کابل میں منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز پر حملے میں ہلاک ہونے والے 269 افراد کے اہلخانہ اپنے سوالوں کا جواب چاہتے ہیں

A man stands in the burnt wreckage of the rehabilitation facility. His back is ot the camera. The walls are blackened. Sky can be seen through the broken roof, there is rubble on the floor.

،تصویر کا ذریعہEPA

    • مصنف, یوگیتا لیمائے
    • عہدہ, نامہ نگار برائے جنوبی ایشیا اور افغانستان، بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

ایک بھیگی اور سرد صبح کو مسعودہ نامی خاتون شمال مغربی کابل کے پہاڑی علاقے میں واقع ایک قبرستان کا رُخ کرتی ہیں تاکہ وہاں موجود اپنے چھوٹے بھائی میرواعظ کی قبر پر فاتحہ پڑھ سکیں۔ مسعودہ یہ نہیں جانتیں کہ دو ماہ قبل پاکستانی فضائی حملے میں مارے جانے کے بعد اُن کے بھائی کی قبر اصل میں کہاں ہے۔

وہ ایک اجتماعی قبر کے کنارے کھڑی ہوتی ہیں، جو چھوٹے سفید پتھروں سے ڈھکی ہوئی ہے اور جس پر سرمئی گرینائٹ سِلوں سے بنا عارضی کتبہ لگایا گیا ہے۔ یہ کم از کم 269 افراد کی آخری آرام گاہ ہے جو ایک منشیات کے بحالی مرکز پر ہوئے فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔

یہ کہنا مشکل ہے کہ اس ایک اجتماعی قبر میں مجموعی طور پر کتنے لوگ دفن ہیں۔ مسعودہ کے 24 سالہ بھائی میرواعظ کی طرح اس حملے میں ہلاک ہونے والے بہت سے افراد کی لاشیں ناقابل شناخت تھیں۔ کچھ لاشیں جھلس کر مسخ ہو گئی تھیں۔

مرنے والے چند افراد کے جسم میں ٹکڑوں میں بٹ گئے تھے جبکہ چند جسموں کے صرف کچھ اعضا ہی مل پائے تھے۔

27 سالہ مسعودہ روتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’میرے بھائی کی لاش ٹکڑوں میں بٹ چکی تھی۔ ہمارے لیے اسے دفنانے کے لیے مشکل سے کچھ بچا تھا۔‘

’اُنھیں (ریسکیو اہلکاروں کو) صرف اُن کا دھڑ ملا تھا۔ میں نے بھائی کے دھڑ پر موجود ایک پیدائشی نشان سے اُس کی شناخت کی تھی۔‘

اُمید ڈرگ ری ہیبیلیٹیشن ہسپتال پر یہ حملہ افغانستان کی تاریخ کے سب سے مہلک اور ہلاکت خیز حملوں میں سے ایک ہے۔ یاد رہے کہ اس تاریخ میں طالبان، نیٹو اور افغان فوج کے درمیان 20 سالہ جنگ بھی شامل ہے۔

منگل کو اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق تصدیق شدہ ہلاکتوں کی تعداد 269 ہے۔ اس رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ مرنے والوں کی اصل تعداد اِس سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔

اس حملے کی ’جنگی جرم‘ کے طور پر تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

Facewall of images of some of the men killed in the Pakistani air strike on the drug rehab centre in Kabul on 16 March 2026
،تصویر کا کیپشن16 مارچ کے حملے میں ہلاک ہونے والے بعض لوگوں کی تصاویر
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

گذشتہ چند مہینوں سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں جن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں اکثریت پاکستانی فضائی حملوں میں مارے جانے والوں کی ہے۔ اسلام آباد طالبان حکومت پر اُن شدت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا ہے جو پاکستان پر حملے کرتے ہیں۔ کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

اس سال کی لڑائی میں ہونے والی ہلاکتوں میں زیادہ تر تعداد بحالی مرکز پر ہونے والے حملے کی ہے۔

ہلاکتوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ افغانستان، جو طویل عرصے سے پُرتشدد کارروائیوں کا نشانہ بنا ہے، بھی صدمے میں ہے۔

اقوام متحدہ، جسے جائے وقوعہ تک رسائی دی گئی، اور بی بی سی کی افغان سروس کی ٹیمیں، جو حملے کے فوراً بعد موقع پر وہاں موجود تھیں، اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ اس حملے میں زیرِ علاج عام شہری نشانہ بنے۔

ہیومن رائٹس واچ نے اسے ’غیر قانونی حملہ اور ممکنہ جنگی جرم‘ قرار دیا۔ تاہم پاکستان اس بات سے اختلاف کرتا ہے کہ اس کی جانب سے کسی شہری ہدف کو نشانہ بنایا گیا۔

