آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ویران بندرگاہیں، مہنگائی اور تیل کے کنوؤں کو درپیش خطرات: ایران کو جنگ اور بحری محاصرہ کے دوران کن مشکلات کا سامنا ہے؟
- مصنف, علی رمضانیان
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ گذشتہ کئی ماہ سے جاری فوجی کشیدگی سے پہلے بھی ایران کی معیشت عالمی پابندیوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی، تاہم اب ایرانی معیشت کو بحری نقل و حمل میں رکاوٹوں، درآمدات و برآمدات میں کمی اور اس کے نتیجے میں زرِمبادلہ کے کم ہونے جیسے نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔
ایران کے کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ جنوری 2026 سے اگست 2026 کے دوران ایران نے تقریباً 15 ارب ڈالر کی برآمدات (تیل کے علاوہ) کیں، جو گذشتہ سال کے اِسی عرصے کے مقابلے میں 28 فیصد تک کم ہیں۔ اسی عرصے کے دوران ایرانی درآمدات بھی 26.1 فیصد کمی کے بعد تقریباً 17 ارب ڈالر تک محدود رہی ہیں۔
اس کے نتیجے میں ایران کا تجارتی توازن (تیل کی برآمدات کے علاوہ) تقریباً دو ارب ڈالر خسارے میں چلا گیا ہے، جو گذشتہ ایک دہائی کی کم ترین سطحوں میں شمار ہوتا ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی پابندیوں کے اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی درآمدات اور برآمدات میں 25 سے 35 فیصد تک کمی آئی ہے۔
درآمدات میں کمی کو خاص طور پر تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ایران عموماً دیگر ممالک سے بنیادی اشیا جیسا کہ ادویات، خوراک اور مشینری وغیرہ منگواتا ہے۔ ان اشیا کی فراہمی میں رکاوٹ نہ صرف شہریوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ اُن کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
دوسری جانب تیل کی برآمدات بھی شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہیں۔ حالیہ تنازع کے دوران جب آبنائے ہرمز میں صورتحال نسبتاً کم کشیدہ تھی تو ایران کی تیل برآمدات یومیہ 17 لاکھ بیرل سے 20 لاکھ بیرل تک پہنچ گئی تھیں، تاہم پابندیوں کی واپسی کے بعد اگست 2026 میں ایرانی بندرگاہوں سے خام تیل کی لوڈنگ میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
توانائی سے متعلق تجزیاتی ادارے ’کپلر‘ کے ماہر ہمایوں فلکشاہی نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ’چند ماہ پہلے کے مقابلے میں ایران کی تیل برآمدات میں نمایاں کمی آئی ہے اور یہ روزانہ ڈھائی لاکھ بیرل تک گر گئی ہیں، جبکہ گذشتہ مہینوں میں یہ تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئی تھیں۔‘
ان کے مطابق یہ گراوٹ ایران پر امریکی بحری دباؤ، پابندیوں اور خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات کی عکاس ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ایران اپنی درآمدات اور برآمدات کے بڑے حصے کے لیے ملک کی جنوبی بندرگاہوں پر انحصار کرتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماہرین کے مطابق اس صورتحال نے زرِمبادلہ کی فراہمی، سپلائی چین اور ملک میں مہنگائی جیسے مسائل کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ماہرِ اقتصادیات جمشید اسدی نے بی بی سی فارسی سے گفتگو میں کہا کہ ’تیل اور دیگر شعبوں سے حاصل ہونے والی برآمدی آمدن میں کمی اور ضروری اشیا کی درآمد میں مشکلات کے باعث نہ صرف معیشت بلکہ عوامی زندگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں بے قابو مہنگائی جنم لے سکتی ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو اس کے اثرات ایرانی عوام کی معاشی حالت اور روزمرہ زندگی پر مزید گہرے ہوں گے۔‘
