وائٹل سائنز: وہ بینڈ جو ختم ہونے کے 26 سال بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے

،تصویر کا ذریعہVITAL SIGN/SOCIAL MEDIA
- مصنف, عمیر علوی
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے لوک ورثہ میں حال ہی میں ہونے والے ایک کنسرٹ میں گلوکار و موسیقار رضوان الحق کو ایک ایسی چیز نے حیران کر دیا جس کی شاید انھیں خود بھی توقع نہیں تھی۔
وہ ساتھی موسیقار و گلوکار عباس علی خان کے ساتھ ایک شو میں بطور سابق میوزیشن وائٹل سائنز شریک تھے اور بینڈ کے چند گانے پیش کرنے آئے تھے۔
ان کے ہاتھ میں صرف ایک اکوسٹک گٹار تھا مگر سامنے موجود سامعین کی یادداشت شاید کسی مکمل آرکسٹرا سے بھی زیادہ طاقتور تھی۔
بی بی سی اردو سے گفتگو میں رضوان الحق نے بتایا کہ ’میں سٹیج پر صرف ایک اکوسٹک گٹار لے کر گیا تھا، لیکن جو چیز مجھے حیران کر گئی وہ یہ تھی کہ ہال میں موجود تقریباً ہر شخص کو وائٹل سائنز کے گانوں کے بول لفظ بہ لفظ یاد تھے۔ لوگ شروع سے آخر تک ہمارے ساتھ گا رہے تھے۔‘
ان کے مطابق ’سب سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ تھی کہ اُن لوگوں کے ساتھ اُن کے بچے بھی موجود تھے جن کی عمریں 25 سے 30 سال کے درمیان تھیں اور وہ بھی ان گانوں سے اتنی ہی واقفیت رکھتے تھے۔‘
اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔
وائٹل سائنز کو ختم ہوئے دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ بینڈ کے مستقل رکن جنید جمشید اور غیر مستقل رکن عامر ذکی اب اس دنیا میں نہیں رہے، بینڈ کا آخری البم تقریباً 30 سال قبل ریلیز ہوا تھا مگر ’دل دل پاکستان‘، ’گورے رنگ کا زمانہ‘، ’سانولی سلونی‘ اور ’اعتبار‘ جیسے گانے اب بھی نئی نسلوں تک پہنچ رہے ہیں۔
تو آخر ایسا کیوں ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیا یہ محض نوسٹیلجیا ہے یا وائٹل سائنز نے پاکستانی موسیقی میں واقعی کوئی ایسا معیار قائم کیا تھا جس کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہVITAL SIGN/SOCIAL MEDIA
وائٹل سائنز ہے کیا؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
وائٹل سائنز کا شمار پاکستان کے ان میوزک بینڈز میں ہوتا ہے جن کی کامیابی کی وجہ سے پاپ میوزک پروان چڑھی، اور کے بعد دیگرے کئی نئے میوزک بینڈ سامنے آئے۔
بینڈ کا پہلا گانا ’چہرہ میرا تھا‘ 1986 میں پی ٹی وی پر نشر ہوا تھا جس کے ایک سال بعد انھوں نے ’دل دل پاکستان‘ دے کر دنیائے موسیقی میں تہلکہ مچا دیا تھا۔
یہی نہیں، 1989سے 1995 کے دوران دو دو سال کے وقفے کے بعد سے چار کامیاب البم نکالنے والے اس بینڈ کے کریڈٹ پر کئی مقبول گانے ہیں، جہاں انھیں ’سانولی سلونی‘، ’گورے رنگ کا زمانہ‘، ’یہ شام‘، ’اعتبار‘ اور ’تیرے لیے ہے میرا دل‘ جیسے رومانوی گیتوں پر عبور حاصل تھا، وہیں ان کے پاپ گانے ’میرا دل نہیں اویلوبل‘، ’وہ کون تھی‘، ’دو پل کا جیون ‘ اور ’دل ڈھونڈتا ہے‘ آج بھی مقبول ہیں۔
