امریکہ، اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ: ایک تنازع اور کامیابی کے دو متضاد دعوے

    • مصنف, عامر عظمی
    • عہدہ, بی بی سی فارسی
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کا موجودہ مرحلہ شاید ختم ہو چکا ہے، کم از کم واشنگٹن سے تو یہی پیغام دیا جا رہا ہے۔

منگل، 5 مئی کو کئی ہفتوں کے سیزفائر کے بعد امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ’آپریشن ایپک فیوری‘ مؤثر طور پر ختم ہو چکا ہے، اگرچہ یہ اعلان ایک بہت وسیع تقریر کے اندر تقریباً دب سا گیا۔

تو اہم سوال یہ ہے: جیتا کون؟

اس کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ کہانی کون سنا رہا ہے۔

ایران میں سرکاری میڈیا اس جنگ کو اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہے کہ ملک نے دنیا کے سب سے طاقتور فوجی اتحاد کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور انھیں شکست دی۔

واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ بھی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہیں اور بار بار کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے۔

لیکن عوامی بیانات کے پیچھے اب مذاکرات خود لڑائی سے زیادہ اہم ہوتے جا رہے ہیں تاکہ یہ طے ہو سکے کہ اصل کامیابی کہاں ہے۔

ایکسِیوس، رؤٹرز اور دیگر امریکی میڈیا اداروں کی رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کا ماننا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کے قریب ہے۔

یہ دستاویز ایران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز اور علاقائی کشیدگی سے متعلق وسیع تر مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک تیار کرے گی۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ملک اس تجویز کا جائزہ لے رہا ہے اور پاکستانی ثالثوں کے ذریعے اپنا جواب دے گا۔ مگر کچھ سینئر ایرانی سیاستدان پہلے ہی اسے عوامی طور پر مسترد کر چکے ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ایک ترجمان نے ایکس پر لکھا کہ ’امریکی اس جنگ سے کچھ حاصل نہیں کرسکیں گے، جسے وہ ہار رہے ہیں‘ اور انھوں نے ان تجاویز کو ’امریکی خواہشات کی فہرست‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

اب تک شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق ایران کو اپنے جوہری سرگرمیوں کے بڑے حصے کو 20 سال کے لیے معطل کرنا ہوگا، اپنے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے حوالے کرنے ہوں گے اور وسیع بین الاقوامی معائنوں کی اجازت دینی ہوگی۔

رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ اس معاہدے کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کی ضمانت دینی ہوگی۔

اس کے بدلے میں امریکہ بتدریج پابندیاں اٹھائے گا، منجمد ایرانی اثاثے جاری کرے گا اور ممکنہ طور پر معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد ایران کو محدود سطح پر یورینیم افزودگی دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے گا۔

لیکن ایران کے اندر بہت سے لوگوں کے لیے یہ شرائط کسی سمجھوتے سے زیادہ ہتھیار ڈالنے جیسی محسوس ہوتی ہیں۔

ان کا مؤقف سادہ ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ امریکہ نے ’آپریشن ایپک فیوری‘ کو اس لیے روکا کیونکہ وہ فیصلہ کن نتائج حاصل کرنے میں ناکام ہو رہا تھا اور ’آپریشن فریڈم‘، جسے امریکہ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے شروع کیا تھا مگر اچانک ختم کر دیا، خلیجی عرب ریاستوں کو اس تنازع میں مزید گہرائی تک کھینچ سکتا تھا۔

اگرچہ ایران نے خطے میں امریکی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا لیکن ان ممالک میں سے کسی نے بھی باضابطہ طور پر براہ راست جنگ میں حصہ نہیں لیا۔

مزید اہم بات یہ ہے کہ اس دوران ایرانی حکومت نے اپنا وجود قائم رکھا، حالانکہ اس کے کئی رہنما، اعلیٰ فوجی کمانڈر اور سینیئر سکیورٹی شخصیات جنگ کے دوران ماری گئی تھیں۔

ایران کا سیاسی اور فوجی نظام کام کرتا رہا اور ان کی جگہ جلد ہی نئے افراد تعینات کر دیے گئے۔

جنگ سے پہلے کچھ مغربی حکام اور تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ ایک تیز رفتار فوجی مہم، جس کے دوران سینئر ایرانی رہنماؤں اور کمانڈروں مارے جائیں، حکومت مخالف مظاہروں کی ایک نئی لہر کو جنم دے سکتی ہے اور ممکن ہے کہ اس سے نظام کے خاتمے تک کی نوبت آ جائے۔

