اینا جارویس: ماؤں کے عالمی دن کی بنیاد رکھنے والی خاتون کو جب اس پر پچھتاوا ہوا

مدرز ڈے یعنی ماؤں کا عالمی دن دنیا بھر کے مختلف ممالک میں ہر برس مئی کے دوسرے اتوار کو منایا جاتا ہے لیکن اس دن کو منانے کی موجب بننے والی خاتون اگر آج زندہ ہوتیں تو رواں سال کے حالات کے پیش نظر اس دن کے جشن کو چھوٹی سطح پر منانے کی منظوری دیتی۔

اس دن کی کمرشیلائزیشن نے انھیں اس قدر خوف زدہ کردیا تھا کہ کہ انھوں نے اس کو ختم کرنے کے لیے مہم بھی چلائی تھی۔

جب الزابتھ بر کو کچھ دن پہلے کسی کا فون آیا اور وہ ان کی خاندانی تاریخ کے بارے میں پوچھنے لگے تو انھوں نے ابتدا میں سوچا کہ کوئی مسئلہ ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں نے سوچا، اچھا! تو میری شناخت چوری ہو گئی ہے اور اب مجھے اپنے پیسے کبھی نہیں ملیں گے۔‘

درحقیقت یہ فون ایک خاندانی تاریخ کے محقق کی طرف سے آیا تھا جو اینا جارویس کے زندہ رشتہ داروں کی تلاش میں تھے۔ اینا جاروس وہی خاتون ہیں جنھوں نے ایک صدی قبل امریکہ میں یوم مادر یا مدرز ڈے کی بنیاد رکھی تھی۔

اینا جارویس اپنے والدین کے 13 بچوں میں سے ایک تھیں جن میں سے صرف چار بچے ہی سن بلوغت کو پہنچے۔ ان کے بڑے بھائی ہی واحد شخص تھے جن کے اپنے بچے ہوئے۔ ان کے بھی کئی بچے کم عمری میں ہی فوت ہو گئے اور ان سب کی موت ٹی بی یعنی تپ دق سے ہوئی تھی۔ ان کے آخری براہ راست وارث کا 1980 کی دہائی میں انتقال ہو گیا۔

چنانچہ مائی ہیریٹیج کی الزابتھ زیٹلانڈ نے پہلے کزنز یعنی ماموں زاد، چچا زاد اور خالہ زاد بچوں کو تلاش کرنے کا فیصلہ کیا اور یہی وجہ تھی کہ ان کی توجہ الزابتھ بر کی طرف گئی۔

یہ بھی پڑھیے

جب الزبتھ کو یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ ان کی بچت محفوظ ہے تو انھوں نے مائی ہیریٹیج کو یہ حیرت انگیز خبر دی کہ ان کے والد اور ان کی پھوپھیاں جب بڑی ہو رہی تھیں تو وہ مدرز ڈے نہیں مناتے تھے اور وہ ایسا اینا کے احترام میں کر رہے تھے جن کو ہمیشہ یہ احساس ستاتا رہا کہ ان کے خیال کو تجارتی مفاد کے لیے اغوا کر لیا گیا ہے۔

اینا جاریوس کو ماں کے لیے ایک مخصوص دن منانے کی ترغیب اپنی والدہ این ریوز جارویس سے ملی تھی۔

مورخ کیتھرن اینتولینی کہتی ہیں کہ مسز جاریوس نے اپنی زندگی ماؤں کو اپنے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے متحرک کرنے میں صرف کی تھی اور وہ چاہتی تھیں کہ ماؤں کے کام کو پہچانا اور سراہا جائے۔

مسز جاریوس نے کہا: 'میں امید اور دعا کرتی ہوں کہ کوئی کبھی ماؤں کی یاد گار کے لیے ایک دن کی بنیاد ڈالے گا تاکہ زندگی کے ہر شعبے میں انسانیت کے لیے جو بے مثال خدمات وہ دیتی ہیں اس کی پزیرائی ہو۔‘

