آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین پہنچ گئے، ایلون مسک سمیت بڑی کاروباری شخصیات بھی بیجنگ میں موجود

وسطی بیجنگ میں سڑکوں کے کناروں پر پولیس اور ملٹری پولیس دونوں تعینات ہیں، خاص طور پر ان فائیو سٹار ہوٹلوں کے اطراف جہاں ٹرمپ کے وفد کے اراکین کے قیام کا امکان ہے۔ چینی حکومت عموماً کسی بھی رہنما کی ملک آمد پر سکیورٹی کے انتظامات بڑھا دیتی ہے، تاہم امریکہ کے صدر کے معاملے میں یہ انتظامات بظاہر کہیں زیادہ نمایاں نظر آتے ہیں۔

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو روزہ دورے پر چین پہنچ گئے ہیں
  • طالبان حکومت دہشت گردوں کی پشت پناہی ختم کرنے کی ضمانت دینے کو تیار نہیں: خواجہ آصف
  • بیروت کے جنوب میں گاڑی پر اسرائیلی حملہ، جنوبی لبنان میں 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں سے 13 افراد ہلاک
  • امریکہ کے دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز بیانات ممکنہ معاہدے کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں: ایران
  • چین کا ایران جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان پر ثالثی کی کوششیں تیز کرنے کے لیے زور
  • تیل کی بلند قیمتیں اور سرمائے کا اخراج: انڈین روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی

لائیو کوریج

  1. ایرانی حملے کے نتیجے میں آئل ٹینکر سے ایندھن کا اخراج ہوا، جہاز عمان میں لنگر انداز ہے: ابو ظہبی نیشنل آئل کمپنی

    متحدہ عرب امارات کی ابو ظہبی نیشنل آئل کمپنی کے ایک یونٹ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے ایک آئل ٹینکر کو گذشتہ ہفتے ایرانی ڈرونز نے نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں اس سے عمان کے ساحل قریب ایندھن کا معمولی اخراج ہوا تھا۔

    آبنائے ہرمز کی بندش نے اس اہم بحری راستے پر جہاز رانی کو انتہائی خطرناک بنا دیا ہے اور اس وقت سینکڑوں جہاز خلیج خطے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

    ابو ظہبی نیشنل آئل کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے جہاز ایم وی براکا کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور متعلقہ حکام اور ماہرین کی ٹیموں کے تعاون سے کام کر رہی ہے۔

    کمپنی کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ابو ظہبی نیشنل آئل کمپنی کی ملکیت جہاز چار مئی کو دو ایرانی ڈرونز کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کے بعد سے عمان کے ساحل کے قریب لنگر انداز ہے۔ بدقسمتی سے اس واقعے کے نتیجے میں بظاہر بنکر فیول کی معمولی مقدار خارج ہوئی۔‘

    تاہم ترجمان نے اخراج کی مقدار کی وضاحت نہیں کی۔

    حملے کے وقت ٹینکر کوئی کارگو نہیں لے کر جا رہا تھا اور نہ ہی عملے کے کسی رکن کو نقصان نہیں پہنچا تھا۔

  2. چین میں صدر ٹرمپ کی طے شدہ سرگرمیوں پر ایک نظر

    اگرچہ ٹرمپ چین پہنچ چکے ہیں تاہم دورے کی مرکزی سرگرمیاں جمعرات اور جمعے کو طے ہیں۔ ان کے دورے کے دوران طے شدہ سرگرمیوں پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں:

    جمعرات

    • چینی صدر شی جن پنگ گریٹ ہال آف دا پیپل میں صدر ٹرمپ کا استقبال کریں گے۔
    • دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت ہوگی۔
    • شام میں ایک عشائیہ بھی طے ہے۔

    جمعہ

    • بیجنگ کے ژونگنانہائی گارڈن میں صدر شی کے ساتھ ایک ’دوستانہ تصویر‘ اور مصافحہ ہوگا، یہ مقام کمیونسٹ پارٹی کا ہیڈکوارٹر ہے۔ یہاں غیر ملکی رہنماؤں کو مدعو کرنا اکثر قربت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
    • اس کے بعد صدر ٹرمپ اور صدر شی کے درمیان چائے پر ایک اور دوطرفہ ملاقات ہوگی۔ اس کے بعد ایک ظہرانہ بھی طے ہے۔
    • اس کے بعد صدر ٹرمپ کو ایئرپورٹ پر الوداعیہ دیا جائے گا۔
  3. امریکہ کی بڑی کاروباری شخصیات بھی صدر ٹرمپ کے ساتھ چین پہنچی ہیں, جوناتھن جوزفس، برنس رپورٹر

