آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’امریکی افواج پر تمام حملے ناکام رہے‘: ایران نے بحرین اور کویت پر حملے کیوں کیے؟
- مصنف, جاروسلاو لوکیو
- مصنف, ٹوبی مین
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
پاکستانی وقت کے مطابق بدھ کی صبح تین بجے کے قریب کویتی فوج کے ایکس اکاؤنٹ سے بیان پوسٹ کیا گیا کہ کویت کا فضائی دفاع کا نظام اس وقت ’دشمن کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دے رہا ہے۔‘
بیان میں کہا گیا کہ دھماکوں کی جو بھی آوازیں سنائی دے رہی ہیں وہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن کے حملوں کو روکنے کے نتیجے میں ہیں۔
اور پھر تقریباً صبح کے چار بجے (پاکستانی وقت) بحرین کی وزارت داخلہ کے ایکس اکاؤنٹ سے بھی پوسٹ کی گئی، جس میں کہا گیا تھا کہ ’خطرے کے سائرن کو فعال کر دیا گیا ہے، شہریوں سے درخواست ہے کہ پر سکون رہیں، قریب ترین محفوظ مقام کی طرف جائیں اور سرکاری چینلز کے ذریعے دی جانے والی اطلاعات پر نظر رکھیں۔‘
بعد میں ایران کی جانب سے کہا گیا کہ اس کی جانب سے علاقے کے ایک ملک میں امریکی اڈوں اور ہیلی کاپٹروں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانا جوابی کارروائی کے طور پر تھا۔
امریکی سینٹکام کے مطابق تہران نے کویت کی طرف دو اور بحرین کی طرف تین میزائل داغے، جو یا تو ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے یا روک لیے گئے۔
تاہم امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ’اپنے دفاع میں‘ ایران پر حملے کیے ہیں اور ایسے بیلسٹک میزائل اور ڈرون مار گرائے ہیں جو جہازوں پر اور خلیجی ممالک کی جانب داغے گئے تھے۔
امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) نے کہا آبنائے ہرمز میں واقع قشم جزیرے پر حملے ’ایران کے مشرق وسطیٰ میں حملوں کی کوششوں کا جواب تھے۔‘
سینٹکام کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے پاسدان انقلاب کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ وہ آج بحرین میں امریکی فوجی اڈے کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔ سینٹکام کے مطابق ’حقیقت یہ ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی افواج پر کیے گئے تمام حملے ناکام رہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سینٹکام کے بیان میں کہا گیا: ’امریکی افواج چوکنا ہیں اور کسی بھی بلا جواز ایرانی جارحیت کے خلاف دفاع کے لیے تیار ہیں۔‘
ایک اور ایکس پوسٹ میں سینٹکام نے بتایا کہ ایران نے کویت میں بھی امریکی افواج پر ڈرون حملوں کی کوشش کی تاہم ’وہ اپنے مطلوبہ اہداف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہا۔‘
پوسٹ میں لکھا گیا: ’فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز کو کامیابی سے مار گرایا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ کسی بھی امریکی اہلکار یا اثاثے کو نقصان نہ پہنچے۔‘
یہ تازہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب جنگ بندی کے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
سینٹکام نے مزید کہا کہ قشم جزیرے پر حملے میں ایرانی فوج کے ایک مرکز کو نشانہ گیا۔ سینٹکام کے مطابق ایران نے ’علاقائی پانیوں سے گزرنے والے سویلین جہاز رانوں‘ پر بھی تین ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا لیکن امریکی فوج نے وہ حملہ آور ڈرون مار گرائے۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ ’جارح امریکی فوج کو آبنائے ہرمز کی سکیورٹی میں خلل ڈالنے کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔‘
ایران متعدد بار بحرین اور کویت میں اہداف پر حملے کر چکا ہے، جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔
اس سے قبل، سینٹکام نے کہا کہ اس نے ایران کی جانب جانے والے ایک خالی آئل ٹینکر کو نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا ہے۔ یہ کارروائی اس بحری ناکہ بندی کی وجہ سے کی گئی جو امریکہ نے 13 اپریل سے ایران پر نافذ کر رکھی ہے۔
سینٹکام کے مطابق ایک امریکی طیارے نے بوٹسوانا کے پرچم بردار ایم/ٹی جہاز کے انجن روم میں ہیل فائر میزائل داغا، کیونکہ عملے نے ’بار بار دیے گئے انتباہ کو نظر انداز کیا۔‘
سینٹکام نے منگل کو ویڈیو بھی جاری کی ہے جو مبینہ طور پر اس لمحے کی ہے جب ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے اپنے ناقدین سے کہا تھا کہ ’پر سکون رہیں‘ اور ایران ’واقعی معاہدہ کرنا چاہتا ہے، اور یہ امریکہ کے لیے ایک اچھا معاہدہ ہو گا۔‘
اس سے پہلے امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ نے ممکنہ امن معاہدے کی شرائط میں ترامیم کی درخواست کی ہے۔ بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کے مطابق یہ تبدیلیاں آبنائے ہرمز اور ایران سے انتہائی افزودہ یورینیم کو ہٹانے سے متعلق تھیں۔
پیر کے روز ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ واشنگٹن ’مسلسل اپنے مؤقف تبدیل کر رہا ہے اور نئے یا متضاد مطالبات پیش کر رہا ہے۔‘
اپنے حالیہ بیان میں سینٹکام نے کہا کہ امریکی افواج نے ’بوٹسوانا کے پرچم بردار ایم/ٹی لیکسی کے خلاف ناکہ بندی کے اقدامات نافذ کیے، جب یہ بین الاقوامی پانیوں سے خارگ جزیرے کی طرف جا رہا تھا۔‘
بیان کے مطابق جہاز کے عملے نے ’24 گھنٹوں کے دوران متعدد بار امریکی افواج کی ہدایات پر عمل نہیں کیا۔‘
سینٹکام کے مطابق ناکہ بندی نافذ ہونے کے بعد سے مجموعی طور پر چھ تجارتی جہاز ناکارہ بنائے جا چکے ہیں اور مزید 122 کا رخ موڑا گیا ہے۔
بی بی سی نے تبصرے کے لیے بوٹسوانا کی حکومت سے رابطہ کیا ہے۔
تازہ جھڑپ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کانگریس کے سامنے پیش ہوئے۔
انھوں نے یہ گواہی دی کہ امریکی مذاکرات کاروں نے آبنائے دوبارہ کھولنے کے بدلے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیشکش نہیں کی۔
مارکو روبیو نے کہا کہ اس وقت ایران کے ساتھ یہ معاملہ زیرِ غور ہے کہ کسی بھی نرمی کو شرائط سے مشروط رکھا جائے گا، اور ایسی نرمی اسی صورت ممکن ہوگی جب اس بنیادی وجہ کو ختم کیا جائے جس کی بنا پر پابندی لگائی گئی تھی، یعنی ایران کا جوہری پروگرام۔
کمیٹی میں شامل قانون سازوں نے اس تنازع کے خاتمے کے لیے امریکی حکمت عملی پر سوال اٹھائے۔ ان کے ساتھ کشیدگی بھرے مکالمے میں امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’جنگ ختم ہو چکی ہے۔‘