اسلام آباد میں پاکستانی فضائیہ کے افسر کی ہلاکت: عدالت نے ملزم کو شناخت پریڈ کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 8 منٹ

اسلام آباد میں انسدادِ دہشتگردی کی ایک عدالت نے تکرار کے بعد پاکستانی فضائیہ کے افسر گروپ کیپٹن عاصم طارق کے قتل کے مقدمے میں نامزد ملزم سعد عباسی کو شناخت پریڈ کا عمل مکمل کرنے کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

پیر کو ملزم کو سخت سکیورٹی حصار میں اور چہرے کو ڈھانپ کر عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

اس مقدمے کے پراسیکیوٹر کے مطابق ملزم کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو ’جج نے استفسار کیا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا؟ تو ملزم نے جواب دیا کہ میں لڑکی کے ساتھ تھا اور وہ بندہ (عاصم طارق) ہمارے درمیان خلل ڈال رہا تھا۔‘

پراسیکیوٹر کے مطابق ’اس پر جج نے ملزم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کوئی اچھا کام کر رہے تھے جو وہ خلل ڈال رہے تھے؟‘

اس کے بعد عدالت نے اس مقدمے کے تفتیشی افسر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کو لے جائیں اور 14 دن کے بعد دوبارہ عدالت میں پیش کریں۔

عدالتی حکم کے بعد پولیس نے ملزم کو اڈیالہ جیل منتقل کردیا۔

پاکستانی فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے قتل کا واقعہ اتوار کی صبح سیکٹر ایف ایٹ میں واقع شاہین چوک کے قریب پیش آیا تھا جب مقتول نے سڑک کنارے ایک خاتون کو زبردستی ساتھ لے جانے کی کوشش کرنے والے ملزم کو روکنے کی کوشش کی تھی۔

قتل کا مقدمہ کمانڈنٹ ایئرہیڈکوارٹر کی مدعیت میں قتل اور انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔

مقدمے کی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزم لڑکی کو ہراساں کر رہا تھا اور فضائیہ کے افسر نے اسے اس غیرقانونی فعل سے روکا جس پر ملزم انھیں دھمکیاں دیتا رہا۔

مقدمے میں درج معلومات کے مطابق ملزم دھمکیاں دیتے ہوئے موٹرسائیکل پر سوار ہو کر پہلے تو وہاں سے چلا گیا مگر پھر واپس آ کر اس نے افسر کی گاڑی کے پاس کھڑے ہو کر ان پر فائرنگ کر دی۔

ادھر مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے کی چشم دید گواہ جو کہ ملزم کے ساتھ آئی تھی، وہ تاحال پولیس کی تحویل میں ہے اور اس سے بھی اس واقعہ سے متعلق پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

اتوار کی شب ایک پریس کانفرنس میں اسلام آباد کے آئی جی علی ناصر رضوی نے ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی۔

مقدمے کی تفتیش کرنے والی اسلام آباد پولیس کی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ایاز حسین نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا ملزم کا تعلق خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد سے ہے اور وہ اسلام آباد میں ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں کرائے کے گھر میں رہتا تھا۔

ڈاکٹر ایاز حسین کے مطابق پولیس نے ایبٹ آباد میں ملزم کے اہلخانہ اور اسلام آباد میں جس جگہ پر وہ کام کرتا تھا، وہاں اس کے ساتھی ملازمین سے ملاقات اور رابطہ کر کے ملزم کے بارے میں مزید معلومات جمع کی ہیں جو کہ اس مقدمے کی تفتیش میں کارآمد ثابت ہوں گی۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ گروپ کیپٹن عاصم طارق کی میت پوسٹمارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئی ہے۔

اس سوال پر کہ کیا ملزم اور مقتول اس واقعے سے پہلے بھی ایک دوسرے کو جانتے تھے یا ان کی پہلے ہاتھا پائی بھی ہوئی تھی تو ڈاکٹر ایاز حسین کا کہنا تھا کہ دونوں پہلے ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے اور فضائیہ کے افسر ایک خاتون کو مشکل میں دیکھ کر اس کی مدد کرنے کے لیے آگے آئے تھے۔

اتوار کی شب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کا کہنا تھا کہ مقتول گروپ کیپٹن عاصم طارق سرکاری کام کے لیے راولپنڈی جا رہے تھے، جب اُنھوں نے دیکھا کہ ایک شخص زبردستی ایک خاتون کو اپنے ساتھ لیجانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ گروپ کیپٹن یو ٹرن لے کر گاڑی موٹر سائیکل کے سامنے لے آئے اور ملزم کو روکا، مزاحمت پر ملزم نے اُن پر فائرنگ کر دی جس سے وہ موقع پر دم توڑ گئے اور ملزم موقع سے فرار ہو گیا۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ اسلام آباد میں شاہین چوک کے قریب پیش آیا، جس کے بعد ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس کی 11 ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔

آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ گروپ کیپٹن نے وہی کیا جو ایک ذمہ دار شہری کرتا ہے اور اُنھوں نے ایک محبِ وطن شہری ہونے کا ثبوت دیا۔

آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ملزم اور خاتون ایک ہی جگہ پر کام کرتے تھے اور ملزم ماضی میں خاتون کو پک کرتا رہا ہے، تاہم اتوار کو اس نے اسے زبردستی کہیں اور لیجانے کی کوشش کی۔

ملزم کی گرفتاری کیسے عمل میں آئی؟

ایس پی سٹی ڈاکٹر ایاز حسین کے مطابق ملزم کی شناخت پریڈ کا عمل اگلے ایک یا دو روز میں مکمل کرلیا جائے گا، جس کے بعد ملزم کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرکے اس مقدمے کی تفتیش کی جائے گی۔