    امریکہ کی چند بڑی کاروباری شخصیات بھی صدر ٹرمپ کے ساتھ بیجنگ میں طیارے سے اتری ہیں، جن میں ایپل، ٹیسلا اور نویڈیا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسرز بھی شامل ہیں۔

    تاہم مجموعی طور پر حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے حجم میں کمی آئی ہے، جو بڑھتی ہوئی تجارتی رسہ کشی اور اس کے نتیجے میں عائد کیے گئے محصولات اور دیگر تجارتی پابندیوں کے باعث ہے۔

    گذشتہ برس امریکہ اور چین کے درمیان دو طرفہ تجارت کی مالیت 414.7 ارب ڈالر تھی، جو 2022 میں 690.4 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔

    صدر ٹرمپ کے لیے ایک بڑا مسئلہ اس تجارت کی غیر متوازن نوعیت ہے، جس میں گذشتہ سال امریکہ نے چین سے 200 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت اشیا خریدیں، جبکہ چین کو فروخت کی گئیں اشیا کی مالیت اس سے کم تھی۔

    اس مسئلے سے نمٹنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ چین کو مزید امریکی اشیا فروخت کی جائیں، جو ملک کے اندر روزگار اور مواقع پیدا کرنے کے باعث مقبول ہوگا۔

    اس طریقے پر عمل ہونے کی صورت میں ممکنہ طور پر سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں امریکی سویا بین کے کاشت کار اور گائے کے گوشت کے بیوپاری ہوں گے۔ ان کے ساتھ ساتھ طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کو بھی فائدہ ہوگا۔

  4. ایران نے کویت میں پاسدارانِ انقلاب کے چار اہلکاروں کی گرفتاری کی تصدیق کردی

    کویت کی جانب سے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے چار اراکین کو غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے پر گرفتار کرنے کے اعلان کے بعد ایرانی وزارتِ خارجہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کویت کی سمندری حدود میں ان کا داخلہ ان کی کشتی کے نیویگیشن نظام میں ’خرابی‘ کا نتیجہ تھا۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ یہ افراد ’معمول کی بحری گشت‘ پر اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’کویت کی وزارتِ خارجہ اور وزارتِ داخلہ کے بیانات میں ایران پر کویت کے خلاف تخریبی کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندی کے حوالے سے جو الزامات عائد کیے گئے ہیں وہ مکمل طور پر بے بنیاد ہیں اور انہیں مسترد کیا جاتا ہے۔‘

    کویت کی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے کو ’تخریبی عمل‘ اور کویت کی خودمختاری پر ’کھلا حملہ‘ قرار دیا تھا۔

    کویت کی وزارتِ داخلہ نے بھی کل اعلان کیا تھا کہ اس نے ’پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ چار دراندازوں‘ کو گرفتار کیا ہے، جو سمندر کے راستے ملک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

    کویتی وزارتِ داخلہ کے بیان کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد میں پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کےدو کرنل، ایک کیپٹن اور ایک لیفٹیننٹ شامل ہیں اور انہوں نے ’اعتراف‘ کیا کہ ان کا مشن کویت کے بوبیان جزیرے میں ’دراندازی‘ کرنا تھا۔

  5. بیجنگ آمد پر چین کے نائب صدر ہان ژنگ نے صدر ٹرمپ کا استقبال کیا

    امریکی صدر اور ان کا وفد اب موٹرکیڈ کے ذریعے رن وے سے روانہ ہو چکے ہیں۔

    روانگی سے قبل ریڈ کارپٹ پر ٹرمپ کے ہمراہ نظر آنے والوں میں ایلون مسلک اور امریکی صدر کے بیٹے ایرک بھی شامل تھے۔

    اس سے قبل جب صد ٹرمپ ایئر فورس ون سے اترے تھے تو چین کے نائب صدر ہان ژنگ ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔

    ہان ژنگ کا شمار چین کے اعلیٰ ترین رہنماؤں میں ہوتا ہے اور ٹرمپ کے استقبال کے لیے انھیں بھیجنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ چین کی اعلیٰ قیادت امریکی صدر کا احترام کرتی ہے۔

    اس سے قبل 2017 کے دوران ٹرمپ کا چین میں استقبال کرنے کے لیے ایک سٹیٹ کونسلر کو بھی بھیجا گیا تھا۔

