آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دہلی جم خانہ بند کرنے کا فیصلہ، وہ مقام جہاں تقسیمِ ہند سے قبل پاکستان اور انڈیا کے فوجی افسران آخری بار ملے
- مصنف, زویا متین
- مصنف, ابھیشیک ڈے
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں طویل عرصے سے طاقت نہ صرف وزارتوں، سفارت خانوں اور پارلیمان کے ذریعے گردش کرتی رہی ہے بلکہ اس کی ایک جھلک جم خانہ کلب کے سایہ دار برآمدوں میں بھی نظر آتی ہے۔
صفدر جنگ روڈ پر قائم کریم رنگ کا یہ کلب ہاؤس نسلوں سے ایک ایسے پوشیدہ مرکز کے طور پر کام کرتا رہا ہے جہاں ریٹائرڈ جرنیل، اعلیٰ بیوروکریٹس اور پرانے کاروباری خاندان وہسکی سوڈا اور کبابوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے مذاکرات کرتے رہے ہیں۔
یہاں تک کہ وہ لوگ بھی جنھوں نے کبھی اس کے دروازوں کے اندر قدم نہیں رکھا، جو کہ زیادہ تر دہلی کے رہائشی ہیں، اس کی شان و شوکت کے بارے میں کہانیاں سن چکے ہیں لیکن اب اس مقام کا مستقبل غیریقینی کا شکار ہو گیا ہے۔
گذشتہ ہفتے وفاقی حکومت، جو اس 27.3 ایکڑ اراضی کی مالک ہے جس پر یہ 113 سال پرانا کلب قائم ہے، نے اسے 5 جون تک خالی کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ یہ زمین ’دفاعی انفراسٹرکچر اور دیگر اہم عوامی سلامتی کے مقاصد‘ کے لیے درکار ہے۔
اپنے نوٹس میں حکومت نے اس علاقے کو وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے قریب واقع ایک ’انتہائی حساس اور سٹریٹجک‘ زون قرار دیا اور کہا ہے کہ اس کی لیز ’فوری طور پر ختم‘ کر دی گئی ہے۔
جم خانہ کلب کے اراکین نے حکومتی احکامات کو عدالت میں چیلنج کیا اور دہلی ہائی کورٹ نے منگل کو اس پر سماعت بھی کی۔
وفاقی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ وہ 5 جون کو فوری طور پر زمین کا قبضہ نہیں لے گی اور بے دخلی کی کوئی بھی کارروائی قانون کے تحت کلب کو نوٹس دینے کے بعد ہی کی جائے گی۔ جج نے کہا کہ کلب، اس کا عملہ اور ارکان اس کے بعد بے دخلی کو چیلنج کرنے کے لیے دوبارہ عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے اشرافیہ کے اداروں کی برسوں کی جانچ پڑتال کے بعد کلب کے خلاف یہ کارروائی سامنے آئی، جس نے مراعات، ورثے اور عوامی مقامات سے متعلق بحث کو دوبارہ جنم دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم اس معاملے نے ایک غیر متوقع جذباتی کیفیت کو بھی جنم دیا، جہاں دہلی کے کچھ رہائشیوں نے اس جگہ کے لیے محبت کا اظہار کیا، جسے وہ ماضی میں اکثر ناپسند کرنے کا دعویٰ بھی کرتے رہے تھے۔
جِم خانہ کی ممبرشپ مہنگی ہے لیکن اس تک رسائی طویل عرصے سے قیمت کے بجائے زیادہ دربانہ نظام کے ذریعے کنٹرول کی جاتی رہی ہے۔ درخواست گزاروں کو موجودہ اراکین سے نامزدگی اور تائید حاصل کرنی ہوتی ہے، جس کے بعد ایک انتظامی کمیٹی انھیں منظور کرتی ہے۔
