بلوچستان میں چار دن میں شدت پسندی کے تین بڑے واقعات اور سکیورٹی آپریشن: 11 فوجیوں سمیت 38 اہلکار ہلاک، 54 شدت پسند بھی مار دیے گئے

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 13 منٹ

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ گذشتہ چار روز کے دوران بلوچستان میں پیش آئے شدت پسندی کے تین بڑے واقعات میں 27 پولیس اور 11 فوجی اہلکاروں سمیت 42 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ اسی دوران کی گئی جوابی کارروائیوں میں 54 شدت پسند بھی مارے گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بدھ کی دوپہر ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ اِن واقعات میں 27 پولیس اہلکاروں، 11 فوجی اہلکاروں اور چار سویلین کو ہلاک کیا گیا۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے شدت پسندی کے جن تین بڑے واقعات کا ذکر کیا ان میں زیارت میں ایک پولیس چیک پوسٹ پر حملہ بھی شامل ہے جس میں ان کے بقول مجموعی طور پر 27 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

ان کی جانب سے ان حملوں کا ذمہ دار انڈیا اور اس کے حمایت یافتہ شدت پسند گروہوں کو قرار دیا گیا ہے۔ انڈیا نے تاحال اس الزام پر ردعمل نہیں دیا تاہم ماضی میں اس کی جانب سے ایسے دعوؤں کو مسترد کیا جاتا رہا ہے۔

شدت پسندی کے تین بڑے واقعات اور جوابی کارروائی

پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق چار اور پانچ جولائی کی درمیانی رات کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک میں شدت پسندوں نے عام شہریوں پر حملہ کیا، جس پر مقامی آبادی نے اپنی مدد آپ کے تحت ردعمل دیا، جس کے بعد یہ شدت پسند وہاں سے بھاگ جانے پر مجبور ہوئے، تاہم اس کارروائی کے دوران چار شہری ہلاک ہوئے جبکہ چھ زخمی ہوئے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دوسرا واقعہ چھ جولائی (پیر) کو پیش آیا جب کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے زیارت میں واقع ایک پمپنگ سٹیشن کے قریب بلوچستان پولیس کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔

اُن کے مطابق اس چیک پوسٹ پر موجود فورس پانی کی پائپ لائن اور پمپنگ سٹیشن کی حفاظت پر معمور ہوتی ہے تاکہ کوئٹہ کے عوام منگی ڈیم سے بلارکاوٹ پانی مل سکے۔

اُن کے مطابق شدت پسندوں نے مختلف اطراف سے اِس پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس کا جواب دیا گیا اور اس کارروائی میں 15 عسکریت پسند ہلاک ہوئے جبکہ بلوچستان پولیس کے نو اہلکار اپنی جانوں سے گئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس کارروائی کی اطلاع ملتے ہی آرمی اور ایف سی کی ٹیموں کو زیارت روانہ کیا گیا مگر اُن کے پہنچنے سے قبل ہی عسکریت پسند چیک پوسٹ پر تعینات دیگر 18 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا کر لے گئے۔ انھوں نے کہا کہ اس چیک پوسٹ پر تعینات تمام پولیس اہلکار مقامی افراد تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی اور ایف سی کی ٹیموں نے عسکریت پسندوں کا تعاقب کیا اور اُن کے گرد گھیرا تنگ کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ یرغمالی پولیس اہلکاروں کی موجودگی کی وجہ سے شدت پسندوں کے خلاف فضائی ذرائع استعمال نہیں کیے گئے۔

احمد شریف چوہدری کے مطابق ’جب انھیں (عسکریت پسندوں) پتا چلا کہ گھیرا تنگ ہو چکا تو انھوں نے 18 یرغمالی پولیس اہلکاروں کو بدھ (آٹھ جولائی) کے روز ہلاک کر دیا۔‘

انھوں نے کہا کہ زیارت پولیس چیک پوسٹ واقعے میں مجموعی طور پر 27 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائیوں میں 26 عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق تیسرا واقعہ بدھ (آٹھ جولائی) کو پیش آیا جب بیلا میں آرمی کانوائے پر حملہ ہوا جس کے نتیجے میں 11 سکیورٹی اہلکار، بشمول ایک جے سی او، ہلاک ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ خاران اور دالبندین میں دو کارروائیوں کے دوران بالترتیب چھ اور آٹھ شدت پسند مارے گئے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق مجموعی طور پر ان تین بڑے واقعات میں 42 افراد -- بشمول چار سویلین، 27 پولیس اہلکار اور 11 فوجی اہلکار -- مارے گئے ہیں جبکہ 54 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت مختلف مقامات پر عسکریت پسندوں کے ساتھ انگیجمنٹس جاری ہیں اور فوج، ایف سی اور پولیس ان شدت پسندوں کا تعاقب کر رہی ہے۔

