پشاور میں امریکی قونصل خانہ جو پہلے سوویت یونین اور پھر طالبان کے خلاف ’ہتھیار‘ بنا

پشاور

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, وقار مصطفیٰ اور عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو
  • مطالعے کا وقت: 14 منٹ

پشاور میں امریکی قونصل خانہ لگ بھگ 67 سال پہلے قائم ہوا تھا اور صوبہ خیبر پختونخوا (اس وقت صوبہ سرحد) میں امریکی سفارتی موجودگی کی بنیاد دراصل صوبائی دارالحکومت کے قریب واقع بڈھ بیر فضائی اڈہ تھی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ماہ نامے ’سٹیٹ‘ میں چھپے ایک مضمون کے مطابق بڈھ بیر اڈہ سوویت یونین کے ساتھ سرد جنگ کے دوران یوٹو جاسوس طیاروں کی پروازوں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ ’ان میں فرانسس گیری پاورز کی 1960 کی وہ پرواز بھی شامل تھی جو سوویت یونین کے اوپر مار گرائی گئی۔‘

پشاور کے قریب امریکی فضائی مواصلاتی سٹیشن (بڈھ بیر) کا قیام ایوب خان کے مارشل لا دور میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان 1959 میں ہونے والے معاہدے کے بعد ہوا تھا۔

مگر اب پشاور میں امریکی قونصل خانے کی بندش کے ساتھ ایک دور کا اختتام ہو رہا ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق خیبر پختونخوا کے ساتھ سفارتی معاملات کی ذمہ داری اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کو منتقل کر دی جائے گی اور یہ فیصلہ ’ہمارے سفارتی عملے کی سلامتی اور وسائل کے مؤثر انتظام کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔‘

امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق پشاور میں قونصل خانہ نہ ہونے کے باوجود پاکستان کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کی پالیسی ترجیحات اپنی جگہ برقرار ہیں۔

بیان کے مطابق ’ہم خیبر پختونخوا کے عوام اور حکام کے ساتھ با معنی روابط جاری رکھیں گے تاکہ اقتصادی تعلقات کو فروغ دیا جا سکے، علاقائی سلامتی کو تقویت دی جا سکے اور امریکی عوام کے مفادات کو آگے بڑھایا جا سکے۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمۂ خارجہ اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں موجود اپنے سفارتی دفاتر کے ذریعے امریکہ، پاکستان تعلقات مضبوط بنانے کے لیے پُر عزم رہے گا۔

سنہ 1960 میں پشاور-کابل سڑک کا ایک منظر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسنہ 1960 میں پشاور-کابل سڑک کا ایک منظر

پاکستان امریکہ تعلقات میں پشاور کی اہمیت: جب پہلا دفتر بند کرنا پڑا

ڈینیئل ایس مارکے اپنی کتاب ’نو ایگزٹ فرام پاکستان: امریکاز ٹارچرڈ ریلیشن شپ وِد اسلام آباد‘ میں لکھتے ہیں کہ ’پشاور پاکستان کے قبائلی علاقوں، درہ خیبر اور افغانستان کے دروازے پر واقع شہر ہے جو صدیوں سے فوجوں، تاجروں، مبلغین اور حملہ آوروں کے لیے ایک گزرگاہ اور سرحدی چوکی رہا ہے۔‘

مارکے کا ماننا ہے کہ پشاور ہمیشہ دور دراز دارالحکومتوں میں ہونے والے فیصلوں سے متاثر رہا ہے اور اسی لحاظ سے پورے پاکستان کی علامت بھی ہے، بظاہر دور مگر دنیا سے گہرا جڑا ہوا۔ ’امریکہ سے اس کے تعلقات اگرچہ تاریخی اعتبار سے مختصر ہیں لیکن بعض اوقات اس شہر نے امریکی پالیسی میں غیرمعمولی اہمیت اختیار کی۔‘

’سٹیٹ‘ کے مضمون کے مطابق قونصل خانے کا پہلا دفتر پشاور میں نئی دہلی کابل گرینڈ ٹرنک (جی ٹی) روڈ پر واقع تھا جس کا ’آج صرف ایک جھنڈے کا کھمبا باقی ہے۔‘