بی بی سی کو دیے گئے ایک بیان میں پاکستان نے کہا کہ ’کسی ہسپتال، کسی منشیات کے بحالی مرکز اور کسی بھی شہری تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا گیا‘۔ مزید کہا گیا کہ ’اہداف فوجی اور دہشت گرد انفراسٹرکچر تھے۔‘

مسعودہ اس دعوے پر غصے کا اظہار کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’پاکستان جھوٹ بول رہا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے، وہ کوئی فوجی کیمپ نہیں تھا۔ وہاں ایسے مرد داخل تھے جو صحتیاب ہو کر اپنے خاندانوں کے پاس واپس جانے کے لیے آئے تھے۔‘

اور اپنے اس دعوے میں وہ اکیلی نہیں ہیں۔

بی بی سی نے 30 سے زیادہ متاثرین کے خاندانوں سے بات کی ہے جن میں زیرِ علاج افراد اور مرکز کے ملازمین کے خاندان شامل ہیں۔ سب پاکستان کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہیں۔

A woman in a white head scarf with a black face mask and green dress stands in front of a hill with white pebbles and grey slate. In the background, below, a city can be seen. The sky is grey.
،تصویر کا کیپشنمسعودہ کو نہیں معلوم کہ اُن کا بھائی کہاں دفن ہے۔ ان کا بھائی ان درجنوں افراد میں شامل ہے جنھیں اجتماعی قبر میں دفنایا گیا تھا

ممکن ہے کہ اُمید مرکز ایک سابق فوجی تربیتی احاطے میں واقع ہو جسے ’کیمپ فینکس‘ کہا جاتا تھا اور جہاں پہلے امریکی اور نیٹو افواج موجود تھیں۔ مگر یہ مرکز نیا نہیں ہے۔

طالبان کے سنہ 2021 میں اقتدار سنبھالنے سے پانچ سال پہلے، یہ بحالی مرکز سنہ 2016 میں اُس وقت کھولا گیا جب امریکی افواج نے اپنا اڈہ چھوڑ دیا تھا۔

اُمید ایک معروف ادارہ تھا اور ملکی و بین الاقوامی میڈیا میں اس کی وسیع کوریج کی جاتی رہی ہے۔

بی بی سی کو سنہ 2023 میں اس مرکز کے اندر رسائی دی گئی تھی تاکہ زیر علاج منشیات کے عادی افراد سے بات کی جا سکے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی نمائندہ فیونا فریزر نے کہا کہ ’یہ اقوام متحدہ کے مرکزی دفاتر سے محض ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ہمارے ادارے وہاں مریضوں کی مدد کر رہے تھے۔ اس لیے یہ جگہ ہمارے لیے اچھی طرح جانی پہچانی تھی۔‘

مسعودہ کے بھائی میرواعظ، جو افغانستان میں منشیات کی لت میں مبتلا تقریباً 30 لاکھ افراد میں شامل تھے، کو حملے سے چند روز قبل ہی اس بحالی مرکز میں داخل کیا گیا تھا۔

مسعودہ نے والدین کی وفات کے بعد میرواعظ کو اپنے بیٹے کی طرح پالا تھا۔

وہ بتاتی ہیں کہ اُن کا بھائی ایک فارماسسٹ بننے کی تعلیم حاصل کر رہا تھا مگر بعد میں ایک ’ٹیبلٹ (گولی) کا‘ عادی ہو گیا تھا۔ یہ افغانستان میں منشیات کے لیے استعمال ہونے والی عام اصطلاح ہے جس کی مختلف اقسام میں میتھ ایمفیٹامین، اوپیئڈز یا ایم ڈی ایم اے شامل ہو سکتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’وہ ایک سادہ سا لڑکا تھا جو بُری عادت میں پڑ گیا تھا۔ وہ صرف 10 دن سے اُمید مرکز میں تھا کہ یہ واقعہ پیش آ گیا۔‘

16 مارچ کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً آٹھ بج کر 50 منٹ پر ڈیوٹی پر موجود ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ تین بم کابل جلال آباد شاہراہ پر واقع اس مرکز پر گرے تھے۔ انھوں نے طالبان حکومت کی اجازت نہ ہونے کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔

انھوں نے کہا کہ ’ان میں سے ایک بم اس ہینگر نما عمارت پر گرا جہاں عموماً نئے داخل ہونے والے مریض رکھے جاتے تھے۔‘

’باقی دو بم کنٹینرز اور لکڑی کے بلاکس پر گرے جہاں دیگر مریض رہتے تھے، یا خوراک ذخیرہ کرنے کی جگہوں اور انتظامی، سکیورٹی اور معاون عملے کے دفاتر تھے۔‘

