دوارکا میں ’چار منٹ میں مکمل‘ ہونے والی پاکستانی بحریہ کی کارروائی: جب انڈیا کو بطور ثبوت اپنے بحری جہاز میڈیا کے سامنے لانا پڑے

Dwarka

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستانی بحریہ کے جہاز کی سنہ 1951 میں لی گئی فائل فوٹو
    • مصنف, وقار مصطفیٰ
    • عہدہ, صحافی، محقق
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

سات ستمبر 1965 کی رات بحیرۂ عرب خاموش تھا کیوںکہ ایک روز پہلے چھڑنے والی انڈیا اور پاکستان کی جنگ کے محاذ پنجاب اور کشمیر میں تھے۔ مگر اِسی سمندر میں ریڈیو خاموشی برقرار رکھتے ہوئے سات پاکستانی جنگی جہاز انڈیا کے ساحل کی طرف بڑھ رہے تھے۔

ان بحری جنگی جہازوں کا ہدف کراچی سے تقریباً 210 بحری میل دور واقع انڈیا کی ریاست گجرات کا ساحلی شہر دوارکا تھا۔

اقبال فضل قادر، کموڈور ایس ایم انور کی قیادت میں دوارکا کے ریڈار سٹیشن پر حملہ کرنے والے سات جہازوں پر مشتمل بحری بیڑے میں شامل تھے اور وہ ’عالمگیر‘ نامی جہاز کے کمانڈنگ افسر تھے۔

دیگر چھ جہاز تھے ’ببر‘ (کمانڈر کیپٹن لودھی)، ’خیبر‘ (کیپٹن حنیف)، ’بدر‘ (کمانڈر ملک)، ’ٹیپو سلطان‘ (کمانڈر امیر اسلم)، ’جہانگیر‘ (کمانڈر کے ایم حسین) اور ’شاہ جہاں‘ (کمانڈر ظفر شمسی)۔

سنہ 2018 میں چھپنے والے ایک مضمون میں اقبال فضل قادر لکھتے ہیں کہ سات ستمبر کی صبح کراچی سے 50 میل دور گشت کرتے ہوئے اُن کے بیڑے کو حکم ملا کہ آدھی رات کو دوارکا کے ریڈیو بیکن کو نشانہ بنایا جائے، جو جمنا نگر سے کراچی پر انڈین فضائی حملوں کی رہنمائی کر رہا تھا۔

اقبال فضل کے مطابق ’اگر کسی انڈین جاسوس طیارے کو ابتدا ہی میں ہماری موجودگی کا علم ہو جاتا تو ہدف ظاہر ہونے کا خطرہ تھا، اس لیے پاکستانی بحری بیڑا پہلے بمبئی (موجودہ ممبئی) کی سمت بڑھا۔‘

’انڈین بحریہ کے پاس رات کو پرواز کرنے کی صلاحیت نہیں تھی، چنانچہ سورج غروب ہونے کے بعد ہم نے رُخ بدل کر گولا باری کے لیے مقررہ ابتدائی مقام کی طرف سفر شروع کر دیا۔‘

وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’ہمارا بیڑا نصف شب کے 25 منٹ بعد (رات 12:25 پر) دوارکا سے سات میل کے فاصلے پر فائرنگ کی پوزیشن میں پہنچ گیا۔ گولا باری کا حکم دیا گیا اور صرف چار منٹ میں کارروائی مکمل ہو گئی۔‘

’گولے ہدف کے پورے علاقے میں پھٹتے دکھائی دیے۔ گولا باری شروع ہوتے ہی بعض جہازوں نے ساحل سے فائرنگ کی اطلاع دی، لیکن کوئی گولا ہمارے قریب نہیں گِرا۔ ساحل سے ہونے فائرنگ کو جلد ہی خاموش کروا دیا گیا۔‘

’اصل ہدف ایک متحرک فضائی بیکن تھا۔ ’عالمگیر‘ پر میں نے ریلوے کے مارشلنگ یارڈ کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ مجھے خوشی ہوئی کہ بعد میں انڈین ریکارڈ میں مارشلنگ یارڈ کی ایک عمارت اور ریلوے کے ذخیرے کو پہنچنے والے نقصان کا ذکر موجود تھا۔‘