اپنی پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے الزام عائد کیا کہ یہ سب انڈیا اور وہ تمام دشمن قوتیں کروا رہی ہیں جن کو پاکستان کا استحکام اور خوشحالی پسند نہیں ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ آپریشنز کے دوران مارے جانے والے شدت پسندوں میں سے زیادہ تر افغانستان کے شہری ہیں اور یہ سب ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا جا رہا ہے۔

پولیس اہلکاروں پر حملے کا واقعہ کہاں پیش آیا؟

ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی نے بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والے پولیس اہلکار مانگی ڈیم کے فیز تھری کی کنسٹرکشن سائٹ پر ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں مسلح افراد کی بڑی تعداد نے ان پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں دو ایس ایچ اوز سمیت کم از کم نو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔

اس واقعے کے خلاف ضلع پشین میں زیارت کراس پر قومی شاہراہ کو بند کر کے احتجاج کرنے والوں کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے متعدد پولیس اہلکاروں کو اغوا بھی کر لیا ہے۔

زیارت کراس پر مذاکرات کے لیے آنے والے حکومتی عہدیداروں سے مظاہرے نے اغوا کیے جانے والے افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا شاہد رند نے ایک بیان میں کہا کہ ’مذکورہ علاقے سے ایک ڈی ایس پی سمیت آٹھ اہلکار دشوار گزار راستوں سے ہوتے ہوئے پولیس تھانہ کچ پہنچ گئے جبکہ ایک کانسٹیبل کو بازیاب کرلیا گیا ہے۔‘

ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق کے اس واقعے کے بعد 11 پولیس اہلکاروں کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ 15 دیگر پولیس اہلکار تاحال لاپتہ ہیں جن کی بازیابی کے لیے ایف سی اور پولیس کا مشترکہ آپریشن جاری ہے۔

مانگی کہاں واقع ہے؟

مانگی بلوچستان کے دو اضلاع ہرنائی اور زیارت کے سنگم پر واقع ہے۔ یہ ایک دشوارگزار پہاڑی علاقہ ہے جو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 65 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مشرق میں واقع ہے۔

مانگی میں حکومت بلوچستان ایک بڑا ڈیم تعمیر کررہی ہے جس کا مقصد کوئٹہ شہر میں پانی کے مسئلے پر قابو پانا ہے۔

زیارت کے جس مقام پر پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا گیا ہے اس میں اس ڈیم کے فیز تھری کا کام جاری ہے۔

مانگی اور اس کے نواح میں ہرنائی اور زیارت کے علاقوں میں پہلے بھی سنگین بدامنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جن میں سے زیادہ تر کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بی ایل اے کی جانب سے ہی قبول کی جاتی رہی ہے۔

تاہم مانگی ڈیم کے فیز تھری کی کنسٹرکشن سائٹ پر گزشتہ روز ہونے والے حملے کی تاحال کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

’ہمارے ساتھیوں نے حملہ آوروں کا بھرپور مقابلہ کیا لیکن ان کے پاس اسلحہ کم تھا‘

بلوچستان کے ضلع زیارت میں منگل کے روز پیش آنے والے واقعے کے بارے میں نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مانگی میں اسلحے کی کمی کے باوجود ہمارے ساتھیوں نے کئی گھنٹے تک مقابلہ کیا۔‘

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سیکریٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال کا کہنا ہے کہ ’پولیس اہلکاروں نے اپنے گھر والوں کو فون کیا کہ ان کے پاس گولیاں ختم ہو چکی ہیں اور سورج غروب ہونے سے قبل اگر ہمیں امداد فراہم نہ کی گئی تو رات کے اندھیرے میں ہماری زندگیوں کو خطرہ ہے۔‘

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس واقعے کے بارے میں ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے جو کہ 15 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

ضلع زیارت کے علاقے مانگی میں مسلح افراد کے حملے میں دو افسران سمیت کم از کم نو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق 15 پولیس اہلکار اب تک لاپتہ ہیں۔

