آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران اور اسرائیل کے ایک دوسرے پر حملوں کے بیچ سعودی عرب کے شہر الخرج میں سائرن کی آوازیں

ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملوں اور اسرائیل کی جوابی کارروائی کے بعد سعودی عرب کے الخَرج نامی علاقے میں مقامی انتظامیہ کی جانب سے مُمکنہ حملے کے خدشے کے پیشِ نظر ایک انتباہ جاری کیا گیا تھا جسے کچھ دیر بعد واپس لے لیا گیا ہے۔

خلاصہ

  • اسرائیل کے مغربی اور وسطی ایران پر فضائی حملے، آئی ڈی ایف کا فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
  • ایران نے حملہ کر کے ’سنگین غلطی‘ کی ہے: اسرائیلی فوج
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا مطالبہ کیا ہے
  • ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ 'یہ کارروائی عارضی نہیں بلکہ مسلسل حملوں کے ایک مکمل ہفتے کا آغاز ہے۔
  • پاکستانی ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، لیکن اصل مسئلہ متضاد امریکی بیانات ہیں: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ
  • پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی وزیرستان کے ضلع میران شاہ میں شدت پسندوں کے مختلف ٹھکانوں پر کارروائی کے دوران 27 شدت پسند مارے گئے ہیں

لائیو کوریج

  1. اسرائیلی فوج نے ایران کی پیٹروکیمیکل تنصیب کو نشانہ بنایا ہے: آئی ڈی ایف

    اسرائیلی دفاعی افواج نے ایران کے جنوب مغرب میں واقع شہر ماہشہر میں ایک پیٹروکیمیکل تنصیب کے متعدد اہم مقامات پر حملے کیے ہیں۔

    اسرائیلی فوج اور ایرانی سرکاری میڈیا دونوں نے ہی اس اہم تنصیب پر حملے کی تصدیق کی ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق خلیج فارس کے شمالی ساحل کے قریب واقع اس صنعتی کمپلیکس کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔

    ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ نقصان کی تفصیلات اور ممکنہ جانی نقصانات کے حوالے سے مزید معلومات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

  2. ایران سے ایک مرتبہ پھر میزائل داغے گئے ہیں، دفاعی نظام متحرک ہے: اسرائیلی دفاعی افواج کا دعویٰ

    اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اب سے کچھ دیر قبل ایران سے اسرائیلی علاقے کی جانب ایک مرتبہ پھر میزائل داغے گئے ہیں۔

    اسرائیلی فضائیہ کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دفاعی نظام ان میزائلوں کو روکنے کے لیے فعال ہو گیا ہے۔ گزشتہ چند منٹوں میں ہوم فرنٹ کمانڈ نے متعلقہ علاقوں میں براہِ راست موبائل فونز پر ابتدائی ہدایات جاری کی ہیں۔‘

    اسرائیلی حکام نے عوام سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے اور جاری کردہ ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے، جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ ہدایات جانیں بچانے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

    عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ الرٹ موصول ہوتے ہی فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں میں داخل ہو جائیں اور اگلے اعلان تک وہیں موجود رہیں۔

    مزید کہا گیا ہے کہ محفوظ مقامات سے باہر نکلنے کی اجازت صرف واضح ہدایت کے بعد دی جائے گی اور شہریوں کو ہوم فرنٹ کمانڈ کی ہدایات پر مسلسل عمل جاری رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔

  3. ’ٹرمپ کو تشویش ہے کہ اسرائیلی کارروائیاں امریکہ، ایران مذاکرات کو پٹڑی سے اتار سکتی ہیں‘, سارہ سمتھ، ایڈیٹر برائے شمالہی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کو جوابی کارروائی سے باز رہنے کے مشورے کے باوجود اسرائیل نے ایران پر حملے کر دیے۔ ٹرمپ پہلے ہی اس بات پر ناراض تھے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے بیروت پر حملہ نہ کرنے سے متعلق اُن کی تنبیہات کو نظر انداز کر دیا تھا۔

    ٹرمپ کو تشویش ہے کہ اسرائیلی کارروائیاں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کو پٹڑی سے اتار سکتی ہیں۔

    ایگزیوز نیوز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو سے کہا کہ وہ رُک جائیں کیونکہ اُن کے بقول ’ہم ایک معاہدے کے حوالے سے کچھ اچھا کرنے کے بہت قریب ہیں۔‘

