منتظر تھی۔
یہ انڈین شہر احمد آباد کے جنوب مشرقی کنارے پر واقع واٹوا گاؤں کا علاقہ ہے۔ تقریباً 15 فٹ چوڑی گلی کے دونوں سروں پر ایک دوسرے سے جڑے پکے گھروں کی قطاریں ہیں۔ صبح آٹھ بجے ان گھروں کے مکینوں کو بھاری مشینری اور پولیس اہلکاروں کی آوازیں آئیں۔
’ہم 22 برس سے یہاں رہ رہے ہیں۔ اتنے سال میں ہمیں کبھی یہ خیال نہ آیا کہ سامنے والے بند گھر کے نالے میں ایک لاش بھی دفن ہو سکتی ہے۔‘
’جب پولیس اور فرانزک ٹیم ہماری گلی میں آئی تو ہم بھی حیران رہ گئے۔ بالآخر گھر کا ایک حصہ گرا دیا گیا اور تقریباً 15 فٹ کی گہرائی سے ایک ڈھانچہ نکالا گیا۔ ہمیں معلوم ہوا کہ یہ ڈھانچہ ایک ایسی خاتون کا تھا جو 34 سال پہلے قتل کر دی گئی تھیں۔‘
جس گھر سے انسانی ڈھانچہ ملا، اس کے بالکل سامنے والے گھر میں 55 سالہ سلیم خان عزیز خان اپنے 28 افراد پر مشتمل خاندان کے ساتھ رہتے ہیں۔
اس واقعے سے پورے علاقے میں جو حیرت پھیلی، وہ سلیم خان کے الفاظ میں محسوس کی جا سکتی ہے۔
احمد آباد کرائم برانچ کے حکام نے بتایا کہ پولیس اور فرانزک محکمہ کی ایک ٹیم نے صبح 8 بجے سے رات 8 بجے تک ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی موجودگی میں کھدائی کی اور یہ ڈھانچہ برآمد کیا۔
ایک سینیئر پولیس افسر کے مطابق ’یہ ڈھانچہ خاتون کا ہے جنھیں ان کے شوہر نے مبینہ طور پر کچھ اور لوگوں کے ساتھ مل کر 1992 میں قتل کر دیا تھا۔ ملزموں کو لگتا تھا کہ ان کے خاندان پر بھوتوں کا سایہ ہے، جس سے نجات کے لیے وہ ایسے لوگوں کے پاس جاتے تھے جو اس قسم کے مسائل حل کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کے مطابق ’وہیں سے ہمیں اس معاملے کے بارے میں پہلی بار معلومات ملی، جس کے بعد ڈیڑھ سے دو ماہ تک مزید معلومات اکٹھی کرنے کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ گھر سے ملنے والے ڈھانچے کے نمونے ڈی این اے جانچ کے لیے فرانزک سائنس لیب بھیج دیے گئے ہیں، جس کے بعد ایف آئی آر درج کی جائے گی اور مزید تفتیش کی جائے گی۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش جاری ہے اور سٹیشن ڈائری میں اندراج کر لیا گیا ہے۔ فی الحال چھ سے سات مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
بی بی سی گجراتی نے اس پورے معاملے کی تفصیلات کے لیے قطب نگر کے مقامی لوگوں اور پولیس سے بات کی۔
’میاں بیوی کے درمیان جھگڑا قتل کی وجہ بنا‘

،تصویر کا ذریعہAhmedabad Crime Branch
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
احمد آباد کرائم برانچ کے اسسٹنٹ کمشنر پولیس (اے سی پی) بھرت پٹیل نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’واقعے میں شامل لوگوں کے بیانات اور ہماری تفتیش کی بنیاد پر اس کیس میں مزید معلومات ملی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جب ملزم اس خاتون کو قتل کر رہے تھے اور ان کی لاش اس گھر کے نالے میں دفن کر رہے تھے، اُسی وقت ایک گواہ اچانک گھر آ گیا تھا۔ انھیں دھمکایا گیا، اسی وجہ سے انھوں نے اتنے برسوں تک اس بارے میں کسی کو نہیں بتایا۔‘
