سیٹیلائٹ تصاویر کے مطابق امریکی-اسرائیلی حملوں نے ایران کی جوہری اور عسکری تنصیبات کو کتنا نقصان پہنچایا؟

    • مصنف, مرلن تھامس
    • مصنف, باربرا میٹزلر
    • مصنف, بینیڈکٹ گارمن
    • مصنف, الیکس مورے
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

ایران کی بعض فوجی اور جوہری تنصیبات پر ہونے والے نقصان کی نوعیت اس وقت پہلی بار منظر عام پر آئی جب ڈھائی لاکھ سے زیادہ ایسی ہائی ریزولوشن سیٹیلائٹ تصاویر جاری کی گئیں جن پر پہلے پابندی عائد تھی۔

سیٹلائٹ تصاویر فراہم کرنے والی ایک بڑی کمپنی پلینٹ لیبز نے ایران میں تقریباً 800 مقامات کی تصاویر تک رسائی بحال کی ہے جن پر امریکی حکومت کی درخواست پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

بی بی سی ویریفائی نے دو اہم مقامات اصفہان اور بوشہر کی سیٹیلائٹ تصاویر کا تجزیہ کیا ہے۔ یہ تصاویر 9 مارچ کو شروع ہونے والی پابندی سے قبل کھینچی گئی تھیں۔

فوجی انٹیلی جنس کمپنی جینز کے مطابق تصاویر میں گولہ بارود ذخیرہ کرنے والے علاقوں سے لے کر بیلسٹک میزائل انفراسٹرکچر، جوہری اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے مقامات اور بحری اڈوں تک مختلف اہداف کو نشانہ بنائے جانے کے شواہد ملتے ہیں۔

تصدیق شدہ ویڈیوز پہلے ہی یہ ظاہر کر چکی ہیں کہ یہ مقامات امریکی اور اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنے تھے۔ لیکن نئی دستیاب تصاویر حملوں کے مخصوص اہداف اور نقصان کی نوعیت کے بارے میں مزید معلومات فراہم کرتی ہیں۔

بوشہر

تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ساحلی شہر بوشہر کے اطراف کئی مقامات کو 9 مارچ کے بعد نقصان پہنچا یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔

جینز کے مطابق فوجی عمارتوں اور حکومتی تنصیبات میں طیاروں کے ہینگر، گولہ بارود کے ذخائر، بندرگاہیں، پانی کے اوپر تعمیر کی گئی تنصیبات اور میزائل لانچ کے مقامات شامل ہیں۔ ان مقامات کو واضح طور پر نقصان پہنچا ہے۔ متاثرہ مقامات کا تعلق ایرانی حکومت اور پاسداران انقلاب دونوں سے ہے۔

بہت سی عمارتوں کی چھتیں منہدم ہو چکی ہیں اور بعض مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر نظر آتی ہیں۔

دیگر تصاویر میں تباہ شدہ طیارے اور ڈوبے ہوئے جہاز دکھائی دیتے ہیں۔

بوشہر بین الاقوامی ہوائی اڈے سمیت متعدد رن ویز پر گڑھے بھی دیکھے جا سکتے ہیں جن میں سے بعض کی بعد میں مرمت کر دی گئی۔

کچھ علاقے، جنھیں اوپن سٹریٹ میپس جیسے آن لائن نقشوں پر ’فوجی‘ قرار دیا گیا ہے، میں تقریباً ہر عمارت تباہ ہو چکی ہے۔

جینز کے مشرق وسطیٰ امور کے دفاعی ماہر جیرمی بنی کے مطابق دکھائی دینے والا نقصان ’امریکی اور اسرائیلی بیانات میں وسیع پیمانے پر کارروائی سے مطابقت رکھتا ہے۔ اس کا مقصد صرف موجودہ افواج کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ان کے پیچھے موجود بنیادی ڈھانچے کو بھی کمزور کرنا تھا۔‘

جینز کے تجزیے کے مطابق بحری جہاز سازی کے ایک اڈے پر تعمیرات اور مرمت کے شیڈز کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

اصفہان

صوبہ اصفہان کی تصاویر، جہاں دو جوہری تنصیبات اصفہان اور نطنز میں واقع ہیں، فوجی انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کی نوعیت ظاہر کرتی ہیں۔

علاقے کے فوجی اڈوں پر عمارتوں کو پہنچنے والا نقصان واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

جینز کے مطابق ایک فضائی اڈے کے لیے گولہ بارود ذخیرہ کرنے کے علاقے پر مبنی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ ایک اہم ایرانی ایئر بیس ہے جسے شکاری 8 کہا جاتا ہے۔

شہر کے جنوب میں واقع ایک فوجی اڈے پر 60 سے زیادہ ڈھانچے شدید متاثر یا تباہ ہو چکے ہیں۔

علاقے میں مزید جنوب کی جانب، بہارستان قصبے کے قریب ایک اور اڈے پر بھی ایک درجن سے زیادہ ڈھانچوں کو نشانہ بنایا گیا۔

تصاویر تک رسائی محدود کرنے کے متنازع فیصلے نے صحافیوں، انسانی امدادی تنظیموں اور تجزیہ کاروں کے لیے ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ کے اثرات کا جائزہ لینا محدود کر دیا ہے۔ ان میں فوجی اہداف اور شہری انفراسٹرکچر کو پہنچنے والا نقصان بھی شامل ہے جس تک رسائی محدود تھی۔

پلینیٹ کی تصاویر پر پابندیاں اب بھی مشرق وسطیٰ کے بیشتر حصوں بشمول عراق، لبنان، اسرائیل اور غزہ میں برقرار ہیں۔

کیلیفورنیا میں قائم کمپنی نے کہا کہ ’علاقے کے دیگر حصوں کے لیے تاخیر کا نظام اب بھی برقرار ہے اور ہم قومی سلامتی اور عملے کی حفاظت سے متعلق جاری خدشات کے مطابق ان علاقوں میں منظم انداز میں تصاویر کی فراہمی جاری رکھیں گے۔‘

پلینیٹ کی سروسز کی عدم موجودگی میں اس کے خبروں سے متعلق صارفین، مثلاً بی بی سی اور نیویارک ٹائمز، امریکہ سے باہر موجود متبادل ذرائع کا استعمال کر رہے ہیں۔