لائیو, یمن میں حکومتی فورسز اور حوثیوں میں جھڑپیں، کم از کم 63 افراد ہلاک: ایران کے خلاف جنگ میں شرکت کے لیے فوج نہیں بھیجیں گے، جنوبی کوریا

یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی گروہ کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 63 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسری جانب جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے واضح کیا ہے کہ اُن کا ملک ایران کے خلاف کسی جنگ میں نہ تو حصہ لے گا اور نہ ہی کسی غیرملکی تنازع میں مداخلت کرے گا۔

خلاصہ

  • امریکہ کا ایرانی وفد کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کی اجازت دینے کا اعلان
  • امریکہ نے سعودی عرب کو 48 ایف 35 لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی
  • سیستان و بلوچستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے تین افراد ہلاک کر دیے: ایرانی وزارتِ اطلاعات کا دعویٰ
  • مقدس مقامات کے تحفظ کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے: ایران
  • ایرانی سکول اور سپورٹس سینٹر پر امریکی حملوں کو جنگی جرائم سمجھنے کی معقول وجہ موجود ہے: اقوام متحدہ کے ماہرین

لائیو کوریج

  1. یمن میں سرکاری فوج اور حوثی باغیوں کی جھڑپوں میں 60 سے زائد افراد ہلاک

    حملے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنحوثی فوج کے میڈیا کے مطابق حوثی سعودی حمایت یافتہ فورسز پر حملہ کر رہے ہیں

    بی بی سی عربی نے خبر دی ہے کہ یمن میں سرکاری فوج اور حوثی باغیوں کے درمیان گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں 60 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    دوسری جانب سعودی عرب نے جمعرات کو جنگ بندی کے دوبارہ خاتمے کے بعد پہلی بار ڈرون حملے میں ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    یاد رہے کہ کئی سال نسبتاً پرسکون رہنے کے بعد، مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث جولائی سے یمن میں تنازع دوبارہ شدت اختیار کر گیا ہے۔

    گزشتہ ہفتے حوثیوں کے ایک اچانک حملے کے بعد لڑائی مزید بڑھ گئی ہے جس کے نتیجے میں وہ بحر ہند اور بحیرہ احمر کو ملانے والی اہم آبنائے باب المندب تک اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں کو پھیلانے میں کامیاب ہو گئے۔

    زمین پر لڑائی کے علاوہ، حوثی سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے بھی کر رہے ہیں۔

    ان حملوں میں خاص طور پر تیل اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے،جبکہ سعودی تیل لے جانے والے تجارتی جہاز بھی نشانے پر ہیں۔

    حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ حملے ان کے علاقوں پر سعودی عرب کی جانب سے عائد ناکہ بندی کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔

    بی بی سی عربی کے مطابق سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے ایک فوجی اہلکار نے بتایا کہ ’گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تعز اور لحج میں حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں اور جھڑپوں میں 23 سرکاری فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔‘

  2. اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم اس مرحلے پر ہم آپ کے لیے اب تک اہم خبروں کا خلاصہ شامل کر رہے ہیں۔

    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ ایک انٹرویو کے دوران امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ایران ابھی معاہدے کے لیے تیار نہیں۔
    • ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ’مقدس مقامات کے تحفظ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے اور اسے اختلافات بھڑکانے یا علاقائی کشیدگی میں اضافے کے آلے کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔‘
    • امریکہ نے سعودی عرب کو ایف 35 لائٹننگ ٹو سٹرائیک فائٹر لڑاکا طیاروں اور متعلقہ دفاعی سازوسامان کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ امریکہ محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق اس دفاعی معاہدے کی کل مالیت 24.3 ارب ڈالر ہے۔
    • امریکی حکومت نے ایرانی حکام کو اگلے ہفتے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے ویزے جاری کر دیے ہیں۔ بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ جن ایرانی عہدیداروں کو اجلاس میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے ان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہیں۔
    • سلامتی کونسل میں روس اور چین نے ایران پر پابندیوں کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کی مدت میں توسیع کی امریکی قرارداد ویٹو کردی
    • پاکستان کی فوج کا کہنا ہے کہ 15 سے 17 ستمبر کے دوران خیبر پختونخوا میں مختلف کارروائیوں میں عسکریت پسند گروہ کے 10 ارکان ہلاک مارے گئے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر حملے میں چھ اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
    • اٹلی کے وزیرِ دفاع گوئڈو کروسیٹو نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں واقع طائف ایئر بیس پر جمعرات کی شب ہونے والے حملے میں اٹلی کا ایک یوروفائٹر ایف-2000 جنگی طیارہ متاثر ہوا، تاہم وہاں تعینات تمام اطالوی فوجی اہلکار محفوظ رہے۔
  3. بریکنگ, کوہاٹ میں پولیس لائن کی پرانی عمارت کے قریب دھماکہ، 20 سے زائد افراد زخمی, بلال احمد، بی بی سی اُردو، پشاور

    صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں پولیس لائن کی سابقہ عمارت کے قریب دھماکے کے نتیجے میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں اور جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیاں اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    ترجمان ریسکیو بلال احمد فیضی کے مطابق ریسکیو ایمبولینسز کے ذریعے اب تک 20 سے زائد زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا جاچکا ہے، جبکہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    ترجمان ریسکیو کے مطابق اس وقت جائے وقوعہ پر 14 ایمبولینسز، ریسکیو ور ریکوری ویکلز اور 40 سے زائد اہلکار امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

  4. سعودی عرب کے فضائی اڈے پر حملے میں اطالوی جنگی طیارہ بھی ہدف بنا، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا

    SPA

    ،تصویر کا ذریعہSPA

    اٹلی کے وزیرِ دفاع گوئڈو کروسیٹو نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں واقع طائف ایئر بیس پر جمعرات کی شب ہونے والے حملے میں اٹلی کا ایک یوروفائٹر ایف-2000 جنگی طیارہ متاثر ہوا، تاہم وہاں تعینات تمام اطالوی فوجی اہلکار محفوظ رہے۔

    اٹلی کی نیشنل ایسوسی ایٹڈ پریس ایجنسی کے مطابق وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ وہ رات بھر چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل لوسیانو پورٹولانو کے ساتھ مسلسل رابطہ میں رہے اور سعودی عرب کی صورتحال، بالخصوص طائف ایئر بیس کی صورتِ حال کا جائزہ لیا، جسے متعدد حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

    اٹلی کے وزیرِ دفاع نے بتایا کہ اس اڈے پر ’آپریشن انہیرنٹ ریزولو‘ کے تحت اطالوی فوجی اہلکار تعینات ہیں، تاہم حملوں کے باوجود کسی اطالوی فوجی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

    ان کے مطابق حملے کے وقت ایک اطالوی ایف-2000 جنگی طیارہ اڈے کے نسبتاً غیر مرکزی حصے میں موجود تھا، جو حملے کی زد میں آ گیا۔ تاہم اطالوی اہلکاروں کے زیرِ استعمال دیگر گاڑیوں، سازوسامان یا تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

    وزیرِ دفاع نے کہا کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور اڈے پر تعینات اطالوی اہلکار محفوظ ہیں۔

    Taif

    ،تصویر کا ذریعہSPA

    یاد رہے کہ جمعرات کو سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع (سول ڈیفنس) نے آگاہ کیا تھا کہ فضا میں تباہ کیے گئے ایک ڈرون کا ملبہ طائف شہر پر گِرنے سے ایک شخص ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔

    محکمہ شہری دفاع نے اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر بتایا تھا کہ اس واقعے کے نتیجے میں متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ سعودی عرب کے سرکاری خبررساں ادارے ’سعودی پریس ایجنسی‘ نے دعویٰ کیا تھا کہ فضا میں تباہ کیا گیا ڈرون حوثیوں کی جانب سے داغا گیا تھا۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ہلاک ہونے والا شخص یمنی شہری ہے جبکہ زخمی ہونے دو افراد میں ایک پاکستانی شہری بھی شامل ہے، جس کی حالت تشویشناک ہے۔

  5. روسی تیل خریدنے پر انڈیا کو بھاری امریکی ٹیرف کا سامنا ہو سکتا ہے: امریکی کانگریس کا نیا قانون

    USA, India

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی کانگریس نے روس اور ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک طاقتور نیا اختیار دے دیا ہے، جس کے تحت روسی تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر بھی بھاری محصولات عائد کیے جا سکیں گے۔ اس اقدام سے انڈیا اور چین براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔

    بدھ کو امریکی ایوانِ نمائندگان نے 262 کے مقابلے میں 159 ووٹوں سے سینکشننگ روس اینڈ ایران ایکٹ 2026 منظور کر لیا۔ امریکہ میں شدید سیاسی تقسیم کے باوجود اس بل کو غیر معمولی طور پر دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل رہی۔ اس کے حق میں 203 ریپبلکن، 58 ڈیموکریٹس اور ایک آزاد رکن نے ووٹ دیا، جبکہ 152 ڈیموکریٹس اور سات ریپبلکن نے مخالفت کی۔

    سینیٹ اس بل کی منظوری پہلے ہی 7 اگست کو 86 کے مقابلے میں 11 ووٹوں سے دے چکی تھی۔ اب اسے دستخط کے لیے صدر ٹرمپ کو بھجوا دیا گیا ہے۔

    انڈیا کے لیے اس قانون کی اہم ترین شق یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کو روس سے تیل یا گیس خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہو جائے گا۔ چونکہ انڈیا اور چین روسی توانائی کے بڑے خریداروں میں شمار ہوتے ہیں، اس لیے نئی دہلی اور بیجنگ میں اس قانون پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

    انڈیا میں خاص طور پر ڈیموکریٹک سینیٹر رچرڈ بلومینتھل کے بیانات موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں۔ بل کی منظوری کے بعد کیپٹل ہل کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے چین اور انڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہو گا کہ وہ روس کے بجائے کہیں اور سے تیل اور گیس خریدیں، کیونکہ ’کسی کو خوش کرنے کی کوشش کوئی حکمتِ عملی نہیں۔‘

    بلومینتھل کے اس انتباہ پر ردِعمل دیتے ہوئے دی ہندو کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ورگیز کے جارج نے لکھا کہ اکثر کہا جاتا ہے کہ ٹرمپ کے عہد کے بعد انڈیا اور امریکہ کے تعلقات دوبارہ بش اور اوباما دور کی پالیسیوں کی طرف لوٹ جائیں گے، لیکن اب اسی نوعیت کا مؤقف ایک ڈیموکریٹ سیاست دان کی زبان سے بھی سننے کو مل رہا ہے۔

    دوسری جانب امریکی تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی سینیئر فیلو تنوی مدن نے اس تجزیے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ بہت کم لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انڈیا اور امریکہ کے تعلقات کو مکمل طور پر ماضی کی طرف موڑا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق روس سمیت متعدد معاملات پر ریپبلکن اور ڈیموکریٹ، دونوں جماعتوں کے قانون ساز ماضی میں بھی انڈیا سے اختلاف رکھتے رہے ہیں۔

    تنوی مدن کا کہنا تھا کہ فرق صرف یہ تھا کہ سابق امریکی حکومتوں نے ان اختلافات کو ایک وسیع تر حکمتِ عملی کے تحت سنبھالے رکھا۔ یہ حکمتِ عملی دو اہم نکات پر مبنی تھی: چین کے مقابلے میں انڈیا کی اہمیت اور عالمی تیل کی قیمتوں کے بارے میں خدشات۔ اسی تناظر میں روسی تیل پر قیمت کی حد مقرر کرنے کی پالیسی متعارف کرائی گئی تھی۔

  6. وزیراعظم کے فیول ریلیف پروگرام کے لیے 25 ارب روپے جاری، اہل صارفین کو 48 گھنٹوں میں ادائیگی کا فیصلہ, تنویر ملک، صحافی

    وفاقی حکومت نے وزیراعظم کے فیول ریلیف پروگرام کے پہلے مہینے کے لیے 25 ارب روپے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو جاری کر دیے ہیں، جبکہ پیٹرول پمپس اور ڈیلرز کو اہل صارفین کے دعووں کی رقم 48 گھنٹوں کے اندر ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیٹرول پمپس اور ڈیلرز کی نمائندہ تنظیموں کے اجلاس میں بتایا کہ پروگرام کے لیے تین ماہ کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں تاکہ مستحق صارفین کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

    اجلاس میں سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ادائیگیوں اور رقوم کی واپسی کے طریقہ کار پر بریفنگ دیتے ہوئے ڈیلرز کو یقین دلایا کہ پروگرام کے تحت جمع کرائے گئے دعووں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کی جائے گی۔

    اس موقع پر وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے بھی پروگرام کے لیے تیار کیے گئے ڈیجیٹل نظام سے متعلق بریفنگ دی۔ پیٹرول پمپس کو درپیش مسائل اور شکایات کے فوری ازالے کے لیے ایک خصوصی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے، جہاں ڈیلرز 9772 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