    گذشتہ ہفتے دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک خاصی تلخ ٹیلیفونک گفتگو بھی ہوئی تھی۔ ٹرمپ نے ان رپورٹس کی تردید نہیں کی کہ انھوں نے لبنان پر اسرائیلی حملوں میں تیزی پر نیتن یاہو کے ساتھ سخت زبان استعمال کی۔

    اس سے قبل امریکی صدر نے فنانشل ٹائمز کو بتایا تھا کہ نیتن یاہو کو امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے کسی بھی معاہدے کو قبول کرنا پڑے گا کیونکہ اُن کے پاس ’کوئی اور راستہ نہیں ہو گا۔‘ نیتن یاہو کے بارے میں اُن کا کہنا تھا: ’فیصلے میں ہی کرتا ہوں، وہ نہیں۔‘

    ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ امریکہ اور اسرائیل ایک معاہدہ طے کرنے کے بہت قریب ہیں۔ یہ بات وہ پہلے بھی کئی بار کہہ چکے ہیں، تاہم اب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔

  4. ایران سے مزید میزائل فائر کیے گئے ہیں، اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران سے اسرائیل کی جانب مزید میزائل داغے گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کا فضائی دفاعی نظام اس حملے کو روکنے میں مصروف ہے۔

    انھوں نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ اگر انھیں کوئی انتباہی پیغام موصول ہو تو فوراً پناہ گاہوں کا رخ کریں۔

    اس سے قبل اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’یمن سے اسرائیلی علاقے کی جانب ایک میزائل داغے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔‘

    اسرائیلی فوج کے مطابق فضائی دفاعی نظام اس خطرے کو ناکام بنانے کے لیے متحرک ہو گیا ہے اور میزائل کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

  5. سعودی شہر الخرج میں حملے کے بعد سائرن، سول ڈیفینس کی وارننگ چند منٹ بعد واپس لے لی گئی

    سعودی عرب کے سرکاری میڈیا کے مطابق الخرج نامی علاقے میں حملے کے پیشِ نظر سائرن بجائے جانے کے بعد سعودی سول ڈیفنس نے سوموار کی صبح الخرج گورنری کے لیے وارننگ جاری کی۔

    سعودی سول ڈیفینس نے کہا کہ الخرج گورنری میں خطرے کے پیشِ نظر انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور محفوظ مقامات پر پناہ لیں۔

    تاہم یہ وارننگ چند منٹ بعد ہی واپس لے لی گئی۔

    ایمرجنسی الرٹ سسٹم کے ذریعے عوامی وارننگ جاری کی تھی، جس میں رہائشیوں کو ممکنہ خطرے کے حوالے سے احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی۔

    تاہم بعد ازاں ایکس جاری ایک بیان میں سعودی سول ڈیفینس کی جانب سے اس وارنگ کے خاتمے کی اطلاع سامنے آئی اور کہا گیا کہ عوام سے گزارش ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر عمل جاری رکھیں۔

    شہریوں سے جن حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی درخواست کی گئی اُن میں:

    • شہری پُرسکون رہیں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔
    • فوری طور پر قریبی محفوظ مقام (کسی عمارت کے اندر یا کھڑکیوں سے دور اندرونی کمرے) میں چلے جائیں اور خطرہ ٹلنے تک وہیں رہیں۔
    • خطرہ ختم ہونے تک اپنے گھر یا عمارت سے باہر نہ نکلیں۔
    • کھلے مقامات، کھڑکیوں اور شیشوں سے دور رہیں، نیز بالکونیوں یا چھتوں پر کھڑے ہونے سے گریز کریں۔
    • اگر آپ باہر موجود ہیں تو قریبی عمارت میں داخل ہو جائیں یا کسی مضبوط رکاوٹ کے پیچھے پناہ لیں۔
    • ہجوم یا خطرناک مقامات کی جانب جانے سے گریز کریں اور تصاویر یا ویڈیوز بنانے سے اجتناب کریں۔
    • اگر گاڑی چلاتے ہوئے وارننگ موصول ہو تو پلوں اور بلند عمارتوں سے دور سڑک کے کنارے گاڑی روک دیں۔
    • کسی بھی خطرے یا ہنگامی صورتحال کی صورت میں مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، ریاض اور مشرقی صوبے میں 911 جبکہ مملکت کے دیگر علاقوں میں 998 پر رابطہ کریں۔
    • سرکاری ذرائع کے ذریعے متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب کا علاقے الخرج اپنے ایک ہوائی اڈے اور ائیر بیس کے حوالے سے جانا جاتا ہے اور خاصی اہمیت کا حامل ہے۔

