جہانگیر: شراب، افیون، نورجہاں اور ایک مغل بادشاہ کی پیچیدہ زندگی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, وقار مصطفیٰ
- عہدہ, صحافی، محقق
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 12 منٹ
’میں نے سلطنت (ملکہ) نورجہاں کو سونپ دی، مجھے ایک سیرشراب اور آدھ سیر گوشت کے سِوا اور کچھ نہیں چاہیے‘۔
یہ الفاظ ہیں چوتھے مغل شہنشاہ نورالدین محمد جہانگیر کے جنھیں ان کی کتاب ’تزک ِ جہانگیری‘ کے دیباچے میں مرزا محمد ہادی نے لکھا۔
لیکن خود جہانگیرنے بھی روزمرہ واقعات پر مبنی اپنی اس کتاب میں جسے وہ ’جہانگیرنامہ‘ کہتے تھے، شراب اور دیگر نشہ آور اشیا کے استعمال کے واقعات کو چھپانے کی بجائے حکمرانی، انصاف، فنون اور فطرت پر اپنے مشاہدات کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔
اپنی کتاب ’ہسٹری آف جہانگیر‘ میں بینی پرساد نے لکھا ہے کہ 31 اگست 1569 کو ’دعاؤں، منتوں اور زیارتوں کے بعد پیدا ہونے والا بچہ، اپنے عہد کے سب سے دولت مند اور شان و شوکت والے بادشاہ کا سب سے بڑا بیٹا، فتح پور سیکری کے دل کش شاہی شہر کا ہر دل عزیز شہزادہ تھا۔
جہانگیر کی زندگی کا راستہ اپنے بڑوں کی نسبت گویا پھولوں سے سجا ہوا تھا۔
’لیکن اسی آسودگی کے باعث زندگی بھر جہانگیر ارادے اور فیصلہ کرنے کی کمزوری کے شکار رہے۔ وہ خودسے زیادہ باصلاحیت یا زیادہ چالاک لوگوں کے سامنے خود کو بے بس چھوڑ دیتے۔ شخصیت کی یہ کمزوریاں ایک ایسی عادت سے مزید گہری ہو گئیں جو انھوں نے جوانی کی دہلیز ہی پر اختیار کر لی تھی یعنی شراب نوشی‘۔
بینی پرساد کے مطابق شراب نوشی مغل خاندان کی دیرینہ کمزوری تھی۔
بابر نے اپنی خودنوشت میں ان محفلوں کی بڑی جیتی جاگتی تصویر کھینچی ہے جہاں شراب کی محفلیں غم اور فکروں کو ڈبو دیتی تھیں۔ ہمایوں نے شراب اور افیون کے استعمال سے اپنی جسمانی توانائی کو نقصان پہنچایا۔ ان کے بیٹے محمد حکیم نے بھی شراب نوشی کے آگے ہتھیار ڈال دیے اور صرف 31 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اکبر مجموعی طور پر اس روایت سے ایک استثنا تھا، اگرچہ جوانی کے ابتدائی برسوں میں ان کا بھی شراب پینا کوئی غیر معمولی بات نہ تھی اور کبھی کبھار وہ حد سے بھی تجاوز کر جاتے تھے۔ ان کے دو چھوٹے بیٹے، مراد اور دانیال، بھی بالآخر شراب نوشی کے باعث ایک المناک موت سے دوچار ہوئے۔
جہانگیر نے اپنی 17ویں سالگرہ تک شراب کا ذائقہ تک نہیں چکھا تھا، سوائے اس کے کہ کبھی کسی بچوں کی دوا میں معمولی مقدار میں شراب شامل ہوتی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سنہ 1605 سے 1627 تک ہندوستان پر حکومت کرنے والے جہانگیر اپنے نصف سے زیادہ عہدِ حکومت میں سلطنت بھر میں گھومتے رہے۔