    خیال رہے گذشتہ ربس ٹرمپ کی بطور صدر حلف برداری کی تقریب میں چین کے نائب صدر بھی موجود تھے۔

  6. صدر ٹرمپ چین پہنچ گئے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو روزہ دورے پر چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچ گئے ہیں۔

    اپنے دو روزہ دورے کے دوران وہ اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ متعدد اہم موضوعات پر گفتگو کریں گے۔

  7. شاہراہوں پر گلدستے، سڑکوں پر پولیس کا پہرہ: صدر ٹرمپ کی آمد پر بیجنگ میں کیا انتظامات کیے گئے ہیں؟, سٹیفن مکڈنل، نامہ نگار برائے چین

    وسطی بیجنگ میں سڑکوں کے کناروں پر پولیس اور فوجی پولیس دونوں تعینات ہیں، خاص طور پر ان فائیو سٹار ہوٹلوں کے اطراف جہاں ٹرمپ کے وفد کے اراکین کے قیام کا امکان ہے۔

    پولیس اہلکار شہر کے وسط میں پیدل چلنے والوں کے لیے بنے پلوں پر بھی پہرہ دے رہے ہیں اور پیدل چلنے والوں کے لیے بنائی گئی سرنگوں کے داخلی راستوں پر بھی تعینات ہیں۔

    چینی حکومت عموماً کسی بھی رہنما کی ملک آمد پر سکیورٹی کے انتظامات بڑھا دیتی ہے، تاہم امریکہ کے صدر کے معاملے میں یہ انتظامات بظاہر کہیں زیادہ نمایاں نظر آتے ہیں۔

    اس دورے سے قبل کئی ہفتوں تک تیانانمن سکوائر کے گرد سڑکوں پر اضافی سکیورٹی چیکنگ کی جاتی رہی ہے۔

    اس چوک کے مغربی حصے میں واقع گریٹ ہال آف دا پیپل وہ مقام ہے جہاں آنے والے دنوں میں زیادہ تر تقریبات منعقد ہوں گی۔

    بیجنگ میں ان شاہرایوں پر بھی پھولوں کے گلدستے رکھے گئے ہیں جہاں سے صدر ٹرمپ کے موٹرکیڈ کے گزرنے کا امکان ہے۔

    ان گلدستوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہے اور وہ اس قدر دلکش نظر آتے ہیں کہ چین کے سوشل میڈیا پر ان ’ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے خریدے گئے پھولوں‘ کے اعلیٰ معیار کے بارے میں لطیفے گردش کر رہے ہیں۔

  8. صدر ٹرمپ کے دورہ چین کا ایجنڈا کیا ہے اور صدر شی جن پنگ سے ملاقات میں کن امور پر گفتگو ہو سکتی ہے؟

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد ہی بیجنگ پہنچیں گے اور اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ساتھ ایک اہم ملاقات کریں گے۔ یہ تقریباً 10 برسوں میں کسی بھی امریکی رہنما کاچین کا پہلا دورہ ہوگا۔

    بدھ کے روز امریکی صدر کا ایئر فورس ون طیارہ چینی دارالحکومت پہنچے گا، جس کے بعد امریکی صدر کے دو روزہ دورے کا آغاز ہوگا، جو دراصل میں مارچ میں ہونا تھا، لیکن امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔

    ٹرمپ کے اس دورے کے دوران جنگ اور اس کے خاتمے کے لیے ہونے والی ثالثی میں چین کے ابھرتے ہوئے کردار پر بات چیت ہونے کا امکان ہے، تاہم امریکہ سے روانگی سے قبل امریکی صدر نے کہا تھا کہ انھیں ایران کے معاملے پر چینی صدر کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔

    امریکی صدر کے چین کے دورے کے دوران تجارت، ٹیکنالوجی اور تائیوان کے معاملے پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے چینی ہم منصب، جنھیں انھوں نے ’غیرمعمولی‘ شخصیت قرار دیا، کو کہیں گے کہ وہ چین کو بڑی امریکی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ’کھولیں۔‘

    ان کمپنیوں کے سربراہان بھی اس دورے پر صدر ٹرمپ کے ہمراہ موجود ہیں۔

    اس ملاقات میں بیجنگ کے ایجنڈے پر سرفہرست گذشتہ اکتوبر میں طے پانے والی تجارتی جنگ بندی میں توسیع ہے، جس نے دونوں ممالک کے درمیان محصولات میں اضافے کو روک دیا تھا۔