وہ میتھوڈسٹ ایپسکوپل چرچ میں بہت سرگرم تھیں جہاں انھوں نے سنہ 1858 سے مدرز ڈے ورک کلب چلانے کا کام کیا تاکہ نوزائیدہ بچوں اور بچوں کی اموات کی شرح سے نمٹا جا سکے کیونکہ مغربی ورجینیا کے گرافٹن میں جس برادری میں وہ وہ رہتی تھیں وہ بیماریوں سے تباہ برادری تھی۔

ان ورک کلبز میں ماؤں کو حفظان صحت اور صفائی ستھرائی کے بارے میں سکھایا جاتا تھا جیسے پینے کے پانی کو ابالنے کی اہمیت وغیرہ۔ منتظمین بیمار خاندانوں کو دوا اور دیگر سامان مہیا کراتے اور جب ضروری ہوتی تو وبائی امراض سے حفاظت کے لیے پورے پورے کنبے کو علیحدہ کر دیا جاتا یعنی قرنطینہ میں رکھ دیا جاتا تھا۔

مغربی ورجینیا ویسلیان کالج کی پروفیسر اینتولینی کا کہنا ہے کہ خود مسز جاریوس نے نو بچے کھوئے تھے جن میں امریکی گھریلو جنگ (1861-1865) کے دوران پانچ بچے کی موت ہوئی تھی لیکن ان کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی موت بھی بیماریوں کی وجہ سے ہی ہوئی تھی۔

اینتولینی کا کہنا ہے کہ جب سنہ 1905 میں مسز جارویس کا انتقال ہوا تو وہ اپنے زندہ بچ جانے والے چار بچوں سے گھری ہوئی تھیں۔ اسی دوران غمزدہ اینا نے اپنی والدہ کے خواب کو پورا کرنے کا عہد کیا تھا حالانکہ مدرز ڈے جیسے یادگار دن کے متعلق ان کا خیال اس وقت بالکل ہی مختلف تھا۔

جہاں مسز جاریوس دوسروں کی زندگیوں میں بہتری لانے کے کاموں کے لیے ماؤں کا جشن منانا چاہتی تھیں وہیں اینا کا نظریہ ایک عقیدت مند بیٹی کا تھا۔ مدرز ڈے کا ان کا نظریہ تھا 'دنیا میں آنے والی بہترین ماں کے لیے (جشن منانا) جو آپ کی ماں ہے۔' یہی وجہ ہے کہ ماؤں کی جگہ ماں ہے یعنی مدرز کے ایس میں جو ایپاسٹروفی ہے وہ ایس کے پہلے ہے نہ کہ بعد میں۔

ایتولینی کا کہنا ہے کہ 'اینا نے اس دن کی چھٹی کو گھر واپسی کے طور پر دیکھا یعنی ایک ایسا دن جس دن آپ اپنی والدہ کی عزت افزائی کرتے ہیں، اس خاتون کی عزت افزائی کرتے ہیں جس نے آپ کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔'

یوم مادر یا مدرنگ سن ڈے؟

  • برطانیہ کے لینٹ میں چوتھے اتوار کو طویل عرصے سے مدرننگ سنڈے کے طور پر منایا جاتا ہے، اصل میں اس دن گھر چھوڑ کر جانے والے اپنے 'مادری چرچ' میں واپس آتے ہیں اور وہاں ان کی اپنے والدین سے ملاقات ہوتی۔
  • مدرنگ سنڈے کی روایات کو زندہ کرنے کے لیے سنہ 1920 میں نوٹنگھم شائر کی ایک خاتون کانسٹینس پینسوک اسمتھ نے ایک مہم چلائی انھیں یہ خدشہ تھا کہ سیکولر امریکی مدرز ڈے کہیں مسیحی مدرنگ سنڈے کم ختم نہ کر دے۔
  • اینا جارویس کے منتخب کردہ دن مئی کے دوسرے اتوار کو یوم مادر کے طور پر متعدد ممالک نے اپنایا ہے لیکن دوسری تاریخوں کو بھی بہت سی جگہ پر یوم مادر منایا جاتا ہے۔

یہ ایک ایسا پیغام تھا جو سب کو بھایا اور یہ گرجا گھروں کو بھی راس آیا۔ اینتولینی کہتی ہیں کہ اتوار کو ماؤں کے دن کے طور پر منتخب کرنا اینا کا سمارٹ فیصلہ تھا۔