امریکی سفارت کار جیمز ڈبلیو سپین اپنی کتاب ’پٹھانز آف دی لیٹر ڈے‘ میں لکھتے ہیں کہ پشاور سے چارسدہ روڈ پر صدیوں پرانے شہر پر سایہ کیے بالاحصار قلعے کے سامنے ایک خستہ عمارت کی دوسری منزل پرامریکی قونصل خانے کا پہلا دفتر ہوا کرتا تھا۔

سپین نے اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں لکھا کہ ’سنہ 1960 کی دہائی میں اسے اس وقت چھوڑ دیا گیا جب واشنگٹن سے آئے محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ اہلکار سیڑھیوں پر جمع تُھوک سے پھسل گئے اور اٹھتے ہوئے نیچے رہنے والی بھکارن نے انھیں گھیر لیا۔‘

’مجھے اس دفتر کے ختم ہونے کا افسوس تھا۔ میں اس جگہ کو پسند کرتا تھا اور وہاں جاتے ہوئے ربڑ سول والے جوتے پہننا نہیں بھولتا تھا۔‘

1960 میں پشاور میں امریکی قونصل خانے کے عملے کے ارکان

،تصویر کا ذریعہX

،تصویر کا کیپشن1960 میں پشاور میں امریکی قونصل خانے کے عملے کے ارکان

پہلے امریکی قونصل جنرل اور ابتدا میں پاکستانی عملہ: ’مالی نے افیون اُگائی‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ماہ نامہ ’سٹیٹ‘ کے مطابق قونصل خانے کے پہلے سربراہ گورڈن کنگ نے سابق ریاست چترال کے حکمران خاندان کے رکن کرنل خوش وقت الملک کو پہلے مقامی ملازم اور سیاسی مشیر کے طور پر بھرتی کیا۔

کنگ نے 2006 میں ’امیری خان‘ نامی سوانحی ناول لکھا جو قونصل خانے کے ابتدائی برسوں کا ہلکے افسانوی انداز میں احوال ہے۔

اگرچہ یہ فکشن ہے لیکن ناول کا مرکزی کردار ڈیوڈ بوتھ دراصل گورڈن کنگ کی اپنی زندگی اور پشاور کی مہمات کی جھلک پیش کرتا ہے۔ انھیں صدر آئزن ہاور کے دور میں پشاور میں امریکی قونصل خانہ قائم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔

پشاور تب صرف عالمی سیاست کا سرحدی مورچہ نہیں تھا بلکہ انسانی تعلق، ثقافتی تبادلے اور سماجی قربت کا شہر بھی تھا۔ اس زمانے میں امریکی سفارتی عملہ پشاور کی سماجی زندگی کا نمایاں حصہ تھا۔

ناول سے علم ہوتا ہے کہ نئے قونصل خانے کو ثقافتی، انتظامی اور عملی نوعیت کے بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

ایک واقعے میں ایک امریکی خاتون کی لاش غلطی سے ایک قبائلی خان کی میت سے بدل گئی، جس سے پختون قبائل میں سنسنی پھیل گئی۔

دو سالہ مہمات اور بحرانوں کے اختتام پر ان کے سامنے آخری آزمائش اس وقت آئی جب مِزوری سے دو نوجوان امریکی پیدل دنیا کا چکر لگانے کے ارادے سے پشاور پہنچے۔

انھوں نے ایک مقامی قبائلی خان کی توہین کر دی جس کے نتیجے میں انھیں محافظوں کے ساتھ قبائلی علاقے سے افغان سرحد کی طرف جلدی نکلنا پڑا اور یہی راستہ ایک نئے سانحے کا سبب بنا۔

آخرکار واشنگٹن سے تبادلے کے احکامات آتے ہیں اور ڈیوڈ بوتھ کی پشاور کی داستان اپنے اختتام کو پہنچی۔

ماہ نامہ ’سٹیٹ‘ کے مطابق سنہ 1960 کی دہائی میں قونصل خانہ اپنی موجودہ جگہ، چھاؤنی، منتقل ہوگیا۔