    اس دورے کے دوران صدر ٹرمپ کے لیے گریٹ ہال آف دا پیپل میں استقبالیہ تقریب کا انعقاد ہوگا اور وہ ژونگنانہائی بھی جائیں گے، جہاں چین کی اعلیٰ قیادت نہ صرف رہتی ہے بلکہ کام بھی کرتی ہے۔

  9. خلیجی خطے کے قریب دو بحری جہاز تعینات کریں گے: اٹلی کا اعلان

    اٹلی کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں مستقل جنگ بندی کے نتیجے میں کسی بین الاقوامی مشن کا حصہ بن کر دو اطالوی مائن سوئپر بحری جہاز خلیجی خطے کے قریب تعینات کر سکتا ہے۔

    بی بی سی عربی اور خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ملک کے وزیرِ دفاع گائیڈو کروزیٹو نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی ممکنہ مشن پر جانے سے پہلے اراکینِ پارلیمنٹ کی مظوری لی جائے گی۔

    تاہم اٹلی کے وزیرِ دفاع نے واضح کیا کہ ان بحری جہازوں کی تعیناتی سے قبل شرط یہ ہے کہ خطے میں موجودہ شکل کی جنگ بندی نہ ہو بلکہ ’حقیقی اور مستند جنگ بندی ہو، یقینی امن اور زیادہ بہتر رہے گا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ خلیجی خطے تک بحری جہازوں کو پہنچنے میں ہفتے لگ سکتے ہیں، اس لیے ان جہازوں کو ’پہلے ہی متحرک‘ کیا جا رہا ہے، پہلے مشرقی بحیرہ روم میں اور پھر بحیرہ روم میں۔

  10. امریکی ہتھیاروں کو آبنائے ہرمز سے گزر کر فوجی اڈوں تک نہیں پہنچنے دیں گے: ایرانی فوج

    ایرانی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ امریکی ہتھیاروں کو آبنائے ہرمز سے گزر کر خطے میں موجود فوجی اڈوں تک نہیں پہنچنے دیں گے۔

    ایران کی فارس ایجنسی کے مطابق بدھ کو ایرانی فوج کے سابق چیف آف سٹاف جنرل عبدالرحیم موسوی کی موت کے چالیس دن مکمل ہونے کے موقع پر مشھد میں بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی کا کہنا تھا کہ: ’آج آبنائے ہرمز ایرانی افواج کے سٹریٹجک کنٹرول میں ہے۔ آبنائے ہرمز کا مشرق حصہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کنٹرول میں ہے، جبکہ مشرقی حصے پر ایرانی فوج کی بحریہ کا کنٹرول ہے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر مؤثر کنٹرول، اس کی نگرانی اور خودمختادی کا تحفظ ملک میں آئل کے منافع کو دُگنا کر دے گا۔

    ’ہم اب امریکی ہتھیاروں کو آبنائے ہرمز سے گزر کر خطے میں موجود فوجی اڈوں تک نہیں پہنچنے دیں گے۔ جو بھی آبنائے ہرمز سے گزرنا چاہتا ہے اسے ایرانی افواج کی نگرانی میں یہاں سے گزرنا پڑے گا۔‘

  11. طالبان حکومت دہشت گردوں کی پشت پناہی ختم کرنے کی ضمانت دینے کو تیار نہیں: خواجہ آصف

    بدھ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان میں طالبان حکومت یہ ضمانت دینے کو تیار نہیں کہ شدت پسندوں کی پشت پناہی ختم کرے گی اور افغان سر زمین سے پاکستان پر حملے نہیں ہوں گے۔

    انھوں نے بتایا کہ اس موضوع پر کابل حکومت کے ساتھ ’19، 19 گھنٹے طویل گفت و شنید ہوئی‘ اور وہ ’زبانی کلامی بات کرنے کو تیار ہیں لیکن لکھنے کے لیے تیار نہیں۔‘

    واضح رہے کہ اسلام آباد طالبان حکومت پر اُن شدت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا ہے جو پاکستان پر حملے کرتے ہیں، جبکہ کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں وزیر دفاع نے بتایا کہ افغانستان سے بات چیت میں قطر، ترکی اور سعودی عرب نے کردار ادا کیا لیکن ’کوئی حل نہیں نکلا۔‘

    خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں طالبان حکومت کی ’منت کی کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی چھوڑ دیں، جن اڈوں سے ان کی سہولت کاری ہو رہی ہے، انھیں ختم کر دیں، لیکن وہ اس بات پر آتے ہی نہیں ہیں۔‘

