قصور میں جلا کر قتل کیا گیا مسیحی جوڑا اور انصاف کے منتظر اہلخانہ کی کہانی: ’مطلب ہمارے لوگ قتل ہی نہیں ہوئے؟‘

- مصنف, روحان احمد
- عہدہ, بی بی سی اردو
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 12 منٹ
انتباہ: اس خبر میں موجود تفصیلات قارئین کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہیں۔
ایک مشتعل ہجوم کے گھر میں زبردستی داخل ہونے اور ماں، باپ کو گھسیٹ کر باہر لے جانے کے تکلیف دہ مناظر 12 سال گزرنے کے باوجود شمع اور شہزاد کے بڑے بیٹے کے دماغ میں آج بھی ویسے ہی تازہ ہیں جیسے یہ کل کی بات ہو۔
تاہم اُن کو یہ تسلی ضرور تھی کہ اُن کے والدین کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اینٹوں کے بھٹے میں جلا کر مارنے والے چند ملزمان ناصرف قید تھے بلکہ انھیں ماتحت عدالتوں سے موت کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔
مگر جولائی 2026 میں جب سپریم کورٹ نے ’شک کا فائدہ‘ دیتے ہوئے اس کیس میں سزائے موت کے منتظر تین مجرمان کو رہا کرنے کا حکم دیا تو شمع اور شہزاد کے بیٹے کے تمام زخم ہرے ہو گئے۔
18 سالہ فیصل (فرضی نام) شہزاد مسیح اور شمع مسیح کے بڑے بیٹے ہیں، جنھیں 12 سال قبل پنجاب کے شہر کوٹ رادھا کشن میں توہین مذہب کا الزام لگا کر انتہائی بیدردی سے قتل کیا گیا تھا۔
بی بی سی اُردو نے اِس تحریر میں شمع اور شہزاد کے اہلخانہ کے نام اُن کی حفاظت کے پیش نظر تبدیل کیے ہیں۔
لاہور کے ایک علاقے میں اپنے نانا اور دو چھوٹی بہنوں کے ساتھ مقیم فیصل نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ ’یہ سراسر غلط ہوا ہے، ان لوگوں کو رہا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ انھیں سزا دی جانی چاہیے تھی، یہ انصاف نہیں ہے۔‘
ماں، باپ کے قتل نے فیصل اور اُن کی بہنوں کی زندگیوں پر کیا اثر ڈالا، اس سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ شمع اور شہزاد مسیح کے قتل کے مقدمے میں گذشتہ 12 سال کے دوران کیا ہوتا رہا اور اب سپریم کورٹ نے ماتحت عدالتوں کی جانب سے سزائے موت کے حقدار قرار دیے گئے افراد کی رہائی کا حکم کیوں دیا؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سپریم کورٹ نے موت کی سزا پانے والوں کو کیوں بری کیا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
چار نومبر 2014 کو ایک مشتعل ہجوم کے ہاتھوں شمع اور شہزاد مسیح کی ہلاکت کے بعد پولیس نے 660 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا، جس کے بعد انسداد دہشتگردی کی ایک عدالت نے 106 افراد پر فرد جرم عائد کی تھی۔
مقدمے کی سماعت کے بعد نومبر 2016 میں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے ایک امام مسجد سمیت پانچ افراد کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سُنائی، جبکہ دیگر آٹھ ملزمان کو مختلف دفعات کے تحت دو، دو برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
سزائے موت پانے والے پانچ مجرمان نے انسداد دہشتگردی کی عدالت کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا، جس کے بعد عدالت نے دو افراد کی سزا کو معطل کرنے کا حکم دیا، جبکہ تین دیگر افراد کی موت کی سزاؤں کو برقرار رکھا۔
