سڑک سے سکیورٹی رکاوٹ ہٹانے کے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو 10، 10 سال قید اور جرمانے کی سزا

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سڑک سے سکیورٹی بیریئرز ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کے الزامات کے تحت درج ایک مقدمے میں پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے مقدمات کی پیروی کرنے والی انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو دس، دس سال قید کی سزا سُنا دی ہے۔

جمعرات (29 اکتوبر) کو اس کیس میں محفوظ مختصر فیصلہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سناتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو تین مختلف دفعات کے تحت یہ سزا سنائی گئی ہے۔

ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

اس کیس کی آخری سماعتیں اڈیالہ جیل میں ہی ہوتی رہی ہیں جہاں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ گذشتہ کئی ماہ سے قید ہیں۔

ایمان مزاری اور اُن کے شوہر پر الزام تھا کہ انھوں نے 25 اکتوبر 2024 کو انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان راولپنڈی ٹیسٹ کے دوران اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ پر لگائی گئی رکاوٹوں کو ہٹا کر کارِ سرکار میں مداخلت کی اور پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا۔ ایمان اور ہادی اِن الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

گذشتہ منگل (27 اکتوبر) کو اڈیالہ جیل میں ہونے والی ایک سماعت کے دوران ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کروائے تھے۔ اپنے بیان میں ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ وہ بطور احتجاج اس مقدمے میں اپنا بیان ریکارڈ کروا رہی ہیں۔

واضح رہے کہ اس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف فرم جرم اڈیالہ جیل میں ان کی حراست کے دوران ہی عائد کی گئی تھی۔

دونوں ملزمان کے بیانات ریکارڈ کرنے کے بعد انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کہا تھا کہ اگر وہ (ملزمان) حتمی دلائل دینا چاہیں تو انھیں ایسا کرنے کی اجازت ہو گی۔

یاد رہے کہ جنوری 2026 میں اسلام آباد کی مقامی عدالت نے ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چھٹہ کو متنازع ٹویٹس کیس میں الگ الگ دفعات کے تحت مجموعی طور پر 17، 17 برس قیدِ بامشقت کی سزا سُنائی تھی۔ اگست 2026 میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے اُن کی یہ سزا معطل کرتے ہوئے انھیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

تاہم اس کیس میں رہائی کے فوراً بعد ان دونوں کو اڈیالہ جیل ہی سے اس کیس میں گرفتار کر لیا گیا تھا جس میں انھیں اب 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ نے اپنے بیانات میں کیا کہا تھا؟

ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت جج کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے ایمان مزاری نے کہا تھا کہ وفاقی دارالحکومت میں مبینہ سکیورٹی خلاف ورزی اور کارِ سرکار میں مداخلت کے الزام پر اُن کے خلاف درج مقدمہ ملک میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور وکلا کو نشانہ بنانے کے وسیع تر سلسلے کی کڑی ہے۔

اپنے بیان میں ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ وقوعے کے روز وہ ایک مقدمے کی پیروی کے لیے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت جا رہی تھیں جہاں انھیں پندرہ منٹ میں پہنچنا تھا تاہم پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی ایک غیر ملکی کرکٹ ٹیم کے لیے روٹ لگایا گیا تھا اور پولیس نے سڑک بند کر رکھی تھی۔

ان کے مطابق پولیس اہلکاروں نے بتایا تھا کہ غیر ملکی کرکٹ ٹیم متبادل راستے سے سٹیڈیم پہنچ چکی ہے۔

اپنے بیان میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پولیس کے پاس سڑک بند کرنے کے لیے کسی مجسٹریٹ کا تحریری حکم موجود نہیں تھا اور استغاثہ بھی دورانِ ٹرائل ایسا کوئی حکم نامہ پیش نہیں کر سکا۔

ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ تقریباً 15 منٹ انتظار کے بعد انھوں نے پولیس اہلکاروں سے سڑک کھولنے کی درخواست کی کیونکہ شہریوں کے نقل و حرکت کے آئینی حقوق متاثر ہو رہے تھے۔

ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ انھوں نے وہاں پر تعینات پولیس اہلکاروں سے صرف یہی کہا تھا کہ سڑک کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے۔

اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ اگر بیرئیر ہٹانے سے سکیورٹی کو خطرہ تھا تو وہاں پر تعینات پولیس اہلکاروں نے وہاں سے گزرنے والے موٹر سائیکل سواروں کو کیوں نہیں روکا۔

انھوں نے پراسیکوشن پر جان بوجھ کر ویڈیو شواہد چھپانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس سے ان کے جھوٹ کا پردہ فاش ہوتا۔‘

ایمان مزاری نے دعویٰ کیا تھا کہ سادہ لباس میں موجود ایک پولیس اہلکار، نے ان پر لوہے کا راڈ پھینکا جس سے وہ زخمی ہوئیں۔

ایمان مزاری کا دعویٰ تھا کہ اس صورتحال میں میرے شوہر نے انھیں زودوکوب اور کسی نقصان سے بچانے کے لیے دفاعی حکمت عملی اختیار کی۔

انھوں نے کہا تھا کہ پمز ہسپتال نے ان کے زخمی ہونے کے بارے میں رپورٹ بھی عدالت میں جمع کروا دی ہے۔

ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ اگر وہ یا ان کے شوہر پولیس اہلکاروں پر حملہ آور ہوئے تھے تو کسی اہلکار کے زخمی ہونے کا ریکارڈ بھی عدالت میں پیش ہونا چاہیے تھا، تاہم ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں۔

انھوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے اپنے رویے کی ان سے معافی بھی مانگی تھی۔

ایمان مزاری نے الزام عائد کیا تھا کہ اس واقعہ سے متعلق مقدمہ کافی دیر تک پوشیدہ رکھا گیا۔

انھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں گرفتاری کے بعد ان کا جو ریمانڈ لیا گیا تھا اس کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے معطل کر دیا تھا لیکن اس کے باوجود ایمان مزاری کے بقول اپنی کارروائی جاری رکھی۔

ایمان مزاری نے مزید دعویٰ کیا تھا کہ ان کے خلاف تمام گواہ پولیس اہلکار ہیں جبکہ کوئی آزاد یا نجی گواہ پیش نہیں کیا گیا۔

انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف قائم کردہ تمام کیسز جبری گمشدگیوں کے مقدمات کی پیروی کرنے، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے اور مفت قانونی خدمات فراہم کرنے کے باعث درج کیے گئے۔

انھوں نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے باوجود انھیں اڈیالہ جیل کے اندر ہی سے دوبارہ گرفتار کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ایمان مزاری کے مطابق انھیں اور ان کے شوہر کو پنجرے میں رکھ کر ٹرائل کیا گیا اور وکلا تک رسائی بھی نہیں دی گئی۔

ہادی علی چٹھہ نے اپنے بیان میں ایمان مزاری کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وقوعے کے روز پولیس اہلکاروں نے خود تسلیم کیا تھا کہ راستہ صرف 15 منٹ کے لیے بند کیا گیا ہے۔

ان کا الزام تھا کہ ایک پولیس اہلکار نے ان کی اہلیہ پر حملہ کیا جس کے بعد انھوں نے اپنی اہلیہ کے دفاع کے لیے جوابی اقدام اٹھایا۔

انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پمز ہسپتال کی میڈیکل رپورٹ ان کی اہلیہ کو لگنے والی چوٹوں اور پولیس تشدد کی تصدیق کرتی ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے جوڈیشل ریمانڈ معطل کرنے کے بعد فرانزک اور وائس میسجنگ سمیت تمام تفتیشی کارروائیاں غیر قانونی طور پر کی گئیں۔

ہادی علی چٹھہ نے مزید کہا تھا کہ ان کی عدم موجودگی میں گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ انھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں سرکاری کونسل کی تعیناتی کو انھوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

دونوں ملزمان کے بیانات کے بعد انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کہا تھا کہ اگر ملزمان مزید حتمی دلائل دینا چاہیں تو انھیں اس کی اجازت ہو گی۔ عدالت نے اس مقدمے میں عاطف محمود کو سٹیٹ کونسل مقرر کیا تھا۔