کراچی میں خاتون اور اُن کے تین بچوں کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزم ’فرار کی کوشش‘ کے دوران ہلاک

Karachi Murder

،تصویر کا ذریعہSyed Wasim/ Nauman Sheikh

،تصویر کا کیپشن34 سالہ مہوش اور اُن کے تین بچے، آنھ سالہ میرہ، چھ سالہ حسنین اور ڈھائی سالہ اشمیرہ
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو، کراچی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ سرجانی ٹاؤن کے علاقے میں ایک خاتون اور اُس کے تین بچوں کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا ہے۔

جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کراچی کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ویسٹ) کے آفس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا کہ پولیس جمعرات کی رات ملزم محمد ہمایوں خان کو مبینہ آلہ قتل (وہ سریا جس کی مدد سے خاتون اور بچوں کو قتل کیا گیا تھا) کی برآمدگی کے لیے لے کر گئی۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ جب اہلکار سریا تلاش کرنے میں مصروف ہوئے تو ملزم نے ’موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے‘ ایک اہلکار کی پستول چھین کر فرار ہونے کی کوشش کی اور اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ایک اہلکار زخمی ہوا اور اِسی موقع پر پولیس کی جانب سے اپنے دفاع میں کی گئی فائرنگ سے ملزم موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔

ترجمان ایس ایس پی ویسٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزم سے چھینا گیا سرکاری پستول بھی برآمد کر لیا گیا اور مبینہ آلہ قتل یعنی سریا بھی برآمد ہو گیا۔

یاد رہے کہ جمعرات کو کراچی پولیس نے سرجانی ٹاؤن میں ایک گھر کے اندر خاتون اور اُس کے تین بچوں کے قتل کے الزام میں پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے ملزم محمد ہمایوں خان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزم قتل ہونے والی خاتون کے شوہر کا رشتہ دار تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کچھ عرصہ قبل تک قتل ہونے والی خاتون کے گھر کے بالائی حصے میں کرائے دار کی حیثیت سے رہتا تھا تاہم بعد ازاں اُسے وہاں سے نکال دیا گیا تھا مگر پھر بھی کبھار اس کا اس گھر میں آنا جانا رہتا تھا۔

ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کا دعویٰ ہے کہ ملزم سے ہونے والے ابتدائی تفتیش میں یہ سامنے آیا تھا کہ وقوعے کے روز بھی ملزم اس گھر آیا تھا۔

خاتون اور اُن کے بچوں کا قتل اور ملزم کی گرفتاری

Karachi police

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

14 ستمبر (پیر) کی شام پیش آئے اس واقعے کی ایف آئی آر قتل ہونے والی خاتون کے سُسر کی مدعیت میں تھانہ سرجانی ٹاؤن میں درج کی گئی ہے۔

34 سالہ مہوش اور اُن کے تین بچوں، آنھ سالہ میرہ، چھ سالہ حسنین اور ڈھائی سالہ اشمیرہ، کی لاشیں سرجانی ٹاؤن میں واقع اُن کے گھر سے برآمد ہوئی تھیں۔ ابتدائی طور پر پولیس کا کہنا تھا کہ ان چاروں افراد کو راڈ، ڈنڈے یا اِسی نوعیت کے کسی آوزار کی مدد قتل کیا گیا تھا۔

اس کیس کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت درج ہوا تھا۔

مدعی مقدمہ کے مطابق اُن کے بیٹے کی مقتولہ مہوش سے شادی ہوئی تھی اور دونوں میاں بیوی اپنے تین بچوں کے ساتھ سرجانی ٹاؤن میں واقع گھر میں رہتے تھے۔

سسر نے بتایا کہ گھر والوں سے رابطہ کرنے پر جب انھیں جواب نہ ملا تو وہ سرجانی ٹاؤن گئے جہاں انھوں نے اپنی بہو مہوش اور اُس کے تین بچوں کو مردہ حالت میں پایا۔ پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر چھوٹی بچی زندہ تھی تاہم دوران علاج وہ بھی دم توڑ گئی۔