’گولا باری مکمل ہونے کے بعد ہمیں توقع تھی کہ 40 میل دور جمنا نگر کے فضائی اڈے سے ردعمل آئے گا، چنانچہ دستے نے فضائی دفاعی تشکیل اختیار کر لی۔‘

لیکن، اقبال فضل کے مطابق، اس کے بعد چند واقعات تیزی سے پیش آئے۔

Dwarka

،تصویر کا ذریعہPakistan Maritime Museum

،تصویر کا کیپشنپاکستان میری ٹائم میوزیم میں دوارکا کارنر، جس میں اس مشن میں حصہ لینے والے جہازوں کے پرزے رکھے گئے ہیں
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

’گولا باری کے دوران پورے چاند کی روشنی تھی، لیکن کارروائی ختم ہوتے ہی جہازوں کے اُوپر نچلی سطح پر موجود بادل چھا گئے۔ اسی دوران ’ببر‘، ’بدر‘ اور ’عالمگیر‘ نے مشرق کی سمت سے آنے والے طیاروں کو ریڈار پر محسوس کیا۔ میں نے خود ریڈار پر دیکھا کہ طیاروں کے عکس تین مرتبہ ہمارے جہازوں کے اُوپر سے گزرے اور غالباً بادلوں کی نچلی سطح کے باعث وہ کچھ نہ کر سکے۔‘

اُن کے مطابق کچھ دیر بعد بادل اچانک اِسی طرح غائب ہو گئے جیسے نمودار ہوئے تھے۔

اقبال فضل نے لکھا کہ ’میں ابھی اپنے کیبن میں واپس پہنچا ہی تھا کہ جہاز کی ایک بھاری توپ چلنے کی آواز آئی۔ ایک مدھم سفید روشنی جہاز کی طرف آتی دکھائی دی۔ کسی کو کچھ کہنے کا موقع ملتا، اس سے پہلے ’بی‘ 4.7 انچ توپ نے دوبارہ فائر کیا۔ آسمان میں ایک چمک پیدا ہوئی اور وہ روشنی غائب ہو گئی۔‘

وہ لکھتے ہیں کہ ’تھوڑی دیر بعد ببر نے اپنی دائیں اگلی سمت میں گرتے ہوئے ملبے کے پانی میں گرنے کی اطلاع دی۔‘

’اس توپ کے عملے، بالخصوص پیٹی آفیسر غلام حسین، نے پُل یا گن کنٹرول افسر سے کوئی حکم ملنے کا انتظار کیے بغیر قریب آتے ہوئے طیارے کو نشانہ بنایا اور دوسری گولی میں اسے مار گرایا۔ اس وقت توپ کا نظام ریڈار کے کنٹرول میں بھی نہیں تھا۔‘

اقبال فضل کے مطابق 18 ستمبر کی صبح جب بحری بیڑہ کراچی سے تقریباً 60 میل جنوب مغرب میں گشت کر رہا تھا اور کَچھ کے رخ پر تھا۔ ’چالیس سمندری میل کے فاصلے پر عالمگیر نے انڈین جہازوں کے الٹرا ہائی فریکوئنسی ریڈیو نیٹ پکڑ لیے۔ پاکستانی فلوٹیلا مکمل ریڈیو خاموشی اختیار کیے ہوئے تھا۔ یہ ہمارے لیے حیران کُن تھا کہ انڈین دستہ اپنے جہازوں کے درمیان مسلسل بات چیت کر رہا تھا، ایسی صورتحال جس کی ہم امن کے زمانے میں بھی اجازت نہ دیتے۔‘

’تاہم 32 میل کے فاصلے پر ببر اور انڈین جہازوں، دونوں نے ایک دوسرے کو ریڈار پر دیکھ لیا۔

