آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’ملزمان کرائے کی گاڑی میں سوار تھے‘: عید پر جعلی نوٹوں کے ذریعے لاکھوں روپے کا فراڈ
- مصنف, ترہب اصغر
- مقام, لاہور
- مصنف, بلال احمد
- عہدہ, بی بی سی اردو
- مقام, پشاور
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
لاہور کے علاقے نشتر کالونی میں پولیس کو ایک درخواست موصول ہوئی۔ درخواست دینے والے ایک بزرگ شہری حاجی سرور تھے جن کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ فراڈ ہوا ہے۔
حاجی سرور کی درخواست کے مطابق ایک روز وہ اپنی بکریاں چرا رہے تھے، اس دوران ایک گاڑی میں سوار دو افراد ان کے پاس رکے اور جانور خریدنے کی بات کی۔ سودا دو لاکھ 20 ہزار روپے میں طے ہوا اور کار سوار افراد نقد رقم دے کر وہاں سے روانہ ہو گئے۔
لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ تین بکروں کے عوض دیے گئے نوٹ جعلی تھے۔ اس بات کا علم تب ہوا جب وہ اپنی بیٹی کے جہیز کا سامان لینے دکان پر گئے۔
حاجی سرور کے بیٹے احسن علی نے عید سے قبل پیش آنے والے واقعے کے بارے میں بتایا کہ ’ہم بہن کے جہیز کا سامان لینے کے لیے ایک دکان پر بیٹھے تھے۔ خریداری کے بعد ہم نے دکاندار کو 60 ہزار روپے دیے۔‘
احسن کے مطابق دکاندار نے وہ رقم جعلی نوٹ چیک کرنے والی مشین میں ڈالی اور پوچھا کہ ’آپ یہ نوٹ کہاں سے لائے ہیں۔‘
جب بتایا گیا کہ یہ نوٹ تین بکرے خریدنے والے افراد نے دیے ہیں تو دکان دار نے کہا ’یہ جعلی ہیں۔‘
پولیس ’کرائے کی گاڑی میں سوار‘ ملزمان تک کیسے پہنچی؟
متاثرہ شہری کے بیٹے احسن علی نے مزید بتایا کہ انھوں نے گھر میں بکریاں پال رکھی ہیں اور عید پر انھیں بیچ کر ضروریات پوری کرتے ہیں۔
ان کے مطابق بکرے بیچ کر اکٹھی کی گئی رقم سے ان کی بہن کی شادی کی جانی تھی، تاہم اس واقعے کے باعث شادی مؤخر کرنا پڑی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا واحد واقعہ نہیں ہے اور اس سے پہلے بھی ایسے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، لاہور کے علاقے شاہدرہ میں بھی ایک شخص سے 17 لاکھ روپے مالیت کے جانور خرید کر انھیں جعلی نوٹ دیے گئے۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر نوٹ اصلی محسوس ہوتے ہیں لیکن مشین میں چیک کرنے پر جعلی ہونے کا علم ہوتا ہے۔
فیصل کامران نے بتایا کہ جب پولیس نے کیس پر کام شروع کیا تو سب سے پہلے کیمروں کی مدد سے اس گاڑی کی نشاندہی کی گئی۔
نمبر ٹریس کرنے پر معلوم ہوا کہ گاڑی حافظ آباد میں گاڑیاں کرائے پر دینے والی ایک کمپنی سے لی گئی تھی۔ تاہم ملزمان نے گاڑی کرائے پر لیتے ہوئے اپنے شناختی کارڈ اور موبائل فون نمبرز بھی فراہم کیے تھے۔
پولیس نے ان موبائل فون نمبرز کے سگنلز کی مدد سے معلوم کیا کہ ملزم کہاں موجود ہیں اور پھر ان کے گھروں پر چھاپے مار کر گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ ایک شخص درہ آدم خیل سے اسلام آباد آ کر ملزموں کو جعلی نوٹ فراہم کرتا تھا۔ ملزم گذشتہ ایک سال سے اس سے یہ نوٹ خرید رہے تھے۔ پانچ لاکھ روپے کی مالیت کے نوٹوں کا ایک سیٹ انھیں 75 ہزار روپے میں ملتا تھا۔ ان کے مطابق یہ پانچ ہزار کے نوٹوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ ایک ہزار روپے کے نوٹوں والا اسی مالیت کا سیٹ تقریباً 25 ہزار روپے میں حاصل کیا جاتا تھا۔
ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا تھا کہ پولیس دیگر اداروں کے ساتھ مل کر ان افراد تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے جو جعلی نوٹ تیار کرتے ہیں۔
اسی نوعیت کا ایک اور واقعہ صوبہ خیبرپختونخوا میں بھی پیش آیا۔
ضلع چارسدہ سے تعلق رکھنے والے عبدالہادی عید کے دنوں میں شبقدر بازار میں قربانی کے جانور فروخت کر رہے تھے۔ انھوں نے 55 ہزار روپے کے عوض ایک بکرا فروخت کیا۔ جب وہ رقم کی تصدیق کے لیے قریبی دکان دار کے پاس گئے تو مشین میں چیک کرنے پر تمام نوٹ جعلی نکلے۔
بعد میں انھی دکان دار نے جعلی نوٹوں اور متاثرہ شہری کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی، جس میں متاثرہ شہری کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی کی شادی نزدیک ہے اور وہ اسی مقصد کے لیے مال مویشی فروخت کر رہے تھے، تاہم کسی نے انھیں جعلی نوٹ دے دیے۔
ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس کے بعد مختلف افراد نے مالی مدد کی اپیل شروع کی۔
ان میں سے ایک کانٹینٹ کری ایٹر مغیث احمد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے اس شہری کی مدد کے لیے ویڈیو پوسٹ کی جس کے بعد ڈیڑھ لاکھ روپے جمع ہوئے، جو عید کے دنوں میں متاثرہ شخص کے حوالے کر دیے گئے۔
ان کے مطابق امداد کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور جمع ہونے والی تمام رقم متاثرہ شہری کو دے دی جائے گی۔ ایک اور شخص فضل ہادی کے مطابق اب تک مجموعی طور پر تقریباً سات لاکھ روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔
پانچ ہزار والے نوٹ کی پہچان کیسے کی جا سکتی ہے؟
پاکستان میں کرنسی نوٹ کے اصلی یا جعلی ہونے کی پہچان کیسے کی جا سکتی ہے، اس کے لیے سٹیٹ بینک نے مختلف گائیڈ لائنز جاری کر رکھی ہیں۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق پانچ ہزار کے کرنسی نوٹ کی سب سے منفرد خصوصیت یہ ہے کہ اس کی پرنٹنگ اس منفرد کاغذ پر ہوئی ہے، جسے چھونے سے ہی اس کے منفرد ہونے کا احساس ہوتا ہے۔
نوٹ کے سامنے کی سائیڈ پر دائیں جانب بانیِ پاکستان محمد علی جناح کی تصویر کا واٹر مارک جبکہ اس کے نیچے نوٹ کی مالیت یعنی پانچ ہزار کا واٹر مارک بھی نمایاں ہے۔
سٹیٹ بینک کے مطابق نوٹ کے اندر حفاظتی دھاگے کو آر پار دیکھنے سے یہ عمودی پٹی کی صورت میں نظر آتا ہے جس پر نوٹ کی مالیت بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
نوٹ پر پاکستان کا جھنڈا بھی اس کی ایک منفرد خصوصیت ہے جو مختلف زاویوں سے دیکھنے سے یہ رنگ بدلتا نظر آئے گا۔
اسی طرح بائیں جانب ابھرے نشانات ہیں جن کو چھونے سے بینائی سے محروم افراد کو بھی نوٹ کی مالیت جاننے میں مدد ملتی ہے۔
اسی طرح نوٹ کے بائیں جانب موجود بانیِ پاکستان محمد علی جناح کی تصویر کے ساتھ بھی 5000 کا ہندسہ پوشیدہ ہے جو نوٹ کو مختلف زاویوں سے دیکھنے پر نمایاں ہوتا ہے۔
اسی طرح دائیں بائیں کناروں پر ابھرتی ہوئی لکیریں موجود ہیں جبکہ پچھلی سطح بالکل ہموار ہے، جو اصلی نوٹ کی پہچان میں مدد دیتے ہیں۔
کیا عام شخص جعلی نوٹ کو پہچان سکتا ہے؟
سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پانچ ہزار کے نوٹ کے اصلی ہونے کی گائیڈ لائنز تو جاری کی گئی ہیں تاہم کیا ایک عام آدمی اس سے نوٹ کے اصلی یا جعلی ہونے کے بارے میں پتا چلا سکتا ہے؟
اس بارے میں شعبہ بینکاری کے امور کے ماہر راشد مسعود عالم کے مطابق یہ بڑا مشکل ہے کہ ایک عام آدمی سٹیٹ بینک کی گائیڈ لائنز کے مطابق نوٹ کے اصلی یا نقلی ہونے کے بارے میں جان سکے۔
انھوں نے کہا کہ عام آدمی ان گائیڈ لائنز کی امید پر اپنے آپ کو جعل سازی سے محفوظ رکھنے سے قاصر نظر آتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بینکوں میں کام کرنے والے کیشئر اور روپے کی لین دین کرنے والے کاروباری حضرات اس میں ماہر ہوتے ہیں کیونکہ ان کی اس سلسلے میں خاص تربیت ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ عام آدمی کو اگر یہ دیکھنا ہے کہ کرنسی نوٹ جعلی ہے یا اصلی تو اسے بہت غور سے دیکھنا ہو گا اور یہ مشکل ہوتا ہے۔
راشد مسعود عالم نے بتایا کہ اب تو بینکوں میں بھی نوٹ گننے کی مشینیں ہوتی ہیں جو نوٹ تو گن سکتی ہیں لیکن نوٹ کے اصلی اور جعلی ہونے کا پتا نہیں چلا سکتیں۔
انھوں نے کہا کہ ویسے تو ہر بینک میں نوٹس بورڈ پر سٹیٹ بینک کی جانب سے ایسی ہدایات لکھی ہوتی ہیں کہ ایک عام آدمی اس بنیاد پر نوٹ کو پرکھے تاہم اُن کو پڑھنے کا تردد کوئی نہیں کرتا۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے جعلی نوٹوں سے بچاؤ کے حوالے سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو محفوظ قرار دیا۔ ان کے مطابق عید کے دوران لاہور کی شاہپور منڈی میں تقریباً چھ ارب روپے کی خرید و فروخت ڈیجیٹل بینکنگ کے ذریعے ہوئی، حکومت کی جانب سے بیوپاریوں کو کیو آر کوڈز دیے گئے تھے جس کے ذریعے انھوں نے آن لائن پیسے ٹرانسفر کیے۔
انھوں نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ کسی بھی لین دین کے وقت نوٹوں کی تصدیق ضرور کریں تاکہ ایسے فراڈ سے بچا جا سکے۔