جمعرات کی صبح کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے اس کیس میں ملزم کی گرفتاری کی اطلاع دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ابتدائی تفتیش میں ملزم نے اعترافِ جرم کر لیا ہے اور اب پولیس اُس آلہ قتل (سریا) کی تلاش میں ہے جو ملزم نے واردات کے بعد ایک نالے میں پھینک دیا تھا۔

یاد رہے کہ پولیس کی حراست میں کیے گئے اعتراف جرم کی قانونی حیثیت نہیں ہوتی جب تک کہ ملزم مجسٹریٹ کے سامنے اپنا یہ بیان ریکارڈ نہ کروا دے، جو کہ پولیس کی غیرموجودگی میں ریکارڈ کیا جاتا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران ڈی آئی جی عرفان بلوچ نے بتایا کہ اس واردات کے بعد پولیس نے مقتولین کے گھر آنے جانے والے افراد، علاقہ مکینوں اور دیگر گواہوں سے پوچھ گچھ شروع کی اور ٹیکنیکل ٹیموں نے بھی اپنا کام شروع کیا۔

انھوں نے کہا کہ لوگوں کے ابتدائی بیانات کے بعد پولیس کو پتا چلا کہ وقوعے کے روز ملزم ہمایوں ہی لگ بھگ دن دو بجے اُس گھر آیا تھا۔

عرفان بلوچ کے مطابق پولیس کو ایک اور گواہ بھی ملا جس نے بتایا کہ انھوں نے ناصرف ملزم کو ’اُس گھر سے نکلتے ہوئے دیکھا بلکہ اسے سلام بھی کیا تھا۔‘

ڈی آئی جی کے مطابق لوگوں سے ملنے والی معلومات نے ملزم ہمایوں ہی مشتبہ شخص کے طور پر سامنے آیا، جسے گرفتار کیا گیا اور اس سے پوچھ گچھ کی گئی جبکہ اُس کے موبائل ڈیٹا سمیت دیگر تکنیکی شواہد کا تجزیہ بھی کیا گیا جس سے شک یقین میں بدلا۔

ڈی آئی جی ویسٹ کے مطابق مزید تفتیش میں یہ سامنے آیا کہ نیو کراچی میں رہنے والے ملزم نے اس روز اپنا کیٹرنگ کا ٹھیلا بھی بند رکھا تھا اور کام سے چھٹی کی تھی۔

عرفان بلوچ نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ ملزم نے یہ قتل باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیے۔ ’نیو کراچی میں اپنے گھر سے نکلتے وقت ملزم نے اپنا موبائل فون بند کر دیا تھا اور موٹر سائیکل بھی گھر پر ہی چھوڑ دی تھی اور وہ چنگ چی رکشے کے ذریعے سرجانی ٹاؤن پہنچا اور یہاں آ کر آگے پیدل مقتولین کے گھر آیا۔‘

عرفان بلوچ نے دعویٰ کیا کہ ملزم نے تفتیش کے دوران بتایا کہ اُس نے مقتولہ کے ریپ کی کوشش بھی کی تھی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ مقتولہ کی جانب سے مزاحمت پر ملزم نے گھر میں موجود سریے سے اُس کے سر پر وار کیا، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گئیں۔

ڈی آئی جی کے مطابق ملزم نے بتایا کہ مہوش کی موت کے بعد اُس نے پہلے گھر میں موجود چھوٹی بیٹی اور بعدازاں مدرسے سے پڑھ کر آنے والے دو دیگر بچوں کو بھی سریے کی مدد سے قتل کیا۔

ڈی آئی جی ویسٹ نے اپنی پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ چاروں افراد کو قتل کرنے کے بعد ملزم نے واقعے کو ڈکیتی کا رنگ دینے کی کوشش کی، الماریوں سے کپڑے نکال پر پھیلا دیے اور بچوں کے وہ ڈبے بھی توڑ دیے جن میں وہ رقم جمع کرتے تھے۔