    وزیر دفاع نے کہا، اس کا تو پھر ایک ہی متبادل ہے کہ ’تنگ آمد بجنگ آمد، پھر تو جنگ ہی ہو گی۔‘

    خواجہ آصف کے مطابق ’ہو سکتا ہے کسی تیسرے ملک کے ذریعے اس وقت بھی رابطے کی کوشش ہو رہی ہو‘ لیکن وہ اس بارے میں حتمی طور پر نہیں بتا سکتے۔

    وزیر دفاع نے کہا کہ طویل عرصے تک وفاقی حکومت کو خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کی حمایت میسر نہیں تھی لیکن ’اب دہشت گردی کے خلاف وہ فوج اور وفاق کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

  12. امارات میں ایرانی سکولوں کے لائسنس کی منسوخی پر ایران کا احتجاج

    ایران میں انسانی حقوق کے صدر دفتر کی جانب سے متحدہ عرب امارات میں ایرانی سکولوں کے لائسنس منسوخ کیے جانے پر احتجاج کیا گیا ہے۔

    ایران کا صدر دفتر برائے انسانی حقوق ملک کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے ماتحت ادارہ ہے اور انتظامی طور پر عدلیہ کا حصہ ہے۔

    اس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اماراتی حکومت نے لائسنس منسوخ کرنے کا قدم ’سیاسی کشیدگی اور دشمنی کے ارادے سے‘ اٹھایا۔

    رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز اور اس کے بعد ایران کے جوابی حملوں کے بعد امارات میں مقیم بعض ایرانیوں کو رہائش کے مسائل کا سامنا بھی رہا ہے۔

    بی بی سی فارسی نے ان مسائل کے حوالے سے امارات کے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا تاہم ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

  13. امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں: ایرانی رکن پارلیمان کا دعویٰ

    ایرانی پارلیمان کے رکن کامران غضنفری نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر عسکری کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں۔

    نیوز ایجنسی خبر آن لائن سے گفتگو میں انھوں نے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی جانب سے ہتھیاروں اور افواج کی منتقلی کے تسلسل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ’ممکنہ طور پر ایران کے جنوبی علاقوں میں کچھ جزیروں پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘

    غضنفری کے مطابق ’ہم حالتِ جنگ میں ہیں، گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ہمارے خلاف دو کارروائیاں کی گئیں اور ان کے بحری جہازوں نے ہمارے بعض مراکز کو نشانہ بنایا۔‘

  14. بیروت کے جنوب میں گاڑی پر اسرائیلی حملہ، جنوبی لبنان میں 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں سے 13 افراد ہلاک

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق بیروت کو جنوبی لبنان سے ملانے والی مصروف شاہراہ پر ایک گاڑی کو اسرائیل نے حملے کا نشانہ بنایا۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ حملہ دار الحکومت سے تقریباً 20 کلومیٹر جنوب میں واقع قصبے الجیہ میں ہوا۔

    اس سے قبل سنیچر کے روز بھی اسی شاہراہ اور اسی علاقے میں دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، حالانکہ 17 اپریل سے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی نافذ ہے۔

    لبنان کے سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیل کے فضائی حملوں میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 13 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں دو امدادی کارکن بھی شامل ہیں۔

    لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق گذشتہ روز کفر دونین میں ایک گھر پر گولہ باری کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے۔

    لبنان کی وزارت صحت نے منگل کے روز بتایا کہ نبطیہ میں ایک اسرائیلی حملے میں سرکاری سول ڈیفنس ایمرجنسی سروس کے دو اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔

    رپورٹ کے مطابق جب ان اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، اس وقت وہ ایک مقام پر حملے کے بعد امدادی کارروائی کے لیے موجود تھے، اس حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا تھا۔

    نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق منگل کو جبشیت کے علاقے میں ایک اور حملے میں مزید تین افراد ہلاک ہوئے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ان اطلاعات کا جائزہ لے رہی ہے۔

    لبنان کے صدر جوزف عون نے نبطیہ میں ہلاک ہونے والے سول ڈیفنس کے دو اہلکاروں کی ہلاکت پر تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ’اسرائیل کی مسلسل جارحیت امن کے قیام کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔‘

    لبنان کی وزارت صحت نے اسرائیلی فورسز پر امدادی کارکنوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