    اجلاس میں اہل صارفین کی شناخت اور شریک پیٹرول پمپس کے ذریعے ریلیف کی فراہمی کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈیلرز نے پروگرام پر عمل درآمد سے متعلق مختلف سوالات اور خدشات اٹھائے، جن کا حکام نے تفصیلی جواب دیا۔

    پیٹرول پمپ مالکان اور ڈیلرز کی تنظیموں نے پروگرام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس کے مؤثر نفاذ کے لیے حکومت سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ پروگرام کی شفاف اور مؤثر عملداری کو یقینی بنانے اور ادائیگیوں میں تاخیر سے بچنے کے لیے پیٹرولیم ڈویژن، سٹیٹ بینک، وزارتِ آئی ٹی، متعلقہ اداروں اور ڈیلرز کے درمیان مسلسل رابطہ ناگزیر ہے۔

  7. تہران میں حکومت کے حامیوں کی ریلی، ’ایران کی قربانیوں کی جنگ‘ مارچ میں بڑی تعداد میں شرکت

    Tehran

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    تہران میں حکومت کے حامی ’ایران کی قربانیوں کی جنگ‘ کے عنوان سے نکالے گئے مارچ میں شرکت کے لیے سڑکوں پر آ گئے ہیں۔

    سرکاری میڈیا کے مطابق اس مارچ، جسے ’فوجی پریڈ‘ قرار دیا جا رہا ہے، کا انعقاد پاسدارانِ انقلاب کی نگرانی میں کیا جا رہا ہے۔ محمد رسول اللہ کور کے کمانڈر حسن حسن زادہ نے کہا کہ اس اجتماع کا مرکزی مقام انقلاب سکوائر ہے، جبکہ مقررہ دستوں کو علی الصبح ساڑھے چار بجے تک اپنی پوزیشنوں پر تعینات کر دیا جائے گا۔

    امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی حکومت نے ’زندگی بچانے کی مہم‘ شروع کی تھی، جس کے تحت شہریوں کو ملک کے دفاع میں حصہ لینے کے لیے رجسٹریشن کی دعوت دی گئی۔

    ایران نے جنگ کے دوران شہریوں کے لیے خصوصی فوجی تربیتی پروگرام بھی متعارف کرایا، جس کا مقصد عوامی سطح پر دفاعی تیاریوں کو مضبوط بنانا بتایا گیا ہے۔

    تقریب میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت پاسدارانِ انقلاب کے متعدد اعلیٰ عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔

  8. ایران جنگ سے عالمی معیشت متاثر، جاپان نے بھی شرح سود بڑھا دی

    ایران کے ساتھ جنگ کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے دنیا بھر میں مرکزی بینک شرح سود بڑھا رہے ہیں، اور اسی سلسلے میں جاپان نے بھی اپنی پالیسی شرح سود 1.25 فیصد کر دی ہے، جو تین دہائیوں سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح ہے۔

    یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب یورپی یونین اور امریکی فیڈرل ریزرو بھی افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں اضافہ کر چکے ہیں۔

    ایران جنگ کے باعث خصوصاً تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیز اضافے نے عالمی معیشتوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جبکہ کئی ممالک مہنگائی کی نئی لہر سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    بینک آف جاپان نے عندیہ دیا ہے کہ اگر افراطِ زر بلند سطح پر برقرار رہا تو آئندہ بھی شرح سود میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

  9. جنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں فوج تعینات کرنے سے انکار

    Lee Jae Myung

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے جمعہ کے روز واضح کیا ہے کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز میں اپنے فوجی تعینات نہیں کرے گا۔

    صدر لی کا کہنا تھا کہ ’یہ بات واضح کر دوں۔ ایسے کسی فوجی دستے کی تعیناتی نہیں ہو گی جس کے نتیجے میں ہم کسی تنازع میں شامل ہو جائیں۔ ہم کسی جنگ میں حصہ نہیں لیں گے اور نہ ہی اس میں ملوث ہوں گے۔‘

    جنوبی کوریا کی جانب سے ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز میں فوجی دستے بھیجے جانے کے خلاف حالیہ ہفتوں میں ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔

    صدر لی کا مزید کہنا کہ جنوبی کوریا اپنے تجارتی بحری جہازوں اور تیل کی ترسیل کے راستوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔

  10. ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن میرے خیال میں وہ اس کے لیے تیار نہیں: صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    Donald Trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔

    ایک انٹرویو کے دوران امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ایران ابھی معاہدے کے لیے تیار نہیں۔

    ’ہم ایسا معاہدہ کریں گے جو ہمارے لیے اچھا ہو ورنہ نہیں کریں گے۔‘

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ نے تہران کی جوہری میزائل بنانے کی صلاحیت ختم کر دی ہے۔

    انھوں نے ایک بار پھر اپنا یہ دعویٰ دہرایا کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ نہ کیا ہوتا تو ایران نیوکلیئر بم بنانے میں کامیاب ہو جاتا۔

    امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران بڑی آسانی سے جوہری ہتھیار استعمال کر لیتا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت بہت کمزور پوزیشن میں ہے اور ’آبنائے پر ہمارا کنٹرول ہے۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ روزانہ رات کے اوقات میں بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزارا جا رہا۔

    ’انھیں (ایرانیوں) کو پتا ہوتا ہے لیکن وہ کچھ دیکھ نہیں پاتے کیونکہ ہم نے ان کے ریڈارز تباہ کر دیے ہیں۔‘

  11. خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے میں چھ اہلکار ہلاک، مختلف کارروائیوں کے دوران 10 شدت پسند مارے گئے: آئی ایس پی آر

    پاکستان سکیورٹی فورسز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی فوج کا کہنا ہے کہ 15 سے 17 ستمبر کے دوران خیبر پختونخوا میں مختلف کارروائیوں میں عسکریت پسند گروہ کے 10 ارکان ہلاک مارے گئے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر حملے میں چھ اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایک کارروائی کی۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے میں عسکریت پسند گروہ کے چھ ارکان ہلاک ہو گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع ہنگو میں ہونے والی ایک جھڑپ کے دوران مزید چار عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔

    بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ 17 ستمبر کو سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے کے قریب دیسی ساختہ بم دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز کے چھ اہلکار ہلاک ہو گئے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے شدت پسندوں کے خلاف لڑتے ہوئے ہلاک ہونے والے چھ اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

  12. سلامتی کونسل میں روس اور چین نے ایران پر پابندیوں کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کی مدت میں توسیع کی امریکی قرارداد ویٹو کردی

    Sec Council

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران روس اور چین نے ایران پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین کی کمیٹی کی مدت میں توسیع کی امریکی تجویز کو ویٹو کر دیا۔

    جمعرات کے روز ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس میں روسی وفد کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملے کا جائزہ مکمل کر چکی ہے اور جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کا معاملہ اب کونسل کے زیرِ غور موضوعات کی فہرست سے خارج ہو چکا ہے۔

    روسی وفد نے اس بات پر زور دیا کہ اس قرارداد کی مدت 18 اکتوبر 2025 کو ختم ہو چکی ہے، اس لیے اس اجلاس کے انعقاد کے لیے کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔

    امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں نے ایران پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کی مدت میں توسیع کی تجویز دی گئی تھی۔

    اس قرارداد کے حق میں 11 ووٹ آئے جبکہ پاکستان اور سومالیہ نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ تاہم اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان روس اور چین کے ویٹو کے باعث یہ قرارداد منظور نہ ہو سکی۔

    اقوامِ متحدہ میں ایران کے مشن نے امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے مسودے کو مسترد کرنے پر روس اور چین کا شکریہ ادا کیا۔

    ایکس پر جاری ایک بیان میں مشن کا کہنا ہے کہ ’ایران روس اور چین کے مستقل، اصولی مؤقف اور آج کے ان کے فیصلہ کن اقدامات کو گہری قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ روس اور چین نے ’امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے سلامتی کونسل کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی ایک اور موقع پرستانہ کوشش کو ناکام بنا دیا۔‘

  13. جب تک ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو اقتدار میں ہیں، آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی: ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے مشیر کا بیان

    trump netanyahu

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے سیاسی مشیر محمد باقر ذوالقدر کا کہنا جب تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار میں ہیں ان کا ملک آبنائے ہرمز کو کھولنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