انشیکا جین اپنی تحریر ’ایمپَرر جہانگیر: دی نیچرلِسٹ‘ میں لکھتی ہیں کہ جہانگیر کم عمری ہی سے اپنے گردوپیش کی دنیا کو غیر معمولی باریک بینی سے دیکھتے تھے اور ہندوستان کے اور بیرونِ ہند سے تحفے میں ملنے والے جانوروں اور پرندوں کے مشاہدے کے ساتھ ساتھ ان کی تصاویر بنوانے کا اہتمام کرتے تھے۔
انشیکا جین کے مطابق جہانگیر نے مارخور اور بربری نسل کی بکریوں کی باہمی افزائش بھی کروائی اور ان کے بچوں کی حرکات و سکنات کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا۔
جہانگیر کی جانوروں میں دل چسپی ان کی زندگی کے آخری برسوں میں خوراک کے بارے میں غیر معمولی احتیاط تک جا پہنچی۔
’وہ حکم دیتے تھے کہ شکار کیے گئے جانور ان کی موجودگی میں صاف کیے جائیں اور وہ خود ان کے معدوں کا معائنہ کرتے تاکہ معلوم ہو سکے کہ انھوں نے کیا کھایا تھا۔ اگر کسی جانور کے معدے میں کوئی گھناؤنی چیز ملتی تو وہ اس نوع کو اپنی غذا کی فہرست سے خارج کر دیتے۔‘
انشیکا جین کے مطابق جہانگیر کی شخصیت تضادات سے بھری تھی: وہ ایک طرف لذتوں میں گم بادشاہ تھے تو دوسری طرف دنیا کو غیر معمولی گہری نظر سے دیکھنے والے مشاہدہ کار۔
مورخ ہنری بیورج نے یہاں تک لکھا کہ اگر جہانگیر عظیم مغل سلطنت کے بجائے قدرتی تاریخ کے کسی عجائب گھر کے سربراہ ہوتے تو شاید زیادہ ’بہتر اور خوش باش‘ انسان ہوتے۔
لیسا بالابان لِلَر اپنی تحقیقی تحریر’دی ایمپرر جہانگیر اینڈ دی پرسوٹ آف پلیژر‘ میں لکھتی ہیں کہ وہ شاذ ہی خود فوجوں کی قیادت کرتے، اکثر بیٹوں کی قیادت میں چلنے والی فوجوں کے پیچھے رہتے یا بظاہر بے سمت ذاتی عیش و تفریح کی تلاش میں سرگرداں رہتے۔
’ان کی آوارگی، شکار کے جنون، نشہ آور اشیا کے کھلے استعمال اور تقریباً مسلسل سفر کے باوجود شاہی ملازمین اور امرا نے انھیں کسی نہ کسی حد تک قبول کیے رکھا۔‘
شہنشاہ جہانگیر اپنی خودنوشت ’تزکِ جہانگیری‘ میں صرف اپنی فتوحات، دربار اور سلطنت کا احوال نہیں سناتے بلکہ اپنی ذات کی کمزوریوں سے بھی پردہ اٹھاتے ہیں۔
تزک سے علم ہوتا ہے کہ شراب سے ان کی وابستگی کی کہانی ایک معمولی واقعے سے شروع ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نوجوان شہزادہ جہانگیر اپنے والد اکبر کے لشکر کے ساتھ دریائے سندھ کے کنارے اٹک کے قریب تھے۔ ایک روز شکار سے واپسی پر تھکن محسوس ہوئی تو توپچی استاد شاہ قلی نے انھیں شراب کا ایک پیالہ پینے کا مشورہ دیا۔
جہانگیر نے اپنے آب دار محمود کو حکم دیا کہ حکیم علی کے گھر سے کوئی نشہ آور مشروب لایا جائے۔ جواب میں ایک چھوٹی سی بوتل میں میٹھی زرد شراب کے تقریباً ڈیڑھ پیالے آئے۔
جہانگیر نے اسے پیا، ذائقہ پسند آیا، اور پھر، ان کے اپنے الفاظ میں، ’روز بروز اس کی مقدار بڑھاتا گیا۔‘