کولمبیا یونیورسٹی کے ایک تحقیقی ادارے نے خبردار کیا تھا کہ ایران میں تیل کے کنوؤں کی طویل بندش سے متعلقہ تنصیبات کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں امریکہ کی جانب سے کیا گیا ایران کا بحری محاصرہ ختم ہونے کے بعد بھی ایران کی تیل پیداوار پہلے جیسی سطح پر واپس نہ آ سکنے کا اندیشہ ہے۔
تیل کے کنویں اور پیدواری صلاحیت
کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق 27 اگست 2026 تک خلیج فارس کے ممالک کی خام تیل برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 47 فیصد کم ہو چکی تھیں۔ خلیج فارس کے ممالک کی یومیہ برآمدات، جو سنہ 2025 میں تقریباً ایک کروڑ 70 لاکھ بیرل تھیں، گھٹ کر تقریباً 90 لاکھ بیرل رہ گئی تھیں۔
تیل برآمد کرنے کے ایران کے سب سے اہم مرکز، خارگ جزیرے، کی صورتحال آبنائے ہرمز سے بھی زیادہ تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق 31 جولائی 2026 کے بعد سے خارگ جزیرے پر کوئی آئل ٹینکر لنگر انداز نہیں ہوا۔ ایران کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات اِسی جزیرے سے ہوتی ہیں۔
میرین انٹیلیجنس کمپنی ’ونڈورڈ‘ نے سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر رپورٹ کیا ہے کہ خارگ جزیرے کی تینوں برآمدی جیٹیاں طویل عرصے سے خالی پڑی ہیں۔
انرجی تھنک ٹینک ’سپیکٹس‘ کے جیوپولیٹیکل اُمور کے سربراہ رچرڈ برونز کے مطابق امریکی بحری محاصرہ ایران کی تیل کی برآمدی سرگرمیوں کو شدید متاثر کر رہا ہے۔
اس دباؤ کے باعث تہران نے اپنے کنویں سے تیل کی پیداوار بھی کم کر دی ہے۔
’فورچون‘ کے مطابق ایران کی آئل، گیس اور پیٹروکیمیکل مصنوعات برآمد کرنے والی تنظیم کے ترجمان حمید حسینی نے کہا ہے کہ ایران کے پاس تیل کے کنوؤں کو مستقل نقصان پہنچائے بغیر عارضی طور پر بند کرنے اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ فعال کرنے کی مہارت موجود ہے۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی تو اس سے ایران کی تیل کی پیداواری صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب سمندر میں تیرتے بڑے ٹینکروں میں ذخیرہ کیا گیا ایرانی تیل بھی تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ توانائی کے تجزیہ کار ہمایوں فلکشاہی کے مطابق ایشیائی پانیوں میں ایران کا تیرتا ہوا تیل ذخیرہ ایک وقت میں تقریباً 10 کروڑ بیرل تھا، جو اب کم ہو کر تقریباً تین کروڑ بیرل رہ گیا ہے۔
اُن کے بقول روزانہ لگ بھگ 10 لاکھ بیرل ذخیرہ استعمال ہو رہا ہے، جبکہ اس کی جگہ نیا تیل ذخیرے میں شامل نہیں کیا جا رہا ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو یہ ذخائر بھی جلد ختم ہو سکتے ہیں۔
گیس کے شعبے میں بھی صورتحال حوصلہ افزا نہیں۔
