آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
آسٹریلوی کپتان کی وکٹ پر پِچ زیرِ بحث: ’یہ ورلڈ کپ کی تیاری ہے یا سیریز جیتنے کی کوشش‘
لاہور میں کھیلے جانے والے دوسرے ون ڈے انٹرنیشنل میں آسٹریلوی ٹیم نے پاکستان کو 232 رنز کا ہدف دیا ہے۔
پاکستانی کپتان شاہین آفریدی نے تین جبکہ حارث رؤف، عرفات منہاس اور ابرار احمد نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔
آسٹریلوی کپتان جاش انگلس اور کیمرن گرین کی نصف سنچریوں کے باوجود کئی بلے باز پاکستانی بولرز کے سامنے بے بس نظر آئے۔ اس کے باوجود اننگز کے اواخر میں اولیور پیک کی تیز بیٹنگ کی بدولت آسٹریلوی ٹیم پہلے میچ کے مقابلے زیادہ بڑا ہدف دینے میں کامیاب رہی۔
فی الحال اس سیریز میں پاکستان کو ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔
آسٹریلوی بیٹنگ کا احوال
پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا تھا۔
میچ کی پہلی گیند پر ہی شاہین کو پہلی کامیابی حاصل ہوئی جب ایلکس کیری کے بلے سے لگنے کے بعد گیند وکٹوں سے جا ٹکرائی۔
ابرار احمد نے دوسری وکٹ حاصل کی اور میتھیو شارٹ کا کیچ خود ہی پکڑ کر انھیں 15 رنز پر واپس پویلین کی راہ دکھائی۔
کپتان جاش انگلس نصف سنچری بنانے کے بعد پہلے میچ میں پانچ وکٹیں بٹورنے والے نوجوان عرفات منہاس کا شکار بنے۔ انگلس کٹ شاٹ کھیلنے کی کوشش کر رہے تھے مگر گیند کا اچھال کم رہا اور وہ بولڈ ہو گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مارنس لبوشین محض پانچ رنز بنا کر آؤٹ ہوئے اور ان کی وکٹ بھی عرفات منہاس نے ہی حاصل کی۔
کیمرن گرین نے 92 گیندیں کھیلیں اور 53 رنز بنا کر آسٹریلوی بیٹنگ کو مستحکم کرنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ ابرار احمد کا دوسرا شکار بنے۔
حارث رؤف نے میٹ رینشا کو عمدہ ان سوئنگنگ گیند پر بولڈ کیا جس کے بعد شاہین نے میتھیو کوہنیمن کی وکٹ حاصل کی۔
مائیک ہیسن کی وضاحت کے باوجود شائقین پچز سے ناخوش
میچ کے 27ویں اوور میں عرفات منہاس نے اپنی پہلی گیند پر انگلس کو بولڈ کیا۔ اس گیند کو اچھال نہیں مل سکا تھا اور اس پر انگلس بھی مایوس دکھائی دیے تھے۔
اس وکٹ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی شیئر کی جا رہی ہے اور صارفین پچز پر تنقید کر رہے ہیں۔
ایک صارف نے پوچھا کہ ’کپتان اور کوچ کی نوکریاں بچانے کے سوا ان کنڈیشنز میں آسٹریلیا کی بی ٹیم کے خلاف دو طرفہ سیریز جیتنے کے علاوہ کیا حاصل ہوگا۔‘
ایک دوسرے صارف کی رائے ہے کہ 'یہ پچ سست ہے اور زیادہ باؤنس نہیں ہے۔ اس لیے یہاں سیدھا کھیلنا ہوگا۔ آؤٹ فیلڈ تیز ہے اور ہر شاٹ کی پوری قدر کرے گی۔'
طارق خان نے لکھا کہ ’کوچ مائیک ہیسن ہمیں یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا کی پچز بالکل قذافی سٹیڈیم کی پچ جیسی ہوں گی اور ورلڈ کپ میں اوسط سکور 200 سے 220 کے درمیان رہے گا۔'