’دونوں دستوں کے کمانڈروں نے اپنے اپنے ہیڈکوارٹرز کو دشمن سے رابطے کی اطلاع دی۔ یہ اطلاعات ہمیشہ سادہ زبان میں دی جاتی تھیں، پاکستان اورانڈیا دونوں میں انگریزی استعمال ہوتی تھی۔ انڈین دستہ فوراً مڑ گیا اور تیز رفتاری سے کَچھ کی طرف واپس جانے لگا۔ دونوں کی زیادہ سے زیادہ رفتار یکساں تھی، اس لیے کامیاب تعاقب ممکن نہ تھا۔‘

بعد میں انڈیا میں شائع ہونے والی کتابوں سے معلوم ہوا کہ انڈین دستے کی قیادت کروزر ’میسور‘ پر سوار ریئر ایڈمرل سیمپسن کر رہے تھے۔

اقبال فضل لکھتے ہیں کہ جلد ہی جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا، تاہم سمندر میں موجود جہازوں کی گشت مزید دو ہفتے جاری رہی۔

انڈیا کے وائس ایڈمرل جی ایم ہیرانندانی نے اپنی کتاب ’ٹرانزیشن ٹو گارڈین شپ: دی انڈین نیوی‘ میں لکھا ہے کہ دوارکا پر حملے نے انڈیا میں شدید غم و غصہ پیدا کیا اور انڈین نیوی کو سُبکی کا سامنا کرنا پڑا۔

’پارلیمان میں سوال اٹھائے گئے کہ بحریہ کہاں تھی اور کیا کر رہی تھی۔ حقیقت یہ تھی کہ بحری بیڑے کے جہاز خلیجِ بنگال سے ابھی ابھی بمبئی پہنچے تھے اور 10 ستمبر کو دوبارہ سمندر میں روانگی سے قبل رسد اور دیگر ضروریات پوری کر رہے تھے۔ 23 ستمبر کو جنگ بندی تک بحری بیڑے نے انڈیا کے شمال مشرقی ساحل کے سامنے گشت جاری رکھا، تاہم اس دوران میں پاکستانی بحریہ کے کسی بھی یونٹ سے اس کا کوئی سامنا نہیں ہوا۔‘

Dwarka

،تصویر کا ذریعہIndian Navy

،تصویر کا کیپشن1965 کی جنگ میں حصہ لینے والے انڈین جنگی جہاز (فائل فوٹو)

انڈین بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل کوہلی نے اپنی کتاب ’وی ڈیرڈ‘ میں لکھا ہے کہ انڈین بحریہ کے اعلیٰ افسران شرمندہ تھے اور اُن کے لیے سر بلند کرنا مشکل ہو گیا تھا۔‘

دوارکا پر گولا باری اپنے آپ میں آخری مقصد نہیں تھی۔ اس کارروائی کے پیچھے ایک اور زیادہ اہم منصوبہ تھا —غازی۔

پاکستان کی واحد آبدوز، پی این ایس غازی، پہلے ہی بمبئی کے قریب سمندر میں اپنی پوزیشن سنبھال چکی تھی۔ منصوبہ یہ تھا کہ دوارکا پر حملہ انڈیا کی بحریہ کے بڑے جنگی جہازوں کو بمبئی سے باہر نکلنے پر مجبور کرے گا، جہاں غازی اُن کا انتظار کر رہی ہو گی۔

یہ منصوبہ اس وقت کے بحری توازن کو دیکھتے ہوئے غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔

پاکستان کے پاس سنہ 1965 میں ایک کروزر، سات ڈسٹرائرز اور فریگیٹس اور ایک آبدوز تھی، جبکہ انڈیا کی بحریہ کے پاس ایک طیارہ بردار جہاز، دو کروزر اور 19 ڈسٹرائرز اور فریگیٹس تھے۔ پاکستانی بحری حکمتِ عملی کا ایک بنیادی اصول یہ تھا کہ عددی برتری رکھنے والے انڈیا کے بیڑے کو کھلے سمندر میں اپنی شرائط پر مقابلہ کرنے کا موقع نہ دیا جائے۔

مگر جس لمحے دوارکا پر گولے برس رہے تھے، بمبئی کی بندرگاہ سے متوقع جواب نہیں آیا۔

Dwarka

،تصویر کا ذریعہPakistan Maritime Museum

،تصویر کا کیپشنپاکستان میری ٹائم میوزیم میں اُن سات جنگی جہازوں کی گھنٹیاں رکھی گئی ہیں جنھوں نے آپریشن دوارکا میں حصہ لیا

اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انڈین نیوی کے کئی بڑے جہاز اُس وقت مرمت یا ریفٹنگ کے مرحلے میں تھے۔

انڈیا کے بریگیڈیئر امر چیمہ اپنی کتاب ’دی کرمزن چنار: دی کشمیر کانفلکٹ، اے پولیٹیکو ملٹری پرسپیکٹیو‘ میں سنہ 1965 کی جنگ کے بحری محاذ کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پاکستان کو معلوم تھا کہ انڈیا کے بحری بیڑے کا بڑا حصہ خلیجِ بنگال میں موجود ہے، جبکہ اس کا طیارہ بردار جہاز وکرانت اور کروزر دہلی ممبئی میں مرمت کے مرحلے میں تھے۔

’دوسری طرف پاکستانی آبدوز غازی دو ستمبر کو کراچی سے روانہ ہو چکی تھی۔ اس کے ساتھ سات جنگی جہازوں پر مشتمل پاکستانی بحری دستہ بھی تھا، جس میں کروزر بابر، پانچ ڈسٹرائر اور ایک فریگیٹ شامل تھے۔‘

امر چیمہ کے مطابق سات ستمبر کی نصف شب کے فوراً بعد دوارکا پر گولا باری کی گئی۔ اُن کے بقول اُس وقت انڈیا کی طرف سے کوئی مؤثر مزاحمت سامنے نہیں آئی، کیونکہ اس کا بحری بیڑا خلیجِ بنگال میں تھا۔ چیمہ لکھتے ہیں کہ اس حملے کا نفسیاتی اثر بہت گہرا تھا۔

امر چیمہ کے مطابق دوارکا پر اس اچانک حملے کی اطلاع ملتے ہی انڈیا کا بحری بیڑا ممبئی کی طرف واپس روانہ ہوا اور 10 ستمبر تک کارروائی کے لیے تیار ہو چکا تھا۔

وہ لکھتے ہیں کہ اسی مرحلے پر انڈیا کے بحری ہیڈکوارٹر کو ہدایات موصول ہوئیں کہ بحریہ کو پوربندر کے عرضِ بلد سے شمال کی جانب کارروائی نہیں کرنی اور نہ ہی پاکستانی بحریہ کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی شروع کرنی ہے، جب تک پاکستانی بحریہ خود جارحانہ اقدام نہ کرے۔

چیمہ کے الفاظ میں ’انڈیا کا بحری بیڑا، جو پاکستانی بحریہ سے کہیں زیادہ طاقتور تھا، ان ہدایات کے باعث جنگ کا ایک خاموش تماشائی بنا رہا۔‘ اُن کے نزدیک یہ قومی جنگی کوشش میں بحری طاقت کو بروئے کار لانے میں ایک بڑی کوتاہی تھی۔

چیمہ لکھتے ہیں کہ 22 ستمبر کو پی این ایس غازی نے کراچی واپس روانہ ہونے سے قبل اطلاع دی کہ اس نے سمندر میں ایک بحری ہدف پر ٹارپیڈو داغے ہیں۔

اُن کے مطابق یوں جنگ میں پاکستان کی بحری کارروائی کا یہ مرحلہ مکمل ہوا، جس میں دوارکا پر حملہ اور غازی کی جانب سے آئی این ایس برہم پتر کو مبینہ طور پر غرق کرنے کا دعویٰ بھی شامل تھا۔

مصنف لکھتے ہیں کہ انڈیا کو اس دعوے کی تردید کے لیے اپنے بحری جہاز ذرائع ابلاغ کے سامنے لانا پڑے۔

اقبال کے مطابق دوارکا پر گولا باری کا مجموعی اثر محض نفسیاتی نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ تھا۔

’پاکستان نیوی کے لیے یہ ایک ایسی برتر قوت کے خلاف دلیری سے انجام دیا گیا کامیاب مشن تھا جو تعداد اور وسائل میں ہم سے کہیں زیادہ طاقتور تھی۔‘