سپین اسی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’چند سال پہلے میں ہسپتال روڈ پر واقع اس احاطے گیا جو کنٹونمنٹ کے خیبر جانے والے راستے کے قریب امریکی قونصل کی رہائش گاہ اور دفتر پر مشتمل تھا۔‘

سپین کے مطابق یہ جگہ تقریباً ناقابلِ شناخت حد تک بدل چکی تھی۔ ’ابتدا میں یہ ایک بڑے باغ میں واقع تھی جو نچلی دیوار کے پیچھے سڑک کی طرف کھلتا تھا۔ رہائش گاہ اور دفتر (جو کبھی گیٹ ہاؤس یا بیرونی عمارت تھا) 1960 اور 1970 کی دہائی میں باقی کنٹونمنٹ کی طرح پُرسکون وکٹورین انداز رکھتے تھے۔ یہاں ایک دو امریکی اور چند مقامی پٹھان کام کرتے تھے۔‘

’ایک بار ایک مالی نے نئے قونصل کی لاعلمی سے فائدہ اٹھا کر پچھلے باغ میں اگائی گئی تھوڑی سی افیون کی فصل جلدی جلدی کاٹ لی، اس سے پہلے کہ نیا افسر پودے کو پہچان پاتا۔‘

قونصل جنرل اے مکک کے فیلڈ دورے کے تجربات 11 اگست 1965 کے کانگریشنل ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ انھوں نے یہ سفر جیپ اور گھوڑے پر کیا۔ ’مجھے اتنی اردو آتی تھی کہ میں قبائلی افراد سے گفتگو کر سکتا لیکن جب وہ پشتو مختلف لہجوں میں بولتے تو مجھے پیچھے چھوڑ دیتے۔‘

وہ گھوڑے پر اپنے سفر کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’مجھے جو گھوڑا دیا گیا اسے پہاڑ کی جانب رہنے کی بجائے تنگ راستے کے بیرونی کنارے پر چلنا پسند تھا۔ اس سے مجھے نیچے کھائی کا منظر تو نہایت شاندار ملتا لیکن ڈراؤنے لمحات بھی میسر آتے۔‘

اگست 1988 میں جنگ سے بچ کر نکلنے والے افغان پناہ گزین پاکستان کے شہر پشاور میں واقع ایک کیمپ میں پک اَپ گاڑی کے ذریعے سفر کرتے ہوئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناگست 1988 میں جنگ سے بچ کر نکلنے والے افغان پناہ گزین پاکستان کے شہر پشاور میں واقع ایک کیمپ میں پک اَپ گاڑی کے ذریعے سفر کرتے ہوئے

حفاظتی اقدامات

سپین کے مطابق ’اب اس عمارت کے گرد اونچی دیوار، الیکٹرانک گیٹ، خاردار تاریں اور مسلح محافظ موجود تھے۔ مختلف امریکی اہلکار افغانستان کی جنگ، مجاہدین سے رابطوں اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔‘

’میرا پہلا ردعمل یہ تھا کہ تبدیلی نے سب کچھ بگاڑ دیا۔ یہ جگہ کسی پسماندہ امریکی ریاست کے جرائم زدہ علاقے میں عارضی جیل جیسی لگتی تھی۔ پھر احساس ہوا کہ یہ فطری تبدیلی تھی۔ 1979 کے بعد افغانستان کی جنگ نے سرحدی علاقے پر گہرے اثرات ڈالے اور پشاور دوبارہ محاصرے کی سی کیفیت میں چلا گیا۔‘

ٹریسی اور ملر لکھتی ہیں کہ وہ دن گزر چکے جب قونصل خانے کے سربراہ کے بغیر دیوار والے سبزہ زار پر دوست ایک چنار کے درخت کے سائے میں چائے پینے آ جایا کرتے تھے۔

سپین نے لکھا کہ ’میں اپنے پرانے دوست کرنل خوش وقت الملک کے ساتھ چارسدہ روڈ پر ایک مشہور کباب خانے میں دوپہر کے کھانے کے لیے گیا۔ چترال کے شہزادے خوش وقت نے زندگی کا بڑا حصہ فرنٹیئر سکاؤٹس میں گزارا اور ابتدائی امریکی قونصل خانے کے اہم ستون تھے۔ وہ پٹھانوں کو شاید خود ان سے بھی بہتر جانتے تھے۔‘