روایتی طور پر اس عمل میں سینیئر سرکاری افسران اور دفاعی اہلکاروں کو ترجیح دی جاتی رہی ہے جبکہ دیگر کا حصہ کم رہا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ممبرشپ دینے کے اس عمل نے عدم مساوات کو برقرار رکھا اور اس کے ساتھ ساتھ جِم خانہ کی رُکنیت کو بہت نایاب بنا دیا، جو بڑی تعداد میں لوگوں کو مطلوب ہوتی ہے۔
لیکن بہت سے لوگوں کو یاد ہے کہ اس جگہ نے چھوٹی چھوٹی رسومات کے ذریعے دہلی کی اشرافیہ کے ماضی کے ایک حصے کو زندہ رکھا: شام ڈھلے با وردی ویٹرز، سایہ دار برآمدوں میں جِن اور لیموں، اور نیم کے درختوں تلے بیٹھے ریٹائرڈ جرنیل اور سفارت کار۔
دہلی میں مقیم ایک سینیئر صحافی، جن کے پاس کبھی اس کلب کی رکنیت نہیں تھی، نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کلب ہمیشہ انھیں ’دور‘ محسوس ہوتا تھا۔
’لیکن اب میرا دل چاہتا ہے کہ کم از کم ایک بار اندر جاؤں۔ یہ دہلی کی چند عمارتوں میں سے ایک ہے، جو اس وقت بھی ویسے ہی رہی جب باہر کا شہر مکمل طور پر بدل گیا۔‘
سنہ 1913 میں امپیریل دہلی جم خانہ کلب کے نام سے قائم کیے جانے والا یہ ادارہ اس وقت وجود میں آیا جب برطانوی حکومت نے ہندوستان کا دارالحکومت کولکتہ (سابقہ کلکتہ) سے دہلی منتقل کیا۔ اس نے ابتدا میں سول لائنز کے کورونوشن گراؤنڈز سے کام شروع کیا، جہاں یہ برطانوی منتظمین اور فوجی افسران کی آؤ بھگت کرتا تھا۔ اس کے بعد 1928 میں اس کے لیے صفدرجنگ روڈ پر اس کی موجودہ جگہ الاٹ کی گئی۔
موجودہ کلب ہاؤس، جو 1930 کی دہائی میں برطانوی آرکیٹیکٹ رابرٹ ٹور ریسل نے ڈیزائن کیا تھا، وسطی دہلی کے ابتدائی طرزِ تعمیر کی عکاسی کرتا ہے: دراز برآمدے، بلند چھتیں اور ہلکے رنگ کے اگواڑے جو درختوں اور لانز کی طرف کھلتے ہیں۔
ایسا محسوس ہے جیسے اس کے اندر مختلف انداز میں گزرتا ہو: دوپہر کی دھوپ میں سوکھتے ہوئے ٹینس کے سفید کپڑے، برج رومز میں سگریٹ اور ٹیلکم پاؤڈر کی مدھم خوشبو اور سست رفتار پنکھوں کے نیچے اخبارات پڑھتے ہوئے بزرگ اراکین۔
تاریخ یہاں اپنے کسی نہ کسی روپ میں موجود رہی۔
بتایا جاتا ہے کہ اس کے قیام کی ابتدائی دہائیوں میں مغربی رنگ میں رنگے ہوئے انڈین سول سروس کے افسران، جو نوآبادیاتی اشرافیہ کے حلقوں میں شامل ہونے والے چند انڈین شہریوں میں شامل تھے، اس کلب میں بال روم ڈانس اور برطانوی سماجی آداب سیکھتے تھے، جب وہ سامراجی معاشرے کے اصولوں سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
اور 1947 میں جب برٹش انڈین آرمی کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان تقسیم کیا جا رہا تھا، تو اس سے پہلے کہ تاریخ انہیں ایک سرحد کے دونوں جانب کھڑا کر دیتی اُن رجمنٹس کے افسران کو، جو جلد جدا ہونے والے تھے، اس کلب میں الوداعی تقریب دی گئی،
