پابندیاں، حملے اور مذاکرات: ایران کے خلاف امریکی جنگ کیسے ختم ہو سکتی ہے؟

ایران

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ایلکس بائیڈ
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

امریکہ اور ایران دونوں کے ایک دوسرے پر حملے کرنے اور سخت بیانات دینے کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے کسی فوری معاہدے کی امید کم ہوتی جا رہی ہے۔

امریکہ نے حال ہی میں ایران اور اس کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کے خلاف نئی اور وسیع اقتصادی پابندیوں کا اعلان کیا ہے جس کے بعد فوری معاہدے نہ ہونے سے متعلق شکوک بڑھتے جا رہے ہیں۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر حملے رکوانا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس کے دوران ایران کے ساتھ جاری تنازع کی نوعیت سے متعلق صحافیوں کے سوالات کے جواب دینے کی کوشش کی، تاہم ان کے بیانات نے ابہام دور کرنے کے بجائے امریکی میڈیا میں مختلف، اور بعض اوقات متضاد، ردِعمل کو جنم دیا۔

خطے میں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں جو اپنے خاندانوں سے دور ایک ایسے تنازع کا حصہ ہیں جس کے نتائج ابھی غیر یقینی ہیں۔ اس کے باوجود جے ڈی وینس نے کہا کہ وہ موجودہ صورتحال کو 'جنگ' قرار نہیں دیں گے کیونکہ ان کے بقول 'وہاں کوئی فعال فائرنگ نہیں ہو رہی۔'

جے ڈی وینس، جنھیں بہت سے مبصرین آئندہ صدارتی انتخاب میں ممکنہ امیدواروں میں شمار کرتے ہیں، سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ انتظامیہ کے مؤقف کو زیادہ وضاحت سے پیش کریں گے۔ تاہم انھوں نے نہ تو یہ واضح کیا کہ توانائی کی قیمتوں میں کمی کب متوقع ہے اور نہ ہی یہ بتایا کہ یہ تنازع کس طرح اور کن شرائط پر اختتام پذیر ہو سکتا ہے۔

ان کے بیانات نہ صرف انتظامیہ کے دیرینہ ناقدین کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے بلکہ ایسا بھی دکھائی دیا کہ وائٹ ہاؤس کے قریبی حلقوں میں اس بحران سے نمٹنے کی حکمتِ عملی کے حوالے سے اختلافِ رائے موجود ہے۔

فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے دنیا کی اہم سمندری گزرگاہوں میں شامل آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔

یاد رہے کہ جون میں دونوں فریقوں کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہوئے تھے۔ اس کا مقصد 60 دن کے اندر مستقل جنگ بندی اور ایک جامع معاہدے تک پہنچنا تھا تاہم یہ مدت اب ختم ہو چکی ہے۔

جنگ اب ساتویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایسے میں ہم نے اس صورتحال پر ہری نظر رکھنے والے ماہرین سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آنے والے دنوں میں یہ تنازع کس سمت جا سکتا ہے۔

امریکہ کا ایران پر فوجی اور اقتصادی دباؤ

اس حوالے سے مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ واشنگٹن کے سینیئر ریسرچ فیلو جیسن کیمبل کہتے ہیں کہ امریکی حکمتِ عملی اب بھی واضح نہیں۔

ان کے مطابق امریکہ کو فوجی کارروائیوں کے جلد نتائج کی امید تھی تاہم ایسا نہیں ہوا۔ اب واشنگٹن فوجی کارروائیوں اور اقتصادی پابندیوں، دونوں کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ امریکی حکومت فی الحال موجودہ پالیسی جاری رکھنے پر مطمئن دکھائی دیتی ہے اور اسے امید ہے کہ نئی پابندیاں ایران کو کمزور پوزیشن سے مذاکرات پر آمادہ کریں گی۔

تاہم ان کے خیال میں ایران کسی بھی سمجھوتے کے بدلے بھاری قیمت طلب کرے گا جسے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے قبول کرنا سیاسی طور پر مشکل ہو سکتا ہے۔