’ہم بیٹھے ہی تھے کہ ویٹر نے خوشبودار سبز چائے کے دو برتن، دو پیالے اور نان کی پلیٹ لا کر رکھ دی۔ مکھیوں کا ایک غول بھی اسی اعتماد سے ہمارے گرد منڈلانے لگا۔‘

’ویٹر نے انھیں ہٹانے کی کوشش تک نہ کی اور خوشی سے اعلان کیا کہ آج گوشت نہیں، کباب نہیں! مرغی خستہ اور مسالے دار تھی اور کسی بھی گوشت جتنی لذیذ۔‘

’کھاتے ہوئے ہم سڑک کا منظر دیکھتے رہے۔ کبھی کبھار گٹھڑیوں سے لدے اونٹ گزرتے۔ گھوڑا گاڑیاں لوگوں کو قصہ خوانی بازار سے خریداری کے بعد دیہات واپس لے جا رہی تھیں۔ درجن بھر پگڑی پوش، سینے پر کارتوسوں کی پٹیاں باندھے مجاہدین افغانستان کی طرف روانہ ہو رہے تھے۔‘

کم ہوتا اور بڑھتا عملہ

امریکی قونصل خانے سے وابستہ رہنے والے لین ٹریسی اور پبلک افیئرز آفیسر میری ملر نے سٹیٹ کے لیے اپنے مضمون میں لکھا کہ قونصل خانے کا حجم وقت کے ساتھ بڑھتا اور کم ہوتا رہا۔

’سنہ 1980کی دہائی میں افغان مجاہدین کی حمایت کے باعث عملے میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔‘

ڈینیئل ایس مارکے نے لکھا کہ سنہ 1980 کی دہائی میں پشاور ’افغان مجاہدین، سی آئی اے اور سعودی حمایت یافتہ نیٹ ورکس کا مرکز بنا جبکہ اسامہ بن لادن نے بھی یہاں عرب جنگجوؤں کی بھرتی کی۔‘

افشا کی گئی امریکی سفارتی دستاویزات سے علم ہوتا ہے کہ 15 مئی 1980 کو واشنگٹن میں ہونے والے سپیشل کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں افغانستان پر گفتگو کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ سوویت سرگرمیوں کو زیادہ نمایاں کرنے کے لیے میڈیا پر توجہ بڑھائی جائے۔

’پشاور میں امریکی قونصل خانہ ان صحافیوں کی مدد کرے گا جو باغی گروپوں کے ساتھ سفر کرنا چاہیں۔ وائس آف امریکہ کو بھی ہدایت دی گئی کہ افغانستان گئے صحافیوں، خصوصاً انڈین اور دیگر غیر ملکی رپورٹرز، کے انٹرویوز زیادہ نشر کیے جائیں۔‘

’مزید برآں، ایک کمیٹی انٹیلیجنس معلومات کو قابلِ اشاعت بنا کر میڈیا تک پہنچانے، سوویت ناکامیوں سے متعلق معلومات جاری کرنے اور میڈیا کے لیے معلومات کی منظم فراہمی کی حکمتِ عملی تیار کرے گی۔‘

وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں منعقد ہونے والے اس اجلاس کی دستاویز کے اوپر دائیں کونے میں کارٹر نے اپنے نام کا ابتدائی حرف انگریزی میں ’سی‘ درج کیا تھا۔

کابل سفارت خانہ بند نہ ہوتا تو۔۔۔

پاکستانی سکیورٹی اہلکار پشاور میں امریکی قونصل خانے کے باہر 6 اپریل 2010 کو ہونے والے خودکش حملے کے ایک دن بعد ایک تباہ شدہ بکتر بند گاڑی کا جائزہ لیتے ہوئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستانی سکیورٹی اہلکار پشاور میں امریکی قونصل خانے کے باہر 6 اپریل 2010 کو ہونے والے خودکش حملے کے ایک دن بعد ایک تباہ شدہ بکتر بند گاڑی کا جائزہ لیتے ہوئے

