تیہامہ میں حوثیوں کی تیز رفتار پیش قدمی اور سعودی تیل پائپ لائن پر حملہ، ایران جنگ کا دائرہ پھیلنے کا خدشہ, پال ایڈمز، بی بی سی نیوز کے سفارتی امور کے نامہ نگار نگار پال ایڈمز کا تجزیہ
یمن کے جنوبی علاقوں میں تیہامہ کے وسیع ساحلی میدان میں حوثیوں کی تیز رفتار پیش قدمی نے بظاہر بیشتر مبصرین کو حیران کر دیا ہے۔
تیہامہ یمن کا خشک ساحلی میدان ہے۔ حالیہ عرصے تک ’نیشنل ریزسٹنس‘ کے نام سے جانے جانے والے حوثی مخالف اتحاد کے پاس بحیرۂ احمر کے ساحل کے ساتھ خاصا بڑا علاقہ تھا، لیکن چند ہی دنوں میں اس کا بڑا حصہ حوثیوں کے قبضے میں چلا گیا۔
کچھ اندازوں کے مطابق ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز نے یمن کی سٹریٹجیک اہمیت رکھنے والی ساحلی پٹی کے 130 کلومیٹر (81 میل) تک کے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔
یہ کئی برسوں میں حوثیوں کی سب سے نمایاں فوجی کامیابی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 12 سال سے جاری خانہ جنگی، سعودی عرب کے تباہ کن فضائی حملوں اور امریکی، اسرائیلی اور برطانوی فورسز کے حملوں کے باوجود حوثی اب بھی ایک ایسی قوت ہیں جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ان کے مخالفین کے حیران اور حوصلہ پست ہونے کے بعد اس بات کا امکان کم ہے کہ حوثیوں کو جلد وہاں سے بے دخل کیا جا سکے گا۔
برسلز میں قائم یورپی انسٹیٹیوٹ آف پیس کے سینیئر تجزیہ کار ہشام العمیسی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اب جبکہ وہ وہاں موجود ہیں، وہ اپنی پوزیشن مضبوط کر لیں گے اور انھیں وہاں سے نکالنا کہیں زیادہ مہنگا پڑے گا۔‘
یقیناً حوثی اکیلے نہیں ہیں۔ انھیں ایران کی حمایت حاصل ہے اور تہران کے لیے یہ حمایت اس وقت مزید اہم ہو گئی ہے جب ایران کے نام نہاد ’محورِ مزاحمت‘ کے دیگر حصوں، یعنی لبنان کی حزب اللہ، غزہ میں حماس اور شام میں بشار الاسد کی حکومت کو مشکلات اور شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ہشام العمیسی کے مطابق ’لہٰذا انھوں نے اپنی حمایت حوثیوں کی جانب منتقل کر دی اور ظاہر ہے کہ انھیں اس حمایت کی ضرورت ہے۔‘
اگرچہ بیشتر تجزیہ کار اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ حوثیوں کو محض ایرانی کٹھ پتلی قرار دینا درست نہیں، تاہم گزشتہ چند روز کے واقعات ایک نئی اور پریشان کن حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے پیمانے پر مشترکہ حملہ شروع کیے جانے کے سات ماہ بعد تہران کی حکومت اب دنیا کی صرف ایک نہیں بلکہ دو اہم ترین بحری گزرگاہوں پر اختیار رکھتی ہے، خلیجِ فارس کے دہانے پر واقع آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر تک رسائی کا راستہ باب المندب، جو نہر سویز کی جانب جانے کا اہم راستہ بھی ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے امریکہ سے مداخلت کی اپیلیں اب تک بے نتیجہ رہی ہیں۔
ایگزیوس نے لکھا ہے کہ امریکہ ’یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش میں مبتلا ہے اور سعودی عرب کے لیے اپنی حمایت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ساتھ ہی براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز بھی کرنا چاہتا ہے۔‘
تاہم سعودی عرب میں تشویش کی وجہ صرف باب المندب کو لاحق ممکنہ خطرہ نہیں ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر میں سعودی عرب کی مشرق-مغرب تیل پائپ لائن پر حوثیوں کے بظاہر میزائل اور ڈرون حملے کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ یہ پائپ لائن رواں سال کے آغاز میں آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد تیل برآمد کرنے کے لیے ایک اہم متبادل راستہ بن گئی ہے۔
ان تصاویر سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ایران کے یمنی اتحادی ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ سے پیدا ہونے والے معاشی دباؤ میں مزید اضافہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اگر ایران نے براہِ راست اس حملے کا حکم نہ بھی دیا ہو، تب بھی اس حملے سے واضح طور پر ایران کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