مسز جارویس کی موت کے تین سال بعد گرافٹن کے اینڈریوز میتھوڈسٹ چرچ میں پہلی بار ماؤں کا دن منایا گیا۔ اینا جارویس نے مئی کے دوسرے اتوار کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ یہ عام طور پر 9 مئی کے آس پاس آتا ہے جس دن کہ ان کی والدہ کا انتقال ہوا تھا۔ اینا نے اس دن اپنی والدہ کے پسندید پھول سفید گلناراس جشن میں شرکت کرنے والی ماؤں کو پیش کیا۔

جشن کی مقبولیت میں ہر سال اضافہ ہوتا گیا۔ یہاں تک فلاڈیلفیا انکوائرر نے خبر شائع کی کہ جلد ہی آپ کو 'گلنار کے لیے مانگنے، قرض لینے یا چوری کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔' سنہ 1910 میں مدرز ڈے مغربی ورجینیا میں سرکاری تعطیل کا دن بن گیا اور سنہ 1914 میں صدر ووڈرو ولسن نے اسے قومی تعطیل کا دن قرار دیا۔

اس دن کی کامیابی کا ایک بہت بڑا عنصر اس کی تجارتی کشش تھی۔ اینتولینی کا کہنا ہے کہ 'اگرچہ اینا کبھی نہیں چاہتی تھیں کہ یہ دن کمرشلائز ہو جائے لیکن یہ بہت جلد بازاری ہو گیا۔ اس کی تشہیر میں پھولوں کی صنعت، گریٹنگ کارڈز کی صنعت اور کینڈی کی صنعت نے اپنا کردار نبھایا۔'

لیکن یہ بالکل وہ نہیں تھا جو اینا چاہتی تھیں۔

جب کارنیشن یا گلنار کی قیمت آسمان چھونے لگی تو انھوں نے گل فروشوں کی مذمت کرتے ہوئے ایک پریس ریلیز جاری کیا: 'آپ چالبازوں، ڈاکوؤں، قزاقوں، بہروپیوں، لٹیروں، اغوا کرنے والوں اور دوسرے دیمکوں کا کیا کریں گے جو اپنی حرص کے لیے بہترین، نیکی اور صداقت کی سب سے اچھی تحریکوں اور جشن میں سے ایک کو برباد کرنے پر تلے ہوں؟'

سنہ 1920 تک وہ لوگوں پر زور دے رہی تھیں کہ وہ پھول ہر گز نہ خریدیں۔

اینتولینی کہتی ہیں کہ وہ کسی بھی ایسی تنظیم سے ناراض تھیں جس نے ان کے ایجاد کردہ دن کو اس کی اصلیت، جذباتی لگاؤ اور اصل مقصد کے علاوہ کسی اور چیز کے لیے استعمال کیا تھا۔ اس میں وہ خیراتی ادارے بھی شامل تھے جس نے اس دن کا فنڈ اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کیا خواہ اس پیسے سے غریب ماؤں کی امداد ہی مقصود کیوں نہ ہو۔

ایتولینی بتاتی ہیں: 'یہ دن ماؤں کا جشن منانے کے لیے تھا نہ کہ ان پر ترس کھانے کا کیونکہ وہ غریب تھیں۔ اس کے علاوہ کچھ خیراتی ادارے اس رقم کا استعمال اپنے وعدے کے مطابق غریب ماؤں کے لیے نہیں کر رہے تھے۔'

یہاں تک کہ خواتین کے ووٹوں کے حقوق پر ہونے والی بحث میں بھی مدرز ڈے کو گھسیٹا گیا۔ حق رائے دہی میں توسیع کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا تھا خواتین کی صحیح جگہ گھر ہے اور وہ ایک بیوی اور ماں کی حیثیت سے اس قدر مشغول ہوتی ہے کہ اسے سیاست میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔

جبکہ حق رائے دہی میں توسیع کے حامیوں کی دلیل تھی کہ 'اگر وہ آپ کے بچوں کی ماں بننے کے لیے اچھی ہیں تو وہ ووٹ دینے کے لیے بھی اچھی ہیں۔' اور وہ چاہتے تھے کہ خواتین کو مستقبل میں اپنے بچوں کی فلاح و بہبود کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہو۔