  6. ایران پر اسرائیلی حملوں میں امریکی فوج شریک نہیں تھی: امریکی عہدیدار کا دعویٰ

    ایک امریکی عہدیدار نے ملکی میڈیا کو بتایا ہے کہ ایران پر رات بھر جاری رہنے والے اسرائیلی حملوں میں امریکی فوج کا کوئی کردار نہیں تھا۔

    امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس نے امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار کے حوالے سے یہ خبر دی ہے کہ اسرائیل کے یہ حملے ’نسبتاً محدود نوعیت‘ کے تھے۔

    یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حملوں سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو سے درخواست کی تھی کہ ایران کے خلاف جوابی کارروائی سے گریز کیا جائے، کیونکہ سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

    ایگزیوس کی سابقہ رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے غیر رسمی طور پر یا ادارے کے الفاظ میں ’حکمتِ عملی کے تحت‘، ٹرمپ کی درخواست قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

    اسرائیلی حملے ایران کی جانب سے شمالی اسرائیل پر میزائل داغے جانے کے چند گھنٹوں بعد کیے گئے۔

    تاہم واشنگٹن کا کہنا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ ایک معاہدے کو حتمی شکل دینے اور خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

  7. یمن سے اسرائیلی علاقے کی جانب میزائل داغا گیا: آئی ڈی ایف کا دعویٰ

    اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حالیہ بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا oے کہ ’یمن سے اسرائیلی علاقے کی جانب ایک میزائل داغے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔‘

    اسرائیلی فوج کے مطابق فضائی دفاعی نظام اس خطرے کو ناکام بنانے کے لیے متحرک ہو گیا ہے اور میزائل کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق یروشلم، تل ابیب اور وسطی اسرائیل کے گرد و نواح میں خطرے کے سائرن بجائے گئے ہیں۔

    بعد ازاں اسرائیلی فوج نے اپنی صورتحال کے جائزے کے بعد اعلان کیا کہ ملک کے تمام علاقوں میں شہری اب محفوظ پناہ گاہوں سے باہر آ سکتے ہیں۔

  8. تہران کے شہری علاقوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا، ایرانی مقامی میڈیا

    ایران کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق وسطی اور مغربی ایران پر اسرائیلی حملوں کے دوران دارالحکومت تہران کے شہری علاقوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

    مقامی میڈیا نے تہران فائر ڈیپارٹمنٹ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سوموار کی علی الصبح تہران کے مغربی علاقوں میں کم از کم دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    اس سے قبل تبریز، اصفہان اور کرج کے قریب بھی متعدد دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

    تاحال حملوں سے ہونے والے نقصان کی نوعیت اور حجم واضح نہیں ہو سکا ہے۔

    سرکاری میڈیا کے مطابق اصفہان کے مقامی حکام نے بتایا ہے کہ وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ ملک کے دیگر علاقوں سے نقصانات یا ممکنہ ہلاکتوں کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

    تاہم گذشتہ شب سے ہی ایران بھر میں ہی اسرائیل اور امریکہ مخالف مظاہرے اور ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔

  9. تہران، تبریز اور اصفہان میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، ایرانی سرکاری ٹی وی

    اسرائیل کی جانب سے مغربی اور وسطی ایران پر حملوں کے دعوؤں کے بعد ایرانی سرکاری ٹی وی نے تین شہروں میں دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔

    سرکاری ٹی وی نے ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’تہران، تبریز اور اصفہان میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔‘

    اطلاعات کے مطابق وسطی شہر کرج کے قریب بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

  10. ایران کے اسرائیل پر میزائل حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی

    ایشیائی منڈیوں میں سوموار کی صبح کاروبار کے دوران تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    یہ اضافہ اپریل میں ایران اور امریکہ، اسرائیل کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار تہران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    برینٹ کروڈ کی قیمت 2.6 فیصد اضافے کے ساتھ 95.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکہ میں ٹریڈ ہونے والا خام تیل 2.5 فیصد بڑھ کر 92.75 ڈالر کا ہو گیا ہے۔

    اپریل میں جنگ بندی کے بعد سے توانائی کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔

    گذشتہ ہفتے کے دوران قیمتیں تقریباً 95 ڈالر کے آس پاس رہی ہیں کیونکہ تاجر عالمی توانائی کی ترسیل پر جنگ کے طویل المدتی اثرات کا اندازہ لگا رہے ہیں۔