اس واقعے کے خلاف احتجاجاً نہ صرف منگل کو زیارت شہر میں کاروباری مراکز بند رہے بلکہ ضلع پشین میں زیارت کراس پر لوگوں نے قومی شاہراہ کو 15 گھنٹے سے زائد تک بند رکھا۔

سرکاری حکام کا دعویٰ ہے کہ اس علاقے میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں کالعدم شدت پسند تنظیم کے 15 جنگجو مارے گئے ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق اس واقعے کے ذمہ دار افراد کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

’بہت سنگین اور بڑی غفلت کی وجہ سے یہ سب کُچھ ہوا ہے‘

اس واقعے میں ہلاک ہو جانے والے پولیس ایس ایچ او محمد حسن کے چچا عبداللہ جان سے فون پر رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ابھی اپنے پیاروں کی تدفین کرکے آئے ہیں اس لیے وہ اس وقت شدید صدمے کی حالت میں ہیں اور بات کرنے کے قابل نہیں۔‘

تاہم ایک ویڈیو میں زیارت ہسپتال میں وہ انتہائی جذباتی دکھائی دے رہے تھے اور انھیں یہ کہتے ہوئے سُنا گیا کہ ’بہت سنگین اور بڑی غفلت کی وجہ سے یہ سب کُچھ ہوا ہے۔‘

زیارت پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’جب مسلح افراد نے مانگی ڈیم کی کنسٹرکشن سائٹ پر حملہ کیا تو وہاں پر تعینات پولیس اہلکاروں نے کئی گھنٹے تک ان کا مقابلہ کیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ ’ان کے پاس اسلحے کی کمی تھی جس کی وجہ سے نو ساتھی مارے گئے جبکہ متعدد کو حملہ آور اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ان کے پاس مناسب مقدار میں اسلحہ ہوتا تو شاید ان کی زندگی بچ جاتی اور باقی لوگ اغوا نہیں ہوتے۔‘

قوم پرست جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سیکریٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال کا تعلق ضلع زیارت سے ہے۔

جب ان سے فون پر رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’حملے کے دوران بعض پولیس اہلکاروں نے اپنے گھر والوں سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ ’ہمارے پاس گولیاں‘ ختم ہوچکی ہیں۔‘

’اگر سورج غروب ہونے سے پہلے ہم تک امداد نہ پہنچی تو ہم زندہ نہیں ہمارے جنازہ گھر واپس جائیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ دن 12بجے سے رات آٹھ بجے تک، اعلیٰ حکام تک اطلاع پہنچ جانے کے باوجود حکومت نے تمام وسائل کے ہوتے ہوئے بھی اپنے لوگوں کی جان بچانے کی کوشش تک نہیں کی، کوئی بھی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے والے اپنے پولیس اہلکاروں کی زندگیاں بچائی جا سکتیں۔‘

تاہم محکمہ داخلہ حکومتِ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے کہا کہ ’ہمارے پولیس کے جوانوں نے بہادری سے مقابلہ کیا لیکن یہ تاثر درست نہیں کہ ’ان کی مدد‘ کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پولیس کی نفری ڈی ایس پی غلام سرور کی قیادت میں گئی تھی اور انھوں نے وہاں شدت پسندوں کے ساتھ مقابلہ کیا اور جس پولیس اہلکار کو بازیاب کروایا گیا وہ اسی پولیس پارٹی کی کوشش سے ہوا۔‘

بابر یوسفزئی نے بتایا کہ ’جب بھی کالعدم تنظیموں کے لوگ کوئی حملہ کرتے ہیں تو وہ راستوں پر آئی ای ڈیز بھی نصب کرتے ہیں اس لیے کسی جگہ تک پہنچنے سے پہلے راستوں کو بھی کلیئر کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ کوئی اور حادثہ پیش نہ آئے۔‘

وزیر اعلیٰ کے معاون برائے میڈیا شاہد رند نے دعویٰ کیا ہے کہ ’اس علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز نے کلیئرنس آپریشن کیا جس میں 15 شدت پسند ہلاک ہوئے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بلوچستان کے امن سے کھیلنے والوں کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی ریاست پوری قوت سے جواب دے رہی ہے۔‘

واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی کا قیام

حکومتِ بلوچستان نے زیارت پولیس کے ایس پی کو معطل کرتے ہوئے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے۔

ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق کمیٹی میں سیکریٹری ایس اینڈ جی اے ڈی، سینئر ڈی آئی جی پولیس اور انٹیلی جنس بیورو کے نمائندے شامل ہوں گے۔

انکوائری کمیٹی حملے سے قبل، دوران اور بعد کے تمام واقعات اور سکیورٹی اہلکاروں کے ردعمل کا جائزہ لے گی۔کمیٹی سکیورٹی اداروں کی تیاری، کمانڈ اینڈ کنٹرول، رابطہ کاری اور ایس او پیز پر عملدرآمد کا بھی تفصیلی جائزہ لے گی۔

وزیر اعلیٰ کے معاون برائے میڈیا شاہد رند کا کہنا ہے کہ ’غفلت، کوتاہی، آپریشنل خامیوں یا ذمہ داری کے تعین کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کی سفارش کی جائے گی۔‘

انکوائری کمیٹی مانگی ڈیم اور دیگر اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے فوری، درمیانی اور طویل المدتی سکیورٹی اقدامات بھی تجویز کرے گی۔‘

سکیورٹی امور کے ماہرین اور تجزیہ کار کیا کہتے ہیں؟

تجزیہ کاروں اور سکیورٹی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’مذہبی شدت پسند تنظیموں کی جانب سے بلوچستان میں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ ان کی پہلے بھی بلوچستان میں موجودگی رہی ہے اور ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں۔‘

سکیورٹی امور کے ماہر اور پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر عامر رانا نے کہا کہ ’یہ علاقے ایک وقت میں کالعدم ٹی ٹی پی سے زیادہ افغان طالبان کے زیرِ استعمال تھے جہاں اب ایک دم سے جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ابھی کچھ مشکوک افراد اس علاقے میں آئے ہیں وہ کون ہیں اور ان کے مقاصد کیا ہیں، حکومت ان کے بارے میں کیا کہہ رہی ہے ابھی تک اس حوالے سے متزاد بیانات ہی سامنے آرہے ہیں کہ ان کے مقاصد کیا ہیں لیکن ظاہر ہے کہ عام آدمی ان کی کا کارروائیوں سے متاثر ہورہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’گزشتہ چند دنوں میں جن علاقوں میں یہ واقعات رونما ہوئے ان علاقوں میں کالعدم ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں کم رہی ہیں لیکن ان کا زیادہ اثر پشتون علاقوں میں ژوب، شیرانی، قلعہ سیف اللہ اور لورالائی میں رہا ہے کیونکہ یہ علاقے خیبرپختونخوا میں وزیرستان اور ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب ہیں۔‘

بلوچستان کے سینیئر تجزیہ کار سلیم شاہد کا کہنا ہے ’کالعدم تحریک طالبان کی بلوچستان کے شمالی علاقوں میں پہلے بھی کارروائیاں ہوتی رہی ہیں اور ان کی جانب سے مختلف کارروائیوں کی ذمہ داری بھی قبول کی جاتی رہی ہیں۔‘

’بلوچستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکا ہے‘

اس واقعے کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو اور پولیس کے سینیئر حکام کے ہمراہ سڑک کے ذریعے زیارت پہنچے۔

ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان کو آئی جی پولیس طاہر خان نے زیارت میں مانگی ڈیم واقعہ اور مجموعی امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’بلوچستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ حکومت اپنی آئینی اور قومی ذمہ داریوں سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گی اور کسی بھی صورت عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔‘

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’حالات یقیناً چیلنجنگ اور مُشکل ہیں، لیکن حکومت کا عزم پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ وہ زیارت صرف ایک سرکاری دورے پر نہیں بلکہ مارے جانے والے اہلکاروں کےاہلخانہ کے غم میں شریک ہونے، زخمیوں کی دلجوئی کرنے اور اپنی پولیس، فرنٹیئر کور اور دیگر سکیورٹی فورسز کو یہ پیغام دینے آئے ہیں کہ حکومت ہر محاذ پر ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔‘

انھوں نے مارے جانے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے آخری سانس تک بے مثال جرات، استقامت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا۔‘

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’حکومت بلوچستان نے شہداء پیکیج کو مزید بہتر بنایا ہے اور اب شہداء کے بچوں کی تعلیم، کفالت، فلاح و بہبود اور روشن مستقبل کی مکمل ذمہ داری ریاست اٹھائے گی۔‘