لاہور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو موت کی سزا پانے والے تینوں افراد نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جس نے ’شک کا فائدہ‘ دیتے ہوئے اُن کی بھی رہائی کے احکامات جاری کر دیے۔
سپریم کورٹ نے شمع اور شہزاد مسیح کے قتل کے واقعے کو ’سفاکانہ‘ قرار دیا، تاہم فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ قابلِ اعتماد شواہد کی عدم موجودگی میں کسی بے گناہ شخص کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
فیصلے میں استغاثہ کے مقدمے میں موجود تضادات کو بریت کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ’اگرچہ یہ لازم نہیں کہ ابتدائی ایف آئی آر صرف مقتول کے قانونی وارث یا رشتہ دار ہی درج کروائیں، تاہم ہمارے معاشرے میں عموماً مقتول کے قانونی وارث یا رشتہ دار ہی مدعی بنتے ہیں۔‘
عدالت نے کہا کہ اس مقدمے میں مقتولین کے کسی بھی رشتہ دار نے مدعی کی حیثیت اختیار نہیں کی۔ مزید یہ کہ مقتولین کے رشتہ داروں نے اس مقدمے کے کسی میمو پر بطور گواہ دستخط بھی نہیں کیے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ’یہ حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ درحقیقت عینی شاہد وقوعے کے وقت جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھے۔‘
سپریم کورٹ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جن افراد کو اس نے بری کیا، ان میں سے ایک شخص کا نام، جسے گواہوں نے متاثرین کو آگ میں پھینکنے والا واحد شخص قرار دیا تھا، ایف آئی آر میں موجود نہیں تھا۔
عدالت نے اسے ’ناقابلِ یقین‘ قرار دیا کہ گواہوں نے پولیس کو اُس شخص کا نام بتایا ہو، لیکن اسے ریکارڈ میں شامل نہ کیا گیا ہو۔
فیصلے میں درخواست گزاروں کے خلاف دعوؤں کی تائید کے لیے ’آزادانہ تصدیق کے فقدان‘ کو بھی نمایاں کیا گیا۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ کسی بھی درخواست گزار (ملزمان) کو آگ سے جھلسنے سے زخم نہیں آئے تھے اور نہ ہی ان کے پاس بھٹے کے قریب جانے کے لیے ضروری حفاظتی جوتے اور گیلے کپڑے موجود تھے، جس سے ’ان کے ملوث ہونے کے بارے میں معقول شک پیدا ہوتا ہے۔‘
عدالت نے اس قائم شدہ اصول کا اعادہ بھی کیا کہ ’شک کا فائدہ‘ کوئی رعایت نہیں بلکہ ملزم کا حق ہے۔
والدین کی یادیں اور قتل کا دن

شمع اور شہزاد کی دو بیٹیاں اور بیٹا ایک کچی آبادی میں اپنے نانا کے ساتھ ایک کرائے کے مکان میں رہتے ہیں۔ محض ایک کمرے پر مشتمل اس بوسیدہ سے گھر کے صحن ہی میں عارضی باورچی خانہ بنا ہوا ہے۔
شمع اور شہزاد کے ان تینوں بچوں نے اینٹوں کے بھٹے میں ہی اپنی آنکھیں کھولی تھیں، مگر اپنے والدین کے قتل کے بعد یہ لاہور منتقل ہو گئے تھے۔
مشتعل ہجوم کے ہاتھوں والدین کے قتل کے وقت فیصل کی عمر صرف چھ برس تھی لیکن اُن کے مطابق نھیں آج بھی وہ لمحات یاد ہیں، جنھوں نے ان کے خاندان کی زندگیاں بدل کر رکھ دیں۔