تاہم اُن کے مطابق جائے وقوعہ کو دیکھنے کے بعد پولیس ابتدا ہی میں اس نتیجے پر پہنچ گئی تھی کہ یہ ڈکیتی کا نہیں بلکہ قتل کا واقعہ ہے۔

ڈی آئی جی ویسٹ کے مطابق قتل کے بعد ملزم نے اُسی گھر کے واش روم میں خود کو صاف کیا اور کرائم سین سے شواہد ختم کرنے کی کوشش کی۔

ڈی آئی جی کے مطابق دو بجے گھر میں داخل ہونے والا ملزم تقریباً چھ بجے یہاں سے نکلا۔

ڈی آئی جی ویسٹ کے مطابق واقعے کی اطلاع پھیلنے کے بعد ملزم دوبارہ جائے وقوعہ پر آیا اور وہاں پولیس کی کارروائی کو دیکھتا رہا اور بعد ازاں وہ عباسی شہید ہسپتال بھی گیا۔

سنگین جرائم کے ملزمان کی مشکوک حالات میں موت

Ambulance

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یاد رہے کہ پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے جس میں سنگین جرائم، بالخصوص خواتین اور بچوں کے ساتھ ریپ جیسے جرائم، کے الزام میں گرفتار ہونے والا ملزم پولیس کی حراست نء مشکوک حالات میں مارا گیا ہو۔

11 ستمبر کو پاکستان میں صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ مبینہ طور پر ایک گھر میں گھس کر دو خواتین کا گینگ ریپ کرنے کے الزام میں گرفتار کیے گئے چار ملزمان اُس وقت نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے جب انھیں جائے وقوعہ کی نشاندہی کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے الزام میں گرفتار ملزمان کی پولیس تحویل میں ہوتے ہوئے مشکوک حالات میں ہلاکت کی خبریں بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔

اس نوعیت کے کیسز میں پولیس ملزم کی گرفتاری کا اعلان کرتی ہے، اُس کا اعترافی بیان حاصل کرنے کا دعویٰ کرتی ہے اور پھر جائے وقوعہ کی نشاندہی یا آلہ قتل کی برآمدگی یا پولیس حراست سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران ملزمان مشکوک حالات میں مارے جاتے ہیں۔

گذشتہ سال پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کی جانب سے جاری کی گئی ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے مبینہ مقابلوں کی ایک دانستہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے جو بہت سے معاملات میں ماورائے عدالت ہلاکتوں پر منتج ہوتی ہے جو صوبے میں قانون کی حکمرانی اور آئینی تحفظات کو بنیادی طور پر کمزور کرتی ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کی بنیاد پر، ایچ آر سی پی نے 2025 کے آٹھ ماہ کے عرصے میں کم از کم 670 سی سی ڈی مقابلوں کو دستاویزی شکل دی، جن میں 924 ملزم ہلاک ہوئے۔

ادارے کے مطابق ہلاکتوں کا یہ شدید عدم توازن یعنی اوسطاً روزانہ دو سے زیادہ جان لیوا مقابلے اور مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے انداز میں یکسانیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ انفرادی بے ضابطگی کے واقعات نہیں بلکہ ایک ادارتی طرزِ عمل ہے۔

ایچ آر سی پی کے فیکٹ فائنڈنگ مشن نے ان ہلاکتوں پر فوری اعلیٰ سطح کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا اور اس کے ساتھ یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ پورے پنجاب میں پولیس مقابلوں پر پابندی عائد کی جائے۔

ادھر کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ کے سربراہ سہیل ظفر چھٹہ کا کہنا تھا کہ ایچ آر سی پی کی یہ رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں ہے اور ان کا ادارہ ایسا کوئی کام نہیں کرتا جو کہ ملکی آئین سے متصادم ہو۔