یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم اس صفحہ کو اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اسرائیل نے ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل داغے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران سے داغے گئے تمام میزائل روک لیے ہیں، دوسری جانب پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آئندہ سات دنوں تک چوبیس گھنٹے میزائلوں اور ڈرونز کی لہریں داغی جاتی رہیں گی، یہاں تک کہ دشمن اپنے جرائم بند کر دے۔‘
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم اس صفحہ کو اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان نئے سرے سے فوجی تنازع عروج پر پہنچنے کے خدشات کے ساتھ، ایرانی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے اعلان کیا ہے کہ امام خمینی ہوائی اڈے پر تمام پروازیں پیر آٹھ جون کی صبح سے اگلے اطلاع تک معطل کر دی جائیں گی۔
تنظیم کے اعلان میں کہا گیا ہے کہ ’مسافروں کو ہوائی اڈے پر جانے سے گریز کرنا چاہیے اور مزید خبروں کے لیے سرکاری حکام سے فالو اپ کرنا چاہیے۔‘
اس سے قبل عراق نے ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع بڑھنے کے پیش نظر اپنی فضائی حدود 72 گھنٹے کے لیے بند کر دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ایرانی میزائل حملوں کے جواب میں کارروائی نہ کرنے کا کہیں گے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ فوری طور پر نیتن یاہو کو فون کریں گے اور انھیں جوابی حملے سے باز رہنے کا مشورہ دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’دونوں طرف سے کارروائی ہو چکی ہے۔ اسرائیل نے اپنا حملہ کیا اور ایران نے اپنا۔ ہمیں مزید کسی کی ضرورت نہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ ایک حتمی معاہدے کے قریب ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ موجودہ صورتحال اس عمل کو متاثر کرے۔
انھوں نے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ ایک حتمی معاہدے کے بہت قریب ہیں۔ یہ ایک اچھا معاہدہ ہوگا، اور میں نہیں چاہتا کہ یہ موجودہ حالات کی وجہ سے ناکام ہو جائے۔‘
ٹرمپ کے مطابق اگر اسرائیل نے جواب دیا تو یہ تنازع طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔
دوسری جانب ایکسیوس کے رپورٹر باراک راوِد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نیتن یاہو سے رابطہ کر چکے ہیں۔
لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائی کے حوالے سے حالیہ دنوں میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
جب گزشتہ ہفتے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنی فوج کو بیروت کے جنوبی مضافات کو دوبارہ نشانہ بنانے کی اجازت دی تو تہران نے دھمکی دی کہ اگر ایسا ہوا تو وہ شمالی اسرائیل پر نئے حملے کرے گا۔
لبنان میں بڑے پیمانے پر کشیدگی کے خدشے کے پیشِ نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو سے سخت الفاظ میں ایسے کسی اقدام سے باز رہنے کے لیے کہا کیونکہ اس سے امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے سے کمزور پڑتی جنگ بندی متاثر ہو سکتی ہے۔
نیتن یاہو اس پربظاہر متفق ہو گئے، لیکن اس شرط پر کہ حزب اللہ شمالی اسرائیل پر مزید راکٹ حملے نہیں کرے گی۔
اس کے بعد امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کی حکومتوں کے درمیان ایک غیر واضح نئی جنگ بندی طے پائی۔ تاہم ایک بار پھر اس جنگ بندی کے زمینی سطح پر زیادہ اثرات نظر نہیں آئے۔
اور اب ایسا لگتا ہے کہ یہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے، جب اسرائیل نے حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر جاری راکٹ حملوں کے جواب میں لبنانی دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافات کو نشانہ بنایا۔
صرف چند گھنٹوں بعد ایران نے اپنی دھمکی پر عمل کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کر دیے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ یہ سلسلہ سات دن تک جاری رہ سکتا ہے تاہم ایسے اشارے بھی موجود ہیں کہ یہ نیا حملہ بطور انتباہ کیا گیا ہو۔