ایک مرحلے پر وہ بتاتے ہیں کہ روزانہ شراب پیتے تھے، مگر جمعرات اور جمعہ کی شب اس سے پرہیز کرتے تھے۔۔ جمعرات ان کے تخت نشین ہونے کا دن تھا اور جمعہ مقدس دن۔ ان دنوں کا پرہیز ان کی مذہبی اور شاہی رسومات سے جڑا ہوا تھا۔
انگور کی شراب کا نشہ جب ان کے لیے کافی نہ رہا تو انھوں نے عرق، یعنی کشیدہ شراب، کا رخ کیا۔ نو برس کے اندر معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ وہ روزانہ 20 پیالے دو مرتبہ کشیدہ عرق پینے لگے—14 دن کے وقت اور چھ رات کو۔ ہر پیالے کا وزن بھی انھوں نے درج کیا: 18¼ مثقال یعنی تقریباً 78 گرام۔
نشے کی یہ مقدار محض ایک عدد نہیں تھی، جہانگیر کی اپنی تحریر اس کے جسمانی اثرات کی ایک لرزہ خیز تصویر بھی پیش کرتی ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ ہاتھ اتنے کانپنے لگے تھے کہ وہ اپنے پیالے سے خود نہیں پی سکتے تھے اور دوسروں کو انھیں پلانا پڑتا تھا۔ تب حکیم حمام نے بادشاہ کو صاف الفاظ میں متنبہ کیا کہ اگر وہ اسی طرح شراب پیتے رہے تو چند ہی ماہ میں علاج ممکن نہیں رہے گا۔
جہانگیر لکھتے ہیں کہ اس مشورے نے انھیں متاثر کیا، کیونکہ ’زندگی عزیز تھی‘، اور انھوں نے شراب کم کرنا شروع کردی۔ لیکن ساتھ ہی ایک نشے سے دوسرے نشے پر منتقل ہو گئے۔
جہانگیر کے مطابق جس نسبت سے انھوں نے شراب کم کی، اسی نسبت سے ’فیلونیا‘ کی مقدار بڑھا دی۔
اور پھر افیون اس داستان میں داخل ہوتی ہے۔
جہانگیرلکھتے ہیں کہ 46 برس اور چار ماہ کی عمر میں وہ اپنی روزانہ مقدار بھی درج کرتے ہیں: دن کے پانچ گھڑی گزرنے کے بعد آٹھ سرخ (ایک گرام) اور رات کی ایک گھڑی کے بعد مزید چھ سرخ (پون گرام) یعنی وہ اپنی افیون کے استعمال کا بھی ایک باقاعدہ روزانہ حساب رکھتے تھے۔
وہ لکھتے ہیں کہ 18 برس کی عمر سے شراب پیتے آئے ہیں، کبھی 20 پیالے تک پہنچے، پھر مقدار کم کی، اور 30 برس کے بعد صرف رات کو پینے لگے۔ آخر میں وہی جواز دہراتے ہیں: اب شراب صرف ہاضمے کے لیے ہے۔
سلطنت کے 13ویں سال میں گجرات کی آب و ہوا ان کے موافق نہ رہی اور ان کی طبیعت خراب ہو گئی۔ اس پر حکیموں نے انھیں شراب اور افیون دونوں کم کرنے کا مشورہ دیا۔ جہانگیر کے مطابق انھوں نے اسی روز دونوں کی مقدار گھٹا دی اور پہلے ہی دن اپنی صحت میں ’نمایاں بہتری‘ محسوس کی۔
مگر عادت ہمیشہ عقل کے تابع نہیں ہوتی۔
اسی بیماری کے دوران میں شدید سر درد اور بخار کے باوجود وہ جلد ہی اپنے معمول کے پیالوں کی طرف لوٹ آئے۔
بعد کے برسوں میں یہ صورت حال مزید پیچیدہ ہوئی۔
جہانگیر لکھتے ہیں کہ ایک شدید بیماری کے دوران میں چونکہ شراب پینے سے انھیں عارضی سکون ملتا تھا، اس لیے انھوں نے دن میں بھی پینا شروع کردیا، حالانکہ پہلے یہ ان کا معمول نہیں تھا۔
