حوثیوں کی یمن میں بڑی پیش قدمی: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
یمن کے حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے مغربی ساحل پر ایک بڑی پیش قدمی کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد اہم بین الاقوامی بحری تجارتی راستے باب المندب پر ان کی گرفت مزید مضبوط ہو گئی ہے۔
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ ایران کے حمایت یافتہ اس گروہ نے باب المندب کی آبنائے میں آبی گزر گاہ کے دہانے پر واقع پیریم جزیرے پر قبضہ کر لیا ہے۔
اس سے قبل یہ پیش رفت سامنے آئی تھی کہ فوجی ذرائع کے مطابق حوثیوں نے سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز سے اہم ساحلی شہر مخا کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ ایک یمنی فوجی عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حوثی اب پوری ساحلی پٹی پر قابض ہیں۔

حوثیوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں، تاہم انھوں نے سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی اپنی دھمکی دہرائی۔
اس معاملے سے واقف دو ذرائع نے بی بی سی کے امریکہ میں شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے حوثیوں کی تیز رفتار پیش قدمی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ذاتی طور پر زور دیا ہے کہ وہ ان کے خلاف فوجی کارروائی کریں۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے اب تک امریکی فوج کو براہِ راست مداخلت سے دور رکھا ہے اور صرف انٹیلی جنس اور اہداف کی نشاندہی سے متعلق مدد کی پیشکش کی ہے۔
بعد ازاں ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا: ’علاقائی استحکام کے حوالے سے ہم سعودی عرب اور جمہوریہ یمن کی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔‘
جمعہ کے روز یمن کی حکومت نواز فورسز پیریم (جسے میون بھی کہا جاتا ہے) کے علاقے سے پسپا ہو گئیں۔
عینی شاہدین اور خبر رساں اداروں کے مطابق اس کے بعد حوثی فورسز جزیرے میں داخل ہو گئیں۔
بعد میں حوثیوں نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حمایت یافتہ فورسز کو نکال باہر کرنے کے لیے ان کی فوجی کارروائی ’کامیاب‘ رہی ہے اور ’سعودی بحری جہازوں کے علاوہ تمام کمپنیوں کے لیے سمندری آمد و رفت محفوظ ہے۔‘
حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ یہ ’وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی‘ تین ستمبر کو سعودی عرب کی جانب سے ’ہمارے عزیز عوام کے خلاف کھلی جارحیت‘ کے جواب میں شروع کی گئی تھی۔
سریع نے یہ بھی کہا کہ حوثیوں نے تعز اور الحدیدہ کے علاقوں کے چھ اضلاع سے ’دشمن کی‘ فورسز کو نکال باہر کیا ہے، اور دعویٰ کیا کہ سینکڑوں فوجی ہلاک، زخمی یا گرفتار ہوئے ہیں۔
تاہم حوثیوں کے بیان میں پیریم جزیرے کا ذکر نہیں کیا گیا۔
سعودی عرب نے حالیہ پیش رفت پر تا حال عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
پیریم جزیرہ باب المندب کی آبنائے کے سب سے تنگ حصے پر واقع ہے، اور امریکہ و ایران کے درمیان تنازع کے باعث آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے بعد اس علاقے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
سعودی عرب ایشیا میں اپنے صارفین تک تیل کی ترسیل کے لیے بحیرۂ احمر اور باب المندب کی آبنائے پر انحصار کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
حوثیوں، یمن کی حکومت اور سعودی عرب کے درمیان تنازع میں حالیہ شدت تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بھی بنی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایک ہفتہ قبل جنوب مغربی یمن میں حوثیوں کی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے بھی حکومت نواز فورسز کی حمایت میں مغربی یمن کے حوثی زیرِ کنٹرول علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ حوثیوں نے جنوبی سعودی عرب کے شہروں اور تیل کی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
2015 میں حوثیوں نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا، جس کے بعد خانہ جنگی میں سعودی فوجی مداخلت شروع ہوئی۔اس وقت حوثیوں کا یمن کے بڑے حصے، بشمول دار الحکومت صنعا، پر کنٹرول ہے۔
اس وقت حوثیوں کا یمن کے بڑے حصے، بشمول دار الحکومت صنعا، پر کنٹرول ہے۔


