وزارتِ تیل کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق امریکی حملوں کے باعث ملک کی یومیہ گیس پیداوار اور پراسیسنگ کی صلاحیت میں تقریباً 23 کروڑ مکعب میٹر کی کمی آئی ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق ایران میں استعمال ہونے والی تقریباً 28 فیصد گیس بجلی گھروں اور بڑی صنعتوں میں جبکہ تقریباً ایک تہائی گھریلو اور تجارتی شعبوں میں استعمال ہوتی ہے۔ اسی لیے گیس کی طویل قلت نہ صرف صنعتی سرگرمیوں بلکہ عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بھی شدید متاثر کر سکتی ہے۔
بحری محاصرے کے نتیجے میں بندرگاہوں کی بندش
ایران کی بندرگاہیں اُن شعبوں میں شامل ہیں جو فوجی کشیدگی اور بحری پابندیوں سے سب سے پہلے متاثر ہوئے ہیں۔
ملک کی سب سے بڑی تجارتی بندرگاہ ’بندر رجائی‘ ایران کی تقریباً 55 فیصد غیر تیل تجارت اور 70 فیصد کنٹینر تجارت سنبھالتی ہے۔ تاہم آبنائے ہرمز میں پابندیوں اور بحری آمدورفت میں رکاوٹوں کے باعث اس بندرگاہ کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
مختلف جائزوں کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ’بندر رجائی‘ میں تجارتی سرگرمیاں نمایاں طور پر کم ہوئی ہیں، جبکہ بعض رپورٹوں میں کارکنوں کی بڑے پیمانے پر برطرفیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اگست 2026 کے آغاز تک امریکی بحریہ ایران سے منسلک 55 تجارتی جہازوں کا رُخ تبدیل کروا چکی تھی یا انھیں واپس جانے پر مجبور کر چکی تھی۔
اگرچہ ایران صرف بندر رجائی پر انحصار نہیں کرتا، تاہم ملک کی دیگر اہم بندرگاہوں، جن میں بندر امام خمینی، بوشہر، چابہار، امیرآباد اور انزلی شامل ہیں، کی صلاحیت اور اہمیت یکساں نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق شمالی بندرگاہیں جنوبی بندرگاہوں کا مکمل متبادل نہیں بن سکتیں۔
ایرانی پارلیمان کی اقتصادی کمیٹی کے رکن جعفر قادری نے 29 اگست 2026 کو کہا تھا کہ ایران کی مجموعی درآمدات کا 83 فیصد حصہ جنوبی بحری راستوں کے ذریعے آتا ہے۔
ان کے بقول، ’جب کسی ملک کو بحری محاصرے کا سامنا ہو تو سنگین مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ مشرقی، مغربی اور شمالی تجارتی راستے کتنی حد تک اس خلا کو پُر کر سکتے ہیں۔‘
دوسری جانب ایران اور چین کے مشترکہ چیمبر آف کامرس کے سربراہ مجید رضا حریری کا کہنا ہے کہ اگر چین سے سامان سمندری راستے کے بجائے زمینی راستے سے لایا جائے تو ایرانی معیشت کو سالانہ تقریباً 18 ارب ڈالر اضافی لاگت برداشت کرنا پڑتی ہے۔
ان کے مطابق سمندری راستے سے ایک کنٹینر کی اوسط لاگت تقریباً تین ہزار ڈالر ہوتی ہے، جبکہ یہی لاگت زمینی راستے سے بڑھ کر تقریباً 12 ہزار ڈالر تک پہنچ جاتی ہے، جس سے درآمدی اشیا کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
عوام کی مشکلات
سیاسی کشیدگی اور بیرونی تجارت میں رکاوٹوں کے اثرات اب عام ایرانی شہریوں کی زندگی میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ سب سے زیادہ دباؤ ضروری اشیا کی فراہمی کے نظام پر پڑ رہا ہے، جس کا براہِ راست اثر گھریلو اخراجات اور روزمرہ زندگی پر پڑ سکتا ہے۔
ایران اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایندھن، ادویات، گندم، مویشیوں کے چارے اور خوردنی تیل کا ایک حصہ بیرونِ ممالک سے درآمد کرتا ہے۔ تاہم مالی پابندیوں، بحری نقل و حمل میں رکاوٹوں اور ادائیگیوں کے مسائل نے نہ صرف درآمدات کو مشکل بنایا ہے بلکہ ان کی لاگت بھی بڑھا دی ہے۔
