سات سالہ بچی کا پڑوسی کے ہاتھوں مبینہ ریپ اور قتل: ’کٹا سر باتھ روم سے جبکہ جسم کے باقی حصے چارپائی کے نیچے سے برآمد ہوئے‘

    • مصنف, مریم سلطانہ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز ، بنگلہ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

(اس رپورٹ کے کچھ حصے قارئین کے لیےپریشان کن ہو سکتے ہیں)

’اس وقت میں گاؤں کے ایک سکول میں دوسری جماعت میں پڑھتی تھی۔ ہمارا گھر کچھ اس طرح بنا ہوا تھا کہ بیچ میں بڑا سا صحن تھا اور چاروں طرف چند کمرے تھے۔ ان میں سے ہر ایک کمرے میں ایک خاندان رہتا تھا۔ سب آپس میں رشتہ دار تھے۔ ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا، کھانا پینا بالکل معمول کی بات تھی۔ ایک دن دوپہر کے وقت میرے ایک کزن نے مجھے اپنے کمرے میں بلایا۔ میں بھی معمول کے مطابق چلی گئی۔ اس کے بعد، میرے کچھ سمجھنے سے پہلے ہی اس نے میرا منہ دبا کر بند کر دیا۔‘

اپنے بچپن کے خوفناک تجربے کے بارے میں 28 سالہ سُروَھی بی بی سی بنگلہ سے بات کر رہی تھیں۔ ان کی حفاظت کے پیش نظر یہاں ان کا فرضی نام استعمال کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں ڈھاکہ کے علاقے پلبی میں دوسری جماعت کی ایک بچی کے ساتھ مبینہ ریپ اور قتل کے الزام میں ان کے پڑوسیوں کے نام سامنے آئے ہیں۔

پڑوسی کے ہاتھوں بچی کے مبینہ ریپ اور قتل کی خبر سامنے آنے کے بعد گھروں کے اندر اور باہر بچوں کی حفاظت کا معاملہ ایک بار پھر بنگلہ دیش میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں بھی ایسے واقعات میں اکثر اوقات کوئی جان پہچان کا فرد ملوث پایا جاتا ہے۔

سُروَھی بتاتی ہیں کہ ’میں نہ چیخ سکتی تھی، نہ کسی کو بلا سکتی تھی۔ آنکھوں کے سامنے صرف اندھیرا دکھائی دے رہا تھا۔ بڑی ہو کر سمجھ میں آیا کہ اسے جنسی استحصال کہتے ہیں۔‘

سُروَھی نے اپنے بچین کے تکلیف دہ تجربات کے بارے میں تو ہم سے بات کی تاہم ایسے واقعات پر آج بھی بہت کم لوگ کھل کر بات کرتے ہیں۔

تاہم بچوں کے حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں بچوں کے خلاف جنسی تشدد زیادہ تر ایسے افراد کے ہاتھوں ہوتا ہے جو جان پہچان والے ہوتے ہیں اور ان میں رشتہ دار یا پڑوسی شامل ہو سکتے ہیں۔

جب جان پہچان ہی خطرہ بن جائے

بنگلہ دیش میں سات سالہ بچی رمیسا کے قتل کے واقعے کے بارے میں پولیس نے اپنی ابتدائی تفتیش میں بتایا کہ ڈھاکہ کے علاقے میرپور میں ایک فلیٹ میں بچی کو پہلے باتھ روم میں لے جا کر مبینہ ریپ کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے بعد اس کا گلا کاٹ کر قتل کر دیا گیا۔

پولیس کے مطابق رمیسا کا کٹا سر باتھ روم سے ملا جبکہ جسم کے باقی حصے کو چارپائی کے نیچے سے برآمد کیا گیا۔

واقعے کے روز یعنی 19 مئی کو ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس (ڈی ایم پی) کے ایڈیشنل کمشنر ایس این محمد نذر الاسلام نے صحافیوں کو بتایا کہ ملزم نے جرم کو چھپانے اور لاش کو ٹھکانے لگانے کے لیے اسے ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کی تاہم بچی کی والدہ کو شبہ ہو جانے کے باعث وہ اپنا منصوبہ مکمل نہ کر سکا اور کھڑکی کاٹ کر فرار ہو گیا۔

اس واقعے نے سوشل میڈیا پر گہری تشویش اور بحث کو جنم دیا۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی کہی جا رہی ہے کہ جس فلیٹ میں یہ قتل ہوا، وہ رمیسا کے گھر کے ساتھ والا فلیٹ تھا اور اس واقعے میں جن افراد کے نام سامنے آئے ہیں وہ ان کے پڑوسی ہیں۔

اسی لیے بہت سے لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ بچوں کی حفاظت کے معاملے میں نہ صرف پڑوسیوں بلکہ رشتہ داروں پر بھی اندھا اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔

اعداد و شمار بھی یہی بتاتے ہیں کہ بنگلہ دیش میں زیادہ تر یعنی تقریباً 85 فیصد کیسز میں، بچے جنسی تشدد یا ریپ کا نشانہ اپنے جان پہچان کے لوگوں کے ہاتھوں بنتے ہیں۔