افسران کا ایک آخری شام ایک ساتھ گزارنا: یہ منظراس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ جِم خانہ کی ممکنہ بندش دہلی کے بہت سے لوگوں کے لیے اتنا جذباتی معاملہ کیوں ہے۔
ایسے مقامات یادوں کا خزانہ بن جاتے ہیں، مختلف ادوار کے نقوش یہاں سموئے ہوئے نظر آتے ہیں۔ تاریخ دان ناراینی گپتا نے ایک بار کہا تھا ’شہر تہہ در تہہ وجود رکھتے ہیں۔ مختلف نسلیں ان پر اپنی چھاپ چھوڑتی ہیں۔‘
برطانوی اقتدار کے آخری برسوں اور آزادی کے ابتدائی عشروں کے دوران یہ کلب دارالحکومت کی سیاسی زندگی سے گہرا تعلق برقرار رکھتا رہا۔
سنہ 2013 میں جِم خانہ کی صد سالہ تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے اُس وقت کے صدر پرناب مکھرجی نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ مہاتما گاندھی اور اُس وقت کے وائسرائے لارڈ ارون نے وہاں نجی طور پر ملاقات کی تھی، جس میں وہ سمجھوتہ طے پایا جو بعد میں گاندھی۔ارون معاہدے کے نام سے مشہور ہوا۔
سنہ 1947 کے بعد کلب کے نام سے ’امپیریل‘ کا لفظ ہٹا دیا گیا، لیکن اس کے ماحول کا بڑا حصہ برقرار رہا: لباس کے ضابطے، پرانے قالین، شام کی محفلیں اور مانوس ویٹرز جو خاندانوں کی نسلوں کی خدمت کرتے رہے۔
وقت کے ساتھ جِم خانہ دہلی میں موروثی مراعات کی ایک خاص قسم کے لیے علامتی اظہار بھی بن گیا۔
اس کی بدنام زمانہ طویل انتظار کی فہرستیں، جو اکثر دہائیوں تک محیط ہوتی ہیں، شہر کی کہانیوں کا حصہ بن گئیں، جبکہ ناقدین اس کلب کو ذاتی تعلقات اور خاندانی وراثت سے تشکیل پانے والے اثر و رسوخ کی علامت سمجھتے تھے۔
انڈین پولیس سروس کے ایک ریٹائرڈ افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں جم خانہ کی رکنیت حاصل کرنے میں 18 سال لگے۔
’جب میں نے ممبرشپ کے لیے درخواست دی تو میں اسی خیال سے بہت متاثر تھا۔ جب تک میں رکن بنا، تب تک میں بالکل بے پروا ہو چکا تھا اور شاذ و نادر ہی وہاں جاتا تھا۔‘
دہلی میں مقیم ڈاکٹر غزل تنصیر نے ایک رشتہ دار کی ممبرشپ کے ذریعے اپنی شادی کی تقریب جم خانہ میں منعقد کروائی تھی۔ وہ اس جگہ کو ’یادوں کا ایک محفوظ، غیر متاثر چھوٹا گوشہ‘ قرار دیتی ہیں۔
یہی امتیاز سنہ 2014 میں مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد بڑھتی ہوئی جانچ پڑتال کے دائرے میں آ گیا، جس کے تحت دہلی کی طویل عرصے سے قائم انگریزی بولنے والی اشرافیہ سے اختیارات منتقل کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
سنہ 2016 اور سنہ 2019 میں جانچ پڑتال کے بعد وزارتِ کارپوریٹ امور نے سنہ 2020 میں ایک حکومتی ٹریبونل سے رجوع کیا اور الزام عائد کیا کہ کلب میں مالی بے ضابطگیاں ہوئیں اور رکنیت کے قواعد کی خلاف ورزیاں کی گئیں۔