    ایرانی خبر رساں اداروں کی جانب سے جمعرات کو شائع کیے گئے ایک بیان میں ذوالقدر کا کہنا تھا کہ ’ایرانی قوم نے جارح دشمن کی طاقت توڑنے اور متکبر قوتوں کی کمر توڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نےتن یاہو کو اقتدار سے نہیں ہٹا دیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایرانی قوم کے انتقام کے پہلے مرحلے کا حصہ ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایک طرف جہاں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ یا مذاکرات کے حوالے سے بار بار اور بعض اوقات متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں وہیں ایران کے اندر بھی اس بات پر اختلافات گہرے ہوتے جا رہے ہیں کہ آیا امریکہ کے ساتھ فوجی محاذ آرائی جاری رکھی جائے یا مذاکرات کی راہ اختیار کی جائے۔

    ملک کی بعض اعلیٰ سیاسی شخصیات بشمول صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف امریکہ سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کرے اور اسے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک لازمی شرط کے طور پر تسلیم کرے۔ دوسری جانب سخت گیر شخصیات، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر بھی شامل ہیں، جنگ جاری رکھنے اور آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کو امریکہ اور اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ مؤثر حکمتِ عملی قرار دے رہی ہیں۔

    دریں اثنا، بڑھتی ہوئی مہنگائی، اقتصادی پابندیوں اور ایران کی جنوبی بندرگاہوں کے بحری محاصرے نے ملک کے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بین الاقوامی کرنسیوں کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قدر میں کمی نے عوام کے معاشی مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

  14. امریکہ کا ایرانی وفد کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے ویزے جاری کرنے کا اعلان

    Iranian President Masoud Pezeshkian (L) shakes hands with the UN Secretary General Antonio Guterres

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی حکومت نے ایرانی حکام کو اگلے ہفتے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے ویزے جاری کر دیے ہیں۔

    بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ جن ایرانی عہدیداروں کو اجلاس میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے ان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے جمعرات کو اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وفد کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد ہوں گی اور اسے بعض امریکی مصنوعات خریدنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان سات ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ فروری میں شروع ہونے والی اس جنگ کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے اثرات پڑوسی ممالک تک بھی پھیل چکے ہیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’میزبان ملک کے طور پر اپنی ذمہ داریوں کے مطابق، ایرانی حکومت کے مرکزی وفد کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شرکت کی اجازت دی جائے گی۔‘

    انھوں نے کہا ’وفد کی نقل و حرکت پر پابندیاں ہوں گی اور ہماری پالیسی کے مطابق انھیں لگژری اور بعض دیگر اشیا کی خریداری کی اجازت نہیں ہو گی۔ یہ وفد گذشتہ سال کے مقابلے میں چھوٹا ہے۔‘

    گذشتہ سال ایران سے آنے والے سفارت کاروں پر کاسٹکو جیسے ہول سیل سٹورز سے خریداری پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ زیورات، شراب اور گاڑیوں سمیت لگژری اشیا خریدنے سے قبل انھیں امریکی حکام سے اجازت لینا ضروری تھا۔

    اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس اس وقت جاری ہے۔ اس سالانہ اجتماع کا مرکزی حصہ سمجھی جانے والی جنرل ڈیبیٹ منگل سے شروع ہونے والی ہے۔

  15. امریکہ نے سعودی عرب کو 48 ایف 35 لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی

    F-35

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ نے سعودی عرب کو ایف 35 لائٹننگ ٹو سٹرائیک فائٹر لڑاکا طیاروں اور متعلقہ دفاعی سازوسامان کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے۔

    امریکہ محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق اس دفاعی معاہدے کی کل مالیت 24.3 ارب ڈالر ہے۔

    بیان کے مطابق سعودی عرب نے 48 عدد ایف 35 لائٹننگ ٹو سٹرائیک فائٹرلڑاکا طیارے خریدنے کی درخواست کی تھی۔

    امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایف 35 لڑاکا طیاروں کی ’اس مجوزہ فروخت سے امریکہ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے اہداف کو تقویت ملے گی کیونکہ اس کے ذریعے ایک اہم غیر نیٹو اتحادی ملک کی سکیورٹی بہتر بنائی جائے گی، جو خلیجی خطے میں سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک مؤثر قوت سمجھا جاتا ہے۔‘