وہ اپنے والدین کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: ’وہ ہمارے ساتھ بہت اچھی طرح سے رہتے تھے، ہمیں پیار کرتے تھے۔ میری دونوں بہنیں مجھ سے بھی چھوٹی تھیں، ایک اپنے پاؤں پر چلتی تھی، جبکہ دوسری نے تو چلنا بھی نہیں سیکھا تھا۔‘
’ہم اپنے ماں، باپ کے ساتھ بہت خوش تھے۔ اس کے بعد اچانک سے ایک واقعہ ہوا اور وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔‘
یہ جملہ ادا کرنے کے بعد فیصل نے ایک لمحے کا وقفہ لیا اور ایسا محسوس ہوا جیسے وہ سوچ رہے ہوں کہ آگے کیا بات کرنی ہے۔
اس کے بعد انھوں نے اُس رات کا ذکر کیا جب انھوں نے اپنے والدین کو آخری مرتبہ زندہ دیکھا تھا: ’میں پاس ہی بیٹھا تھا اور سب کچھ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔‘
’تقریباً صبح ساڑھے پانچ یا چھ بجے کا وقت تھا۔ میری ماما (شمع) چائے بنا رہی تھیں، ابھی دودھ ڈالا بھی نہیں تھا کہ پانچ، چھ لوگ خود ہی دروازہ کھول کر اندر آ گئے۔‘
فیصل بتاتے ہیں گھر آنے والے افراد کو ’جو بھی الزام لگا تھا، اُس کی خبر ملی تھی۔‘
’انھوں نے میری ماما کو بالوں سے پکڑا اور باہر لے گئے۔ ہم پیچھے گئے لیکن انھوں نے ہمیں مار کر واپس بھیج دیا۔ انھوں نے میری ماما کو باہر لے جا کر کسی کمرے میں بند کر دیا۔‘
’اس کے بعد جب پاپا (شہزاد) وہاں گئے تو ان افراد نے انھیں بھی پکڑ لیا۔ بس مجھے اس سے زیادہ کچھ نہیں یاد۔‘
اس سے آگے کیا ہوا، فیصل نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔ لیکن شہزاد مسیح کے بڑے بھائی دلاور (فرضی نام) کے بقول اس کے بعد کے تکلیف دہ لمحات انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے۔
جس بھٹے پر مسیحی جوڑے کے قتل کا واقعہ پیش آئا تھا ضلع قصور کے چک 59 میں آج بھی اپنی جگہ پر قائم ہے اور اس کے باہر ’یوسف برکس کمپنی‘ کا بورڈ بھی موجود ہے۔
اینٹوں کے اس بھٹے کے سابقہ مالک یوسف گجر وفات پا چکے ہیں، تاہم یہ اب بھی ان کے ہی خاندان کی ملکیت ہے اور وہاں ابھی بھی اینٹوں کی تیاری کا کام جاری رہتا ہے۔

اس بھٹے کی طرف جانے والے راستے کے بیچ میں ایک چھوٹا سا بازار بھی موجود ہے، جہاں جگہ جگہ ہم نے دکانوں کی دیواروں پر ’آرٹیکل 295 سی ہماری ریڈ لائن ہے‘ لکھا ہوا دیکھا۔
آرٹیکل 295 سی وہ دفعہ ہے جو توہین مذہب کے مقدمات میں لگائی جاتی ہے۔
دلاور نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ پہلے ’40 سے 45 بندے شمع اور شہزاد کو بالوں سے، ہاتھوں سے اور کپڑوں سے پکڑ کر کھینچتے ہوئے، مارتے پیٹتے ہوئے لے گئے اور پھر انھیں بھٹے میں ایک کمرے میں بند کر دیا۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ اس کے بعد ’گاؤں، گاؤں اعلان ہوا، جس کے بعد لوگ آنا شروع ہو گئے: کچھ لوگ ٹرالیوں پر آئے، کچھ رکشوں پر، کوئی موٹر سائیکل پر، تو کوئی پیدل۔‘
دلاور کے بقول ’اس کے بعد لوگوں نے (شمع اور شہزاد کو) اینٹوں اور ڈنڈوں سے مارنا شروع کر دیا۔‘
دلاور کا دعویٰ ہے کہ جب اُن کے چھوٹے بھائی اور بھابھی کو گھسیٹا جا رہا تھا، تو اُس وقت مقامی چوکی کی پولیس بھی وہاں آ گئی۔
