انڈیا میں رضا پہلوی کی حامی ایرانی اداکارہ مندانا کریمی کو ملک کیوں چھوڑنا پڑا؟

    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

ایرانی نژاد ماڈل اور اداکارہ مندانا کریمی نے تقریباً 16 سال انڈیا میں گزارنے کے بعد ملک چھوڑنے کا اعلان کر کے شوبز حلقوں اور سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

اپنی بے باک رائے اور ایران میں جاری حالات پر کھل کر اظہار کرنے کے باعث وہ پہلے ہی خبروں میں تھیں تاہم حالیہ دنوں ان کی انڈیا سے رخصتی پر بھی بات ہو رہی ہے۔ وہ سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹس میں ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی کی حمایت کرتی ہیں۔

37 سالہ مندانا کریمی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ’آسک می اینی تھنگ‘ یعنی ’مجھ سے کچھ بھی پوچھیں‘ کے دوران ایک مداح کے سوال کے جواب میں یہ انکشاف کیا کہ وہ ممبئی چھوڑ چکی ہیں لیکن وہ کہاں گئيں، اس کا انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

انھوں نے ایئرپورٹ سے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے نہایت جذباتی انداز میں کہا کہ انھیں یقین نہیں آ رہا کہ وہ انڈیا کو الوداع کہہ رہی ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً 16 سال تک انڈیا میں رہنے کے بعد اب وقت آ گیا کہ وہ اپنے ’دوسرے گھر‘ کو چھوڑ کر نئی زندگی کا آغاز کریں۔

بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مندانا کے انڈیا چھوڑنے کی وجہ سکیورٹی خدشات اور عدم تحفظ کا احساس ہے۔

مندانا کریمی کی انڈیا چھوڑنے کی وجہ کیا ہے، اس بارے میں ہم نے ان سے رابطہ کیا ہے۔

مندانا کریمی نے بی بی سی کو کیا بتایا؟

بی بی سی نے مندانا کریمی سے فون پر رابطہ کر کے ان سے انڈیا چھوڑنے سے متعلق سوال کیا۔

اس پر انھوں نے کہا کہ ’اتنے برس بعد انڈیا چھوڑنا میرے لیے انتہائی جذباتی فیصلہ تھا۔ انڈیا نے میری بالغ زندگی اور شناخت کا بڑا حصہ تشکیل دیا۔

’لیکن ایک وقت ایسا آیا جب مجھے ذاتی اور پیشہ ورانہ طور پر نئے ماحول کی ضرورت محسوس ہوئی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ وہ ایک ایسی جگہ کی تلاش میں ہیں جہاں ’میں خود کو مزید آگے بڑھا سکوں، خود کو سنبھال سکوں اور اس عوامی تصور سے ہٹ کر دوبارہ خود کو دریافت کر سکوں جو لوگوں نے میرے بارے میں قائم کر رکھا تھا۔‘

انڈین مقامی ذرائع ابلاغ کی بعض خبروں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مندانا کو انڈیا میں سکیورٹی تھریٹس کا سامنا تھا اور انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی موصول ہو چکی ہیں۔

اس بارے میں پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’ہاں، یہ سچ ہے۔‘

واضح رہے کہ مندانا کریمی کے ایران میں داخلے پر پابندی ہے کیونکہ وہ ایران کی اسلامی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں تاہم انڈین میڈیا میں یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ انھیں اب انڈیا میں بھی مبینہ طور پر بعض حلقوں سے دھکیاں ملنے لگیں۔

تاہم مندانا نے اپنے متعدد انٹرویوز اور بیانات میں واضح کیا کہ ان کا انڈیا چھوڑنے کا فیصلہ کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل عمل کا حصہ ہے۔

یاد رہے کہ سنہ 2019 میں انڈیا میں متعارف کرائے جانے والے شہریت کے قانون سی اے اے کے خلاف مہم میں بھی مندانا کریمی نے حصہ لیا تھا جس کی وجہ سے انھیں ایک حلقے کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گيا تھا۔

’ایرانی خاتون ہونے کے باعث غلط فہمیوں کا سامنا کرنا پڑا‘

بی بی سی سے گفتگو میں مندانا کریمی نے انڈیا میں اپنے سفر کے بارے میں کھل کر بات کی اور بتایا کہ ماڈلنگ کے ایک اسائمنٹ پر وہ پہلی بار انڈیا پہنچیں اور پھر انڈیا کی ہو کر ہی رہ گئیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میں انڈیا ایک ماڈل کے طور پر آئی تھی، اداکارہ کے طور پر نہیں۔ اس وقت میرے پاس ایک مختصر مدت کا ماڈلنگ معاہدہ تھا اور مجھے تقریباً تین مہینے کے لیے رکنا تھا۔ سچ کہوں تو انڈیا آنے سے پہلے مجھے بالی وڈ کے بارے میں زیادہ علم نہیں تھا۔‘

