ایجبسٹن میں بھی پاکستانی بیٹنگ ڈھے گئی: ’یہ کہیں سے بھی مقابلہ نہیں لگ رہا‘

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 4 منٹ

ایجبسٹن میں انگلینڈ نے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں پہلے بولنگ کرتے ہوئے کھانے کے وقفے تک 100 رنز پر پاکستان کی سات وکٹیں حاصل کر لی ہیں۔

پاکستان کی طرف سے صرف سعود شکیل کے رنز ڈبل ڈجٹ میں داخل ہو سکے جبکہ انگلش اٹیک کے سامنے کپتان بابر اعظم سمیت ٹاپ آرڈر پوری طرح بے بس دکھائی دیا۔

انگلش بولر جاش ٹنگ نے تین جبکہ اولی رابنسن اور جوفرا آرچر نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔

انگلش کپتان جو روٹ نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا تھا جبکہ اس میچ میں پاکستانی ٹیم میں تین کھلاڑیوں نے ڈیبیو کیا جن میں غازی غوری، محمد عمران اور رضا اللہ شامل ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کو پہلے دونوں ٹیسٹ میچوں میں شکست ہوئی تھی جس کے بعد سکواڈ میں بڑے پیمانے پر رد و بدل کیا گیا تھا۔

بابر اعظم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کھانے کے وقفے تک 100 رنز

ایجبسٹن ٹیسٹ کی شروعات کے پہلے گھنٹے میں ہی پاکستان نے اپنی چار وکٹیں گنوا دی تھیں۔

بی بی سی ٹیسٹ میچ سپیشل کے مطابق ایسا پہلا بار ہوا ہے کہ انگلینڈ میں پہلی اننگز میں کسی ٹیم کے پہلے پانچ بلے باز 10 رنز تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔ یہ وہ کارنامہ انجام ہے جو اس سے پہلے کسی بھی ٹیم نے سرانجام نہیں دیا تھا۔

پاکستان کی پہلی وکٹ آٹھ رنز پر گِری جب صائم ایوب صفر پر اولی رابنسن کا شکار بنے۔ یہ رابنسن کی 100ویں ٹیسٹ وکٹ تھی۔ دوسرے اوپنر آذان اویس نے چوکوں کی مدد سے 9 رنز بنائے لیکن ان کی وکٹ جوفرا آرچر نے حاصل کی۔

تیسرے نمبر پر آئے عبد اللہ شفیق تین رنز بنانے کے بعد رابنسن کا دوسرا شکار بنے۔ چوتھی وکٹ شان مسعود کی گِری جو آرچر کی شارٹ گیند پر مڈ وکٹ کو کیچ دے بیٹھے۔

پانچویں وکٹ کپتان بابر اعظم کی گِری جنھوں نے صرف سات رنز کی باری کھیلی۔ محمد رضوان کی جگہ ڈیبیو کرنے والے وکٹ کیپر غازی غوری آؤٹ ہونے والے چھٹے کھلاڑی تھے۔

ڈیبیو کرنے والے دوسرے کھلاڑی محمد عمران کی وکٹ 86 رنز پر گِری۔

لنچ کے وقفے تک پاکستان نے 100 رنز پر سات وکٹیں گنوا دی تھیں۔

شان مسعود

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستانی بیٹنگ 'مایوس کن، شرمناک'

سوشل میڈیا پر اکثر صارفین پاکستانی بیٹرز کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دے رہے ہیں۔

برطانوی صحافی پیئرز مورگن نے تبصرہ کیا کہ ’پاکستان کی بیٹنگ انتہائی مایوس کن رہی۔ یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ گذشتہ برسوں میں اس ملک نے کتنے عظیم کھلاڑی اور ٹیمیں پیدا کی ہیں۔ یہ شرمناک ہے۔‘

ایکس پر لارنس بوتھ نے لکھا کہ ’یہ کہیں سے بھی کوئی مقابلہ محسوس نہیں ہو رہا۔‘

کرکٹ تجزیہ کار ایاز میمن کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ میچ کے پہلے ایک گھنٹے میں ہی چار وکٹیں گِر گئیں جس سے ’پاکستانی بیٹنگ مکمل تباہی کا منظر پیش کر رہی ہے۔‘

اسی طرح عاطف نواز نے ایکس پر لکھا کہ ’میں پوری طرح سمجھتا ہوں کہ (پی سی بی) انتظامیہ، سلیکٹرز اور مسلسل افراتفری نے پاکستانی ٹیم کے لیے حالات آسان نہیں بنائے۔ لیکن پاکستان کے بلے بازوں کو بھی اپنی کارکردگی کا جوابدہ ہونا چاہیے۔

'شاٹس کا انتخاب انتہائی ناقص رہا ہے۔ سعود شکیل کو چھوڑ کر، ایک بار پھر انتہائی مایوس کن کارکردگی۔'

بابر اعظم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

احسن افتخار کی رائے ہے کہ پاکستانی بیٹرز ’ڈگمگاتی سیم کا مقابلہ جارحانہ انداز میں کر سکتے تھے۔ گیند کو زور سے مار کر اس کی سیم کو نرم بنا سکتے تھے۔ لیکن پاکستان کی یہ بیٹنگ ان بولرز کا مقابلہ کرنے کے لیے بہت کمزور ہے اور حالیہ واقعات کے بعد ایسی صورت میں یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ بیٹنگ کے لیے سب سے سازگار وکٹوں پر بھی بے خوف انداز اپنا پائیں گے۔‘

مغیرہ رئیس نے لکھا کہ ’ایک بار پھر بابر اعظم فیل ہو گیا۔ اب اس کے کچھ فین کہیں گے کہ بال نیچے بیٹھ گئی مگر ایسا بالکل نہیں، بہت ہی خراب ٹیکنیک ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ 'پہلے بولر نے دو گیندوں کو باہر نکالا اور اس (تیسری) گیند کو اندر لایا۔ مگر اس کا بیلنس اور باڈی کی پوزیشن اتنی خراب تھی کہ بندہ کیا کہے۔'

ولید نامی صارف نے طنز کیا کہ 'بابر اعظم 93 رنز کے معمولی فرق سے انٹرنیشنل کرکٹ میں ایک اور سنچری نہ کر سکے۔'

صحافی قادر خواجہ نے سوال کیا کہ 'کنگ بابر اعظم بڑی اننگز کیوں نہیں کھیل پا رہے؟ وہ کنگ ہیں، ہمیں ان سے پرفارمنس چاہیے۔ اب لوگ کہیں گے باقیوں کی بات بھی کر لیا کریں تو باقیوں کو لوگ کنگ نہیں کہتے۔'