اب بہت کچھ اسرائیل کے ردعمل پر منحصر ہوگا۔
دونوں ممالک کے درمیان جوابی حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے، جو ایران کے ساتھ جنگ کو دوبارہ بھڑکا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ کا ردعمل بھی اہم ہوگا۔ فی الحال وہ کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
اس تازہ پیش رفت نے ایک بات مزید واضح کر دی ہے کہ لبنان میں جاری تنازع اب وسیع تر کشیدگی کے تعین میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
ایران نے جب شمالی اسرائیل پر میزائل حملہ کیا اور اسرائیل اور ایران کے درمیان وسیع پیمانے پر فوجی تنازع شروع ہونے کے خدشات بڑھ گئے تو اس کے ساتھ ہی عراق نے اپنی فضائی سرحدیں 72 گھنٹے (اگلے تین دن) کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا۔
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی 40 روزہ جنگ کے دوران عراقی آسمان کا منظر بار بار ایرانی میزائلوں یا اسرائیلی لڑاکا طیاروں کی آماجگاہ بنا دکھائی دیا۔
بی بی سی فارسی کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد یہ اطلاع ملی کہ اسرائیل نے 40 روزہ جنگ کے دوران ایران پر اپنے حملوں کی ہدایت اور تقویت کے لیے عراق میں عارضی صحرائی اڈے قائم کر لیے ہیں۔
اسرائیلی دفاعی افواج کے ترجمان ایفی ڈیفرین نے ایران کے حملوں پر کچھ دیر قبل محتصر پیغام جاری کیا ہے کس میں ایران نے ’سنگین غلطی‘ کی ہے۔
یاد رہے کہ بیروت کے جنوب میں ایک مضافاتی علاقے پر اتوار کو ہونے والے اسرائیلی حملے کی خبر جاری ہونے کے فوراً بعد ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان نے کہا تھا کہ اس حملے پر خاموشی نہیں بلکہ اس کا جواب دیا جائے گا۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آج رات اسرائیل پر ہونے والے حملے ’انتباہ، کے طور پر تھے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر اسرائیل کی ’جارحانہ کارروائیاں‘ دہرائی گئیں تو جواب مزید بڑا‘ ہوگا اور خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے ’تمام‘ اہداف کو شامل کرے گا۔
پاسداران انقلاب کا اشارہ آج کے اوائل میں لبنان پر اسرائیلی حملہ ہے۔‘
ادھر پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حیفا کے جنوب مشرق میں واقع رامت ڈیوڈ ایئربیس کو بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا۔
تبظیم نے امریکہ اور اسرائیل پر یہ بھی الزام عائد کیا کہ انھوں نے ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اپریل کے اوائل میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کے تحت اپنی ’ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ادھر وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ کو ایران کے اسرائیل پر حملے کے حوالے سے بریف کر دیا گیا ہے۔
امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے لیے ایک پیغام شیئر کیا کہ ’ایران نے اپنے میزائل داغے ہیں، یہ کافی ہے۔ مذاکرات کی میز پر واپس جئیں اور معاہدہ کریں۔‘
ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ’یہ کارروائی کوئی عارضی واقعہ نہیں بلکہ مسلسل حملوں کے ایک مکمل ہفتے کا آغاز ہے۔‘
آئی جی آر سی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آئندہ سات دنوں تک چوبیس گھنٹے میزائلوں اور ڈرونز کی لہریں داغی جاتی رہیں گی، یہاں تک کہ دشمن کو روک دیا جائے اور وہ اپنے جرائم بند کر دے۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ’ایرانی سرزمین کو نشانہ بنانے کی ہر کوشش کا ایسا تباہ کن اور بھرپور جواب دیا جائے گا جو تمام توقعات سے بڑھ کر ہوگا۔‘
یاد رہے اس سے قبل جنوبی بیروت میں ایک مضافاتی علاقے پر اسرائیل کے حملے کے جواب میں ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ پر اسرائیل کو گرین سگنل دینے کا الزام لگایا اور خبردار کیا کہ ایران طاقت کی زبان سے جواب دے گا۔