ان کے مطابق پولیس نے شمع اور شہزاد کو بچانے کی کوشش کی لیکن ہجوم نے اُن کو بھی پیچھے دھکیلا، اُن کی وردیاں پھاڑ دیں۔ دلاور کہتے ہیں کہ ’دو، چار سپاہی کیا کر سکتے تھے، انھیں بھی پیچھے ہٹنا پڑا۔‘
دلاور جب یہ واقعہ سُنا رہے تھے تو اُن کی آنکھوں میں آنسو تھے اور ان کی آواز بھرا گئی۔ ’اس کے بعد ڈنڈوں سے اس جگہ کے توے اُٹھائے گئے جہاں کوئلے ڈالے جاتے تھے، وہاں میرے زندہ بھائی شہزاد کو پھینک دیا گیا، اسے زندہ جلایا گیا۔‘
’اس کے بعد دوسری لائن پر (بھٹے پر) میری بھابھی کو رکھا گیا، وہ ایک بار اُٹھ گئی تھی، مگر انھوں (مشتعل افراد) نے ترپال کا ٹکڑا لیا اور ٹریکٹر سے تیل نکال کر (شمع کو) اس میں لپیٹ کر پھر آگ پر رکھ دیا، وہ بھی جل گئی۔‘
والدین کی موت جس نے بچوں کے خواب چکنا چور کر دیے

شمع اور شہزاد کے بچوں کے لیے ماں اور باپ کی موت تو تکلیف دہ تھی ہی، لیکن اس کے بعد کی زندگی میں بھی انھوں نے کوئی آسانی نہیں دیکھی۔
فیصل بتاتے ہیں کہ ’ماں، باپ کی موت کے بعد ہم اینٹوں کے اُس بھٹے سے نقل مکانی کر کے لاہور آ گئے، کچھ لوگوں نے ہماری مدد بھی کی۔‘
’میں اپنی بہنوں کے ساتھ بہت پیار سے رہتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ انھیں ماں، باپ کی کمی محسوس نہ ہو۔ لیکن پھر بھی کبھی کبھی وہ کمی محسوس تو ہوتی ہے۔ بہنیں کبھی پریشان اور غمزدہ رہتی ہیں۔‘
’اکثر میری بہنیں باتیں کرتی ہیں کہ اگر ہمارے ماں، باپ زندہ ہوتے تو کیسے ہوتا؟ جیسے سب بچے گھومتے ہیں، پھرتے ہیں، باہر جاتے ہیں ہم بھی وہ ہی سب کر سکتے۔‘
فیصل نے اپنا سر جھکا کر اپنے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا: ’میں اپنی بہنوں کو پھر یہی کہتا ہوں کہ کوئی بات نہیں، ہم بھی کبھی گھومیں گے اور پھریں گے۔‘
اس سب کے باوجود شمع اور شہزاد کی دونوں بیٹیاں اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جب 18 سالہ فیصل سے پوچھا گیا کہ وہ مستقبل میں کیا کرنا چاہتے ہیں تو ان کا کہنا تھا: ’میں بھی پڑھائی کیا کرتا تھا، لیکن گذشتہ برس میں نے پڑھائی چھوڑ دی۔ اب ایک جگہ ملازمت کرتا ہوں، گھر چلانے کے لیے۔‘
’شک کا فائدہ‘ اور توہین مذہب کا الزام

بی بی سی اُردو نے شمع اور شہزاد کے قتل کے مقدمے کی قانونی کارروائی کا حصہ رہنے والے وکلا سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر اس واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کیوں نہ ہو پایا اور آخر میں تمام ملزمان کیسے بری ہو گئے؟
کاشف ایلگزینڈر لاہور کے ایک وکیل ہیں، جنھوں نے انسداد دہشتگردی کی عدالت میں شمع اور شہزاد مسیح کے خاندان کی طرف سے اس مقدمے کی پیروی کی تھی جس کے نتیجے میں ابتدائی طور پر پانچ افراد کو سزائے موت ہوئی۔
کاشف ایلگزینڈر کے مطابق ’یہ بات میری سمجھ نہیں آتی کہ انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج نے سزا دی، اس کے خلاف اپیل ہائیکورٹ گئی جہاں مجرمان کی سزائیں برقرار رکھی گئیں۔‘
’دو عدالتوں نے اُن ثبوتوں کو درست سمجھا، اُن گواہان کو درست مانا۔ تو سپریم کورٹ میں بھی ان سزاؤں کو برقرار رہنا چاہیے تھا۔‘
کاشف کی رائے ہے کہ اگر اس مقدمے میں ’سپریم کورٹ کی درست معاونت‘ کی جاتی تو ممکن ہے کہ سزا یافتہ تینوں افراد رہا نہ ہوتے۔
