’اچانک دھماکے شروع ہوئے اور چاروں طرف دھواں دھواں ہو گیا‘: انگور اڈہ میں پاکستان اور افغان طالبان میں سرحدی جھڑپ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    • مصنف, عزیز اللہ خان، محمد زبیر خان
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

’انگور اڈا میں امن کے قیام کے لیے جرگہ جاری تھا کہ اچانک ایک فائر کی آواز آئی اور اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔ چند گھنٹوں بعد دوبارہ فائرنگ شروع ہوئی تو ہر قسم کا اسلحہ استعمال ہو رہا تھا۔ فائرنگ اور گولہ باری دونوں شروع ہو گئی تھیں۔‘

یہ کہنا ہے خیبرپختونخوا کہ قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ کے رہائشی مولانا تسبیح اللہ کا، جو پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے (انگور اڈہ) میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے ہونے والے امن جرگے میں خود موجود تھے۔

بی بی سی نیوز اُردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ فائرنگ اور گولہ باری شام دیر تک جاری رہی اور اس دوران انگور اڈہ بازار اور قریبی مکانات پر بھی گولے گرے، جبکہ بازار کے ساتھ واقع لکڑی کی منڈی میں ایک گولہ گرنے سے آگ بھڑک اٹھی۔

اُن کے مطابق لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگنے لگے۔

مولانا تسبیح اللہ کے مطابق منگل کی شام پیش آئے ان واقعات کے نتیجے میں انگور اڈہ میں دوکانوں اور مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ منگل کی رات رات تقریباً آٹھ بجے کے لگ بھگ رُکا۔

پاکستان اور افغانستان کے متضاد دعوے

پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں فائرنگ اور گولہ باری کے واقعے پر پاکستانی اور افغان طالبان حکام کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں اور فریقین نے ایک دوسرے پر حملہ شروع کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغان طالبان حکام کی جانب سے کیے گئے حملے کے نتیجے میں انگور اڈہ میں ایک شہری ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوئے ہیں، جبکہ افغان طالبان حکام کا دعویٰ ہے کہ سرحدی جھڑپ کے دوران اُن کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

پاکستان میں لوئر وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر مسرت زمان نے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کی شام افغانستان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ شروع ہوئی، جس کے بعد پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائی کی اور افغانستان میں موجود چوکیوں اور مورچوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ڈپٹی کمشنر کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی کے دوران افغان فورسز کے اہلکار مورچے چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہوئے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ افغان طالبان فورسز کی شہری آبادی پر فائرنگ سے ایک شخص ہلاک بھی ہوا۔

دوسری جانب افغان وزارتِ دفاع نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی فوج نے گذشتہ روز دوپہر تقریباً ایک بجے صوبہ پکتیکا میں بازار اور کمشنر آفس پر ڈرون حملے کیے۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان حملوں کے جواب میں افغان سکیورٹی اور دفاعی فورسز نے قریبی پاکستانی فوجی اڈے اور چوکیوں کو نشانہ بنایا، جس میں متعدد پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچا۔

افغان طالبان کی وزارت نے دعویٰ کیا کہ حملوں کا آغاز پاکستانی فوج نے کیا تھا اور افغان فورسز نے اپنے دفاع اور علاقے کے تحفظ کے لیے جوابی کارروائی کی۔

پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ نے انگور اڈہ سرحدی واقعے سے متعلق افغان طالبان حکومت کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے کیے جانے والے دعوے ’جھوٹ پر مبنی من گھڑت کہانی‘ ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وزارتِ اطلاعات کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ طالبان فورسز نے بلااشتعال پاکستانی جانب موجود غیر مسلح شہریوں پر فائرنگ اور مارٹر گولوں کی شیلنگ شروع کی۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ’فوری، مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف طالبان فورسز کی فائرنگ بند کروا دی بلکہ انھیں بھاری جانی و مالی نقصان بھی پہنچایا۔‘

بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کارروائی میں طالبان کے سات مورچے تباہ ہوئے جبکہ ان کے اہلکاروں کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

بی بی سی دونوں جانب سے سامنے آنے والے ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

دوسری جانب مقامی افراد نے بتایا کہ گذشتہ رات ہونے والی فائرنگ کے دوران سرحد کے انتہائی نزدیک آبادی سے بعض شہریوں کو عارضی طور پر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونا پڑا۔

انگور اڈہ جنوبی وزیرستان لوئر میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع ایک اہم گزرگاہ ہے، جس کے دوسری جانب افغانستان کا صوبہ پکتیکا واقع ہے۔

یہ گزرگاہ دونوں ملکوں کے سرحدی علاقوں کے درمیان مقامی تجارت اور آمدورفت کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔

’چاروں طرف گولے گرنے لگے اور ہر طرف دھواں دھواں ہو گیا‘

عمر خان اور رحمان اللہ آپس میں رشتہ دار ہیں اور وزیرستان میں انگور اڈہ کے علاقے زالول خیل کے رہائشی ہیں۔ یہ گاؤں انگور اڈہ کے نزدیک پاکستان، افغانستان سرحد پر واقع ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیاں اچانک سرحدی تنازع شروع ہوا تو یہ دونوں اپنے گاؤں کے باہر بیٹھے تھے جب فائرنگ کی زد میں آ کر عمر خان موقع پر ہی ہلاک جبکہ رحمان اللہ انتہائی زخمی ہو کر بیہوش ہو گئے تھے۔