پھر وہ اعتراف کرتے ہیں کہ آہستہ آہستہ مقدار حد سے بڑھ گئی۔ گرم موسم نے اس کے مضر اثرات مزید بڑھا دیے اور کمزوری کے ساتھ سانس لینے میں دشواری بھی ہونے لگی۔
یہیں نورجہاں کا کردار نمایاں ہوتا ہے۔
جہانگیر لکھتے ہیں کہ نورجہاں بیگم نے رفتہ رفتہ ان کے شراب کے پیالے کم کیے، انھیں ناموزوں چیزوں اور کھانوں سے روکا اور ان کے علاج کا انتظام کیا۔
جہانگیر ان کی مہارت اور تجربے کو طبیبوں سے زیادہ مؤثر قرار دیتے ہیں، کیونکہ اس میں ان کے بقول محبت اور ہمدردی بھی شامل تھی۔ ’تزکِ جہانگیری‘ کا یہ بیان نورجہاں کو صرف ایک با اثر ملکہ کے طور پر نہیں بلکہ اپنے بیمار شوہر کی دیکھ بھال اور اس کی شراب نوشی کو محدود کرنے والی شخصیت کے طور پر بھی دکھاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن مُنی لال اپنی کتاب ’جہانگیر‘ میں لکھتے ہیں کہ جہانگیر کی بے بسی تقریباً قابلِ ترس حد تک پہنچ چکی تھی۔ نورجہاں کی دل آویزی نے ان سے وہ تھوڑی بہت سمجھ بوجھ اور قوتِ ارادی بھی چھین لی تھی جو ان میں باقی رہ گئی تھی۔
ایک طویل علالت، شراب کی لت اور جسمانی خواہشات کی شدت—یہ وہ بنیادی اسباب تھے جنھوں نے جہانگیر کو نورجہاں پر مکمل انحصار کی حالت تک پہنچا دیا تھا۔ بعض اوقات وہ شدید جذباتی دباؤ کے باعث بے چین ہو جاتے تھے۔
البتہ، لیسا بلبن لَر ’انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا‘ میں لکھتی ہیں کہ اگرچہ بعض مبصرین کے نزدیک ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بادشاہ جہانگیر نے سلطنت کے اختیارات اپنی اہلیہ کے سپرد کر دیے تھے، تاہم وہ اپنے عہدِ حکومت کے آخری پانچ برسوں تک مملکت کے سیاسی معاملات میں گہری دلچسپی لیتے اور سرگرمی سے شریک رہتے تھے۔
نورجہاں دراصل ایک ایسے بادشاہ کی شریکِ اقتدار تھیں جس نے اقتدار سے غفلت برتنے کے بجائے حکومتی ذمہ داریوں کا ایک حصہ اپنی قابلِ اعتماد اور باصلاحیت رفیقِ کار کے سپرد کر رکھا تھا۔
تزک کے حوالے سے لیزا لکھتی ہیں کہ جہانگیر کو کھیل اور شکار کا بے حد شوق تھا اور نورجہاں بھی اکثر ان مہمات میں اس کے ساتھ ہوتی تھیں۔
’ایسی ہی ایک مہم کے دوران میں انھوں نے صرف چھ گولیوں سے چار شیروں کا شکار کیا۔ اپنی بیوی کی اس غیر معمولی مہارت پر فخر کرتے ہوئے جہانگیر نے ان کے سر پر 1,000 اشرفیاں نچھاور کیں اور انھیں ایک جوڑا موتیوں کا اور ایک ہیرا بھی عطا کیا، جس کی مالیت ایک لاکھ روپے تھی۔
’لیکن عہدِ حکومت کے ان نسبتاً پُرسکون اور خوش حال درمیانی برسوں میں بھی، جب کسی شہزادے کی بغاوت نے بادشاہ کے سکون میں خلل نہیں ڈالا تھا، جہانگیر شراب اور منشیات پر اپنی گہری انحصاری سے نجات نہ پا سکے۔ یہاں تک کہ ان کے دربار میں ایک ایسا اہل کار بھی مقرر تھا جس کی بظاہر واحد ذمہ داری شاہی نشہ آور اشیا کی دیکھ بھال اور انہیں محفوظ رکھنا تھی۔‘