مگر ٹریسی اور ملر کے مطابق اگلی دہائی میں دنیا بھر میں امریکی سفارتی مراکز کی بندش کی لہر نے تقریباً اس قونصل خانے کی تاریخ ختم کر دی تھی۔

’صرف کابل میں امریکی سفارت خانے کی عدم موجودگی، جو 1988 میں بند ہوگیا تھا، نے پشاور قونصل خانے کو باقی رکھا جو افغانستان کی صورت حال پر نظر رکھنے والا مرکز بن گیا۔‘

ٹریسی اور ملر لکھتے ہیں کہ قونصل خانہ سکڑ کر صرف 10 امریکی افسران اور ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی کے عملے تک محدود ہو گیا۔ یہ صورتحال 11 ستمبر 2001 تک برقرار رہی جس کے بعد یہ مسلسل وسعت اختیار کرتا رہا۔

’جسمانی پابندیوں اور بڑھتے خطرات کے باوجود، قونصل خانہ القاعدہ اور اس کے حامیوں کے خلاف جنگ کا مرکزی میدان بن گیا۔‘

مارکے لکھتے ہیں کہ سنہ 2006 تک پشاور نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا تھا مگر اسی سال پہلے خودکش حملے کے بعد شہر تشدد کی نئی لہر میں داخل ہوگیا۔

2006 سے 2010 کے درمیان دہشت گرد حملوں میں سینکڑوں شہری ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ شدت پسندوں نے صوفی روایت کی علامتوں کو بھی نشانہ بنایا، جن میں رحمان بابا کے مزار پر حملہ بھی شامل تھا۔

’امریکی تنصیبات بھی حملوں کا نشانہ بنیں۔ 2008 میں امریکی قونصل خانے کی اعلیٰ سفارت کار کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی، 2009 میں پرل کانٹینینٹل ہوٹل پر خودکش حملہ ہوا اور 2010 میں خود امریکی قونصل خانہ حملے کا ہدف بنا۔‘

دو ماہ قبل کراچی میں ایران نواز مظاہروں اور امریکی قونصل خانے پر ہجوم کے حملے کے بعد وہاں کی سرگرمیاں معطل تھیں۔ ان جھڑپوں کے بعد سے پشاور مشن بھی عملاً غیرفعال تھا۔

پشاور قونصل خانے کے امریکن سینٹر کی یادیں

یہ وہ جگہ تھی جہاں ہالی وُڈ کی ایکشن فلمیں اور دستاویزی فلمیں دکھائی جاتی تھیں۔ 70 اور 80 کی دہائی میں پشاور کے امریکی انفارمیشن مرکز جانے والے ڈاکٹر عادل ظریف یاد کرتے ہیں کہ ’ہم آزادی اور خوشگوار ماحول کے تاثر سے بہت متاثر ہوتے تھے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اس وقت کے سوویت یونین کے بارے میں اچھا تاثر پیش نہیں کیا جاتا تھا جبکہ امریکہ کو شخصی آزادی کے علمبردار کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔‘

امریکی قونصل خانے سے جڑا امریکی اطلاعاتی مرکز (یو ایس آئی ایس) 1953 سے 1999 تک پشاور میں قائم رہا لیکن 1980 کی دہائی کے بعد اس مرکز میں سہولیات کم اور وہاں جانے کے راستوں میں رکاوٹیں بڑھ گئیں۔ اسے 1999 میں بند کر دیا گیا تھا۔

یو ایس آئی ایس سرد جنگ کے زمانے میں قائم ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب امریکہ اور سوویت یونین دنیا بھر میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار تھے۔

اس ادارے کے دفاتر دنیا کے ڈیڑھ سو سے زیادہ ملکوں میں کھولے گئے اور پاکستان میں بھی اسلام آباد، لاہور، کراچی اور پشاور سمیت کئی شہروں میں یہ مراکز قائم ہوئے۔ پشاور کو خاص اہمیت اس لیے حاصل تھی کہ یہ شہر سوویت یونین یعنی آج کے ملک روس کے زیرِ اثر علاقوں کے قریب واقع تھا اور امریکہ یہاں سے اپنے جاسوسی طیارے بھی اڑاتا تھا۔