    ’یہ مجوزہ معاہدہ سعودی عرب کی موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کرے گا، اس کی سرزمین کے دفاع کو مضبوط بنائے گا اور امریکی افواج، دیگر علاقائی شراکت داروں اور نیٹو افواج کے ساتھ باہمی عملی تعاون کو بہتر بنائے گا۔‘

    ’دفاعی سازوسامان کی مجوزہ فروخت اور معاونت سے خطے میں فوجی طاقت کا توازن تبدیل نہیں ہوگا۔‘

  16. سیستان و بلوچستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے تین افراد ہلاک کر دیے: ایرانی وزارتِ اطلاعات کا دعویٰ

    ایران کی وزارتِ اطلاعات نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ سیستان و بلوچستان میں تین ایسے سیلز کے خلاف کارروائی کی گئی جو صوبے کے جنوبی علاقوں میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

    وزارتِ اطلاعات کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران تین افراد ہلاک جبکہ نو دیگر کو گرفتار کر لیا گیا۔

    وزارت کا کہنا ہے کہ یہ افراد بیرونِ ملک سے فوجی تربیت، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کی تربیت حاصل کرنے کے بعد خفیہ طریقے سے ایران میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

    وزارتِ اطلاعات نے مزید دعویٰ کیا کہ گرفتار افراد کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا، جبکہ ایک علیحدہ کارروائی میں سیستان و بلوچستان سے ہلکے اور نیم بھاری ہتھیاروں کا ایک ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا۔

  17. مقدس مقامات کے تحفظ کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے: ایران

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ’مقدس مقامات کے تحفظ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے اور اسے اختلافات بھڑکانے یا علاقائی کشیدگی میں اضافے کے آلے کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔‘

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں اسماعیل بقائی نے لکھا کہ اسلامی مقدس مقامات پر کسی بھی قسم کی جارحیت، بالخصوص مکہ، مدینہ اور مسجد اقصیٰ پر حملہ، یا ان مقامات کے زائرین اور مکینوں کو خطرے میں ڈالنا، قابلِ مذمت ہے۔

    واضح رہے کہ یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے قائم عسکری اتحاد نے گذشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ ’حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ڈرون مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے روک کر تباہ کر دیا گیا۔‘

    تاہم حوثیوں کی جانب سے مکہ پر ڈرون حملہ کرنے کے الزام کی تردید کی گئی تھی۔

    اسماعیل بقائی کا کہنا تھا: ’صرف یہ دعویٰ کہ مکہ کی جانب جانے والے ایک ڈرون کو روکا گیا، کسی مخصوص فریق پر الزام عائد کرنے کے لیے کافی بنیاد نہیں بن سکتا۔‘

    ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا: ’یہ بھی فراموش نہیں کیا جانا چاہیے کہ ہمارے خطے میں، خصوصاً حالیہ مہینوں کے دوران، متعدد ’فالس فلیگ‘ آپریشن کیے گئے جن کا مقصد اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے خطے میں کیے گئے جرائم سے عوامی توجہ ہٹانا اور اور اسلامی ممالک کے درمیان تفرقہ پیدا کرنا تھا۔‘

    فالس فلیگ ایک ایسی کارروائی کو کہا جاتا ہے جو کی تو کسی اور نے ہو، لیکن اس کی ذمہ داری کسی اور پر عائد کر دی گئی ہو۔

    اسماعیل بقائی نے کہا: ’احتیاط اور ہوشیاری سے کام لینا ضروری ہے۔‘

  18. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • ایران کے پاسداران انقلاب نے قشم کی فضائی حدود میں امریکی فوج کا ایم کیو۔9 ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
    • سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع (سول ڈیفنس) کا کہنا ہے کہ فضا میں تباہ کیے گئے ایک ڈرون کا ملبہ طائف شہر پر گِرنے سے ایک شخص ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔
    • ایران سے متعلق حقائق معلوم کرنے والے اقوام متحدہ کے مشن نے جمعرات کو کہا ہے کہ اس کے پاس یہ یقین کرنے کی معقول بنیادیں موجود ہیں کہ فروری میں ایران میں ایک سکول اور کھیلوں کے ایک مقام پر ہونے والے دو فوجی حملوں کے پیچھے امریکہ تھا، اور یہ کارروائیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔
    • امریکی ڈرون ساز کمپنی پاور یو ایس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پاکستانی فوج کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت کمپنی کو بغیر پائلٹ فضائی نظام (ڈرونز) سے متعلق ابتدائی آرڈر بھی ملا ہے۔
  19. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