لیکن وائٹل سائنز کی اصل پہچان تھے ان کے ملی نغمے، ’دل دل پاکستان‘ کے بعد انھوں نے دوسری البم میں ایئرفورس سانگ ’ایسے ہم جئیں‘ ریلیز کیا، جب کہ تیسرے البم میں ’یہی زمیں‘ چوتھے میں ’ہم ہیں پاکستانی‘ اور سب سے آخر میں ان کا ریلیز ہونے والا گیت ’مولا‘ آج بھی دنیا بھر میں پاکستانیوں کو وطن کی یاد دلاتا ہے۔
وائٹل سائنز کے فاؤنڈنگ ممبر شہزاد شاہی حسن نے بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جب انھوں نے وائٹل سائنز کا آغاز کیا تھا، تو یہ چند نوجوان دوستوں کا ایک خواب تھا، لیکن انھیں یہ جان کر خوشی ہوتی ہے کہ ان کے گانے آج بھی مقبول ہیں۔
بقول شہزاد شاہی، وہ اور ان کے ساتھ بچپن سے ہی مغربی بینڈز کو سنتے ہوئے بڑے ہوئے، انھیں ہمیشہ میوزیکل بینڈز کا تصور پسند تھا کیونکہ اُس وقت پاکستان میں کوئی معروف یا مرکزی دھارے کا میوزک گروپ یا بینڈ موجود نہیں تھا۔

،تصویر کا ذریعہEMI
’اسی لیے 1985 میں انھوں نے اپنے دوستوں روحیل حیات، اور نصرت حسین کے ساتھ مل کر وائٹل سائنز تشکیل دیا۔ اُس وقت جنید بینڈ کا حصہ نہیں تھے، وہ کچھ ہی عرصے بعد ہمارے ساتھ شامل ہوگئے۔‘
شہزاد شاہی حسن کہتے ہیں کہ اس زمانے میں پاکستان میں پاپ موسیقی موجود تو تھی، مگر بینڈ کلچر تقریباً نہ ہونے کے برابر تھا۔
’اُس دور میں پاپ میوزک بمشکل ٹی وی پر نظر آتا تھا۔ درحقیقت، پی ٹی وی کے نزدیک میوزیکل گروپس اور بینڈز پاکستانی ثقافت کا حصہ نہیں سمجھے جاتے تھے، جس کی وجہ سے بینڈز کے ٹی وی پر آنے کا تصور ہی موجود نہیں تھا۔‘
ان کے مطابق صورتحال اس وقت تبدیل ہوئی جب پی ٹی وی اکیڈمی کی ایک نوجوان ہدایت کارہ رعنا کنول نے ان سے رابطہ کیا۔
’رعنا کنول ایک میوزک ویڈیو بنانا چاہتی تھیں جو انھیں پی ٹی وی اکیڈمی کی جانب سے بطور اسائنمنٹ دی گئی تھی۔ انھیں اور ان کے ساتھی طلبہ کو بتایا گیا تھا کہ جس طالب علم کی میوزک ویڈیو بہترین ہوگی، اسے ٹی وی پر نشر کیا جائے گا، اور یوں 1986 میں ’چہرہ میرا تھا‘ وائٹل سائنز ہی نہیں، کسی بھی پاکستانی بینڈ کا پہلا گانا بنا جو ٹی وی پر نشر ہوا۔‘
ٹی وی پر بطور میوزک بینڈ ڈیبیو کے بعد وائٹل سائنز جہاں شائقین کی نظروں میں آگئے، وہیں ان کے خاندان والوں کو بھی ان کے ٹیلنٹ کا علم ہو گیا، جن میں زیادہ تر افراد کا تعلق مسلح افواج جیسے آرمی اور ائیرفورس سے تھا۔
بقول شاہی حسن، جب ان کے خاندان والوں نے گروپ کی کامیابی دیکھی تو انھیں احساس ہوا کہ وائٹل سائنز میں واقعی کچھ خاص بات ہے۔ بعد میں ہمارے خاندانوں نے بھرپور حمایت کی۔

،تصویر کا ذریعہrizwanulhaqueofficial