اسرائیل نے ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل داغے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران سے داغے گئے تمام میزائل روک لیے ہیں۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران نے شمالی اسرائیل کی جانب بیلسٹک میزائل حملہ کیا ہے اور اس کا دفاعی نظام اس خطرے کا مقابلہ کر رہا ہے۔
اس سے قبل ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں اسرائیل پر حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہمارے میزائل اور ڈرون یونٹس نے اسرائیل کے شمالی شہروں کو نشانہ بناتے ہوئے ایک مربوط اور شدید حملہ کیا ہے۔
یہ حملے اسرائیل کی جانب سے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی علاقوں پر شدید حملوں کے بعد ہوئے ہیں۔
جنوبی بیروت کے ایک مضافاتی علاقے پر اسرائیلی حملے کی خبر جاری ہونے کے فوراً بعد ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کمیشن کے ترجمان نے کہا تھا کہ اس حملے کا جواب دیا جائے گا۔
اس سے قبل ایران کے خاتم الانبیاء کے ہیڈ کوارٹر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے بیروت پر اپنے حملوں میں توسیع کی یا ایران کے اقدامات کا جواب دیا تو اسے مزید سخت دھچکے کا سامنا کرنا پڑے گاآ
اعلان میں کہا گیا کہ ہم نے پہلے خبردار کیا تھا کہ اگر حملے بیروت کے مضافاتی علاقوں تک پھیل گئے تو ہم اسرائیل میں اہداف پر حملہ کریں گے۔‘
پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی وزیرستان کے ضلع میران شاہ میں شدت پسندوں کے مختلف ٹھکانوں پر کارروائی کے دوران 27 شدت پسند مارے گئے ہیں۔
اتوار کو جاری کیے گئے بیان میں آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مارے گئے شدت پسندوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شدت پسندوں کے گروہ کو بے اثر کر کے میران شاہ میں ممتاز شخصیت ملک سیف اللہ داوڑ کی ٹارگٹ کلنگ کے گھناؤنے فعل کا بدلہ لیا گیا ہے اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا ہے۔
ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خطے میں امریکی اڈوں اور اسرائیلی اثاثوں کو ایک بار پھر ’جائز ہدف‘ قرار دیا ہے۔
اتوار کو ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ ایرانی قوم کے خلاف بحری ناکہ بندی اور اسرائیلی حکومت کو ملنے والے امریکی گرین سگنل نے خطے میں امریکی اور حکومتی اڈوں اور اثاثوں کو جائز اہداف میں تبدیل کر دیا ہے۔ ہماری مسلح افواج کے ہاتھ ہمیشہ کی طرح کھلے ہیں۔
قالیباف نے کہا کہ وہ (امریکہ، اسرائیل) نہ تو جنگ بندی کے پابند ہیں اور نہ ہی بات چیت پر یقین رکھتے ہیں اور بحری ناکہ بندی اور لبنان کے حوالے سے معاہدوں کی خلاف ورزی کے ذریعے یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو جاتا ہے تو امریکہ ایران کے ساتھ مل کر افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ہٹانے اور تلف کرنے میں مدد کرے گا۔ بصورت دیگر امریکہ فوجی طاقت سے ایسا کرے گا۔
امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ ان (ایران) کے ساتھ یا اس کے بغیر کرنے جا رہے ہیں۔ لیکن ہم انھیں اپنے اوپر گولی چلانے نہیں دیں گے، ہم انتہائی سخت فوجی کارروائی کے ساتھ سب سے پہلے انھیں باہر نکالیں گے۔‘
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ خلا سے ایرانی اقدامات کی نگرانی کر رہا ہے، ’ہمارے پاس ہر جگہ کیمرے لگے ہوئے ہیں۔ ہم آپ کے کالر پر لکھا نام بھی پڑھ سکتے ہیں۔‘
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’امریکہ اور ایران معاہدے پر دستخط کے بہت قریب ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ذہن میں کچھ چیزیں ہیں جو شاید بہت اہم نہیں لگتی، اُنھوں (ایران) نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔ ہمارے پاس ایک شق (مجوزہ متن میں) تھی کہ ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔ میرے علاوہ ہر کوئی خوش اور مطمئن تھا۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ میں ابھی مطمئن نہیں ہوں، لیکن میں اس بات کو یقینی بنانے کے مزید ضمانتیں چاہتا ہوں کہ ایران معاہدے کی خلاف ورزی نہ کرے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ کے کمشنر سردار وحید نے بی بی سی کو بتایا کہ کالعدم قرار دی جانے والی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکن شاہ زیب کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ اُن کے بقول مظاہرین ابھی علاقے میں احتجاج کر رہے ہیں۔