خیال رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ مائیک ہیسن نے حال ہی میں ایکس پر ایک پیغام میں پچز پر اعتراضات کے بارے میں اظہار خیال کیا تھا۔
انھوں نے کہا تھا کہ ’میں نے سنا ہے کہ پاکستان میں پچز کو جنوبی افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے مثالی تیاری نہیں سمجھا جا رہا۔‘
ان کی رائے میں 'یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ورلڈ کپ مشترکہ طور پر جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میں کھیلا جائے گا۔ زمبابوے اور نمیبیا میں ایسے میدان موجود ہیں جہاں سپن بولنگ ایک اہم عنصر ہوتی ہے اور ہمیں ان ممالک میں بھی میچز کھیلنے ہیں۔
'یہ تصور کہ جنوبی افریقہ کی تمام پچز تیز اور اچھال والی ہوتی ہیں، درست نہیں ہے۔ اگرچہ کچھ پچز ایسی ضرور ہیں تاہم ملک کے مختلف حصوں میں پچز کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔'
مائیک ہیسن کا کہنا ہے کہ 'جو لوگ پاکستان کے جنوبی افریقہ میں کھیلے گئے آخری ون ڈے سیریز کو یاد رکھتے ہیں، انھیں معلوم ہو گا کہ پارل میں کھیلے گئے میچ میں سپن نے نتیجے پر اثر ڈالا تھا۔
'یقین رکھیں کہ ہم نے اس حوالے سے تفصیلی تحقیق کی ہے اور آئندہ 18 مہینوں میں مختلف کنڈیشنز کے لیے تیاری کریں گے۔'
مگر طاہر اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ 'یہ آسٹریلیا کی شکست نہیں بلکہ پاکستان کی شکست ہے۔'
'دو فاسٹ بولر اور چار سپنرز کھلا کر سپن ٹریک بنایا جا رہا ہے۔ آسٹریلیا کی سی ٹیم کے خلاف ہیرو بن جائیں گے اور ورلڈ کپ میں پھر نہ تو کمبینیشن درست ہوگا اور نہ ہی کچھ سمجھ آئے گا۔'
دریں اثنا بعض صارفین نے پاکستانی ٹیم کی سلیکشن پر بھی اعتراضات اٹھائے ہیں۔
وسیم عباسی کہتے ہیں کہ 'کون کہتا ہے شاداب نہیں کھیل رہے؟ وہ تو حسبِ توقع آسٹریلیا کے لیے کھیل رہے ہیں۔ سپن کے لیے موزوں پچ پر آٹھ اوورز میں 44 رنز دیے اور ایک بھی وکٹ نہیں لی۔ کچھ چیزیں کبھی نہیں بدلیں گی۔'
ایک اور صارف کی رائے تھی کہ 'پاکستان اس پچ پر واقعی صفیان مقیم کی کمی محسوس کر رہا ہے۔ آسٹریلیا کو 150 سے کم سکور پر آؤٹ کیا جا سکتا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے ہمیں ون ڈے کرکٹ کے 'دنیا کے بہترین سپنر' یعنی شاداب خان کے ساتھ ہی کھیلنا پڑ رہا ہے۔'
بہرام قاضی نے لکھا کہ ’پاکستان ایک متوازن سپورٹنگ پچ تیار کر سکتا تھا، صفیان، نسیم اور دانیال کو آزما سکتا تھا۔ اور خود کو چیلنج دینے کے لیے پہلے بیٹنگ کر سکتا تھا۔‘
’لیکن پاکستان نے ان میں سے کچھ بھی نہیں کیا۔ اور اس کے بجائے اس کمزور آسٹریلوی ٹیم کے خلاف ایک غیر اہم دوطرفہ ون ڈے سیریز جیتنے پر توجہ دی جو بظاہر محض ایک رسمی کامیابی ہو گی۔‘