  11. اسرائیل کا مغربی اور وسطی ایران میں عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے مغربی اور وسطی علاقوں میں عسکری اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’کچھ دیر قبل اسرائیلی فضائیہ نے مغربی اور وسطی ایران میں ایرانی دہشت گرد حکومت سے وابستہ عسکری اہداف کو نشانہ بنایا۔‘

    حملوں میں جانی نقصان یا ان کے درست مقامات کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل امریکہ کی ایران کے ساتھ اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار ایران نے گذشتہ روز اسرائیل پر میزائل حملے کیے تھے۔

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دھمکی دی ہے کہ حملہ ’لگاتار حملوں کے ایک مکمل ہفتے‘ کا آغاز ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے لیے ایک پیغام شیئر کیا کہ ’ایران نے اپنے میزائل داغے ہیں، یہ کافی ہے۔ مذاکرات کی میز پر واپس جئیں اور معاہدہ کریں۔‘

  12. تہران کے امام خمینی ائیرپورٹ پر فضائی آپریشن معطل

    ایران اور اسرائیل کے درمیان نئے سرے سے فوجی تنازع عروج پر پہنچنے کے خدشات کے ساتھ، ایرانی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے اعلان کیا ہے کہ امام خمینی ہوائی اڈے پر تمام پروازیں پیر آٹھ جون کی صبح سے اگلے اطلاع تک معطل کر دی جائیں گی۔

    تنظیم کے اعلان میں کہا گیا ہے کہ ’مسافروں کو ہوائی اڈے پر جانے سے گریز کرنا چاہیے اور مزید خبروں کے لیے سرکاری حکام سے فالو اپ کرنا چاہیے۔‘

    اس سے قبل عراق نے ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع بڑھنے کے پیش نظر اپنی فضائی حدود 72 گھنٹے کے لیے بند کر دی ہے۔

  13. دونوں طرف سے کارروائی ہو چکی ہے مزید حملے کی ضرورت نہیں: ٹرمپ کی نیتن یاہو کو ایران کے خلاف جوابی کارروائی سے گریز کی ہدایت

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ایرانی میزائل حملوں کے جواب میں کارروائی نہ کرنے کا کہیں گے۔

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ فوری طور پر نیتن یاہو کو فون کریں گے اور انھیں جوابی حملے سے باز رہنے کا مشورہ دیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’دونوں طرف سے کارروائی ہو چکی ہے۔ اسرائیل نے اپنا حملہ کیا اور ایران نے اپنا۔ ہمیں مزید کسی کی ضرورت نہیں۔‘

    صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ ایک حتمی معاہدے کے قریب ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ موجودہ صورتحال اس عمل کو متاثر کرے۔

    انھوں نے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ ایک حتمی معاہدے کے بہت قریب ہیں۔ یہ ایک اچھا معاہدہ ہوگا، اور میں نہیں چاہتا کہ یہ موجودہ حالات کی وجہ سے ناکام ہو جائے۔‘

    ٹرمپ کے مطابق اگر اسرائیل نے جواب دیا تو یہ تنازع طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔

    دوسری جانب ایکسیوس کے رپورٹر باراک راوِد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نیتن یاہو سے رابطہ کر چکے ہیں۔

  14. گذشتہ روز کی چند اہم خبریں

    آج کے دن میں آگے بڑھنے سے قبل آئیے گذشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

    • ایران نے جب شمالی اسرائیل پر میزائل حملہ کیا اور اسرائیل اور ایران کے درمیان وسیع پیمانے پر فوجی تنازع شروع ہونے کے خدشات بڑھ گئے تو اس کے ساتھ ہی عراق نے اپنی فضائی سرحدیں 72 گھنٹے (اگلے تین دن) کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا۔
    • اسرائیلی دفاعی افواج کے ترجمان ایفی ڈیفرین نے ایران کے حملوں پر کچھ دیر قبل محتصر پیغام جاری کیا ہے کس میں ایران نے ’سنگین غلطی‘ کی ہے۔
    • ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آج رات اسرائیل پر ہونے والے حملے ’انتباہ‘، کے طور پر تھے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر اسرائیل کی ’جارحانہ کارروائیاں‘ دہرائی گئیں تو جواب مزید بڑا‘ ہوگا اور خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے ’تمام‘ اہداف کو شامل کرے گا۔
  15. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں آپ سب کو خوش آمدید!

    اس صفحے پر ہم آپ کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر سے تازہ اور اہم خبریں و تجزیے شامل کرتے ہیں۔ اگر آپ گذشتہ روز کی خبریں پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں۔