  15. عراق میں مبینہ اسرائیلی فوجی اڈے کا معمہ اور سکیورٹی فورسز کا آپریشن

    عراق میں ایک بار پھر اس معاملے پر بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا ملک میں اسرائیل کا کوئی خفیہ اڈا قائم تھا اور سوال کیا جا رہا ہے کہ عراقی سکیورٹی فورسز کی جنوب مغربی صحرا میں کس سے جھڑپ ہوئی؟

    یہ بحث اس وقت تیز ہوئی جب امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے نو مئی 2026 کو امریکی حکام سمیت دیگر نا معلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنے عسکری آپریشنز میں مدد کے لیے عراق کے صحرائی علاقے میں ایک مبینہ خفیہ لاجسٹک اڈا قائم کیا ہے۔

    تاہم عراقی سکیورٹی میڈیا سیل نے کہا ہے کہ انھیں اس علاقے میں کسی غیر ملکی فورس کی موجودگی کے شواہد نہیں ملے۔

    عراقی سکیورٹی میڈیا سیل کے سربراہ سعد کے مطابق اس علاقے میں تلاشی کے لیے کارروائیاں کی گئیں، تاہم وہاں کسی غیر ملکی یا غیر مجاز مسلح گروہ کی موجودگی سامنے نہیں آئی۔

    انھوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں پانچ مارچ کو پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد کی گئیں، جب کربلا کے قریب ایک صحرائی علاقے میں عراقی سکیورٹی فورسز کا ایک ’نامعلوم گروہ‘ سے تصادم ہوا تھا، جس میں ایک عراقی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بعد میں کی جانے والی کارروائیوں میں نہ تو اس گروہ کا سراغ ملا اور نہ ہی اس سے منسلک کوئی سازو سامان۔

    یہ واقعہ 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے چند روز بعد پیش آیا تھا۔

    وال سٹریٹ جرنل کے مطابق ایک مقامی چرواہے نے علاقے میں غیر معمولی سرگرمی کی اطلاع دی تھی جس کے بعد عراقی فورسز نے اس مقام کی طرف پیش قدمی کی۔ لیکن اسی موقع پر اسرائیلی فورسز نے ان پر حملہ کر دیا۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل نے امریکہ کے پرچم تلے یہ اڈا قائم کیا تھا، اس میں خصوصی دستے بھی شامل تھے اور یہ اڈا اسرائیلی فضائیہ کے لیے ایک لاجسٹک مرکز کے طور پر کام کرتا تھا۔

    عراق کی مشترکہ آپریشنز کمانڈ نے ملک میں کسی بھی غیر مجاز فوجی اڈے یا غیر ملکی فورس کی موجودگی کی تردید کی ہے، خصوصاً کربلا اور نجف کے صحرائی علاقوں میں، اور کہا ہے کہ صحرائی اور سرحدی علاقوں میں سکیورٹی کارروائیاں اور تلاشی کا عمل جاری ہے۔

    بیان کے مطابق پانچ مارچ کو عراقی سکیورٹی فورس کا ’نامعلوم غیر مجاز گروہوں‘ سے تصادم ہوا، جنھیں فضائی مدد حاصل تھی۔

    عراقی ذرائع ابلاغ اور مقامی رپورٹس کے مطابق رکن پارلیمان محمد الخفاجی نے چار مارچ کو کہا تھا کہ جو چیز کربلا کے انتہائی مغرب میں لینڈ ہوئی، وہ اب تک وہاں موجود دکھائی دیتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عراقی فوج کا ایک دستہ، جو تقریباً 30 گاڑیوں پر مشتمل تھا، اس مقام کا جائزہ لینے کے لیے روانہ ہوا، تاہم اسے فضائی حملے اور فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک، دو زخمی ہوئے اور ایک گاڑی تباہ ہو گئی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ مشترکہ آپریشنز کمانڈ کے بیان میں کسی فریق کی نشاندہی نہیں کی گئی، جبکہ ان کے بقول ’یہ واضح ہے کہ یہ ایک امریکی فورس تھی جس میں ہیلی کاپٹرز اور فوجی شامل تھے۔‘

    انھوں نے حکام سے اس معاملے پر سنجیدہ کارروائی کا مطالبہ کیا۔

    رکن پارلیمان ابو تراب التمیمی نے بھی ایک بیان میں کہا کہ مغربی عراقی صحرا میں مبینہ اسرائیلی فوجی اڈے کی موجودگی کی اطلاعات ’سکیورٹی کی سنگین ناکامی‘ ہیں اور انھوں نے معاملے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