گواہ سے ملنے والی معلومات شیئر کرتے ہوئے اے سی پی بھرت پٹیل نے بتایا کہ ’مقتولہ کو سورت میں ان کے پہلے شوہر کے گھر سے نکال دیا گیا تھا، جس کے بعد وہ سیکس ورکر بن گئی تھیں۔ اسی دوران ان کی ملاقات قتل کے مرکزی ملزم سے ہوئی۔ بعد ازاں دونوں نے شادی کر لی، مگر شادی کے بعد بھی متقولہ نے اپنا پرانا طرز زندگی جاری رکھا۔ دونوں کے درمیان ازدواجی رشتہ قائم نہ رہ سکا لیکن خاتون ملزم کو چھوڑنا نہیں چاہتی تھیں۔‘
بھرت پٹیل کے مطابق ’ان اختلافات کے بعد ملزم نے اپنے دوست اور اپنے بڑے بھائی کی مدد لی اور مجموعی طور پر چار افراد نے مل کر قتل کی منصوبہ بندی کی۔‘
’مدد کرنے والوں میں ایک خاتون بھی شامل تھیں۔ وقوعے کے روز منصوبے کے تحت ملزم اپنی بیوی کے ساتھ اس خاتون کے گھر رہنے گئے، جو اس واردات میں مبینہ طور پر شامل تھیں۔ ان کی آمد سے پہلے ہی ملزم کے بھائی اور دوست نے گھر کے نالے میں ایک گڑھا کھود لیا تھا۔‘
34 سال قبل پیش آئے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے پولیس نے کہا کہ اُس رات جب مقتولہ سو گئیں تو ان کے شوہر نے مبینہ طور پر ان کا گلا گھونٹ کر قتل کیا۔
پولیس نے بتایا کہ ’ملزموں نے لاش کو پہلے سے کھودے گئے گڑھے میں دفن کر کے ٹھکانے لگانے کی کوشش کی۔‘
احمد آباد کرائم برانچ کے پولیس انسپکٹر اور اس کیس کے تفتیشی افسر اے پی جبالیہ نے بی بی سی گجراتی سے گفتگو میں کہا کہ ’اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ یہ ڈھانچہ ایک عورت کا ہے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق، موت کے وقت عورت کی عمر 18 سے 21 سال کے درمیان تھی۔ ہم اب بھی ڈی این اے رپورٹ کے منتظر ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ پولیس نے واقعے کے مرکزی ملزم اور ان کے بھائی کا سراغ لگا لیا۔ دونوں زندہ ہیں اور پولیس ان پر نظر رکھے ہوئے ہے جبکہ دو ملزم فوت ہو چکے ہیں۔
پولیس کو 34 سال پرانے قتل کا علم کیسے ہوا؟

بند گھر سے انسانی ڈھانچہ ملنے کے بعد علاقے میں شدید حیرت پھیل گئی۔ خبر سامنے آتے ہی مقامی اخبارات نے رپورٹ کیا کہ قتل میں مبینہ طور پر شامل افراد کو یہ وہم ہو گیا تھا کہ ان کے خاندان پر ’بھوتوں کا سایہ ہے۔‘ اس کے بعد معاملہ پولیس تک پہنچا۔
احمد آباد کرائم برانچ کے ڈپٹی کمشنر پولیس اجیت راجیان نے بی بی سی گجراتی کو بتایا کہ ’ملزموں کے اہل خانہ کو لگتا تھا کہ ان کے گھر پر کسی بھوت کا سایہ ہے، تو وہ ایسے لوگوں کے پاس جا رہے تھے جو اس طرح کے مسائل حل کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ وہیں سے ہمیں پہلی بار اس بارے میں اطلاع ملی۔ اس کے بعد ڈیڑھ سے دو مہینے تک تفصیلی تفتیش کے بعد ڈھانچہ نکالنے کی کارروائی کی گئی۔‘