اس مرکز کا ظاہری مقصد علم و ثقافت کا تبادلہ تھا۔ یہاں ایک کتب خانہ تھا جہاں انگریزی کتابیں، رسالے اور اخبارات موجود ہوتے تھے۔ امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مندوں کو وظائف کی معلومات دی جاتی تھیں۔ فلمیں دکھائی جاتی تھیں، مقررین کے خطاب ہوتے تھے اور انگریزی سیکھنے کی سہولت بھی فراہم کی جاتی تھی۔

اصل مقصد البتہ اس سے کہیں زیادہ گہرا تھا۔ امریکہ چاہتا تھا کہ پاکستان کا پڑھا لکھا اور سوچنے والا طبقہ سوویت روس اور اشتراکی نظریات کی بجائے امریکی طرزِ فکر کا ہمنوا بنے۔

علی جان ایک نوجوان ہیں اور اس خطے کی تاریخ کے بارے میں ان کے پاس معلومات کا خزانہ ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’امریکی قونصل خانے کے ساتھ یو ایس آئی ایس کا سینٹر بھی کافی عرصے تک فعال رہا اور بعد میں جب ایران میں انقلاب آیا اور پشاور میں حالات خراب ہوئے تو یہ مرکز پشاور کے ہسپتال روڈ پر امریکی قونصل خانے میں منتقل کر دیا گیا تھا۔‘

وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ’اس کے بعد ہسپتال روڈ کو عام شہریوں کی آمدورفت کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا، حالانکہ یہ راستہ صدر سے یونیورسٹی اور ٹاؤن کی طرف جانے والا بڑا راستہ تھا۔‘

انھوں نے پشاور میں امریکی قونصل خانہ کھولنے والے پہلے امریکی سفارت کار گورڈن کنگ کی کتاب ’امیری خان، فرنٹیئر ڈیوٹی آن گرینڈ ٹرنک روڈ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اس کتاب میں گورڈن کنگ نے پشاور کے اُس وقت کے حالات کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس زمانے میں امریکی اور مقامی آبادی کس طرح گھل مل کر رہتی تھی۔‘

کتاب کے مطابق ان برسوں میں امریکی قونصل خانے کے عملے کے افراد پشاور کی سماجی زندگی میں نمایاں اور سرگرم تھے، گھروں میں مدعو کیے جاتے، بازاروں میں چائے پیتے اور گفتگو کرتے اور ثقافتی محفلوں میں پاکستانیوں کے ساتھ بیٹھتے تھے۔

آگے وہ لکھتے ہیں کہ ’2001 کے بعد یہاں کے حالات یکسر بدل گئے تھے۔‘

ڈاکٹر عادل ظریف کہتے ہیں کہ ’امریکی سینٹر میں کتابیں پڑھنے اور وہاں خاص طور پر میگزین اور انگریزی اخبارات پڑھنے سے مجھے بہت فائدہ ہوا تھا۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’اب جا کر ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ یہ بظاہر ایک پراپیگنڈا تھا جس میں سوویت یونین اور چین کے کمیونزم اور سوشلزم کے نظریات کی مخالفت کی جاتی تھی اور انھیں کمزور اور پابندیوں سے بھرپور نظریہ بنا کر پیش کیا جاتا تھا جبکہ امریکہ کے تصور کو فردی آزادی سے جوڑا جاتا تھا۔‘

وہ یاد کرتے ہیں کہ ’اس دور میں کافی پینا یا ایئر کنڈیشن کا استعمال عام نہیں تھا۔ شاید ہی کوئی کافی پینے کا شوقین ہو یا کسی کے گھر میں ایئر کنڈیشن ہو مگر اس مرکز میں آنے والوں کو کبھی کبھار کافی پیش کی جاتی تھی اور گرمیوں میں ایئر کنڈیشن ہوتا تھا، جو ہم نوجوانوں کے لیے ایک بڑی عیاشی سمجھی جاتی تھی۔‘