سردار وحید کا مزید کہنا تھا کہ حساس مقامات پر رینجرز اور ایف سی کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں تین مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔
ادھر مظفر آباد پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ مار کر اسے سیل کردیا ہے جبکہ پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہاں سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔
مظفر آباد میں اس وقت حالات معمول کے مطابق ہیں سڑکوں پر ٹریفک ہے جبکہ دکانیں اور مارکیٹیں بھی کھلی ہیں۔ گیسٹ ہاوسز اور ہوٹلوں میں مقیم سیاحوں کو واپس جانے کے احکامات دے دیے گئے ہیں۔
دریں اثنا پاکستان پیپلز پارٹی کشمیر کے رہنماؤں نے پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی ہے اور انھیں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی صورت حال کے بارے میں بتایا ہے۔
اس حوالے سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ بلاول بھٹو نے اس معاملے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔
اجلاس کے دوران بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وہ شہباز شریف سے ملاقات کر کے مسائل کا حل بات چیت اور اسمبلی کے ذریعے نکالنے پر زور دیں گے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایران کا بنیادی مسئلہ واشنگٹن کے بدلتے ہوئے اور متضاد موقف ہیں۔
اتوار کو تہران میں سی این این کے سینئر بین الاقوامی نمائندے فریڈرک پلیٹگن کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ پاکستانی ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ’امریکی انتظامیہ کے ساتھ گفتگو کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو بہت ساری بدلتی ہوئی پوزیشنوں، گول پوسٹس کی منتقلی، مختلف بیانات، مختلف عہدیداروں کے متضاد ریمارکس کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے یہ سارے عمل کو بہت مشکل بنا دیتا ہے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ امریکیوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ انھیں ایران کے حقوق کو تسلیم کرنا ہوگا، بشمول بین الاقوامی عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت پرامن جوہری افزودگی کا حق۔
بقائی نے کہا کہ امریکی ہمارے منجمد اثاثوں کے بارے میں کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں ہیں۔
ایران کا مطالبہ ہے کہ امریکہ غیر ملکی بینکوں میں موجود اربوں ڈالر کے منجمد اثاثوں کو غیر منجمد کرنے پر رضامند ہو جائے۔
سی این این نے اتوار کو امریکی وزیرِ ِخزانہ سکاٹ بیسنٹ کے قریبی عہدے دار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ امریکہ ان منجمد ایرانی اثاثوں کو خلیجی ممالک میں تعمیرِ نو میں مدد کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
لیکن بقائی نے سی این این سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ کو صرف اپنی پابندیاں ختم کرنی چاہییں اور ایرانی اثاثوں کو جاری کرنا چاہیے تاکہ وہ ایرانیوں کے لیے استعمال کیے جا سکیں۔
اسماعیل بقائی نے اپریل میں امریکہ کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا بھی الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے تجارتی جہازوں پر آبنائے ہرمز اور سمندر میں حملے کر رہے ہیں۔
پاکستان کے زیرِ انتظام گلگت بلتستان انتخابات کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہو گیا ہے۔
گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز کا کہنا ہے کہ 24 نشستوں پر ووٹنگ کا عمل پرامن رہا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ریڑننگ افسران کی طرف سے جو فیڈ بیک ملا ہے اس کے مطابق ووٹرز کا کافی جوش وخروش دیکھنے کو ملا اور اس میں ٹرن اوٹ کافی بہتر رہا۔