فیونا فریزر کے مطابق اس حملے کا اثر ’ہسپتال کے اندر پیشہ ورانہ تربیت کے شعبوں‘ تک بھی پہنچا جو زیادہ تر لکڑی کی عمارتیں تھیں اور اس کے نتیجے میں ایک بہت بڑی آگ بھڑک اٹھی۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ’ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو پہنچنے والا بنیادی نقصان شریپنیل (چھرے) کے زخم اور جلنے کے باعث تھا۔‘

رپورٹ میں کہا گیا کہ ’متعدد لاشوں کی شناخت ممکن نہ ہو سکی کیونکہ یا تو ان کے زخموں کی نوعیت ایسی تھی یا وہ جسمانی اعضا کے ٹکڑوں میں تبدیل ہو چکی تھیں۔‘

ڈاکٹر نے کہا کہ ’میں نے اپنی زندگی میں اتنا ہولناک منظر کبھی نہیں دیکھا۔‘

’میں لاشوں کے درمیان چلتا رہا، یہ دیکھنے کے لیے کہ کوئی زندہ ہے یا مدد کے لیے چیخ رہا ہے۔ ہر طرف جلتے ہوئے گوشت کی بدبو تھی۔‘

مشرقی کابل میں صدیق ولی زادہ کے گھر فون بجا۔ ایک رشتہ دار نے انھیں بتایا کہ مرکز پر بمباری ہوئی ہے۔ یہ 35 سالہ بھائی محمد انور ولی زادہ کی اذیت ناک تلاش کا آغاز تھا جو حملے سے صرف چار دن پہلے اُمید مرکز میں داخل ہوا تھا۔

میرواعظ کی طرح وہ بھی ’ٹیبلٹ‘ کا عادی تھا جس کا استعمال افغانستان کے شہروں میں بڑھ رہا ہے۔

صدیق کہتے ہیں کہ ’ہم ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال گئے۔ وہاں بے شمار لاشیں تھیں۔ ان کے جسم اعضا کے ٹکڑوں میں پڑے تھے اور پہچانے نہیں جا سکتے تھے۔ ہمیں امید تھی کہ شاید ہمارا بھائی بچ نکلا ہو۔‘

اقوام متحدہ کے مطابق آگ لگنے سے مریضوں کی لاشیں جل گئی تھیں، جس سے صدیق جیسے لوگوں کے لیے اپنے پیاروں کی تلاش انتہائی مشکل ہو گئی۔

چار دن بعد جب دنیا عید منا رہی تھی تو انھیں ایک ایسی تصویر ملی جس میں کپڑوں کے ٹکڑے اور دیگر نشانات تھے جن سے یقین ہوا کہ یہ ان کے بھائی کی لاش ہو سکتی ہے۔

صدیق کہتے ہیں کہ ’یہ نہ جاننا کہ وہ زندہ ہیں یا مر گئے، بہت اذیت ناک تھا۔ پھر انھیں آدھ کٹا ہوا پایا۔ اس کے باوجود ہمیں سکون ہے کہ ہمارا بھائی مل گیا۔ کچھ خاندانوں کو کبھی اپنے پیارے نہیں ملے کیونکہ لاشیں بری طرح جل چکی تھیں۔‘

A view of destruction following reported Pakistani airstrikes in Kabul, Afghanistan on March 17, 2026.

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

،تصویر کا کیپشنیہ عمارت ایک دہائی سے منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز کے طور پر موجود تھی

محمد انور کے گھر کے ایک کونے میں وہ تین پہیوں والی ریڑھی رکھی ہے جس پر وہ بوتلوں میں پانی فروخت کرتے تھے۔ چھ بچوں کے باپ کو اپنا گھر چلانے میں مشکلات کا سامنا تھا جس پر وہ منشیات کی لت میں مبتلا ہو گئے۔

صدیق کہتے ہیں کہ ’وہ منشیات شوقیہ نہیں لیتے تھے۔ وہ بے بسی، غربت اور مشکلات کے باعث اس راستے پر آئے۔‘

یہ کہانیاں ان بہت سے خاندانوں جیسی ہیں جن سے بی بی سی نے بات کی، جن میں میرواعظ کا خاندان بھی شامل ہے۔

میرواعظ کے چچا عبد الواحد کہتے ہیں کہ ’میرے بھتیجے کو کام نہیں مل سکا اور غربت نے اسے نشے کی لت کی جانب دھکیل دیا۔‘

ہلاک ہونے والوں کے خاندان اب یہ بھی پوچھتے ہیں کہ بحالی مرکز کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔

وہید سیلانی، جن کے بھائی اجمل اس حملے میں مارے گئے، سوال کرتے ہیں کہ ’پاکستان نے ایسا کیوں کیا؟‘