انسپکٹر جبالیا نے بتایا کہ ’ہماری تفتیش کے مطابق ملزموں کو احساس ہوا کہ واقعے کے بعد سے ان کے گھر میں کچھ مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ وہ اپنا گھر فروخت کر کے چلے گئے تھے، گھر گذشہ سات آٹھ سال سے بند تھا، اس کے باوجود ان کا شک کم نہ ہوا۔‘
بھوت پریت سے متعلق سوال پر اے سی پی بھرت پٹیل نے کہا کہ ’ہم بھوت پریت کے تصور کی مکمل تائید نہیں کر سکتے کیونکہ یہ عقیدے کا معاملہ ہے۔ کچھ لوگ مانتے ہیں اور کچھ نہیں لیکن یہ گھر سات آٹھ سال سے بند ہے اور کوئی وہاں رہنے کو تیار نہیں۔ آس پاس کے کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ کوئی روح انھیں تنگ کر رہی ہے مگر آج کے دور میں ایسی باتوں پر یقین کرنا درست نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں جو معلومات بھی ملیں، انھیں اس وقت تک خفیہ رکھا گیا جب تک کہ حقیقت سامنے نہ آئی۔ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ مقتولہ کو اسی جگہ دفن کیا گیا تھا۔‘
بھرت پٹیل کے مطابق ’مقتولہ کے بھائی زندہ ہیں اور ان کے ڈی این اے سے موازنے اور ڈی این اے پروفائلنگ کے نتائج کی بنیاد پر ہی مزید کارروائی کی جائے گی۔‘
پڑوسیوں نے کیا بتایا؟

واٹوا کے مسلم اکثریتی علاقے قطب نگر کے مکینوں کا کہنا ہے کہ بدھ سے ان کی گلی میں لوگوں کی آمدورفت غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہے۔
یہاں گلی میں کرکٹ کھیلنے والے بچوں کے چہروں پر تو بے فکری ہے تاہم دیگر علاقہ مکینوں کے چہروں پر حیرت صاف پڑھی جا سکتی ہے۔
40 سالہ سائرہ بانو چار برس سے اپنے شوہر اور تین بیٹیوں کے ساتھ اسی گھر کے آدھے حصے میں رہ رہی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میرے گھر کی دیوار کے بالکل ساتھ نالا تھا اور ڈھانچہ وہیں سے نکالا گیا۔ وہ گھر برسوں سے بند تھا اور ہمیں کبھی اندازہ نہیں ہوا کہ یہاں ایسا کچھ ہوا تھا۔‘
ان کے مطابق ’جہاں سے ڈھانچہ ملا، وہ حصہ کئی بار فروخت ہوا مگر کبھی کوئی وہاں رہنے نہیں آیا۔‘
سائرہ بانو کہتی ہیں کہ ’ہمیں نہیں معلوم مرکزی ملزم کون ہے لیکن جہاں تک بھوت دیکھنے کا تعلق ہے، ہمیں اس طرح کا کوئی تجربہ نہیں ہوا، ہم مکمل سکون کے ساتھ اپنے گھر میں رہ رہے ہیں۔‘
اس گھر کے سامنے رہنے والے سلیم خان کہتے ہیں کہ ’لاش کی باقیات 15 سے 20 فٹ گہرائی میں ملیں۔ گھر بند رہنے کی وجہ سے بھوتوں کی افواہیں ضرور تھیں مگر ہم نے کبھی کچھ محسوس نہیں کیا۔‘
بی بی سی گجراتی نے مشتبہ افراد سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاکہ ان کا مؤقف بھی معلوم کیا جا سکے لیکن متعدد کوششوں کے باوجود رابطہ نہیں ہو سکا۔

























