کوہاٹ: اولڈ پولیس لائنز کی مسجد پر بارود سے بھری گاڑی سے حملہ، پانچ اہلکاروں سمیت 16 ہلاک

Kohat

،تصویر کا ذریعہRescue1122

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 3 منٹ

پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں پرانی پولیس لائنز میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 16 افراد ہلاک جبکہ 30 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پرانی پولیس لائنز کے ساتھ بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی گئی ہے جبکہ دھماکے کے بعد مسلح شدت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی جاری ہے۔

ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی کے مطابق دھماکہ دوپہر ایک بج کر 15 منٹ کے قریب ہوا۔

بی بی سی نیوز کے عثمان زاہد سے بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز سینٹرل پولیس آفس عبد السلام خالد نے بتایا کہ شدت پسندوں کا ہدف پولیس لائنز اور وہاں واقع مسجد تھی، اور جب واقعہ پیش آیا تو نمازِ جمعہ جاری تھی۔

آئی جی خیبر پختونخوا کے مطابق ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے بعد ایک خودکش حملہ آور نے سپیشل برانچ کے قریب خود کو دھماکے سے اُڑایا۔

ترجمان خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق پولیس لائنز مسجد میں دھماکے کے بعد سات مسلح دہشت گردوں نے پولیس لائنز میں دراندازی کی جس کے بعد پولیس اور سی ٹی ڈی نے حملہ آوروں کا بھرپور مقابلہ کیا۔

اُن کے بقول اب تک کی اطلاعات کے مطابق خودکش بمبار اور سنائپر سمیت چھ دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں اور کلیئرنس آپریشن آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔

Kohat

،تصویر کا ذریعہRescue 1122

’یہ گنجان آباد اور مصروف علاقہ ہے‘

ترجمان کوہاٹ پولیس کے مطابق پرانا پولیس لائنز کا علاقہ گنجان آباد اور مصروف ہے اور یہاں پرانی پولیس لائنز میں سی ٹی ڈی کے دفتر کے علاوہ دیگر اہم دفاتر بھی موجود ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ دھماکے سے مسجد کی بیرونی دیوار اور کچھ عمارتوں کو نقصاں پہنچا ہے اور اب بھی دہشت گردوں کے ساتھ مقابلہ جاری ہے جبکہ پشاور-کوہاٹ روڈ کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

بلال فیضی نے کہا کہ ریسکیو ایمبولینسز کے ذریعے ہلاک ہونے والوں اور زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

ترجمان ریسکیو کے مطابق اس وقت جائے وقوعہ پر 14 ایمبولینسز، ریسکیو ور ریکوری ویکلز اور 40 سے زائد اہلکار امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

Rescue 1122

،تصویر کا ذریعہRescue 1122

وزیرِ اعظم اور وزیرِ داخلہ کی مذمت

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کوہاٹ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے ہلاکتوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیرِ اعظم آفس سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق شہباز شریف نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیرِ اعظم نے متعلقہ حکام سے دھماکے کی نوعیت اور وجوہات کے بارے میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیرِ اعظم نے امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور متاثرہ افراد کا ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھِی کوہاٹ پرانی پولیس لائنز دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