لائیو, پہلی بار امریکہ کے خلاف ایرانی ’اینٹی ڈسٹرائر‘ میزائل استعمال کیا گیا: محسن رضائی

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ ’ایران نے پہلی بار ایک امریکی بحری جہاز کے خلاف ایرانی ساختہ اینٹی ڈسٹرائر میزائل کا استعمال کیا ہے جس کے باعث امریکی فوج کو پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔‘

خلاصہ

  • ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے پہلی بار ایک امریکی بحری جہاز کے خلاف ایرانی ساختہ اینٹی ڈسٹرائر میزائل کا استعمال کیا ہے
  • پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز کے 'غیر مجاز راستوں' سے گزرنے والے تین آئل ٹینکروں اور علاقے میں موجود تین امریکی جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
  • پنجاب کو ہمسایہ ممالک سے کم اور پڑوسی صوبوں سے زیادہ خطرہ ہے: وزیرِ اعلیٰ مریم نواز
  • امریکی فوج کا پاسدارانِ انقلاب کے تین تیل بردار جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ
  • یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششیں، امریکی صدر کے ایلچی جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف ماسکو پہنچ گئے

لائیو کوریج

  1. صوبہ سیستان میں مسلح گروپ کے ساتھ جھڑپ کے بعد حملے میں پاسدارانِ انقلاب کے دو اہلکار ہلاک

    ایران کے مقامی میڈیا کے مطابق صوبہ سیستان و بلوچستان میں مسلح مخالفین کے ایک گروپ کے ساتھ جھڑپ کے بعد ان کی گاڑی پر ہونے والے حملے میں پاسدارانِ انقلاب کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے۔

    ایرانی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ واقعہ زاہدان کے علاقے کورین میں پیش آیا۔

    حملے میں ہلاک ہونے والے دونوں اہلکاروں کا تعلق ’شہید میر حسینی بیس‘ سے تھا، جو سیستان و بلوچستان میں پاسدارانِ انقلاب کی بری افواج کا ایک اڈہ ہے۔

    سیستان و بلوچستان کے گورنر کے دفتر برائے سکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے امور کے نائب سربراہ نے بتایا کہ ’دونوں اہلکار بسیج کے لیے امدادی سامان اور خوراک لے جانے والی گاڑی پر حملے کے دوران ہلاک ہوئے۔‘

    سیستان و بلوچستان صوبہ طویل عرصے سے ایرانی حکومت کے لیے سکیورٹی کے اعتبار سے ایک مشکل ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔

  2. جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے، چار افراد ہلاک، 20 زخمی

    Anadolu via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    اسرائیلی فوج نے پیر کی صبح جنوبی لبنان کے قصبے دیر الزہرانی کے ایک مخصوص علاقے کے رہائشیوں کو انخلا کی ہدایت کی، جس کے بعد اس نے کہا کہ ’وہاں ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کے خلاف حملے کیے جائیں گے۔‘

    اسرائیلی فوج کی جانب سے دیر الزہرانی کے ایک مخصوص علاقے پر بمباری کی وجہ سے چار افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئِ ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ ’حزب اللہ کی سرگرمیاں اسے اس کے خلاف طاقت کا استعمال کرنے پر مجبور کرتی ہیں اور فوج حزب اللہ کے ایک عسکری مرکز کو نشانہ بنا رہی ہے۔‘

    بعدازاں حزب اللہ کے ٹی وی چینل المنار نے رپورٹ کیا کہ ’اسرائیلی فضائی حملوں میں دیر الزہرانی کو نشانہ بنایا گیا۔‘

    اس سے ایک روز قبل اتوار کو جنوبی لبنان کے نبطیہ ریجن میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے تھے۔ لبنانی صدر جوزف عون نے امریکہ اور عالمی برادری سے حملے رکوانے کے لیے ’فوری اقدامات‘ کرنے کا مطالبہ کیا۔

    لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق نبطیہ شہر کے قریب قصبے نبطیہ الفوقا میں دو افراد ہلاک ہوئے، جبکہ چند کلومیٹر دور واقع عرب سلیم میں دو خواتین ہلاک ہوئیں۔ وزارت کے مطابق مختلف علاقوں میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں خواتین اور تین بچے شامل ہیں۔

    حملوں میں کئی مکانات تباہ اور ایک سرکاری اداروں کی عمارت کو نقصان پہنچا، جبکہ نبطیہ الفوقا میں صلاح غندور ہسپتال بھی تباہ ہوگیا اور اب سروس فراہم نہیں کر رہا۔

    AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    وزارتِ صحت نے ہسپتال کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’بین الاقوامی انسانی قانون کی ایک اور سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا۔

    اسرائیلی فوج نے کہا کہ ’یہ حملے حزب اللہ کی جانب سے جنوبی لبنان میں اسرائیل کے زیرِ قبضہ ’سکیورٹی زون‘ میں اس کی فورسز کی جانب دو ڈرون بھیجے جانے کے جواب میں کیے گئے۔‘