رحمان اللہ کو کئی گھنٹے کی طویل مسافت کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان کے ہسپتال پہنچایا گیا جہاں پر ان کی سرجری ہوئی ہے۔ وہ اب بھی وہیں داخل ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں رحمان اللہ کی دیکھ بھال ان کے پھوپھی زاد دین محمد کر رہے ہیں۔ وہ بھی زالول خیل کے رہائشی ہیں تاہم واقعہ کے وقت وہ گاؤں میں موجود نہیں تھے۔

دین محمد کا کہنا ہے کہ انھیں اس واقعہ کی اطلاع وانا میں ملی۔ ان کا کہنا ہے کہ وانا میں ابتدائی طبی امداد کے بعد رحمان اللہ کو ایمبولینس کے ذریعے ڈیرہ اسماعیل خان پہنچا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’رحمان اللہ کو کمر پر مارٹر کا ٹکرا لگا ہے۔‘ دین محمد کے مطابق رحمان اللہ کی سرجری کر دی گئی ہے اور وہ ہوش میں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ان کی حالت بہتر ہے۔

دین محمد کہتے ہیں کہ انھیں ان کے زخمی کزن نے بتایا کہ وہ اور عمر خان بیٹھے ہوئے ’گپ شپ لگا رہے تھے‘ کہ اتنے میں زوردار آواز آئی اور ان کے سامنے عمر خان کو گولہ لگا اور وہ گر گئے۔

دین محمد کے مطابق رحمان اللہ نے انھیں بتایا کہ جب وہ عمر خان کی طرف بڑھے تو یکدم انھیں بھی کمر پر کچھ لگا اور وہ گر کر بیہوش ہوگئے۔ رحمان اللہ کے مطابق جب انھیں ہوش آیا تو وہ وانا میں تھے۔

جنت میر ثاقب زالول خیل کے رہائشی ہیں۔ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا تو وہ اپنے گاؤں میں موجود تھے۔

جنت میر ثاقب کہتے ہیں کہ اچانک تیزی سے دھماکے شروع ہوئے اور چاروں طرف گولے گرنے لگے جن کی وجہ سے ہر طرف دھواں دھواں ہو گیا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پہلے یہ یک طرفہ فائرنگ تھی جو کہ افغانستان کی طرف سے ہو رہی تھی لیکن بعد میں دونوں طرف سے کارروائی شروع ہو گئی۔‘

ان کے مطابق فائرنگ کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہر طرف دھواں پھیلا ہوا تھا اور دھماکے اتنے شدید تھے کہ کئی کمزور گھر گر گئے۔‘

جنت میر ثاقب کا کہنا ہے کہ دوپہر کے بعد شروع ہونے والی فائرنگ رات کے وقت ختم ہوئی۔

انھوں نے تصدیق کی کہ اس فائرنگ کی زد میں آ کر ’ہمارے علاقے کا ایک دیہاڑی دار مزدور عمر خان ہلاک ہو گیا۔‘ ان کے مطابق ہلاک ہونے والے کے تین بچے ہیں۔

جنت میر ثاقب کے مطابق ’انگور اڈہ پر بھی بہت نقصان ہوا ہے اور وہاں موجود لکڑی اور کئی دوکانیں جل چکی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ایک مارٹر گولہ دوکانوں کے باہر پڑی ہوئی لکڑی پر گرا جس سے اس میں آگ لگ گئی۔‘ ان کے مطابق آگ نے قریب میں موجود لکڑی اور دوکانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا جس سے کافی نقصان ہوا ہے۔

جنت میر ثاقت کا کہنا تھا کہ لکڑی جلنے سے تاجروں اور دوکانداروں کا کروڑوں روپیہ کا نقصان ہوا ہے۔ ’کئی لوگوں کا کاروبار تو بالکل ختم ہو چکا ہے اور سارا سرمایہ ڈوب چکا ہے۔‘

واضح رہے کہ انگور اڈہ میں لکڑی کے کاروبار کی بڑی منڈی ہے جہاں پر مختلف قیمتی لکڑی دستیاب ہوتی ہے۔

پاک افغان سرحد پر کشیدگی کا پس منظر

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اکتوبر 2025 میں شدت اختیار کر گئی تھی، جب دونوں ملکوں کی فورسز کے درمیان سرحدی جھڑپیں ہوئیں اور افغانستان میں پاکستانی فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ گذشتہ دو سال میں پاکستانی حکام اور افغان طالبان حکام نے متعدد مرتبہ ایک دوسرے پر حملے کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

15 اکتوبر 2025 کو دونوں ملکوں نے 48 گھنٹوں کی عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، تاہم کشیدگی برقرار رہی اور اس دوران انگور اڈہ سمیت متعدد سرحدی گزرگاہوں کی بندش سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور آمدورفت متاثر ہوئی۔

انگور اڈہ کی بندش سے مقامی تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور دیہاڑی دار مزدوروں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ علاقے میں روزگار کے مواقع بھی متاثر ہوئے۔

سرحدی گزرگاہ کی بندش کے باعث مقامی آبادی کے لیے تجارت اور آمدورفت کی مشکلات بھی بدستور برقرار ہیں۔

پاکستان کا الزام ہے کہ افغان طالبان حکام کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغان سرزمین سے کارروائیاں کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ پاکستان کے مطابق ٹی ٹی پی نے حالیہ عرصے میں ملک کے اندر اپنے حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ تاہم طالبان حکام ان الزامات کی بارہا تردید کرتے رہے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے افغان سرحدی علاقوں میں کیے گئے حالیہ فضائی حملوں کے بعد حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ ان حملوں میں اُن شدت پسند عناصر کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جو پاکستان میں حملوں میں ملوث ہیں جبکہ افغان طالبان کا دعویٰ ہے کہ اس نوعیت کے حملوں میں بہت سے عام افغان شہری مارے گئے ہیں۔