    دوسری جانب قوت الحشد الشعبی اور عراقی سکیورٹی فورسز نے 12 مئی کو نجف اور کربلا کے صحرائی علاقوں میں وسیع سکیورٹی آپریشن شروع کیا ہے۔

    واضح رہے کہ قوت الحشد الشعبی عراق کی فوجی طرز پر تربیت یافتہ ایک فورس ہے، جو سکیورٹی کارروائیوں میں فوج کے ساتھ مل کر حصہ لیتی ہے۔ اسے پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) بھی کہا جاتا ہے۔

    پی ایم ایف اور عراقی فورسز کی ان کارروائیوں کا مقصد صحرائی علاقوں میں سکیورٹی کو مضبوط بنانا اور کنٹرول بڑھانا بتایا گیا ہے۔

    پی ایم ایف کے مطابق سکیورٹی فورسز نے الفاج کے مقام سے نجف کے صحرائی علاقوں کی جانب مختلف سمتوں میں پیش قدمی شروع کی ہے اور آپریشن کے دوران تقریباً 120 کلومیٹر علاقے کا جائزہ لیا جائے گا۔

  16. اسرائیل کے لیے جاسوسی کا مجرم قرار دے کر ایران میں ایک شخص کو پھانسی دے دی گئی

    اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے لیے جاسوسی کا مجرم قرار دے کر ایران میں ایک شخص کو پھانسی دی گئی ہے۔

    عدلیہ سے وابستہ خبر رساں ایجنسی میزان کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے سزائے موت برقرار رکھنے کے بعد بدھ کو اس سزا پر عمل در آمد کیا گیا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 32 سالہ احسان کو سنہ 2024 میں گرفتار کیا گیا تھا اور سنہ 2025 میں انھیں سزائے موت سنائی گئی۔

  17. سوشل میڈیا پر جاری نقشے میں ٹرمپ نے وینزویلا کو امریکہ کی ’51 ویں ریاست‘ قرار دے دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر وینزویلا کا ایک نقشہ شیئر کیا جس پر لکھا ہے ’51 ویں ریاست۔‘

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے ایک نمائندے کے مطابق پیر 11 مئی کو ٹرمپ نے ایک ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہا کہ وہ وینزویلا کو امریکہ کی 51 ویں ریاست بنانے کے بارے میں ’غور‘ کر رہے ہیں۔

    اس سے قبل کینیڈا اور گرین لینڈ کے لیے بھی امریکی صدر کی جانب سے اسی نوعیت کے بیانات سامنے آ چکے ہیں، جن کی وہاں کی حکومتوں اور عوام نے سخت مخالفت کی تھی۔

  18. امریکہ کے دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز بیانات ممکنہ معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں: ایران

    ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز بیانات کو جنگ کے خاتمے اور ممکنہ معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔

    تہران میں ناروے کے نائب وزیر خارجہ اندریاس کراوک سے ملاقات کے دوران عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ ’ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی عسکری کارروائی‘ اور اس کے بعد جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیاں ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ایران آبنائے ہرمز سے متعلق انتظامات کے لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق قواعد بنانے کے لیے مشاورت کر رہا ہے۔

  19. جنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کے لیے کردار ادا کرنے پر غور

    جنوبی کوریا کے وزیر دفاع آہن گیو بیک نے کہا ہے کہ سیئول آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کی کوشش میں بتدریج اپنا کردار ادا کرنے پر غور کر رہا ہے، تاہم وہ اس میں عسکری طور پر شامل نہیں ہو گا۔

    بدھ کے روز واشنگٹن میں جنوبی کوریا کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ یہ مؤقف وہ پیر کو امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ساتھ ملاقات میں بھی پیش کر چکے ہیں۔

    جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے مطابق آہن گیو بیک نے کہا: ’ہم عالمی برادری کے ایک ذمہ دار رکن کے طور پر (آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی یقینی بنانے کے لیے) کردار ادا کریں گے، اور بتدریج یہ سوچیں گے کہ ہم کن طریقوں سے تعاون کر سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ممکنہ اقدامات میں سیاسی حمایت کا اظہار، عملے کی فراہمی، معلومات کا تبادلہ اور عسکری وسائل کی فراہمی شامل ہو سکتی ہے۔

    تاہم انھوں نے واضح کیا کہ جنوبی کوریا کے فوجیوں کی شمولیت بڑھانے سے متعلق کوئی تفصیلی بات چیت نہیں کی گئی۔