یہاں شاہی حسن نے وائٹل سائنز کے ایک ایسے ممبر کا بھی ذکر کیا جس نے ان کے گروپ کو ہمیشہ بہتر سے بہتر کام کرنے کی ترغیت دی اور یہ کوئی اور نہیں تھے بلکہ پی ٹی وی پروڈیوسر شعیب منصور تھے جنھوں نے ’دل دل پاکستان‘ کی میوزک ویڈیو بھی بنائی تھی۔
’وائٹل سائنز دراصل چار افراد پر مشتمل تھا، جنید، روحیل، میں اور شعیب منصور۔ شعیب صاحب کا کردار کسی بھی بینڈ ممبر کے برابر بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ اہم تھا۔‘
شعیب منصور نے نہ صرف وائٹل سائنز کے زیادہ تر گیت لکھے بلکہ اپنے پروگرام ’گیتآر93‘ کے ذریعے گروپ کی مقبولیت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

،تصویر کا ذریعہBHASKER SOLANKI
ایک ہٹ بینڈ میں شامل ہونے کا تجربہ
وائٹل سائنز کے پہلے البم کی کامیابی کے بعد جب سلمان احمد بینڈ چھوڑ کر جنون بنانے چلے گئے تو ان کی جگہ رضوان الحق نے سنبھالی۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جس وقت وہ وائٹل سائنز کا حصہ بنے اس وقت وہ پاکستان کا سب سے بڑا پاپ بینڈ بن چکا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ برطانیہ سے تعلیم مکمل کر کے واپس آئے تھے اور عام ملازمت کا سوچ رہے تھے مگر حالات نے انھیں موسیقی کی طرف موڑ دیا۔
’روحیل میرے پرانے دوست تھے، ہم سکول میں اکٹھے پڑھتے تھے۔ جنید سے بھی میری بہت اچھی دوستی تھی، جب وائٹل سائنز کا وجود بھی نہیں تھا تب جنید اور میں کھیل سے فارغ ہونے کے بعد اپنے کلب میں شوقیہ پرفارم کیا کرتے تھے۔‘
’جب روحیل کو معلوم ہوا کہ میں واپس پاکستان آگیا ہوں تو انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں بینڈ جوائن کرنے میں دلچسپی رکھتا ہوں۔ ظاہر ہے، میں بہت خوش ہوا۔‘
لیکن ایک ایسے بینڈ میں شامل ہونا جو پہلے ہی مقبولیت کی بلندیوں پر ہو، آسان نہیں تھا۔
’یقیناً مجھ پر دباؤ تھا کیونکہ میں ایک ایسے بینڈ میں شامل ہو رہا تھا جو پہلے ہی بہت مشہور تھا، جبکہ میری اپنی کوئی خاص پہچان نہیں تھی۔ تاہم روحیل، شاہی اور جنید نے میری بہت حوصلہ افزائی کی۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ ’آرام سے رہو، موسیقی سے لطف اٹھاؤ اور اپنا کام کرو۔‘
وائٹل سائنز آج بھی کیوں زندہ ہے؟

،تصویر کا ذریعہrizwanulhaqueofficial
شاہی حسن کہتے ہیں کہ جب وہ یہ گانے بنا رہے تھے تو انھوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ دہائیوں بعد بھی لوگ انھیں اسی طرح سنیں گے۔
’ہم میں سے کسی نے بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ ریلیز کے کئی عشروں بعد بھی یہ گانے مقبول رہیں گے اور نئی نسلوں کے دلوں کو اسی طرح چھوتے رہیں گے۔‘