ایران پر امریکہ کا حملہ

،تصویر کا ذریعہMorteza Akhondi /Getty Images

،تصویر کا کیپشنامریکہ کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے کے باوجود ایرانی حکومت مزاحمت کے لیے تیار ہے

ایران امریکہ سے مراعات کا انتظار کرے گا

لندن میں قائم تحقیقی ادارے چیتھم ہاؤس کی ریسرچ ایسوسی ایٹ انیسہ بصیری تبریزی کے مطابق حالیہ حملوں سے ایران کی پالیسی میں فوری تبدیلی کا امکان نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ تہران معیشت پر بڑھتے دباؤ اور وقفے وقفے سے ہونے والے حملوں کے لیے پہلے ہی تیار دکھائی دیتا ہے اور غالباً ان کا محدود جواب دیتا رہے گا تاکہ کشیدگی مزید نہ بڑھے۔

وہ کہتی ہیں کہ نئی پابندیاں ایرانی معیشت کو مزید نقصان پہنچائیں گی مگر فی الحال ایسا نہیں لگتا کہ معاشی دباؤ ایران کو اپنے مؤقف یا مذاکرات سے متعلق حکمتِ عملی بدلنے پر مجبور کر دے گا۔

ان کے مطابق ایران تنازع سے نکلنے کا راستہ ضرور تلاش کر رہا ہے، تاہم وہ امریکی دباؤ کے آگے جھکنے کے بجائے کسی رعایت یا سابقہ مفاہمتی فریم ورک کی بحالی کا منتظر ہے۔

’امریکہ کو جنگ بندی معاہدے کی طرف واپس جانا چاہیے‘

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنماہرین کے مطابق نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات سے پہلے جنگ کا حل ٹرمپ کے بہترین مفاد میں ہوگا‘
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے محقق اور ایران میں برطانیہ کے سابق سفیر نکولس ہوپٹن کے مطابق حالیہ فوجی کارروائیاں ایران کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور نہیں کریں گی۔

ان کے خیال میں اقتصادی دباؤ بھی محدود اثر رکھے گا کیونکہ چین، روس اور دیگر کئی ممالک امریکی پابندیوں کی مکمل حمایت نہیں کرتے۔

وہ کہتے ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز میں خلل ڈالنے کی صلاحیت برقرار رکھتا ہے، جس کے عالمی معیشت پر اثرات پڑ سکتے ہیں۔

نکولس ہوپٹن کے مطابق اس بحران سے نکلنے کا بہترین راستہ جون میں طے پانے والے جنگ بندی فریم ورک اور مذاکراتی عمل کی بحالی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک معاہدہ نہ صرف امریکہ کے لیے سفارتی کامیابی ہو گا بلکہ اس سے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات بھی کم ہو سکتے ہیں۔

وہ سمجھتے ہیں کہ طویل مدت میں پابندیوں میں نرمی اور ایران کے عالمی معیشت سے روابط بڑھنے سے ملک کے اندر بتدریج سیاسی اور معاشی تبدیلیاں آ سکتی ہیں، تاہم اس کے لیے وقت اور صبر درکار ہو گا۔

لیکن امریکہ اس بحران سے نکلنے کا راستہ کیسے دیکھتا ہے؟

نکولس ہوپٹن کے مطابق فی الحال یہ تنازع ایک پیچیدہ تعطل کا شکار دکھائی دیتا ہے جس کا نقصان تمام فریقوں کو ہو رہا ہے۔ تاہم ان کے مطابق اس کا جواب جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں موجود ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اگر واشنگٹن دوبارہ اسی فریم ورک کے تحت مذاکرات شروع کرے تو معاہدے تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔‘

ان کے خیال میں ’ایسا معاہدہ امریکہ کے لیے سفارتی کامیابی ہو گا اور ساتھ ہی یہ یقین دہانی بھی فراہم کرے گا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ایران پر عائد امریکی پابندیوں میں نرمی اور عالمی معیشت سے اس کے بڑھتے روابط طویل مدت میں ملک کے اندر سیاسی اور معاشی تبدیلیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو صبر اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