’فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تجویز پر‘ مکہ دفاعی معاہدے کے ارکان کی ایرانی حکام سے ملاقات ’غیر معمولی‘ کیوں قرار دی جا رہی ہے؟

    • مصنف, اسد صہیب
    • عہدہ, بی بی سی اُردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

ایران کے سرکاری خبر رساں اداروں بشمول ’پریس ٹی وی‘ اور ’ارنا‘ نیوز ایجنسی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ سطح کے وفود سے ایرانی حکام کی ملاقات کے بعد پیر کی شب شائع کیے گئے ایک مختصر مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ’شرکا نے چاروں علاقائی ممالک کے درمیان تعاون، بشمول خطے میں امن اور سکیورٹی، کو مزید مضبوظ بنانے کے لیے ڈائیلاگ (مکالمے) کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔‘

ایرانی سرکاری نشریاتی اداروں میں اس اہم مشترکہ نشست کو چار علاقائی ممالک (پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور ایران) کی ’پہلی میٹنگ‘ بھی قرار دیا گیا ہے۔

پیر کے روز تہران میں مشترکہ اجلاس کے اختتام کے بعد سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے نمائندوں کا ایرانی دارالحکومت تہران کا دورہ ’موجودہ بحران کے فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔‘

سعودی وزارت خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’ان کوششوں کا مقصد مذاکرات اور سفارتی حل کی حوصلہ افزائی کرنا اور ریاستِ قطر اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرنا ہے۔‘

اسی طرح اجلاس کے خاتمے کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے ’اس اجلاس میں اہم اور مؤثر اسلامی ممالک کے نمائندوں کی شرکت خطے میں اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو گی۔‘

انھوں نے اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ ’ایک ساتھ کھڑے ہوں اور مشترکہ و مربوط مؤقف اختیار کریں۔‘

مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ ’مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور انھیں مسلم ممالک کو نشانہ بنانے والی دھمکیوں اور اقدامات کے مقابلے میں متحد ہو کر ایک صف میں کھڑا ہونا چاہیے۔‘

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم دنیا کو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد اور یکجہتی ناگزیر ہے۔

تہران میں ہونے والا مشترکہ اجلاس کتنا غیرمعمولی تھا؟

تہران میں ہونے والی اس اہم نشست کی اطلاع پیر (26 اکتوبر) کی صبح ہی ابتدائی طور پر بین الاقوامی خبررساں ادراوں نے ذرائع کے حوالے سے دی تھی تاہم کچھ ہی دیر بعد ایرانی حکام نے اس کی تصدیق کی جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق اس مشترکہ اجلاس کی تجویز پاکستانی فیلڈ مارشل نے اپنے حالیہ دورہ ایران کے دوران دی تھی۔

یاد رہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے گذشتہ ہفتے ہی تہران کا ایک روزہ دورہ کیا تھا جس میں اُنھوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی اور پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف سے ملاقاتیں کی تھیں۔

تہران میں ہونے والی اس نشست جس میں سعودی عرب اور ایران براہ راست شامل رہے، کو علاقائی صورتحال کے تناظر میں اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اس اجلاس کی خاص بات سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی سعودی وفد کے ہمراہ تہران آمد تھی، جو حوثیوں کے حملوں کے باعث ایران اور سعودی عرب کے درمیان جاری کشیدگی کے سائے میں ایران پہنچے تھے۔

پاکستانی وفد میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی شامل تھے جبکہ ترکی کے انٹیلیجنس چیف ابراہیم قالن ترک وفد کے ہمراہ یہاں پہنچے تھے۔

ایران کی جانب سے اس مشترکہ اجلاس میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی شریک ہوئے۔

یہ مشترکہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد اور یمن کے حوثیوں کے درمیان حملوں میں شدت آ رہی ہے جبکہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب میں ایئرپورٹس اور تیل تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا جس میں جانی نقصان بھی ہوا ہے۔

سعودی عرب نے حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا ، تاہم ایران اس کی تردید کرتا ہے۔

یاد رہے کہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے قطری وفد کی بھی تہران میں موجودگی کی تصدیق کی تھی، تاہم اس اجلاس میں قطر کا کوئی وفد شریک نہیں تھا۔

رواں برس ایران جنگ کے دوران پاکستان اور ترکی کے عہدے دار متعدد مواقع پر ایران جا چکے ہیں، تاہم سعودی عرب کے وزیرِ دفاع کی تہران آمد کو بعض ماہرین غیر معمولی قرار دے رہے ہیں۔

کیا یہ اجلاس صرف حوثیوں اور سعودی عرب کے معاملے پر تھا؟

اگرچہ اس اجلاس کے بعد اس میں شامل ممالک کی جانب سے تاحال تفصیل سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے جس سے پتا چلے کہ ان میں کون سے امور زیر بحث آئے، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی کی روک تھام ہی اس کا محور ہو گا۔

عمان میں پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کہتے ہیں کہ تہران میں ہونے والا یہ اجلاس بہت غیر معمولی ہے، لیکن یہ بھی اہم ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اس سارے معاملے کو کیسے دیکھیں گے۔

بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے عمران علی کا کہنا تھا کہ حوثیوں کے حملوں پر ایران پر کھلے عام الزامات عائد کرنے کے باوجود سعودی عرب کے وزیرِ دفاع کا تہران جانا ایک بڑی پیش رفت ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھی زور دیا ہو گا کہ دونوں ممالک مل بیٹھ کر اپنے معاملات طے کریں۔