رضوان الحق کے خیال میں اس کی وجہ صرف یادیں نہیں بلکہ موسیقی کی وہ بنیاد ہے جو بینڈ نے قائم کی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میرے خیال میں اس کی سب سے بڑی وجہ ’لیگیسی ‘ہے۔ وائٹل سائنز صرف ایک بینڈ نہیں بلکہ ایک ورثہ بن چکا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ روحیل، شاہی اور جنید نے تیس پینتیس سال پہلے ایسی موسیقی تخلیق کی جو وقت کی قید سے آزاد ہے۔ شعیب منصور صاحب نے ایسے گیت لکھے اور روحیل نے ایسی دھنیں ترتیب دیں جو آج بھی دلوں میں زندہ ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ نئی نسل تک اس موسیقی کے منتقل ہونے میں خاندانوں کا بھی کردار رہا۔
’یہ بھی حقیقت ہے کہ ہماری نسل کے لوگوں نے اپنے بچوں کو بھی یہ موسیقی سنائی۔ اس طرح ایک نسل سے دوسری نسل تک یہ گانے منتقل ہوتے گئے۔ وائٹل سائنز کی موسیقی ہمیشہ منفرد رہی، ہمارا انداز دوسروں سے مختلف تھا اور شاید یہی وجہ ہے کہ آج بھی نوجوان نسل ان گانوں کو پسند کرتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہSALMAN AHMED/X
’ہم وائٹل سائنز کی ارینجمنٹس سن سن کر سیکھتے تھے‘
اگر وائٹل سائنز کے اثرات کا اندازہ لگانا ہو تو شاید بلال مقصود کی باتیں سب سے بہتر مثال ہیں۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ’سٹرنگز‘ کے رکن بلال مقصود کہتے ہیں کہ پاکستان میں پاپ موسیقی پہلے بھی موجود تھی، مگر بینڈ کلچر کو مقبول بنانے کا سہرا وائٹل سائنز کو جاتا ہے۔
’وائٹل سائنز کا اثر پاکستانی میوزک پر بہت گہرا ہے۔ وائٹل سائنز کے آنے سے پہلے وہ کونسیپٹ ہی نہیں تھا کہ ایک بینڈ ٹی وی پر پرفارم کر رہا ہو۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ پاپ میوزک پر کام پہلے سے ہو رہا تھا۔ نازیہ حسن اور زوہیب حسن تھے، عالمگیر صاحب تھے، اور اگر آپ فلموں میں چلے جائیں تو احمد رشدی کے گانے بھی اپنے زمانے کی پاپ موسیقی تھے لیکن ایک بینڈ کا تصور، وہ وائٹل سائنز کے آنے کے بعد ہی آیا‘
وائٹل سائنز آج بھی زندہ کیوں ہیں، بلال مقصود کے خیال میں اس کے پیچھے شعیب منصور کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔
’وہ شعیب منصور ہی تھے جنھوں نے جس وائٹل سائنز کے ٹیلنٹ کو پہچانا، اور ان سے آئیکونک 'دل دل پاکستان' بنوایا، بینڈ کی کامیابی میں جہاں وائٹل سائنز کے ٹیلنٹ کا ہاتھ ہے وہیں شعیب منصور کی محنت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔‘
بلال مقصود کے مطابق سٹرنگز سمیت بہت سے بینڈز نے وائٹل سائنز سے براہ راست سیکھا۔
’مجھے یاد ہے کہ جب ہم لوگ اپنے پہلے البم کے گانے بنا کر سیکوئنس کر رہے ہوتے تھے تو وائٹل سائنز کی ارینجمنٹس سن سن کے دیکھتے تھے کہ اچھا یہاں پہ روحیل نے کیا کیا ہوا ہے، کی بورڈز کیا کام کر رہے ہیں، گٹارز کیسے استعمال ہوئے ہیں۔یہ سب چیزیں ہمارے لیے ایک لرننگ تھی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ وائٹل سائنز نے مغربی موسیقی کو پاکستانی نوجوانوں کے لیے قابل رسائی بنا دیا تھا۔