’انھوں نے معصوم لوگوں کو کیوں بمباری کا نشانہ بنایا؟‘

پاکستان مسلسل اس بات کی تردید کرتا ہے کہ مرکز میں موجود افراد بے گناہ تھے۔

بی بی سی کے سوالات کے جواب میں پاکستانی فوج نے جیو نیوز ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو کی ویڈیو فراہم کی۔ اس میں فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے دعویٰ کیا کہ ’وہ ان منشیات کے عادی افراد کو خودکش بمبار کے طور پر استعمال کرتے ہیں‘ اور کہا کہ یہ مرکز ’غالباً خودکش بمباروں کی تربیت گاہ تھا۔‘

ہم نے جن خاندانوں سے بات کی اُن سب نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

میرج علی محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’(میرے مرحوم بھائی) میلاد بیمار تھے اور ہم انھیں علاج کے لیے وہاں لے گئے تھے۔ سب جانتے ہیں کہ وہ ہسپتال تھا، کوئی دہشت گرد مرکز نہیں۔‘

زاہد اللہ خان نے کہا کہ ’میں نے خود ہسپتال دیکھا ہے۔ وہاں کچھ بھی فوجی نوعیت کا نہیں تھا۔ میرے پاس ویڈیوز بھی ہیں۔ وہاں موجود لوگ سب نشے کے عادی مریض تھے۔‘

صرف عادی افراد کے خاندان ہی نہیں بولے۔ ہدایت اللہ کے بھائی ایمان عبدالمالک اس مرکز میں ملازم تھے اور حملے میں مارے گئے۔

ہدایت اللہ کہتے ہیں کہ ’وہ ہسپتال کے باورچی خانے میں معاون کے طور پر کام کرتے تھے۔ وہاں سب مریضوں کے لیے کھانا پکتا تھا۔ وہاں موجود ہر شخص مریض تھا۔‘

Afghan Red Crescent Society volunteers carry the coffins after offering funeral prayers for victims of a Pakistani air strike on a drug rehabilitation centre, during a mass burial ceremony at the Badam Bagh Hilltop in Kabul on March 18, 2026.

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنافغانستان میں طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ فضائی حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر گئی

افغانستان کی طالبان حکومت کے لیے یہ تنازع ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات میں ایک سنگین موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کے اعلیٰ حکام پہلے ممالک میں شامل تھے جنھوں نے افغانستان کا دورہ کیا۔

اب دونوں ممالک ایک پُرتشدد تنازع اور تقریباً روزانہ الزامات کے تبادلے میں مصروف ہیں۔

طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے کابل میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا جنگی جرم ہے۔ عالمی اداروں کو اس واقعے کی تحقیقات کرنی چاہییں اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔‘

پاکستان افغانستان پر بھی الزامات عائد کرتا ہے کہ گذشتہ سال سے اس کے سینکڑوں شہری ہلاک ہوئے ہیں اور دعویٰ کرتا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ لبریشن آرمی ان حملوں کے پیچھے ہیں اور طالبان حکومت انھیں پناہ دے رہی ہے۔

بی بی سی کو دیے گئے ایک بیان میں پاکستانی فوج نے کہا کہ ’پاکستان، خطہ اور پوری دنیا کو افغان طالبان حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں سے جنم لینے والی دہشت گردی کے سنگین خطرات کا سامنا ہے۔‘

Map of Kabul area showing drug rehab centre, and the city as well as the international airport

طالبان کے نائب ترجمان فطرت نے کہا کہ افغانستان ’اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیتا اور نہ ہی کسی مسلح گروہ کو کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ علیحدگی پسند ’پاکستان میں ایک طویل عرصے سے سرگرم ہیں اور یہ کوئی نیا مظہر نہیں۔‘

انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کابل محفوظ ہے۔

تاہم دارالحکومت کے قلب میں ہونے والے اس حملے نے اُس امن کو نقصان پہنچایا جس کے افغان شہری 2021 میں جنگ کے خاتمے کے بعد سے عادی ہو رہے تھے۔ ان حالات نے ایک بار پھر تشدد اور خونریزی کی واپسی کے خدشات کو جنم دیا ہے۔

زیادہ تر متاثرین کے خاندانوں کو اس بات کی کوئی امید نہیں کہ ان کے پیاروں کے ساتھ ہونے والے اس واقعے پر کسی کو جواب دہ ٹھہرایا جائے گا۔

ایک متاثرہ شخص کے بھائی کا کہنا ہے کہ ’ہم ایک مظلوم قوم ہیں۔ ہمارے پاس جواب دینے کی طاقت نہیں۔‘

’ہم نے ناانصافی اور ظلم سہا ہے۔ خدا انصاف کرنے والوں کو انصاف دے۔‘

اضافی رپورٹنگ: ایماجن اینڈرسن، محفوظ زبیدہ، احمد فواد ژواک، اولیا اطرافی، سنجے گنگولی