کیا واقعی پشاور بی آر ٹی کی بسیں 288 اور 144 روپے میں نجی کمپنی کو دی جائیں گی؟

پشاور بی آر ٹی
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

’پشاور بی آر ٹی فار سیل! چار کروڑ کی بس صرف 288 روپے میں‘۔۔۔۔ ’ارے 288 روپے میں تو بچوں کے کھیلنے والی پلاسٹک کی بس بھی نہیں ملتی آج کل۔۔۔۔‘

پاکستان میں سوشل میڈیا پر ایسی دستاویزات شئیر کی جا رہی ہیں جن کے مطابق پشاور کی بس ریپڈ ٹرانزٹ یا بی آر ٹی کی بسیں جو فی بس چار، چار کروڑ میں حکومت نے خریدی تھیں، 12 سالہ معاہدہ مکمل ہونے کے بعد نجی کمپنی کو اونے پونے داموں دے دی جائیں گی۔

سب سے پہلے تو آپ کو ان بسوں کی قیمت بتا دیتے ہیں جس پر یہ نجی کمپنی کو دی جائیں گی، تو دل تھام کر بیٹھیے۔۔۔۔ حکومت کی جانب سے کیے گئے معاہدوں کے مطابق ان بسوں کو چلانے والی نجی کمپنی کو 18 میٹر لمبی بس 288 روپے اور 12 میٹر لمبی بس 144 روپے میں دی جائے گی۔

اس وقت بی آر ٹی پشاور کے زیر استعمال 158 بسیں ہیں جو 12 سال کا یہ معاہدہ مکمل ہونے کے بعد صرف 32000 روپے میں نجی کمپنی کو دی جائیں گی۔

یہ رقم اتنی کم ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ برپا ہے۔۔۔۔ کوئی اس پر یقین نہیں کر رہا اور ہر شخص یہ جاننا چاہتا ہے کہ اتنی اچھی بسیں نجی کمپنی کو کوڑیوں کے مول کیوں دے دی جائیں گی؟

بی بی سی نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ان بسوں کی قیمت اس قدر کم کیوں ہے، کیا واقعی یہ بسیں 12 سال کی مدت مکمل ہونے پر اتنی سستی قیمت پر نجی کمپنی کو دے دی جائیں گی اور پاکستان میں چلنے والی دیگر میٹرو بسیں فراہم کرنے والی کمپنوں کے ساتھ بھی کیا ایسے ہی معاہدے موجود ہیں؟

عمران، بی آر ٹی، پشاور، کھٹک

،تصویر کا ذریعہPM Media Cell

پشاور بی آر ٹی معاہدہ

پہلے ایک نظر ڈالتے ہیں پشاور میں چلنے والی بی آر ٹی بسوں کے معاہدے پر جس کے تحت کمپنی کے ساتھ دو سال پہلے 12 سال کے لیے معاہدہ کیا گیا ہے۔

اس معاہدے میں جہاں دیگر متعدد شقیں ہیں وہاں ایک شق یہ ہے کہ جب 12 سالہ یہ معاہدہ مکمل ہو جائے گا تو اس وقت یہ بسیں اس کمپنی کو دے دی جائیں گی۔ اس کے لیے علامتی قیمت مقرر کی گئی ہے جو 288 روپے اور 144 روپے ہے۔

اس معاہدے کے تحت کمپنی نے رضا مندی ظاہر کی ہے کہ وہ یہ بیس 12 سال مکمل ہونے بعد خریدیں گے۔ بی آر ٹی کا معاہدہ ڈائیوو کمپنی کے ساتھ کیا گیا ہے جو یہ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