دو سال بعد ٹریبونل نے کلب کی منتخب انتظامی کمیٹی کو تحلیل کر دیا اور حکومت کو اس کی جگہ منتظمین مقرر کرنے کی اجازت دے دی، ایک ایسا اقدام جس پر بعض اراکین نے تنقید کی۔
جم خانہ خالی کرنے کے تازہ ترین احکامات پر بھی لوگوں کی رائے منقسم ہے۔
سابق پولیس افسر اور ماضی میں بی جے پی کی طرف سے دہلی کی وزارتِ اعلیٰ کے لیے نامزد امیدوار کرن بیدی اسے ’افسوسناک اور المناک‘ سمجھتے ہیں اور جِم خانہ کو دارالحکومت کے کھیلوں اور ادارہ جاتی ورثے کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
مؤرخ سواپنا لڈل نے کلب کے اشرافیائی پس منظر کو تسلیم کیا، تاہم انھوں نے کہا کہ وہ اسے بند کرنے کے بجائے ادارے میں اصلاحات کی کوششوں کو ترجیح دیتیں۔
انھوں نے کہا ’محض یہ کہہ دینے کے بجائے کہ یہ موجود نہ رہے‘، آپ [حکومت] یہ بھی پوچھ سکتے تھے کہ اسے کیسے بدلا جا سکتا ہے اور زیادہ لوگوں کے لیے بامعنی بنایا جا سکتا ہے۔‘
دیگر افراد نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔ صحافی پربھو چاولا نے جِم خانہ جیسے کلبوں کو امتیازی ادارے قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا، جو بھاری سبسڈی والی عوامی اراضی پر قائم ہیں۔
تاہم سابق سفارت کار کے سی سنگھ کہتے ہیں کہ ایسے کلب تاریخی طور پر سرکاری ملازمین اور فوجی افسران کو ان کی نسبتاً کم تنخواہوں کے باوجود تفریح فراہم کرتے رہے ہیں۔
بی جے پی ترجمان آر پی سنگھ اس تاثر کو مسترد کرتے ہیں کہ حکومت کلب کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنا رہی ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’یہ ایک ایسی جائیداد ہے جو حکومت نے لیز پر دی ہوئی ہے۔ ہر چیز قواعد و ضوابط اور متعلقہ قوانین کے مطابق انجام دی گئی۔‘
تاہم جم خانہ کے قائم رہنے یا نہ رہنے کے قانونی اور سیاسی دلائل کے پس منظر میں ایک زیادہ جذباتی ردِعمل بھی موجود ہے۔
دہلی کی نئی شکل بنانے میں دہائیاں گزری ہیں۔ اس شہر کے تقریباً ہر رہائشی کے ذہنوں میں ان مقامات کے نقوش برقرار ہیں جو اب باقی نہیں رہیں: ریگل سنیما، پرانا کافی ہاؤس، دریاگنج کی اردو کتابوں کی دکانیں اور انڈیا گیٹ کی سردیوں کی شامیں، جب بیریکیڈز اور سکیورٹی حصار نہیں تھے اور شہر کی شکل نہیں بدلی تھی۔
لیکن ان تبدیلیوں کے باوجود بھی کچھ مقامات اپنی جگہ پر قائم رہے۔
جم خانہ ان ہی مقامات میں سے ایک ہے۔ اس نے نوآبادتی دور دیکھا، خونی تقسیم دیکھی، آزادی کی گہما گہمی دیکھی اور دہلی کو ایک بڑا شہر بنتے ہوئے دیکھا۔
اگر یہ کلب ختم ہو جاتا ہے تب بھی شہر میں نئے قائم ہونے والے کلبز، جدید ہوٹلز اور ریستوران قائم رہیں گے۔
لیکن بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ شاید جم خانہ کے بند ہونے سے یہ شہر ایک نمایاں چیز کھو دے: ان آخری مقامات میں سے ایک جگہ جہاں دہلی کی پرانی شکل اب بھی زندہ محسوس ہوتی ہے۔