اُنھوں نے کہا کہ خواتین ووٹرز کا ٹرن اوٹ مرووں کی نسبت زیادہ رہا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ کچھ پولنگ سٹیشنز پر معمولی جھگڑوں کی اطلاعات ملی ہے تاہم مجموعی طور پر امن وامان کی صورت حال بہتر رہی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ چونکہ ووٹنگ کا وقت ختم ہو چکا ہے اور اب ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے شہر صور اور اس کے اطراف کے علاقوں کے رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ یفتاح اور راموت نفتالی کے علاقوں میں خطرے کے سائرن بجنے کے بعد لبنان سے اسرائیل میں داخل ہونے والے دو راکٹوں کو روک لیا گیا ہے۔ لبنان کی تنظیم حزب اللہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
حزب اللہ نے جنگ بندی اور اسلحہ ڈالنے کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو پہلے اپنے حملے بند کرنے ہوں گے اور جنوبی لبنان سے اپنی افواج واپس بلانی ہوں گی۔
دوسری جانب ایران نے بھی لبنان میں جنگ بندی کو امریکہ کے ساتھ کسی ممکنہ امن معاہدے کے لیے اپنی اہم شرائط میں شامل کیا ہے۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ ملاقات کی مزید تصاویر پوسٹ کیں، جس میں ایک تصویر بھی شامل ہے جس میں انھیں پاکستانی رہنماؤں کی جانب سے مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے بھیجا گیا خط موصول کرتے دکھایا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملاقات میں ’ایران امریکہ مذاکرات کی راہ میں تازہ ترین سفارتی اقدامات‘ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق، محسن نقوی نے ’ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے تہران گئے ہیں۔‘
اسکندر مومنی سے کل رات ملاقات کے بعد، محسن نقوی نے کہا کہ وہ عاصم منیر اور پاکستان کے کمانڈر انچیف اور وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے مجتبی خامنہ ای کو ایک ’خصوصی خط‘ اور ’اہم پیغام‘ پہنچانے کے لیے تہران گئے تھے۔
خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق اس ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے ایران اور پاکستان کے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا۔ انھوں نے ایران کے خلاف جاری امریکی اسرائیلی حملوں کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں سے متعلق تازہ پیش رفت پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
گلگت بلتستان میں 10 اضلاع کی 24 نشستوں پر ہرنے والے عام انتخابات میں پولنگ ختم ہو گئی ہے۔
پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔
گلگت بلتستان میں ہونے والے ان انتخابات میں امیدواروں کی تعداد 396 ہے جس میں آٹھ خواتین بھی بطور امیدوار میدان میں ہیں۔
انتخابات کو پر امن بنانے کے لیے سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ گلگت بلتستان پولیس کے سربراہ آئی جی اکبر ناصر خان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انتخابات میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 17 ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جن میں پنجاب اور سندھ پولیس کے علاوہ رینجرز اور ایف سی کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
وفاق میں برسراقتدار پاکستان مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنماؤں نے اپنی اپنی جماعت کے امیدواروں کے لیے یہاں انتخابی مہمات چلائی ہیں۔ نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری نے بھی انتخابی جلسوں سے خطاب کیے۔ جبکہ اپوزیشن کی بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو ان انتخابات میں بطور پارٹی حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔
تحریک انصاف کا الزام ہے کہ اس کے چیئرمین سلمان اکرم راجہ سمیت متعدد سینیئر رہنماؤں کو امیدواروں کی حق میں مہم چلانے کے لیے گلگت بلتستان داخل ہونے کی اجازت تک نہیں دی گئی، اور جو رہنما وہاں پہنچنے میں کامیاب رہے انھیں بعد ازاں علاقہ بدر کر دیا گیا۔