اس خودنوشت کا شاید سب سے بڑا تضاد اس وقت سامنے آتا ہے جب جہانگیر بادشاہ بننے کے بعد اپنی رعایا کے لیے شراب اور دوسری نشہ آور اشیا کی تیاری اور فروخت پر پابندی عائد کرتے ہیں، مگر اسی فرمان میں اپنی شراب نوشی کا اعتراف بھی کر دیتے ہیں۔
جہانگیر دوسروں کی شراب نوشی اور افیون کے انجام کو بھی اسی خودنوشت میں قلم بند کرتے ہیں۔
عنایت خان کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ وہ افیون کے عادی تھے اور شراب بھی پیتےتھے، یہاں تک کہ شراب نے ان کی حالت بگاڑ دی۔ دوسروں کے بارے میں لکھتے ہوئے جہانگیر نشے کے تباہ کن اثرات دیکھ سکتے تھے، مگر اپنی شراب نوشی کو وہ اکثر اعتدال، دوا یا ہاضمے کی ضرورت کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔
شاید اسی تضاد کی مثال ان کے بیٹے خرم، یعنی مستقبل کے شہنشاہ شاہ جہاں، کا واقعہ ہے۔
جہانگیر لکھتے ہیں کہ خرم 24 برس کی عمر تک شراب سے دور رہے تھے۔ ایک موقع پر جہانگیر نے انھیں شراب پیش کی اور اعتدال کی نصیحت کی۔ انھوں نے ابنِ سینا کا یہ قول بھی نقل کیا کہ شراب تھوڑی ہو تو دوا اور زیادہ ہو تو سانپ کا زہر بن جاتی ہے۔
بادشاہ دربار میں باقاعدگی سے شراب کی محفلیں سجایا کرتے تھے۔ جہانگیر کے اپنے بقول، ان محفلوں میں ان کے درباری ’وفاداری کی شراب سے سرشار‘ ہو جاتے تھے۔
نوروز کے موقع پر تو بادشاہ نے حکم دے رکھا تھا کہ شاہی جشن منانے والے اپنی مرضی کی کوئی بھی ’نشہ آور یا سرمست کرنے والی چیز‘ استعمال کر سکتے ہیں، اور انھیں کسی ’ممانعت یا رکاوٹ‘ کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
رام چندر پرساد نے اپنی کتاب ’ارلی انگلش ٹریولرز اِن انڈیا‘ میں لکھا ہے کہ سنہ 1616 میں، جہانگیر نے نشے کی حالت میں اپنے چند درباریوں کو حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ بیٹھ کر شراب پئیں۔
اگلے دن کسی نے اتفاقاً یا جان بوجھ کر گذشتہ رات پیش آنے والے واقعے کا ذکر کر دیا۔ بادشاہ کو اپنا حکم یاد نہ رہا تھا، چنانچہ انھوں نے پوچھا کہ درباریوں کو شراب پینے کی اجازت کس نے دی۔
جہانگیر کے لیے نشہ صرف شراب اور افیون تک محدود نہیں تھا۔
کشمیر کے سفر میں وہ ایک مقامی نشہ آور مشروب کا ذکر بھی کرتے ہیں جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ اس میں بھنگ ملائی جاتی ہے۔ وہ اس کے نشے اور جسمانی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر شراب دستیاب نہ ہو تو ضرورت کے وقت اسے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