دوسری جانب سپریم کورٹ میں ان تینوں ملزمان کے حق میں کیس لڑنے والے وکیل عابد ساقی کہتے ہیں کہ ’یہ ایک بہت المناک واقعہ تھا اور مقتولین کی موت کا کوئی بھی جواز نہیں پیش کیا جا سکتا۔‘
تاہم وہ کہتے ہیں کہ قانونی نظام میں پراسیکیوشن کو اپنا مقدمہ ثابت کرنا ہوتا ہے اور ثبوت دینے ہوتے ہیں۔
’شہادتوں کے معیار میں تسلسل نہیں تھا، جس کی بنیاد پر پہلے سینکڑوں لوگ بری ہوئے اور پھر ان ہی ثبوتوں پر دوسروں کو سزا دینا قانون کی منشا کے خلاف تھا۔‘
’ان ہی کمزوریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے ان آخری تینوں افراد کو بھی شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔‘
عابد ساقی خود کہتے ہیں کہ ان کے مؤکلین کو عدالت نے ’اس بنیاد پر بری نہیں کیا گیا کہ وہ بے گناہ تھے یا وہ (اس جرم میں) شامل ہوئے یا نہیں، اس کے بارے میں کوئی رائے نہیں دی جا سکتی۔‘

جہاں ایک طرف عدالتوں کے فیصلوں پر وکلا اور شمع اور شہزاد کے اہلخانہ اپنا ردعمل دے رہے ہیں، وہیں مسیحی جوڑے پر لگنے والے توہین مذہب کے الزام کی سچائی پر بھی آج تک سوالات اُٹھ رہے ہیں۔
شہزاد مسیح کے بھائی دلاور سے جب ان الزامات کے بارے میں پوچھا گیا، تو انھوں نے جواب دیا: ’ہمارے گھر میں قرآن پاک کیوں ہو گا؟ ہمارے گھر میں تو بائبل ہے۔ کیا ہمیں قرآن پاک کے بارے میں پتا نہیں ہے؟‘
دلاور نے دعوی کیا کہ شمع اور شہزاد کی موت سے کچھ عرصہ پہلے ان کے بھائی کا اینٹوں کے بھٹے میں ہی کام کرنے والے ایک مزدور سے کسی بات پر جھگڑا ہوا تھا اور اس نے ہی ان کے بھائی اور بھابھی پر توہین مذہب کا الزام عائد کیا۔
دلاور کے مطابق یہ مزدور ان تین افراد میں شامل تھا، جنھیں اب سپریم کورٹ نے بری کیا ہے۔ بی بی سی اُردو اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر پایا ہے۔
دوسری جانب وکیل کاشف ایلگزینڈر بھی توہین مذہب کے کسی بھی واقعے کی تردید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
’جہاں تک شمع اور شہزاد پر لگنے والے الزام کی بات ہے تو اس پر کوئی فیکٹ فائنڈنگ نہیں ہوئی۔ اگر خدانخواستہ ایسا کچھ ہوتا تو ان کے خلاف کوئی ایف آئی آر تو بنتی۔‘
وکیل نے مزید کہا کہ ’ایسا واقعہ ہوا ہی نہیں تھا، جس کی بنا پر توہین مذہب کا کوئی مقدمہ ہو سکتا۔ اصل میں یہ بھٹے میں ہی ایک آپسی جھگڑا تھا جسے مذہبی رنگ دیا گیا، یہ صورتحال بنی اور پھر وہ ظالمانہ انداز میں قتل ہوئے۔‘
تاہم شمع اور شہزاد مسیح کا خاندان اب بھی انصاف کے حصول کے لیے اپنی قانونی لڑائی جاری رکھنا چاہتا ہے۔

شہزاد مسیح کے کزن تنویر (فرضی نام) کہتے ہیں کہ ’جو ہمارے بھائی تھے، بہن تھی ان کا خون کس کو ہاتھوں پر جاتا ہے؟‘
وہ عدالتی فیصلوں اور ملزمان کی رہائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ہمارے لوگ مرے نہیں ، ہم نے جھوٹا کیس کیا تھا۔‘
’ہم سپریم کورٹ کے فیصلے سے ناخوش ہیں، ہم اس پر نظر ثانی کی درخواست دیں گے۔ ہم آخری حد تک لڑیں گے کیونکہ ہمارے بہن بھائی مرے ہیں اور بہت ظالمانہ طریقے سے انھیں مارا گیا ہے۔‘



