آخر یہ بسیں اتنی سستی کیوں دی جائیں گی؟

اس بارے میں پشاور میں ٹرانس پشاور کی ترجمان صدف کامل کا کہنا تھا کہ یہ ایک بین الاقوامی طریقہ کار ہے اور دنیا بھر میں جتنی بھی میٹرو بسیں ہیں ان کی عمر مکمل ہونے پر یہ بسیں اسی ٹھیکیدار یا کمپنی کو دے دی جاتی ہیں جس کے ساتھ معاہدہ کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان بسوں کی عام طور پر عمر 12 سال تک ہوتی ہے اور اس کے بعد ان بسوں کا چلنا نقصان دہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں جتنی بھی میٹرو بس سروس ہیں ان سب کی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کیے جا چکے ہیں اور یہ بسیں مالکانہ حقوق پر عمر یا معاہدہ مکمل ہونے پر اس کمپنی کو دے دی جائیں گی۔

’یہ معاہدہ اس طرح ہوتا ہے ہے کہ کمپنی یا کنٹریکٹر کو فی کلومیٹر ادائیگی کی جاتی ہے اور یہ کمپنی ان بسوں کی مرمت اور ان کے چلانے کے اخراجات برداشت کرتی ہے۔‘

پشاور بی آر ٹی

صدف کامل نے بتایا کہ ’یہاں دو طرح کے معاہدے ہوتے ہیں ایک کے تحت بسوں کی خریداری کی بنیادی ادائیگی حکومت کرتی ہے اور دوسری صورت میں بسوں کی ابتدائی ادائیگی ان کا آپریشن چلانے والی کمپنی کرتی ہے۔ یہاں فرق یہ ہوتا ہے کہ اگر حکومت ادائیگی کرتی ہے تو فی کلومیٹر قیمت کم ہو جاتی ہے۔‘

’مثال کے طور پر پاکستان کے مختلف شہروں میں جو میٹرو بس سروس چل رہی ہیں ان میں معاہدوں کے تحت جن بسوں کی ابتدائی ادائیگی کمپنی نے کی ہے انھیں حکومت کی جانب سے بس کی قیمت میں 234 روپے فی کلومیٹر ادا کیے جا رہی ہے جبکہ پشاور میں بی آر ٹی نے جو معاہدہ کیا ہے اس کے تحت کمپنی کو 187 روپے فی کلومیٹر ادا کیے جا رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’بنیادی طور پر جو فرق آ رہا ہے وہ 47 روپے فی کلومیٹر کا آ رہا ہے۔ اگر ہم ایک بس کے سالانہ سفر کو دیکھیں تو ایک بس لگ بھگ 70000 کلومیٹر چلتی ہے۔ اگر اب 70000 کو 47 سے ضرب دیں تو 12 سال کی کم سے کم رقم چار کروڑ روپے بن جاتی ہے تو بس کی قیمت اس رعایت سے مکمل ہو جاتی ہے۔‘

صدف کامل کے مطابق جو بسیں بی آر ٹی کے لیے خریدی گئی ہیں ان کی اصل قیمت ڈیڑھ سے ڈھائی کروڑ روپے تک بتائی گئی ہے اور یہ فرق بسوں کی لمبائی کے حوالے سے ہے۔

پاکستان میں میٹرو بس سروس کے معاہدے

ذرائع ابلاغ اور پھر سوشل میڈیا پر یہ خبر ایسی وائرل ہوئی کہ ہر کوئی یہ سمجھ بیٹھا جیسے حکومت یہ بسیں کوڑیوں کے مول دے رہی ہے۔ یہ کوئی غلط بھی نہیں ہے لیکن ان کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں کے تحت جو رعایت کمپنی نے اس سروس کو چلانے میں دی ہے اس رعایت سے ہی آخر میں یہ بسیں کمپنی کو مل جائیں گی۔

لاہور میٹرو بس سروس، راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس، ملتان اور کراچی میں چلنے والی بس سروس کے معاہدے بھی ایسے ہی ہیں۔

خیبر پختونخوا میں بی آر ٹی کے لیے علامتی رقم تو کم از کم رکھی گئی ہے دیگر شہروں میں میٹرو بس سروس کے لیے یہ علامتی رقم بھی نہیں ہے، بس یہ لکھا گیا ہے کہ اس معاہدے کی مدت مکمل ہونے کے بعد یہ بسیں کمپنی کو مالکانہ حقوق پر دے دی جائیں گی۔