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد 1990 کی دہائی میں امریکہ کی دلچسپی اس سرگرمی سے کم ہو گئی اور پاکستان میں یہ مراکز یکے بعد دیگرے بند یا محدود کر دیے گئے۔ 1999 میں یہ ادارہ مکمل طور پر ختم کر دیا گیا اور اس کے باقی ماندہ کام محکمہ خارجہ کے حوالے کر دیے گئے تاہم ستمبر 2001 کے واقعات کے بعد امریکہ کو احساس ہوا کہ دنیا میں اپنی بات پہنچانا اور دلوں کو جیتنا کتنا ضروری ہے، جس کے بعد اسی کام کو ایک نئے نام اور نئے انداز سے دوبارہ شروع کیا گیا۔

ایئر بیس، یو ٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

قونصل خانے کی بندش سے قبل بڈھ بیر اڈے کا ’مرثیہ‘

صحافی اور تجزیہ کاراوَیس توحید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ پشاور میں امریکی قونصل خانے کی بندش تقریباً پانچ برس سے زیرِ التوا ایک رسمی فیصلہ تھی، گویا افغانستان کو ایک عملی الوداع۔

’سرکاری طور پر بندش کی وجہ عملے کی حفاظت اور وسائل کے مؤثر استعمال کو قرار دیا گیا۔ پشاور افغانستان میں امریکا کی دونوں جنگوں، پہلے سوویت یونین کے خلاف، اور بعد ازاں طالبان اور القاعدہ کے خلاف، میں اہم مرکز رہا۔'

توحید کے مطابق ایک مغربی سفارت کار نے ان سے کہا تھا کہ ’پشاور افغانستان کے بارے میں ہماری آنکھیں اور کان ہے۔ افغان جنگوں میں یہ ہمارے ہتھیاروں جتنا اہم تزویراتی مرکز ہے۔‘

’یہ فیصلہ علامت ہے کہ واشنگٹن کی افغانستان میں دلچسپی کم ہو چکی، ایک ایسا ملک جسے وہ عملاً طالبان کے حوالے کر چکا اور جہاں تقریباً 7.5 ارب ڈالر کا فوجی سازوسامان چھوڑ آیا۔‘

غیر خفیہ کی گئی امریکی دستاویزات میں تب بڈھ بیر کی بندش پر اس کی یادوں پر مبنی ایک خط امریکی ناظم الامور جیمز ڈبلیو سپین کا ہے جو انھوں نے امریکی محکمہ خارجہ کو 6 اکتوبر 1969 کو لکھا۔

اس میں اڈے کی تفصیلات یوں لکھی ہیں:

پیدائش: پشاور، 17 جولائی 1959

وفات: پشاور، 17 جولائی 1969

تدفین: پشاور، 28 فروری 1970

یعنی یہ پشاور کے قریب بڈھ بیر مرکز کے بند ہونے پر ایک علامتی ’مرثیہ‘ ہے۔

سپین جذباتی انداز میں لکھتے ہیں کہ بڈھ بیر سرد جنگ میں امریکا کے لیے انتہائی اہم تھا۔

’اس مرکز سے امریکی صدور آئزن ہاور، کینیڈی، جانسن اور نکسن وابستہ رہے جبکہ خروشیف نے نقشے پر اس کے گرد سرخ دائرہ کھینچا تھا۔ پاکستان میں یہ مقام امریکی پاکستانی دوستی کی علامت اور ساتھ ہی حساس سفارتی مسئلہ بھی تھا۔‘

'اب بڈھ بیر باقی نہیں۔ بولنگ ایلی خاموش ہیں، خیبر کی ہوائیں ویران سبزہ زاروں پر چلتی ہیں، بڑے ریڈار ڈشز اور اینٹینا ختم ہو چکے ہیں۔مگر اس کی زندگی کا سبق باقی ہے: آزاد لوگوں نے دنیا کی ضرورت کے وقت اسے قائم کیا، اور پھر وقت آنے پر عزت و وقار کے ساتھ اسے ختم بھی کیا۔‘

پشاور کے قونصل خانے کو مرحلہ وار بند کرتے ہوئے ممکن ہے پشاور میں قونصل جنرل تھامس ایکرٹ بھی سپین کی طرح کوئی الوداعی تحریر لکھ دیں۔