نرسنگھا پی۔ سل کے مطابق، اگرچہ جہانگیر کو عیش و عشرت میں ڈوبا ہوا حکمران سمجھا جاتا ہے، لیکن انھوں نے انصاف کی فراہمی کے لیے ایک باقاعدہ نظام قائم کیا تھا۔ اس نظام میں سب سے نمایاں ’زنجیرِ عدل‘ تھی، جو اس عزم کی علامت تھی کہ رعایا کی شکایات اور فریادیں براہِ راست بادشاہ تک پہنچ سکیں۔
جہانگیر کے عہد میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ تجارتی تعلقات بھی قائم ہوئے۔
یوں جہانگیر کی میراث مغلیہ تاریخ کے وسیع تر تناظر میں فنونِ لطیفہ کی سرپرستی، انتظامی اقدامات اور پیچیدہ خاندانی تعلقات کے ایک ایسے امتزاج کی عکاسی کرتی ہے جس میں ان کی شخصیت کے کئی متضاد پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔
لیسا لکھتی ہیں کہ زندگی کے آخری برسوں میں، برسوں کی حد سے بڑھی ہوئی شراب نوشی اور منشیات کے استعمال نے جہانگیر کے جسم کو اس قدر نڈھال کر دیا تھا کہ ایک اور بیٹے کی بغاوت کچلنے کی کامیاب مگر تھکا دینے والی مہم کے بعد وہ تقریباً معذور ہو چکے تھے۔ ان کی حالت یہ تھی کہ وہ نہ چل سکتے تھے اور نہ افیون لے سکتے تھے، بس چند گھونٹ شراب ہی پی پاتے تھے۔
اس کے باوجود انھوں نے سفر کا سلسلہ ترک نہیں کیا‘۔
جہانگیر 1627 کے گرم موسم میں وہ سکون اور آرام کی غرض سے اپنے محبوب کشمیر روانہ ہوئے، لیکن وہاں پہنچنے کے چند ہی دن بعد خود جہانگیر اور ان کے ساتھ آنے والے سب سے چھوٹے بیٹے، شہزادہ شہریار، شدید بیمار پڑ گئے اور دونوں کی حالت نازک ہو گئی۔
چنانچہ وہ لاہور واپسی کے لیے روانہ ہوئے، لیکن سفر کے دوران میں، 28 اکتوبر 1627 کو چنگرہ سری کے مقام پر وہ فوت ہو گئے۔ اس وقت ان کی عمر 58 برس تھی اور انھیں تخت پر بیٹھے 21 برس سے کچھ زیادہ عرصہ گزر چکا تھا۔
جہانگیر کی خودنوشت کی تحریر 17ویں سالِ سلطنت کے بعد بیماری اور کمزوری کے باعث رک گئی تھی، جبکہ اس کے بعد کا مواد درباری مؤرخین، خصوصاً معتمد خان اور محمد ہادی، نے مکمل کیا۔
لیسا کے مطابق جہانگیر کے بعد آنے والے مغل بادشاہوں نے بھی اپنے پیش روؤں کی اس سیاحانہ اور متحرک طرزِ زندگی کو جاری رکھا، جب تک ان کے پاس اس کے لیے معاشی اور سیاسی طاقت موجود رہی۔ یہ سلسلہ تقریباً مزید 100 برس تک چلتا رہا۔
تاہم، جہانگیر سے پہلے یا ان کے بعد شاید ہی کوئی مغل بادشاہ ایسا گزرا ہو جس نے لذت کی تلاش میں مسلسل سفر کرنے کو اس قدر مستقل مزاجی سے اپنی زندگی کا حصہ بنایا ہو۔
جہانگیر اپنی شراب نوشی کی عادت اور اس سے نبردآزما ہونے کی اپنی جدوجہد کو کھلے عام تسلیم کرتے تھے۔ جہانگیر ہی کے مطابق ان کے درباری شاعرطالب آملی نے اسی کیفیت کو ایک شعر میں یوں بیان کیا:
میرے دو ہونٹ ہیں، ایک شراب کا دلدادہ ہے
اور دوسرا نشے میں ہونے پر معذرت خواہ




