امریکہ میں ریپ اور تشدد کے حوالے سے کام کرنے والے غیر منافع بخش ادارے رائن کے مطابق بچوں کے ساتھ پیش آنے والے 100 جنسی استحصال کے واقعات میں سے 93 میں ملزم متاثرہ بچے کا کوئی نہ کوئی جان پہچان والا ہوتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ان میں خاندان کے افراد 34 فیصد اور جان پہچان کے افراد 59 فیصد ہوتے ہیں۔

بنگلہ دیش میں بھی صورت حال ایسی ہی ہے۔ قومی ادارہ برائے ذہنی صحت کے ایک مضمون کے مطابق ’تقریباً 85 فیصد کیسز میں جنسی استحصال یا ریپ کرنے والے متاثرہ بچے کے اپنے رشتہ دار، دوست یا کوئی قابلِ اعتماد شخص ہوتے ہیں۔‘

چائلڈ سیکشوئل ابیوز اِن بنگلہ دیش‘ کے عنوان سے 2020 میں شائع ہونے والی تحقیق میں بھی کہا گیا کہ ایسے واقعات میں زیادہ تر مجرم متاثرہ بچے کا کوئی جان پہچان والا ہی ہوتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار اور ڈھاکہ یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر زبیدہ نسرین چند برس قبل مجرموں کے رویے اور بنگلہ دیش میں بچوں کے ساتھ زیادتی پر ایک مشترکہ تحقیق کر چکی ہیں۔

تحقیق کے مطابق جنسی تشدد کے صرف 25 فیصد واقعات میں مجرم مکمل طور پر اجنبی تھے، 33 فیصد میں بچوں کے رشتہ دار اور 42 فیصد میں ملزم کوئی جان پہچان والا تھا جن میں پڑوسی، واقف کار یا گھر میں باقاعدگی سے آنے جانے والا شخص ملوث تھا۔

’یہ باتیں گھر میں نہیں بتا سکی کیونکہ مجھے ڈرایا گیا تھا‘

اس تحریر کے آغاز میں اپنی کہانی بیان کرنے والی سُروَھی نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ وہ اب تک اپنی بچپن کی ان تکلیف دہ یادوں سے دامن نہیں چھڑا سکی ہیں۔

ان کے مطابق ’میں یہ باتیں گھر میں نہیں بتا سکی کیونکہ مجھے ڈرایا گیا تھا۔ پھر جیسے جیسے میں بڑی ہوئی، مجھے محسوس ہونے لگا کہ میں خود کو دوسروں کے ساتھ نہیں جوڑ پا رہی، میرا اعتماد کم ہونے لگا۔ میں یہ بھی سوچتی تھی کہ اگر میں یہ سب سامنے لے آؤں تو معاشرہ مجھے کیسے لے گا، خاص طور پر شادی کے بعد میرا شریکِ حیات مجھے کیسے دیکھے گا اور آج بھی میں ایسا ہی محسوس کرتی ہوں۔‘

اس حوالے سے ماہرِ نفسیات ڈاکٹر میخلا سرکار نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ ایسے واقعے کے بعد بچہ ’ڈپریشن اور بے چینی کا شکار ہو سکتا ہے۔ بچے میں ضد بڑھ سکتی ہے، وہ چڑچڑا ہو سکتا ہے۔ تعلیم پر توجہ نہیں دے پاتا، سکول جانے سے کترانے لگتا ہے۔ اس میں احساسِ کمتری پیدا ہو سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں وہ کسی کے ساتھ گھلنے ملنے سے بھی ڈرتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ’اگرچہ کوئی مخصوص بیماری تشخیص نہ بھی ہو، پھر بھی جنسی تشدد کا شکار بچوں میں بعض جسمانی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جیسے نیند کی کمی، رات کو سوتے ہوئے کانپنا، سر درد، سینے میں درد، معمولی دباؤ پر بے ہوشی، دورے پڑنا اور سانس لینے میں دشواری۔‘

میخلا سرکار کا کہنا ہے کہ ’متاثرہ بچے میں لوگوں کا خوف پیدا ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر وہ مردوں سے دور رہنا چاہتا ہے۔ یعنی لوگوں کے ساتھ معمول کا میل جول بھی شدید متاثر ہو سکتا ہے۔‘

’والدین کو معلوم ہونا چاہیے کہ بچہ کہاں ہے‘

ماہرِ نفسیات ڈاکٹر میخلا سرکار نے زور دیا کہ اگر اوپر بیان کی گئی علامات اچانک بچے میں ظاہر ہوں تو والدین کو چاہیے کہ بچے کے رویے کو سنجیدگی سے لیں، اس سے بات کریں اور کسی قسم کا دباؤ یا خوف پیدا کیے بغیر اسے محفوظ ہونے کا احساس دلائیں۔