عمران علی کہتے ہیں کہ اس اجلاس کا ایجنڈا صرف حوثی اور سعودی عرب کے درمیان جاری لڑائی نہیں ہے، لیکن یہ ضرور ہے کہ یہ اس اجلاس کا محور ضرور رہا ہو گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ایران حوثیوں کے معاملے کو بھی اپنے خلاف جارحیت سے جوڑتا ہے، لہذا حوثیوں کے معاملے کو امریکہ اور ایران کے وسیع تر تنازع سے ہٹ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔

’پاکستان یہ چاہتا ہے کہ حوثیوں کے معاملے پر ایران اور سعودی عرب کے درمیان کوئی تصفیہ ہو جائے، تاکہ سعودی عرب پر حملے رک جائیں اور پاکستان کو بھی اس تنازع میں شامل نہ ہونا پڑے۔‘

’ایران کی تشویش کم ہو گی کہ مکہ معاہدہ اس کے خلاف تھا‘

واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک ولسن سینٹر کے جنوبی ایشیا کے اُمور کے ماہر مائیکل کوگلمین کہتے ہیں کہ یہ اجلاس اس لحاظ سے بھی اہم ہے، کیونکہ اس سے ایران کی یہ تشویش بھی کم ہو گی کہ مکہ مشترکہ معاہدہ اس کے خلاف ہے۔

بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے مائیکل کوگلمین کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدے کے رُکن ممالک کے رہنما یہ باور کراتے رہے ہیں کہ مکہ معاہدے کا ہدف کوئی ملک نہیں ہے۔ ’لیکن ایران میں بعض حلقوں کا یہ تاثر تھا کہ یہ ایران کے خلاف ڈیٹرنس برقرار رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ تہران میں مکہ معاہدے کے رُکن ممالک کے عہدے داروں کا ایرانی حکام سے ملاقات کرنا ظاہر کرتا ہے کہ رُکن ممالک اسے خطے میں سکیورٹی اور استحکام کے میکنزم کے طور پر آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

’ایران کو کسی معاہدے میں شامل کر لیا جائے تو یہ اچھا ہو گا‘

اس اجلاس سے قبل سابق ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف کا ایکس پر بیان سامنے آیا جس میں اُنھوں نے مسلمان ممالک کے مابین اتحاد پر زور دیتے ہوئے مسلمان کی مقدس کتاب قرآن کی آیت کا حوالہ دیا ’اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔‘

ساتھ ہی اُنھوں نے یہ بھی لکھا کہ ’ہمیں آج کے اجلاس کو ’ویسٹ ایشیا سکیورٹی نیٹ ورک‘ کی بنیاد رکھنے کے لیے بروئے کار لانا چاہیے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ہمارے خطے کی سلامتی باہر سے درآمد نہیں کی جا سکتی، بلکہ اسے یہاں کے عوام مل کر یقینی بنا سکتے ہیں۔

مائیکل کوگلمین کہتے ہیں کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان پائی جانے والی مخاصمت کے تناظر میں اس بات کا امکان نہیں ہے کہ ایران مکہ معاہدے میں شامل ہو گا۔

اُن کے بقول ’یہ ضرور ہے کہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں مکہ معاہدے کے رُکن ممالک اور بالخصوص سعودی عرب اس بات پر متفق ہیں کہ ایران سے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔‘

عمران علی کا کہنا تھا کہ یہ بہت اچھا ہو گا کہ ایران کو کسی نے کسی اتحاد میں شامل کیا جائے، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران کا جوہری مواد وہاں سے نکالا جائے۔

’یہ ایران کے لیے ایک بہت بڑی قیمت ہے، اور وہ یہ کبھی نہیں چاہتے کہ وہ یہ شرط قبول کر کے اپنی عوام کو امریکہ کے سامنے جھکنے کا تاثر دیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں کوئی درمیانی راستہ نکل آئے تو اور بات ہے، لیکن صدر ٹرمپ کے لیے بھی جوہری مواد کی ایران سے منتقلی کا معاملہ اب اُن کی انا کا مسئلہ بن چکا ہے۔

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر جلیل عباس جیلانی نے اس اجلاس پر لکھا کہ مکہ معاہدے کے فریقین کی ایرانی رہنماؤں کے ساتھ تہران میں ہونے والی ملاقات ایک اور خوش آئند پیش رفت ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’خطے میں پائیدار امن، اتحاد اور استحکام کے لیے مکالمہ، مفاہمت اور باہمی اعتماد ناگزیر ہیں۔ دعا ہے کہ یہ ملاقات بامعنی پیش رفت اور ایک مشترکہ مستقبل کی راہ ہموار کرے۔‘

’مکہ معاہدہ مسلم دُنیا کے لیے کشش کا مرکز بن گیا ہے‘

پاکستان کے ایوانِ بالا سینیٹ کے سابق رُکن مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ یہ پاکستان کی جانب سے اُٹھایا گیا، تاریخی قدم ہے جو مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک طرح سے پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔

بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ تہران مذاکرات اس لیے بھی اہم ہیں، کیونکہ یہ مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے مبینہ اسرائیلی عزائم کو ناکام بناتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ اس حقیقت کا بھی اعتراف ہے کہ ایران کے بغیر خطے میں پائیدار امن اور استحکام ممکن نہیں اور مسلم دُنیا کی تقدیر کا فیصلہ امریکہ یا اسرائیل نہیں بلکہ خود مسلم ممالک کریں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ مکہ دفاعی اتحاد اب مسلم دنیا کی سلامتی کے لیے ’کشش کے مرکز‘ کے طور پر فعال ہو چکا ہے۔

سفارت کار عمران علی کا کہنا تھا کہ ایران اُسی صورت میں مکہ معاہدے یا ویسٹ ایشیا کے کسی مجوزہ اتحاد میں شامل ہو سکتا ہے، اگر پاکستان، ترکی اور سعودی عرب اس کی علاقائی سالمیت کی ضمانت دیں۔