انھوں نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا کہ ملزم اتوار کو دن میں ساڑھے گیارہ بجے کے قریب ملزم قتل کے بعد فرار ہوا تھا۔

ایس پی سٹی ڈاکٹر ایاز حسین کا کہنا تھا کہ ’ابتدائی معلومات تو اس لڑکی سے ہی مل گئی تھیں جو کہ ملزم کے ساتھ تھی اور پھر اس کے بعد کیمروں کی مدد سے ملزم کی گرفتاری کا عمل شروع کیا۔‘

سیف سٹی کیمرے جو کہ سری نگر ہائی وے اور اسلام آباد ہائی وے پر بھی لگائے گئے ہیں کی مدد سے معلوم ہوا کہ ملزم موٹر سائیکل پر بیٹھ کر کرال چوک سے نجی ہاوسنگ سوسائٹی غوری ٹاون کی طرف مڑتا ہوا دکھائی دیا۔‘

اسلام آباد پولیس کے افسر کے مطابق اس کے بعد تفتیشی ٹیموں نے مختلف دکانوں اور گھروں کے باہر لگائے گئے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد لی، جس میں دیکھا گیا کہ ملزم نے پہلے موٹر سائیکل اپنے دوست کے گھر پر کھڑی کی اور اس کے بعد وہاں سے پیدل نکل کر قریبی مارکیٹ گیا، جہاں سے اس نے شرٹ خرید کر پہن لی اور اپنا بیگ میڈیکل سٹور چلانے والے ایک دوست کے پاس رکھوایا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں یہ بھی نظر آیا کہ ملزم ایک موٹر سائیکل پر بیٹھ کر کہیں جارہا ہے۔

ایس پی سٹی ڈاکٹر ایاز حسین کہتے ہیں کہ جب پولیس نے موٹر سائیکل سوار سے تفتیش کی تو اس نے بتایا کہ اس نے ملزم کو فیض آباد پر بسوں کے اڈے پر چھوڑا تھا اور وہ جاتے ہوئے لاہور کا کرایہپوچھ رہا تھا۔

’پولیس نے جب فیض آباد بس اڈے پر ایک نجی بس سروس کا لاہور جانے والے مسافروں کا ریکارڈ چیک کیا تو وہاں پر ایک نام ملزم کا بھی تھا۔‘

تاہم اسلام آباد پولیس کے افسر کہتے ہیں کہ ملزم لاہور جانے والی بس میں سوار ہونے کے بعد بھیرہ انٹر چینج پر اُتر گیا اور ٹیکسی کے ذریعے دوبارہ اسلام آباد آ گیا۔

ایس پی سٹی ڈاکٹر ایاز حسین کہتے ہیں کہ پولیس کی دو ٹیمیں غوری ٹاؤن میں سادہ کپڑوں میں تعینات تھیں اور اس موقع پر ملزم نے اپنے دوست کو فون کر کے کہا کہ وہ میڈیکل سٹور سے اپنا بیگ اُٹھانے آ رہا ہے۔

’کچھ دیر کے بعد ایک کمسن بچہ میڈیکل سٹور پر آتا ہے اور وہ بیگ لیتا ہے جو کہ ملزم نے رکھوایا تھا۔‘

’پولیس اہلکاروں نے بچے کا پیچھا کیا اور کچھ دور جا کر بچے نے جوں ہی بیگ ملزم کے حوالے کیا تو پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا۔‘

’ملزم غلط ارادے سے لڑکی کو ایف نائن پارک لے کر جا رہا تھا‘

ایس پی سٹی ایاز حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں پتہ چلا ہے کہ ملزم غلط ارادے کی نیت سے لڑکی کو ایف نائن پارک لے کر جا رہا تھا کہ شاہین چوک کے قریب لڑکی نے زبردستی موٹر سائیکل رکوائی اور ملزم کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔

اُنھوں نے کہا کہ ملزم مبینہ طور پر زبردستی لڑکی کا ہاتھ کھینچ کر موٹر سائیکل پر بٹھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران فضائیہ کے گروپ کیپٹن وہاں پر آ گئے اور معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی لیکن ملزم نے طیش میں آ کر گولی چلا دی جو ایئر فورس کے افسر کی چھاتی پر لگی اور وہ موقع پر دم توڑ گئے۔

یہ واقعہ وفاقی دارالحکومت کے تھانہ مارگلہ کی حدود میں ایئر یونیورسٹی اور بحریہ یونیورسٹی کے سامنے پیش آیا۔

واقعے کے بعد گروپ کیپٹن عاصم طارق کی میت کو پاکستان ائیر فورس ہسپتال یونٹ ٹو منتقل کر دیا گیا تھا، جبکہ تھانہ مارگلہ پولیس کے ایڈیشنل ایس ایچ او صدیق اور ڈیوٹی افسر نوید فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور شواہد اکٹھے کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔

ایس پی سٹی کے مطابق ملزم نے جس پستول سے گولی چلائی تھی اس کو کہیں پھینک دیا ہے اور ملزم کی نشاندہی پر پستول کو تلاش کیا جا رہا ہے۔

ایس پی سٹی ایاز حسین کے مطابق ملزم اور لڑکی دونوں تھانہ آبپارہ کی حدود میں واقع ایک کیش اینڈ کیری پر کام کرتے تھے اور ان کی دوستی کو ابھی چند دن ہی ہوئے تھے۔