ضرورت پڑنے پر بچے کو فوری طور پر ماہرِ نفسیات یا کونسلر کے پاس لے جانا چاہیے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے والدین کو پہلے ہی سے کچھ معاملات میں محتاط رہنا چاہیے۔

ان کے مطابق ’ہمارے ملک میں بچوں کے خلاف جنسی تشدد بہت عام ہے اس لیے والدین کو شروع ہی سے نظر رکھنی چاہیے کہ بچہ کہاں جا رہا ہے اور کس کے پاس جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ والدین ہر وقت اس کے ساتھ رہیں، لیکن والدین کو معلوم ہونا چاہیے کہ بچہ کہاں ہے اور وہ جن کے ساتھ ہے، انھیں بھی معلوم ہونا چاہیے کہ والدین کی نظر اپنے بچے پر ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ بچوں کو ابتدا ہی سے اچھے اور برے لمس (گُڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ) کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے اور یہ سکھانا چاہیے کہ اگر کوئی ان کے ساتھ زبردستی ایسا کرے تو ایسی صورتحال میں کیا کرنا ہو گا۔

ان کے مطابق ’بچہ تین یا چار سال کی عمر سے ہی اپنے جسم کے حصوں کے بارے میں جانے، خاص طور پر جنسی اعضا کے بارے میں اسے سکھایا جائے کہ انھیں کوئی اور نہیں چھو سکتا۔ صرف والدین نہلانے کے وقت یا بیماری کی صورت میں اور ڈاکٹر ضرورت کے تحت ان حصوں کو چھو سکتا ہے۔‘

’بچے کو علم ہو کہ کوئی اس کے کپڑے نہیں اتار سکتا۔ اگر کوئی ایسا کرے تو وہ وہاں سے ہٹ جائے اور چیخے۔ اسے یہ بھی سکھانا چاہیے کہ صرف جنسی اعضا ہی نہیں بلکہ جس لمس سے بھی اسے تکلیف یا بے چینی محسوس ہو، اس پر ’نہیں‘ کہے اور والدین کو بتائے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ بچے کو یہ بھی سمجھانا چاہیے کہ وہ کسی اجنبی کے ساتھ نہ جائے جبکہ کام کرنے والے والدین اگر استطاعت رکھتے ہوں تو بچے کی نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کریں اور اگر گھر میں ٹیچر آ کر پڑھاتا ہو تو والدین کو وقتاً فوقتاً خود بھی وہاں جانا چاہیے۔

قانون موجود، عمل درآمد نہیں

انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق بنگلہ دیش میں قانون تو موجود ہے لیکن اس پر مناسب عمل درآمد نہیں ہوتا۔

انسانی حقوق کی کارکن وکیل ایلینا خان نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ ’قانون میں کوئی مسئلہ نہیں، مسئلہ اس کے نفاذ کا ہے۔ قانون میں کہا گیا ہے کہ مقدمہ 180 دن کے اندر مکمل ہونا چاہیے لیکن بدقسمتی سے خواتین اور بچوں کے کیسز طویل عرصے تک التوا میں رہتے ہیں۔‘

’قانون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 30 دن کے اندر چارج شیٹ پیش کی جائے۔ پھر پولیس کو چارج شیٹ تیار کرنے میں اتنا وقت کیوں لگتا ہے؟ کیوں 90 دن گزر جاتے ہیں؟ ہم (عام لوگ) سمجھتے ہیں کہ پولیس نے تو چارج شیٹ دے دی، ملزمان عدالت سے باہر آ گئے ہیں، لیکن اگر چارج شیٹ میں خامیاں چھوڑ دی جائیں تو ایسا ہی ہو گا۔ یعنی عمل درآمد کے معاملے میں ہمارے ہاں نیت کی کمی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش میں اب ریپ کے بعد قتل کرنے کا رجحان بھی سامنے آ رہا ہے کیونکہ اگر بچہ زندہ رہے تو وہ تشدد کی بات بتا سکتا ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایسے بہت سے واقعات سامنے ہی نہیں آتے۔

’اصل پیچیدگی خاندان کے اندر ہوتی ہے۔ گھر والے کہتے ہیں کہ جو ہونا تھا ہو گیا، یہ ہمارے لیے شرمندگی کا باعث ہے، اس معاملہ کو دبا دو۔ وہ سوچتے ہیں کہ اس سے بچی کی شادی متاثر ہو گی اور ہمیں یہیں رہنا ہے۔‘

اس حوالے سے بی بی سی بنگلہ نے ایڈووکیٹ سلمیٰ علی سے بھی بات کی۔

ان کے مطابق ’بنگلہ دیش میں بچیوں کے لیے ہر جگہ خطرہ ہے۔ گھر ہو یا باہر، کہیں بھی مکمل تحفظ نہیں تاہم ایسے واقعات میں خاندان اکثر انھیں چھپانے کی کوشش کرتا ہے تھانے جانے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ نمایاں سزائیں یقینی بنائی جائیں تو مجرموں میں خوف پیدا ہو گا۔