ادویات کے شعبے میں صورتحال خاص طور پر تشویش کا باعث بنتی جا رہی ہے۔ ایرانی فارماسسٹ ایسوسی ایشن کے ترجمان ہادی احمدی نے ’خبرآن لائن‘ سے گفتگو میں کہا کہ رواں سال ادویات کی صورتحال گذشتہ برسوں سے مختلف ہے کیونکہ نہ صرف مقامی پیداوار کے لیے درکار خام مال کی کمی ہے بلکہ ادویات کی درآمد بھی معمول کے مطابق نہیں ہو رہی۔
ایندھن کے شعبے کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ قومی آئل پراڈکٹس ڈسٹری بیوشن کمپنی کے اعداد و شمار کے مطابق حالیہ مہینوں میں یومیہ پٹرول کی کھپت 13 کروڑ 50 لاکھ سے 15 کروڑ 40 لاکھ لیٹر تک پہنچ گئی، جبکہ ملکی پیداوار تقریباً 11 کروڑ 20 لاکھ لیٹر یومیہ ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی اعتراف کر چکے ہیں کہ حکومت کے لیے پٹرول درآمد کر کے اسے سابقہ نرخوں پر فروخت کرنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
خوراک کے شعبے میں بھی ایران بدستور درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ محکمہ کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال کے آخری دس ماہ کے دوران ملک نے تقریباً 27 لاکھ 50 ہزار ٹن گندم درآمد کی، جس پر لگ بھگ ایک ارب ڈالر خرچ ہوئے۔
اقوام متحدہ کا ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کے مطابق مقامی کرنسی کی قدر میں کمی، نقل و حمل کے مسائل اور بنیادی اشیا کی درآمد میں رکاوٹوں کے باعث ایران میں خوراک کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ادارے کے مطابق سنہ 2026 کے آغاز میں تہران میں گندم کے آٹے کی قیمت ایک ہی ماہ میں تقریباً 120 فیصد اور سالانہ بنیاد پر تقریباً 200 فیصد تک بڑھ گئی تھی۔
مویشیوں کے چارے کے شعبے میں بیرونی انحصار اور بھی زیادہ ہے۔ ایران ہر سال اوسطاً 80 لاکھ ٹن مکئی، 42 لاکھ ٹن سویابین اور چار لاکھ ٹن جو درآمد کرتا ہے۔ مویشی خوراک میں استعمال ہونے والی تقریباً 95 فیصد مکئی برازیل اور یوکرین سے آتی ہے۔
اسی طرح خوردنی تیل کی منڈی میں بھی ایران اپنی ضروریات کا 80 فیصد سے زیادہ خام خوردنی تیل اور تیل دار بیج بیرونِ ملک سے منگواتا ہے۔ اسی وجہ سے بحری راستوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ خوردنی تیل کی دستیابی اور قیمتوں دونوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
ایران اپنی تجارت کیسے جاری رکھ رہا ہے؟
ایران اپنی طویل زمینی اور بحری سرحدوں اور متعدد ہمسایہ ممالک کے باعث پابندیوں اور بحری رکاوٹوں کے باوجود بعض تجارتی راستے کھلے رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق انہی متبادل راستوں کی بدولت اب تک ملک میں اشیا کی بڑے پیمانے پر قلت پیدا نہیں ہوئی، اگرچہ ان راستوں کی گنجائش اور لاگت روایتی بحری راستوں کے مقابلے میں کم موزوں سمجھی جاتی ہے۔
ایران کے لیے اہم متبادل راستوں میں چین کے ساتھ زمینی اور ریلوے رابطہ شامل ہے۔ مہر نیوز ایجنسی کے مطابق اس وقت چین سے روزانہ ایک مال بردار ٹرین ایران پہنچتی ہے، جو تقریباً 10 لاکھ ٹن سامان ملک تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے۔
شمالی سمت میں روس، وسطی ایشیائی ممالک اور بحیرہ کیسپین کے ذریعے ہونے والی تجارت کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔ ایران گرین ایسوسی ایشن کے نائب چیئرمین امیر حسین افراشتہ پور کے مطابق ایران کی درآمدات میں شمالی راستوں کا حصہ، جو پہلے صرف پانچ سے 10 فیصد تھا، اب بڑھ کر 25 سے 30 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔
عراق، ترکی، پاکستان، آذربائیجان، ترکمانستان، آرمینیا اور افغانستان کے ساتھ زمینی سرحدی گزرگاہیں بھی بدستور فعال ہیں اور تجارت کے تسلسل میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان میں ترکی ایران کے لیے سب سے اہم زمینی تجارتی راستوں میں شمار ہوتا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مالی پابندیاں، نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور بین الاقوامی ادائیگیوں میں مشکلات بدستور ایران کی تجارت کو سست اور محدود کر رہی ہیں۔ ان رکاوٹوں کی وجہ سے سامان کی ترسیل مہنگی اور وقت طلب ہو گئی ہے، جس کے اثرات بالآخر معیشت اور صارفین تک پہنچ سکتے ہیں۔
ایران کے اندر معاشی دباؤ کس طرح نظر آتا ہے؟
ویران بندرگاہیں، انتظار میں کھڑے تجارتی جہاز، پٹرول پمپوں پر قطاریں اور روزمرہ اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتیں دراصل ایران کی معیشت پر پڑنے والے دباؤ کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ دباؤ تین اہم معاشی اشاریوں میں واضح طور پر نظر آتا ہے: بیرونی تجارت میں کمی، زرِ مبادلہ کی قلت اور بڑھتی ہوئی مہنگائی۔
بحری پابندیوں، نئی اقتصادی پابندیوں اور بین الاقوامی مالی لین دین میں مشکلات کے باعث ان مسائل کے اثرات اب عام شہریوں کی زندگی تک پہنچ چکے ہیں۔
جوں جوں درآمدات مشکل اور مہنگی ہوتی جا رہی ہیں، نقل و حمل، انشورنس اور مالیاتی اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ زرِ مبادلہ کی طلب میں اضافہ اور ایرانی ریال کی قدر میں کمی درآمدی اشیا کی لاگت کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جو سامان متبادل راستوں، شمالی بندرگاہوں یا زمینی سرحدوں کے ذریعے ایران پہنچ بھی رہا ہے، وہ صارفین تک پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ قیمت پر پہنچ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ بحران کا مطلب ضروری نہیں کہ اشیا بازار سے غائب ہو جائیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کی فراہمی زیادہ مشکل اور ان تک رسائی عام شہری کے لیے زیادہ مہنگی ہو گئی ہے۔
ماہرِ اقتصادیات جمشید اسدی نے بی بی سی فارسی سے گفتگو میں کہا کہ ’اس صورتحال کا نتیجہ بالآخر مزید مہنگائی کی صورت میں نکلے گا۔ حکومت پہلے ہی شدید بجٹ خسارے کا سامنا کر رہی ہے اور اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے اسے مزید کرنسی چھاپنا پڑ سکتی ہے۔ دوسری جانب درآمدات میں کمی کے باعث بنیادی اشیا کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے، اور یہی عوامل عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ ڈالیں گے۔‘
ان کے مطابق حکومت کو صرف معاشی اشاریوں پر نہیں بلکہ عوام کی روزمرہ زندگی پر پڑنے والے اثرات پر بھی توجہ دینی چاہیے اور سیاسی کشیدگی میں کمی کے لیے راستہ تلاش کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک جانب زندگی گزارنے کے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ دوسری جانب آمدنی اس رفتار سے نہیں بڑھ رہی۔ نتیجتاً ایرانی عوام کی قوتِ خرید میں نمایاں کمی واقع ہو رہی ہے۔