ایسا لگتا ہے کہ ماؤں کے دن کا نہ فائدہ اٹھانے والوں میں صرف اینا ہی تھیں۔ انھوں نے گل فروشوں کی جانب سے دیے جانے والے پیسے لینے سے انکار کر دیا۔

اینتولینی نے کہا: 'اس دن سے انھوں نے کبھی نفع نہیں اٹھایا حالانکہ وہ آسانی سے ایسا کر سکتی تھیں۔ میں اس کے لیے ان کی تعریف کرتی ہوں۔'

اینا اور ان کی بہن للیان جو ضعیف اور بصارت کا شکار تھیں انھوں نے اپنے والد اور اپنے بھائی کلاڈ کی میراث پر زندگی بسر کی۔ کلاڈ دل کا دورہ پڑنے سے پہلے فلاڈیلفیا میں ٹیکسی کا کاروبار کرتے تھے۔

لیکن اینا نے مدرز ڈے کے کمرشلائزیشن کے خلاف لڑنے کے لیے اپنی پائی پائی خرچ کر دی۔

یہاں تک کہ اس کے قومی تعطیل بننے سے پہلے انھوں نے 'مئی کا دوسرا اتوار، مدرز ڈے' کے فقرے پر جملہ حقوق محفوظ کا دعویٰ کیا اور دھمکی دی تھی کہ جو بھی اجازت کے بغیر اس کی مارکیٹنگ کرے گا اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اینتولینی کہتی ہیں کہ 'کبھی کبھی گروہ یا صنعتیں اینا کے کاپی رائٹ سے بچنے کے لیے جان بوجھ کر مدرز کی ہجوں میں ایس کے بعد اپاسٹرافی لگاتے۔

سنہ 1944 میں نیوز ویک کے ایک آرٹیکل میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس کے متعلق 33 مقدمے زیر سماعت ہیں۔

اس وقت تک وہ 80 سال کی ہو چکی تھیں اور تقریباً نابینا، بہری اور بے سہارا ہو چکی تھیں اور فلاڈیلفیا کے ایک سینیٹوریم میں ان کی دیکھ بھال کی جارہی تھی۔

ایک عرصے سے یہ دعویٰ کیا جارہا تھا کہ پھولوں اور کارڈز کی صنعتیں اینا جارویس کی دیکھ بھال کے لیے خفیہ طور پر پیسے دیتی ہیں، لیکن ایتولینی کبھی بھی اس کی تصدیق نہیں کرسکیں۔

وہ کہتی ہیں: 'میں یہ چاہوں گی کہ انھوں نے ایسا کیا ہو، یہ شاید ایک اچھی کہانی ہوسکتی ہے لیکن یہ سچ نہیں ہے۔'

اینا جب اپنی بہن کے ساتھ رہ رہی تھیں تو انھوں نے آخری کام جو کیا وہ یہ تھا کہ وہ فلاڈیلفیا میں گھر گھر جاکر لوگوں سے دستخط کرواتیں کہ مدرز ڈے کو منسوخ کر دیا جائے۔ ایک بار جب انھیں سینیٹوریم میں داخل کرا دیا گیا تو للیان جلد ہی کاربن مونو آکسائیڈ زہر کی وجہ سے فوت ہوگئیں کیونکہ وہ ایک بوسیدہ گھر کو گرمانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اینتولینی کا کہنا ہے کہ 'پولیس نے دعوی کیا کہ وہاں اتنی ٹھنڈک تھی کہ چھت سے برف کی شبیہیں لٹک رہی تھیں۔' جبکہ اینا سنہ 1948 میں نومبر میں دل کی ناکامی سے انتقال کر گئیں۔

اینا کی فرسٹ کزنز (اور الزبتھ بر کی خالہ) 86 سالہ جین انکیفر کا کہنا ہے کہ اینا جارویس کو کمرشلائزیشن مخالف صلیبی جنگ کا جنون تھا۔

وہ کہتی ہیں: 'مجھے نہیں لگتا کہ وہ بہت زیادہ دولت مند تھیں، لیکن وہ جو بھی پیسہ رکھتی تھیں انھوں وہ سب اس پر ختم کر دیا۔