’مغربی گانے سن کر ہم سب بڑے ہوئے تھے لیکن وائٹل سائنز کی وجہ سے ہمیں یہ معلوم ہوگیا تھا کہ یہ میوزک یہیں تخلیق ہوا ہے، ایسا نہیں لگتا تھا کہ یہ کوئی بہت انوکھا خیال ہے۔ ہمیں لگتا تھا کہ اب یہ ہم بھی کر سکتے ہیں۔‘
بلال مقصود ایک واقعہ بھی یاد کرتے ہیں جب سٹرنگز بینڈ نیا نیا سامنے آیا تھا۔
'ہم اپنے گانے ’جب سے تم کو میں نے دیکھا ہے‘ کی ویڈیو آن ایئر ہونے کے بعد وائٹل سائنز کا کنسرٹ دیکھنے گئے ہوئے تھے، کنسرٹ کے دوران جنید نے سٹیج پر نہ صرف ہمارا نام لیا بلکہ ہمارے گانے کی تعریف بھی کی، جو ہمارے لیے اس لیے سرپرائز تھا کیوں کہ اس سے قبل ہماری ان سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہVITAL SIGN/SOCIAL MEDIA
’موسیقی میں میری پہلی محبت وائٹل سائنز تھے‘
گلوکار اور اداکار ہارون شاہد کا تعلق اس نسل سے ہے جو وائٹل سائنز کو سن کر بڑی ہوئی، بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے سمت بینڈ کے گلوکار اور شعیب منصور کی فلم ’ورنہ ‘کے ہیرو کا کہنا تھا کہ وائٹل سائنز ان کی پہلی محبت تھی۔
’اگر میں نے کسی پاپ بینڈ کو سب سے پہلے پسند کیا تو وہ وائٹل سائنز تھا۔ زندگی کا پہلا کنسرٹ بھی میں نے انھی کا دیکھا تھا۔ اس حساب سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ موسیقی میں میری پہلی محبت وائٹل سائنز تھے۔‘
ہارون شاہد کے مطابق تقریباً پانچ دہائیاں گزرنے کے باوجود بینڈ کی مقبولیت کی وجہ اس کے کام کا معیار ہے۔
’وائٹل سائنز نے جو کام کیا، بہترین معیار کا کیا۔ گانے لکھنے سے کمپوز کرنے تک، ان کی میلوڈیز اور ارینجمنٹس سے ویژول ڈائریکشنز تک، سب بہت مضبوط تھیں اسی لیے ان کا کام آج بھی مقبول ہے۔‘
ہارون شاہد کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ انھیں اپنے ہیروز کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا۔ وہ روحیل حیات کے ساتھ کوک سٹوڈیو میں کام کر چکے ہیں، شاہی حسن نے ان کے بینڈ کے پہلے البم کی ماسٹرنگ کی جب کہ جنید جمشید سے ان کی ایک یادگار ملاقات ہوئی۔ تاہم ان کے نزدیک وائٹل سائنز کی کہانی شعیب منصور کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔
’عام طور پر لوگ بھول جاتے ہیں کہ سامنے تو چند لوگ نظر آتے تھے، لیکن شعیب منصور صاحب کو بھی وہ کریڈٹ ملنا چاہیے جو ان کا حق ہے۔میرے خیال میں وہ پاکستان کے سب سے بڑے پاپ نغمہ نگار ہیں۔‘
شاید یہی وجہ ہے کہ وائٹل سائنز کے ختم ہونے کے برسوں بعد بھی اس کے گانے صرف یاد نہیں کیے جاتے بلکہ گائے بھی جاتے ہیں اور صرف وہ لوگ نہیں گاتے جنھوں نے یہ گانے ریلیز ہوتے وقت سنے تھے بلکہ ان کی اولادیں بھی۔
اور شاید یہی کسی بھی موسیقار کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔




