لیکن ایسا نہیں ہوا۔

جنگ سے پہلے مہینوں میں جن مظاہروں نے ایران کو ہلا کر رکھ دیا تھا، وہ بڑی حد تک سڑکوں سے غائب ہو گئے۔ سکیورٹی فورسز نے کنٹرول سخت کر دیا، گرفتاریاں بڑھ گئیں اور کچھ لوگوں کو سزائے موت بھی دی گئی۔

اسی دوران سرکاری میڈیا بار بار مختلف شہروں میں حکومت کے حق میں ہونے والی ریلیوں کو دکھاتا رہا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے حال ہی میں لکھا: ’ہم بخوبی جانتے ہیں کہ موجودہ صورتحال کا جاری رہنا امریکہ کے لیے ناقابلِ برداشت ہے، جبکہ ہم نے تو ابھی آغاز بھی نہیں کیا۔‘

ایران کی قیادت کے لیے محض برقرار رہنا ہی شاید کامیابی شمار ہوتا ہے، خاص طور پر جب تہران خطے میں امریکی اڈوں اور شہری بنیادی ڈھانچے اور اسرائیل میں بھی پہنچنے والے نقصان کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ تہران لڑائی کے ایک اور مزید مرحلے سے بچنے کے لیے بے چین دکھائی نہیں دیتا۔

ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ ان کا ملک اپنے مخالفین کے مقابلے میں معاشی دباؤ، فوجی دباؤ اور طویل جنگوں کو برداشت کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔

وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی بندش نے یہ ظاہر کر دیا کہ عالمی معیشت پر ایران کا اثر و رسوخ اب بھی کتنا زیادہ ہے۔

یہ آبی راستہ محض توانائی کی گزرگاہ ہی نہیں رہا، بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ثابت ہوا۔ اس میں رکاوٹوں نے جہاز رانی، خوراک کی فراہمی، انشورنس اخراجات اور وسیع عالمی تجارت کو متاثر کیا۔

اب ایران آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کو کسی رعایت کے طور پر نہیں بلکہ ایک مذاکراتی ہتھیار کے طور پر دیکھتا ہے۔

اس کے علاقے پر بھی بڑے اثرات ہو سکتے ہیں۔ ایران اس تنازع سے مضبوط ہو کر ابھر سکتا ہے، خاص طور پر اُن ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں جہاں امریکی اڈے قائم ہیں یا جنھوں نے جنگ کے دوران بالواسطہ طور پر امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کی حمایت کی۔

اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایران نے اپنی تمام خواہشات پوری کر لیں۔

ملک کو بڑے پیمانے پر نقصان اٹھانا پڑا، اس نے اعلیٰ فوجی شخصیات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو کھو دیا اور وہ اب بھی شدید معاشی دباؤ میں ہے جو ممکنہ طور پر دوبارہ احتجاج کو جنم دے سکتا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل نے یہ بھی دکھایا کہ وہ جدید ہتھیاروں اور انٹیلی جنس صلاحیتوں کے ساتھ ایران کے اندر گہرائی تک حملہ کر سکتے ہیں۔

لیکن جنگیں ہمیشہ صرف میدانِ جنگ میں ہی طے نہیں ہوتیں۔

یہ تنازع آخرکار خود جنگ کے بجائے اسے ختم کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات کے نتائج کی بنیاد پر جانچا جا سکتا ہے۔

اگر واشنگٹن ایران کو بڑے جوہری سمجھوتوں پر مجبور کر لیتا ہے، تو امریکہ اسے اپنی کامیابی قرار دے گا۔ اگر تہران اپنا علاقائی اثر و رسوخ برقرار رکھتا ہے اور اپنے جوہری پروگرام کو مستقل طور پر روکنے سے بچ جاتا ہے، تو ایران اپنی جیت کا دعویٰ کرے گا۔

فی الحال دونوں فریق اپنے عوام کو یہی بتا رہے ہیں کہ وہ جیت گئے ہیں۔

اصل جواب شاید اسی وقت واضح ہوگا جب مذاکرات ختم ہوں گے، وہ بھی اگر دونوں فریق مذاکرات کی میز پر آئیں اور اختتام تک وہاں قائم رہیں۔