  20. ٹرمپ کے ’گولڈن ڈوم‘ دفاعی نظام کی لاگت 12 کھرب ڈالرز تک پہنچ سکتی ہے اور شاید وہ بھرپور میزائل حملہ روک بھی نہ پائے, سارین حبیشیئن، بی بی سی

    امریکی کانگریس کے غیر جانبدار بجٹ آفس (سی بی او) کے اندازے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ جدید ’گولڈن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام پر تقریباً 12 کھرب ڈالر (882 ارب پاؤنڈ) لاگت آ سکتی ہے اور ممکن ہے کہ یہ کسی بھرپور میزائل حملے کو روک بھی نہ سکے۔

    یہ تخمینہ اس ابتدائی رقم 175 ارب ڈالر (129 ارب پاؤنڈ) سے کہیں زیادہ ہے جو پہلے مختص کی گئی تھی۔

    رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بیلسٹک اور کروز میزائلوں سے امریکہ کے دفاع کے لیے تیار کیا جانے والا یہ نظام شاید کام بھی نہ کرے۔ سی بی او کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ گولڈن ڈوم روس یا چین کی جانب سے بھرپور حملے کے سامنے کمزور پڑ سکتا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری میں وائٹ ہاؤس واپسی کے چند دن بعد اس منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد جدید دور کے فضائی خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔

    انھوں نے گذشتہ سال کہا تھا کہ اس پروگرام کے لیے ابتدائی طور پر 25 ارب ڈالرز درکار ہوں گے، جبکہ وقت کے ساتھ مجموعی لاگت 175 ارب ڈالرز تک پہنچ سکتی ہے۔

    اس تخمینے کا مطالبہ ڈیموکریٹ سینیٹر جیف مرکلی نے کیا تھا۔ منگل کے روز انھوں نے کہا: ’صدر کا نام نہاد گولڈن ڈوم در اصل دفاعی ٹھیکیداروں کے لیے ایک بڑا مالی فائدہ ہے، جس کی ادائیگی عام امریکی شہری کریں گے۔‘

    بی بی سی نے اس حوالے سے تبصرے کے لیے وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون سے رابطہ کیا۔

    یہ خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں کہ امریکہ اتنے وسیع رقبے کے لیے مکمل دفاعی نظام فراہم کر سکے گا یا نہیں۔

    حکام نے خبردار کیا ہے کہ حریف تیزی سے اپنے ہتھیاروں کو جدید بنا رہے ہیں اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ میں موجود نظام پیچھے رہ گئے ہیں۔

    سی بی او کے مطابق متوقع اخراجات کے باوجود ’کوئی حریف جو امریکہ کے ہم پلہ ہے، یا اس سے کچھ کم ہے، اگر وہ بھرپور حملہ کرے تو امریکہ کا یہ نظام اس کے سامنے بے بس ہو سکتا ہے۔‘

    اس منصوبے کو شروع کرنے کے لیے ایک انتظامی حکم جاری کیا گیا تھا اور اسے ’آئرن ڈوم فار امریکہ‘ کا نام دیا گیا تھا۔

    حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ گزرتے وقت کے ساتھ جدید ہتھیاروں سے لاحق خطرہ ’زیادہ شدید اور پیچیدہ‘ ہو گیا ہے، جو امریکہ کے لیے ممکنہ طور پر ’تباہ کن‘ ہو سکتا ہے۔

    اپنی دوسری مدت کے پہلے ہفتے میں ٹرمپ نے محکمۂ دفاع کو ہدایت دی تھی کہ وہ ایسے نظام کا منصوبہ پیش کرے جو فضائی حملوں کو روکنے اور ان سے دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

    ٹرمپ کے مطابق یہ نظام خشکی، سمندر اور خلا میں ’نیکسٹ جنریشن‘ ٹیکنالوجی پر مشتمل ہو گا، اس میں خلائی سینسرز اور میزائل روکنے والے نظام شامل ہوں گے۔

    انھوں نے کہا تھا کہ یہ نظام ’ان میزائلوں کو بھی روکنے کی صلاحیت رکھے گا جو دنیا کے دوسرے حصے سے، یا خلا سے داغے گئے ہوں۔‘

    گذشتہ ماہ سپیس ایکس اور لاک ہیڈ مارٹن کے ساتھ 3.2 ارب ڈالرز کے معاہدے کیے گئے تھے تاکہ وہ میزائل روکنے والا ایسا نظام تیار کریں جو خلا میں نصب کیا جا سکے۔