'یہ شرمناک ہے۔ میں نہیں چاہوں گی کہ لوگ یہ سوچیں کہ ان کا خاندان ان کی دیکھ بھال نہیں کررہا تھا لیکن ان کا خاتمہ ایک بھکاری کی قبر کی طرح ہوا۔'

شاید وہ ان کی زندگی کے اختتام پر ان کی مدد کرنے میں کامیاب نہ ہوئے ہوں لیکن اس خاندان نے اینا کی یاد کو ایک دوسری طرح سے قائم رکھا کہ کئی نسلوں تک انھوں نے مدرز ڈے نہیں منایا۔

جین انکیفر کہتی ہیں: 'ہمیں واقعی مدرز ڈے پسند نہیں تھا۔ اور اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ میری والدہ نے بچپن میں ہی مدرز ڈے کے بارے میں بہت سی منفی باتیں سنی تھیں۔ ہم اسے ایک اچھے جذبے کے طور پر تسلیم کرتے ہیں لیکن ہم عالیشان ڈنر یا گلدستون کا احتمام نہیں کرتے۔'

ایک نوجوان ماں کے طور پر فلاڈیلفیا میں مدرز ڈے کے اعزاز میں لگی تختی کے سامنے جین رک جاتی تھیں اور اینا کے بارے میں سوچتی تھیں۔ جین کا کہنا ہے کہ 'یہ ایک طمانیت بخشنے والی کہانی ہے کیونکہ اس میں بہت زیادہ محبت ہے۔ اور میں سوچتی ہوں کہ اس سے ایک اچھی چیز باہر آئی۔ لوگ اپنی ماں کو اسی طرح یاد کرتے ہیں جس طرح وہ ان سے یاد کیے جانے کی خواہش رکھتی ہیں۔'

جین نے اعتراف کیا کہ انھوں نے اب جشن کے بارے میں اپنا خیال بدل لیا ہے۔ 'بہت ساری نسلوں کے بعد میں ان سب منفی باتوں کو بھول گئی ہوں جو میری والدہ نے اس کے بارے میں کبھی کہی تھیں اور اگر میں اپنے بچوں کی جانب سے اس موقعے پر کوئی خیر خبر نہیں سنتی ہوں تو میں بہت ناراض ہوجاتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ وہ میرا اور میرے دن کا احترام کریں۔'

جین کی چھوٹی بہن ایملی ڈی اولیئر نے بھی وقت کے ساتھ مدرز ڈے کے متعلق اپنے رویہ میں تبدیلی محسوس کی ہے۔

وہ کہتی ہیں: 'مجھے اس کے بارے میں واقعتا اس وقت تک معلوم نہیں تھا جب تک کہ میرا اپنا بچہ سکول سے میرے لیے مدرز ڈے کا تحفہ لے کر گھر نہیں آیا تھا۔ ہماری والدہ کچھ اس طرح کہتی تھیں کہ 'ہر دن مدرز ڈے ہوتا ہے۔''

ایک لمبے عرصے تک ایملی کو غم تھا کہ اینا کا اس دن کا اصل مقصد ناکام بنا دیا گیا لیکن اب وہ اپنی پوتی کی ماں یعنی اپنی بہو کو ایک کارڈ بھیجتی ہیں۔

رواں سال لاکڈاؤن کی وجہ سے بہت سے خاندان اپنی ماؤں کو پھول پیش نہیں کر سکیں گے جا ان کے ساتھ باہر کی سیر نہیں کر سکیں گے لیکن ویڈیو لنک کے ذریعہ مدرز ڈے منائیں گے۔

لیکن ینتولینی کا خیال ہے کہ اینا اور اس کی والدہ اس طرح کی کم سطح پر منائے والے جشن سے خوش ہوں گی۔ وہ تصور کرتی ہے کہ مسز جارویس جنھیں بہت سارے وبائی امراض کا تجربہ تھا وہ دوسروں کی مدد کے لیے پھر سے مدرز ڈے کلبز کو زندہ کریں گی۔ اور اینا خریداری کے مواقع کی عدم دستیابی سے خوش ہوں گی کہ جس کی وجہ سے اس کا اصل مقصد بادلوں میں کھو گیا تھا۔