پاکستان 133 رنز پر ڈھیر: ’سات کھلاڑی اور دو کوچ بدلنے سے مسائل حل نہیں ہوتے‘

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

ایجبسٹن میں تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم ایک مرتبہ پھر انگلینڈ کی بولنگ کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور اس کے تمام کھلاڑی 133 رنز کے مجموعی سکور پر پویلین واپس لوٹ گئے۔

پاکستان کی جانب سے مڈل آرڈر بیٹر سعود شکیل، بولر محمد عباس کے علاوہ کوئی زیادہ دیر تک کریز پر نہیں رُک سکا۔ سعود شکیل نے 43 اور محمد عباس نے 21 رنز بنائے۔ ان کے علاوہ دو ہندسوں میں داخل ہونے والے تیسرے کھلاڑی رضا اللہ تھے، جنھوں نے 11 رنز بنائے۔

ان کے علاوہ کپتان بابر اعظم سمیت کوئی بھی کھلاڑی ڈبل فگرز میں حاصل نہیں ہو سکا۔

انگلینڈ کی جانب سے جاش ٹنگ نے چار اور جوفرا آرچر اور اولی رابنسن نے تین، تین وکٹیں حاصل کیں۔

ٹیم میں تبدیلیاں بھی کارآمد ثابت نہ ہو سکیں

انگلینڈ کے کپتان جو روٹ نے ایجبسٹن میں ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا تھا، جبکہ اس میچ میں پاکستانی ٹیم میں تین کھلاڑیوں نے ڈیبیو کیا جن میں غازی غوری، محمد عمران اور رضا اللہ شامل ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کو پہلے دونوں ٹیسٹ میچوں میں شکست ہوئی تھی جس کے بعد سکواڈ میں بڑے پیمانے پر رد و بدل کیا گیا تھا۔

ایجبسٹن ٹیسٹ کی شروعات کے پہلے گھنٹے میں ہی پاکستان نے اپنی چار وکٹیں گنوا دی تھیں۔

بی بی سی ٹیسٹ میچ سپیشل کے مطابق ایسا پہلا بار ہوا ہے کہ انگلینڈ میں پہلی اننگز میں کسی ٹیم کے پہلے پانچ بلے باز 10 رنز تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔ یہ وہ کارنامہ انجام ہے جو اس سے پہلے کسی بھی ٹیم نے سرانجام نہیں دیا تھا۔

پاکستان کی پہلی وکٹ آٹھ رنز پر گِری جب صائم ایوب صفر پر اولی رابنسن کا شکار بنے۔ یہ رابنسن کی 100ویں ٹیسٹ وکٹ تھی۔ دوسرے اوپنر آذان اویس نے چوکوں کی مدد سے 9 رنز بنائے لیکن ان کی وکٹ جوفرا آرچر نے حاصل کی۔

تیسرے نمبر پر آئے عبد اللہ شفیق تین رنز بنانے کے بعد رابنسن کا دوسرا شکار بنے۔ چوتھی وکٹ شان مسعود کی گِری جو آرچر کی شارٹ گیند پر مڈ وکٹ کو کیچ دے بیٹھے۔

پانچویں وکٹ کپتان بابر اعظم کی گِری جنھوں نے صرف سات رنز کی باری کھیلی۔ محمد رضوان کی جگہ ڈیبیو کرنے والے وکٹ کیپر غازی غوری آؤٹ ہونے والے چھٹے کھلاڑی تھے۔

ڈیبیو کرنے والے دوسرے کھلاڑی محمد عمران کی وکٹ 86 رنز پر گِری۔

لنچ کے وقفے تک پاکستان نے 100 رنز پر سات وکٹیں گنوا دی تھیں۔

اس کے بعد 101 کے مجموعی سکور پر رضا اللہ، 107 رنز پر سعود شکیل اور 133 کے مجموعی سکور پر محمد عباس آؤٹ ہوئے۔

سرفراز احمد اور مائیک ہیسن کے لیے ’مشکل وقت‘

تیسرے ٹیسٹ کی شروعات سے قبل نہ صرف پاکستان نے اپنے سکواڈ میں تبدیلیاں کی تھیں بلکہ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گُل کو بھی ان کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کر دیا تھا، جس کے بعد مائیک ہیسن کو ہی ٹیسٹ ٹیم کا کوچ مقرر کیا گیا تھا۔

میچ کے دوران کمنٹیٹر ناصر حسین نے پاکستان کے کوچ مائیک ہیسن سے پوچھا کہ کیا انھوں نے ٹیسٹ کوچ بننے کی پیشکش پر یہ سوچا کہ یہ سابقہ کوچز کے ساتھ ناانصافی ہوگی اور کل ان کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہےـ

مائیک ہیسن نے جواب میں کہا کہ ’جب میں آیا تو فیصلہ ہو چکا تھا۔ کوئی کوچ نہیں تھا۔ میں نے آ کر سرفراز سے بات چیت کی جو ہم دونوں ہی کے لیے یہ کافی مشکل تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کی توجہ ٹیم کو واپس اپنے پیروں پر کھڑا کرنے پر مرکوز ہے۔

انھوں نے جیسن گلسپی کے تبصروں سے متعلق سوال پر کہا کہ ’کچھ چیزیں قابل قبول ہیں۔ کچھ نہیں ہیں۔ کچھ چیزیں آپ کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔‘

مائیک ہیسن نے کہا کہ وہ سات نئے کھلاڑیوں کی سلیکشن کے عمل کا حصہ تھے۔ جبکہ ان کے مطابق ایجبسٹن ٹیسٹ سے قبل وہ جاپان میں ایشیئن گیمز کی تیاریوں میں مصروف تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے کھلاڑیوں میں ٹیلنٹ ضرور ہے اور وہ ان کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے پُرامید ہیں۔

مائیک ہیسن نے کہا کہ بابر اعظم کو سابقہ ٹیسٹ میں کم ٹریننگ مل پائی تھی مگر اس بار انھیں تین اضافی دن ملے۔

ٹیم میں کی جانے والی تبدیلیوں کے باوجود خراب کارکردگی پر کرکٹ کمنٹیٹر عاطف نواز نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا: ’معلوم ہوا کہ سیریز کے دوران سات کھلاڑیوں اور دو کوچز کو نکال دینا جادوئی طور پر تمام مسائل حل نہیں کرتا۔‘

سکواڈ میں تبدیلیوں کا دفاع نہیں کر سکتا: رمیز راجہ

ٹیسٹ میچ کے پہلے روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستانی کمنٹیٹر رمیز راجہ نے کہا کہ ٹیسٹ سے قبل پاکستان کی جانب سے سات کھلاڑیوں کو واپس بھیجنے جیسا واقعہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ 'مجھے نہیں معلوم کہ اس کا دفاع کیسے کرتے ہیں کیونکہ آپ اس کا دفاع نہیں کر سکتے۔'

انھوں نے کہا کہ 'صورتحال آپ کے سامنے ہے۔ مجھے امید ہے کہ کھلاڑی ذہنی طور پر اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بابر اعظم کے لیے یہ مشکل کام ہو گا۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ بابر اعظم کو بھی 'شاید یہ معلوم نہیں ہوگا کہ اردگرد کیا ہو رہا ہے۔ بطور کپتان یہ خبر رشتہ داروں اور میڈیا سے حاصل کرنا حوصلہ شکن ہے۔'

پاکستانی بیٹنگ 'مایوس کن، شرمناک'

سوشل میڈیا پر اکثر صارفین پاکستانی بیٹرز کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دے رہے ہیں۔

برطانوی صحافی پیئرز مورگن نے تبصرہ کیا کہ ’پاکستان کی بیٹنگ انتہائی مایوس کن رہی۔ یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ گذشتہ برسوں میں اس ملک نے کتنے عظیم کھلاڑی اور ٹیمیں پیدا کی ہیں۔ یہ شرمناک ہے۔‘

ایکس پر لارنس بوتھ نے لکھا کہ ’یہ کہیں سے بھی کوئی مقابلہ محسوس نہیں ہو رہا۔‘

کرکٹ تجزیہ کار ایاز میمن کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ میچ کے پہلے ایک گھنٹے میں ہی چار وکٹیں گِر گئیں جس سے ’پاکستانی بیٹنگ مکمل تباہی کا منظر پیش کر رہی ہے۔‘

اسی طرح عاطف نواز نے ایکس پر لکھا کہ ’میں پوری طرح سمجھتا ہوں کہ (پی سی بی) انتظامیہ، سلیکٹرز اور مسلسل افراتفری نے پاکستانی ٹیم کے لیے حالات آسان نہیں بنائے۔ لیکن پاکستان کے بلے بازوں کو بھی اپنی کارکردگی کا جوابدہ ہونا چاہیے۔

'شاٹس کا انتخاب انتہائی ناقص رہا ہے۔ سعود شکیل کو چھوڑ کر، ایک بار پھر انتہائی مایوس کن کارکردگی۔'

احسن افتخار کی رائے ہے کہ پاکستانی بیٹرز ’ڈگمگاتی سیم کا مقابلہ جارحانہ انداز میں کر سکتے تھے۔ گیند کو زور سے مار کر اس کی سیم کو نرم بنا سکتے تھے۔ لیکن پاکستان کی یہ بیٹنگ ان بولرز کا مقابلہ کرنے کے لیے بہت کمزور ہے اور حالیہ واقعات کے بعد ایسی صورت میں یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ بیٹنگ کے لیے سب سے سازگار وکٹوں پر بھی بے خوف انداز اپنا پائیں گے۔‘

مغیرہ رئیس نے لکھا کہ ’ایک بار پھر بابر اعظم فیل ہو گیا۔ اب اس کے کچھ فین کہیں گے کہ بال نیچے بیٹھ گئی مگر ایسا بالکل نہیں، بہت ہی خراب ٹیکنیک ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ 'پہلے بولر نے دو گیندوں کو باہر نکالا اور اس (تیسری) گیند کو اندر لایا۔ مگر اس کا بیلنس اور باڈی کی پوزیشن اتنی خراب تھی کہ بندہ کیا کہے۔'

ولید نامی صارف نے طنز کیا کہ 'بابر اعظم 93 رنز کے معمولی فرق سے انٹرنیشنل کرکٹ میں ایک اور سنچری نہ کر سکے۔'

صحافی قادر خواجہ نے سوال کیا کہ 'کنگ بابر اعظم بڑی اننگز کیوں نہیں کھیل پا رہے؟ وہ کنگ ہیں، ہمیں ان سے پرفارمنس چاہیے۔ اب لوگ کہیں گے باقیوں کی بات بھی کر لیا کریں تو باقیوں کو لوگ کنگ نہیں کہتے۔'