’لیکن جب میں انڈیا پہنچی تو مجھے اس جگہ سے ایک گہرا ربط محسوس ہوا۔ ایک ایسے شخص کے طور پر جس نے ایران چھوڑ دیا تھا اور ایشیا کے مختلف علاقوں میں وقت گزارنے کے بعد انڈیا میں مجھے واقعی اپنے گھر جیسا احساس ہوا۔ یہاں ایک عجیب سی مانوسیت اور اپنائیت تھی۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں پہلے بھی کبھی یہاں رہ چکی ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ماڈلنگ کا سفر بتدریج اداکاری میں بدل گیا۔ فلمیں، ٹیلی ویژن اور بعد میں ریئلٹی شوز بھی وقت کے ساتھ میری زندگی کا حصہ بنتے گئے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بالی وڈ ایک دلچسپ مگر نہایت مشکل اور مسابقتی دنیا ہے، خاص طور پر کسی باہر سے آنے والے کے لیے۔ یہاں چمک دمک تو ہے لیکن اس کے ساتھ دباؤ، مسلسل تنقید اور خود کو بار بار نئے انداز میں پیش کرنے کی ضرورت بھی ہے۔‘

معروف انڈین ریئلٹی شو ’بگ باس‘ میں اپنے تجربے کے بارے میں بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اس نے میری عوامی شناخت کو بہت حد تک تبدیل کیا کیونکہ اس پروگرام کے ذریعے لوگوں نے مجھے زیادہ ذاتی اور بے ساختہ انداز میں دیکھا۔ ریئلٹی ٹی وی میں لوگ آپ کی زندگی، خیالات اور کمزوریوں سے جذباتی طور پر جڑنے لگتے ہیں۔‘

مندانا نے بی سی سی سے گفتگو میں کہا کہ ’انڈیا نے مجھے محبت، قبولیت اور ایک کامیاب کریئر دیا۔ عام لوگوں کی طرف سے بے حد خلوص اور حسن سلوک ملا لیکن ایک ایرانی خاتون ہونے کے باعث مجھے بعض فرسودہ تصورات اور غلط فہمیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ کبھی لوگوں نے مجھے غیر کے طور پر دیکھا، کبھی مجھے کمتر سمجھا گیا اور کبھی میری شناخت کو سیاسی رنگ دے دیا گیا، بغیر اس حقیقت کو سمجھے کہ ایرانی عوام کن حالات سے گزر رہے ہیں۔'

انھوں نے مزید کہا کہ ایک ایسے فرد کے طور پر جس نے دونوں معاشروں میں زندگی گزاری، میں سمجھتی ہوں کہ فن، سینما، ثقافت اور انسانی ہمدردی وہ پل بنا سکتے ہیں جو اکثر حکومتیں نہیں بنا پاتیں۔

سوشل میڈیا پر انڈیا سے روانگی کے اعلان کے بعد ان کے مداحوں اور صارفین کی جانب سے ملے جلے ردعمل سامنے آئے۔ کئی افراد نے ان کے فیصلے کو سراہا اور انھیں نئی شروعات کے لیے نیک خواہشات دیں جبکہ بعض لوگوں نے ان کے جذباتی بیان پر افسوس کا اظہار کیا۔

انڈیا ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا چھوڑنے کی سب سے بڑی وجہ سکیورٹی خدشات اور عدم تحفظ کا احساس ہے۔

سوشل میڈیا پر کیے گئے انکشافات کے مطابق انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی ملیں، جن میں ان کے پرانے پتے اور تصاویر تک شیئر کی گئیں۔ ایسے حالات میں انھوں نے خود کو غیر محفوظ محسوس کیا اور یہ فیصلہ کیا کہ اب انڈیا میں رہنا ان کے لیے ممکن نہیں رہا۔

بالی وڈ ہنگامہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پیشہ ورانہ زندگی کے حوالے سے مندانا نے بتایا کہ وہ گذشتہ کئی سال سے بالی وڈ سے دور ہیں۔ انھوں نے شعوری طور پر اداکاری سے ہٹ کر ڈیزائن، سٹائلنگ اور آرٹ کے شعبے میں کام شروع کیا تاہم وہ خود کو ایک فنکار سمجھتی ہیں اور مستقبل میں مختلف تخلیقی میدانوں میں کام کے لیے تیار ہیں۔

ان کے مطابق وہ انسانی ہمدردی کے منصوبوں پر توجہ دے رہی ہیں۔ خاص طور پر ایران میں موجود اور بیرون ملک مقیم ایرانیوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے فنڈ ریزنگ مہمات اور لائیو سیشنز میں شامل ہیں۔

مندانا کریمی کون ہیں؟

19 مئی سنہ 1988 میں ایران کے دارالحکومت تہران میں پیدا ہونے والی مندانا کریمی کا اصل نام منیژہ کریمی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کے والد ہند ایرانی نسل کے ہیں جبکہ والدہ مکمل ایرانی ہیں۔

وہ سنہ 2015 کے ریئلٹی شو بگ باس کے سیزن 9 سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچیں جہاں وہ دوسری رنر اپ تھیں۔

اس کے بعد انھیں فلموں کی آفر آنے لگیں اور وہ پہلی بار ’رائے‘ فلم میں ایک چھوٹے سے کردار میں نظر آئیں۔

وہ بالی وڈ اداکارہ شاہ رخ خان، سیف علی خان، کرینہ کپور اور شاہد کپور کے ساتھ ماڈلنگ میں نظر آئیں۔

ان کی پہلی بڑی فلم ’بھاگ جانی‘ تھی اور پھر ’کیا کول ہیں ہم 3‘ میں وہ نظر آئيں لیکن بعد میں انھوں نے فلم کے ہدایتکار امیش گھڈگے اور ساجد خان پر جنسی ہراسانی کے الزامات بھی عائد کیے۔

انھوں نے ایک انڈین بزنس مین سے شادی کی لیکن چار سال بعد سنہ 2021 میں ان میں علیحدگی ہو گئی۔