امریکہ نے ایران پر نئے حملوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے جسے امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) کی جانب سے تین تجارتی بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کا جواب کہا جا رہا ہے۔
منگل کے روز سینٹ کام نے کہا کہ اس نے یہ کارروائی اس لیے شروع کی ہے ’تاکہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں بے گناہ افراد کے عملے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے اور ان پر حملے کرنے کی بھاری قیمت عائد کی جا سکے۔‘
ایران کے نائب وزیر خارجہ نے امریکی حملوں کو دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا اور خبردار کیا کہ تہران ’فیصلہ کن اقدامات‘ کرے گا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے جزیرہ قشم، بندر عباس اور سیریک پر ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں لوگ زخمی ہوئے تاہم کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔
گذشتہ روز برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن (یو کے ایم ٹی او) نے 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز کے قریب تین بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاع دی تھی۔
تنظیم کے مطابق منگل کو ایک ٹینکر نے اطلاع دی کہ آبنائے ہرمز سے نکلتے وقت اسے نشانہ بنایا گیا، لیکن وہ اپنی اگلی بندرگاہ تک جانے میں کامیاب رہا، جبکہ ایک اور ٹینکر نے اطلاع دی کہ نشانہ بنائے جانے کے بعد اسے معمولی نقصان پہنچا۔
اسی طرح ایک تیسرا تیل بردار جہاز عمان کے جزیرہ نما مسندم سے تقریباً 6 بحری میل کے فاصلے پر ایک نا معلوم شے کے حملے کی زد میں آیا۔
نشانہ بنائے گئے دو جہازوں کا تعلق قطر اور سعودی عرب سے تھا اور انھوں نے اس حملے کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا۔
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق آئل ٹینکر الرقایات پر حملے کی تمام تر ذمہ داری ایران پر ہے۔
انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ قطر نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’فوری طور پر تمام ایسے اقدامات بند کرے جو علاقائی سلامتی کو کمزور کرتے ہیں‘ اور ’محدود مفادات کے حصول کے لیے عالمی توانائی کی رسد اور خطے کے ممالک کے وسائل کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کرے۔‘
سوشل میڈیا پر ایک علیحدہ پوسٹ میں سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران نے سعودی ٹینکر ودیان کو آبنائے ہرمز عبور کرتے وقت نشانہ بنایا۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے قطر کے الزامات کو ’حسنِ ہمسائیگی کے اصول کے منافی‘ قرار دیا۔
ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں انھوں نے مزید کہا کہ جو تجارتی بحری جہاز ایران کے ساتھ طے شدہ راستوں کے بجائے دوسرے راستے استعمال کرتے ہیں یا اپنی نقل و حرکت کی نگرانی کے نظام میں رد و بدل کرتے ہیں، انھیں تصادم کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور اس سے آبنائے ہرمز میں محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کی ایران کی کوششیں متاثر ہوتی ہیں۔
امریکہ نے ٹینکروں پر حملوں کو ’مکمل طور پر نا قابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے نتائج ہوں گے۔
منگل کی شب جاری بیان میں سینٹ کام نے کہا کہ امریکی حملے ’ایرانی حملوں کے جواب میں‘ کیے گئے۔
اس نے کہا: ’ایران کی جارحیت بلا جواز، خطرناک اور جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی تھی۔‘
حملوں سے پہلے، امریکی محکمہ خزانہ نے منگل کے روز اس استثنیٰ کو منسوخ کر دیا تھا جس کے تحت ایران پر عائد تیل فروخت کرنے کی پابندیوں میں عارضی نرمی کی گئی تھی۔
گذشتہ ماہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کو تیل اور پیٹرولیم مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایران کی وزارت خارجہ نے اس اقدام کو مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ اس سے امریکی حکومت کی ’بد نیتی، عدم تسلسل اور نا قابل اعتبار ہونے‘ کا ثبوت ملتا ہے۔
اس نے مزید کہا کہ تہران ’ہر وہ اقدام کرے گا جسے وہ اپنے قومی مفادات اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری سمجھے۔‘