    اسرائیلی فوج کے مطابق انھوں نے ایک ڈرون پر فائرنگ کرکے اسے روک لیا، جبکہ دوسرے ڈرون کے بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی گئی۔‘ فوج نے ڈرونز کے بھیجے جانے کو ’جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا اور کہا کہ اس کے کسی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔‘

    حزب اللہ نے ان دونوں ڈرونز کو بھیجنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور نہ ہی اسرائیلی فوج کے دعوے پر فوری ردِعمل دیا۔

    بعدازاں اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے حزب اللہ کے ہتھیاروں کے گوداموں کو نشانہ بنایا، جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ انھیں ’سکیورٹی زون میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور ہدایات دینے‘ کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق جنوبی لبنان میں ایک عمارت کے اندر واقع حزب اللہ کے کمانڈ پوسٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جو اس سے قبل ہسپتال کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔

    فوج کا کہنا ہے کہ ’حزب اللہ کے ارکان ماضی میں اس مرکز سے کام کرنے کے علاوہ اسے نگرانی اور توپ خانے سے متعلق کارروائیوں کے لیے بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔‘

  3. تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری، برینٹ 97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    مشرقی ایشیا کی منڈیوں میں پیر کی صبح تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ خلیجِ فارس میں ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع برقرار ہے۔

    شمالی سمندر کے برینٹ خام تیل کی قیمت پیر کی صبح 96.94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو تقریباً 97 ڈالر بنتی ہے۔

    تقریباً 10 روز قبل، ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی جھڑپوں کے نئے دور سے پہلے، برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت تقریباً 86 ڈالر تھی۔

  4. غیر ملکی صحافیوں کا سریِک میں امریکی فوج کی بمباری کا نشانہ بننے والی شادی کی تقریب کے مقام کا دورہ: فارس نیوز

    Fars News

    ،تصویر کا ذریعہFars News

    ایران کے ذرائع ابلاغ کے مطابق غیر ملکی صحافیوں کے ایک گروپ کو سریِک جانے اور کوہستک میں واقع اس گھر کا دورہ کرنے کی اجازت دی گئی جہاں شادی کی تقریب جاری تھی اور جو علاقے پر امریکی فضائی حملے کے دوران متاثر ہوا۔

    فارس نیوز ایجنسی نے اتوار، 5 ستمبر کو رپورٹ کیا کہ نو ممالک سے تعلق رکھنے والے 30 صحافیوں کو اس علاقے میں لے جایا گیا۔ صحافیوں نے دہستک میں شادی کی تقریب کے مقام کا دورہ کیا اور وہاں رپورٹنگ کے علاوہ ساحلِ سمندر پر نصب مواصلاتی ٹاور کا بھی جائزہ لیا۔

    اس واقعے میں، جس کے بارے میں روئٹرز اور واشنگٹن پوسٹ نے فوجی ماہرین کے حوالے سے کہا کہ یہ امریکی ساختہ گولہ بارود کے استعمال کے نتیجے میں پیش آیا، ایک بچے سمیت پانچ افراد ہلاک جبکہ بچوں اور خواتین سمیت 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

    ایران نے اس فضائی حملے کو ’جنگی جرم‘ قرار دیا ہے، تاہم سینٹ کام کا کہنا ہے کہ امریکی فوج اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور اس نے زور دیا ہے کہ امریکی فوجی افواج ’کبھی بھی‘ شہریوں کو نشانہ نہیں بناتیں۔

    Fars News

    ،تصویر کا ذریعہFars News

    Fars News

    ،تصویر کا ذریعہFars News

  5. پہلی بار امریکہ کے خلاف ایرانی ’اینٹی ڈسٹرائر‘ میزائل استعمال کیا گیا: محسن رضائی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے پہلی بار ایک امریکی بحری جہاز کے خلاف ایرانی ساختہ اینٹی ڈسٹرائر میزائل کا استعمال کیا ہے۔

    محسن رضائی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ’48 گھنٹے قبل ہم نے پہلی بار ایک امریکی بحری جہاز کے خلاف ایرانی اینٹی ڈسٹرائر میزائل کا تجربہ کیا۔ اس مخصوص میزائل نے امریکیوں کے لیے جہنم برپا کر دی اور وہ فرار ہو گئے۔‘

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران کے اس دعوے پر براہِ راست کوئی ردِعمل نہیں دیا، تاہم گزشتہ روز ایکس پر ایک پوسٹ میں اس نے بظاہر اپنے دو بحری جہازوں پر ہونے والے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا تھا کہ ’پاسدارانِ انقلاب کے لیے پیغام واضح ہے اگر آپ ہمارے دو بحری جہازوں پر فائر کریں گے تو ہم آپ پر کہیں زیادہ بھاری معاشی لاگت عائد کریں گے اور آپ کے تین بحری جہاز تباہ کر دیں گے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ’ہم امریکی افواج کے دفاع سے دریغ نہیں کریں گے اور ضرورت پڑنے پر ایران کے محدود اور کمزور ٹینکر بیڑے کو تباہ کر دیں گے۔‘

    پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر نے اس علاقے میں بحری آمدورفت کے ممکنہ نتائج کے بارے میں کہا کہ ”خلاف ورزی کرنے والے وہ بحری جہاز جو ایران کے ساتھ رابطہ کیے بغیر کارروائی کریں گے، ایران کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہوں گے اور انہیں انشورنس کے مسائل اور بعد میں گزرنے میں مشکلات سمیت دیگر نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔“

  6. ایران کا آبنائے ہرمز کے باہر ’نو گو زون‘ قائم کرنے کا عندیہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک آئندہ چند روز میں آبنائے ہرمز کے باہر ایک ’نو گو زون‘ قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ تہران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی فوجی اور اقتصادی کشیدگی کے دوران تازہ ترین اقدام ہے۔

    محسن رضائی نے اتوار کو ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ زون امریکی بحریہ کی جانب سے قائم کردہ محاصرے کی لائن سے شروع ہوگی اور خلیج کے کچھ حصوں تک پھیلی ہوئی ہوگی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’نئے زون میں داخل ہونے والے کسی بھی بحری جہاز کو ایران کی ’پابندیوں کی فہرست‘ میں شامل کر دیا جائے گا،‘ تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف تہران کیا اقدامات کرے گا۔

    رضائی نے یہ بھی کہا کہ ’آبنائے ہرمز ’مکمل طور پر بند‘ ہے اور ایرانی مسلح افواج کے کنٹرول میں ہے۔‘

    تاہم یہ بیان امریکی مؤقف سے متصادم ہے، جس کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت جاری ہے۔

    امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے اتوار کو کہا کہ روزانہ 90 لاکھ بیرل سے زیادہ تیل آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ ان کے مطابق متبادل سپلائی راستوں کے ذریعے تیل کی ترسیل بڑھ کر اس سطح کے تقریباً دو تہائی تک پہنچ گئی ہے جو موجودہ کشیدگی شروع ہونے سے پہلے ریکارڈ کی گئی تھی۔

    معمول کے حالات میں دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے، اس لیے اس آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے اہم اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

    محسن رضائی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے ایران پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے اور اس کے تیل کی برآمدات کو ہدف بنانے والی بحری ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ ایران پر پابندیاں بھی سخت کر دی ہیں۔

  7. متناسب ردعمل کا دور ختم، سلامتی کے خلاف اقدامات کا جواب زیادہ شدید ہوگا: قالیباف کی امریکہ کو دھمکی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف

    ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب متناسب جواب دینے کا وقت ختم ہو چکا اور ’کھیل کے قواعد‘ تبدیل ہو چکے ہیں۔

    ایرانی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت ’پورے کفر کے محاذ کے خلاف ایک ہمہ گیر جنگ‘ لڑ رہا ہے اور ’امریکی اڈوں پر شدید حملوں کے بعد دشمن ممالک کے رہنما مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں اور کھوکھلے بیانات اور نعروں کے ذریعے مصنوعی ذہانت کی مدد سے محاذِ جنگ کی تصاویر اور ویڈیوز تیار کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکیوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ متناسب ردِعمل کا دور اب ختم ہو چکا ہے اور جارح قوت کے اڈے پر ہماری حالیہ کارروائی میں کیے گئے حملے صرف آغاز تھے۔‘

    ’اگر وہ اب تک یہ نہیں سمجھے تو انہیں تاخیر ہونے سے پہلے سمجھ لینا چاہیے کہ کھیل کے قواعد بدل چکے ہیں اور اب سے ایران کے مفادات اور سلامتی کے خلاف کسی بھی اقدام کا جواب زیادہ تیز، زیادہ شدید اور زیادہ تکلیف دہ ہوگا۔‘

  8. گذشتہ روز کی چند اہم خبریں

    آئیے آج کے دن میں آگے بڑھنے سے قبل گذشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں

    • انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک رہائشی عمارت منہدم ہو گئی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ درجنوں طلبہ اس کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ اتوار کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً دوپہر 1:30 بجے جب جنوب مغربی دہلی کے علاقے ستیہ نکیتن میں واقع پانچ منزلہ عمارت گری، اس وقت اس میں ممکنہ طور پر 50 افراد موجود تھے۔
    • یمن میں فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ سنیچر کی سہ پہر سے اتوار کی صب تک جنوب مغربی یمن میں حکومتی افواج اور ایران کے اتحادی حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں دونوں جانب سے 140 سے زائد فوجی ہلاک ہوئے۔
    • بلوچستان کے ضلع مستونگ سے اتوار کے روزچھ نامعلوم افراد کی لاشیں ملیں جنھیں گولی مارکر ہلاک کیا گیا تھا۔ سرکاری حکام نے اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ لاشیں کوئٹہ کراچی شاہراہ پر دو مختلف مقامات سے ملیں۔ مقامی لوگوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ایک بار لاشوں کو اٹھانے کے بعد واپس ان کو روڈ کے کنارے رکھ دیا گیا۔
    • بلوچستان کے ضلع نوشکی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شامل جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے ضلعی صدر عبدالرحمان لانگو ہلاک ہو گئے۔ نوشکی پولیس کے حکام نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مسلح افراد نے اتوار کی شب ان کو ان کے گھر کے باہر نشانہ بنایا۔
  9. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