یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
11 مئی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے مختصر پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران کے نام نہاد ’نمائندوں‘ کی جانب سے دیا گیا جواب پڑھا ہے، یہ مکمل طور پر ناقابلِ قبول‘ ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
11 مئی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امریکی تجاویز کے جواب کو مسترد کر دیا ہے۔
ٹروتھ سوشل پر اپنے مختصر پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران کے نام نہاد ’نمائندوں‘ کی جانب سے دیا گیا جواب پڑھا ہے۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’یہ مکمل طور پر ناقابلِ قبول‘ ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کی پیشکش پر ایران کی جانب سے دیے گئے جواب کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
یہ جواب پاکستان کے ذریعے بھیجا گیا تھا جو اس تنازع میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
اسی ہفتے کے آغاز میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا تھا کہ ایران میں جنگ ’جلد ختم ہو جائے گی‘۔ تاہم اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ’ختم‘ کیے بغیر ایران کے خلاف جنگ کو ختم شدہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کو عسکری طور پر شکست دی جا چکی ہے اور اس کے پاس موجود ’افزودہ یورینیم کا ذخیرہ جب چاہیں چھین سکتے ہیں۔‘
یہ بات انھوں نے امریکی صحافی شَیریل ایٹکِسن کے ساتھ پروگرام دی نیشنل ڈیسک میں گفتگو کے دوران کہی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم کسی بھی مرحلے پر ایسا کر سکتے ہیں، جب چاہیں۔ امریکی فوج کے ذریعے اس مواد کی نگرانی کر رہی ہے، اور اگر کسی نے اس کے قریب جانے کی کوشش کی تو ہمیں فوراً پتا چل جائے گا اور ہم اسے نشانہ بنائیں گے۔‘
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف عسکری کارروائیاں ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے کیونکہ وہ غیر ذمہ دار ہے۔‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹرویو کے دوران کہا کہ ’ایران کی قیادت کے اہم حصے ختم ہو چکے ہیں۔ ایران کی اے ٹیم جا چکی ہے، بی ٹیم جا چکی ہے، اور سی ٹیم کا کچھ حصہ بھی ختم ہو چکا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ایران معاہدہ کرتا ہے اور پھر اسے توڑ دیتا ہے، پھر دوبارہ معاہدہ کرتا ہے اور اسے بھی توڑ دیتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر امریکہ آج وہاں سے نکل بھی جائے تو ایران کو دوبارہ اپنی صلاحیتیں بحال کرنے میں کم از کم 20 سال لگیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر انھوں نے ایران کے جوہری معاہدے کو ختم نہ کیا ہوتا تو ایران کے پاس جوہری ہتھیار آ چکا ہوتا اور وہ اسے اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں استعمال کرتا۔
ایک سوال کے جواب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو آبنائے ہرمز کی ضرورت نہیں اور ان کے بقول یہ اقدامات اسرائیل، سعودی عرب، عراق، قطر، متحدہ عرب امارات اور دیگر اتحادیوں کی مدد کے لیے کیے جا رہے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ مے دعویٰ کیا کہ امریکہ تیل اور گیس کی پیداوار میں روس اور سعودی عرب دونوں سے کہیں زیادہ پیداوار کرتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ’تاخیری حکمتِ عملی‘ اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران گزشتہ 47 برسوں سے امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ کھیل کھیل رہا ہے۔
ٹرمپ نےسوشل میڈیا پلیٹ فارم پر یہ بیان اپنی پوسٹ میں جاری کیا اور لکھا کہ ’یہ صورتحال اس وقت تبدیل ہوئی جب سابق امریکی صدر باراک اوباما صدر بنے اور ایران کو بڑا فائدہ ہوا۔‘
ٹرمپ کے بقول باراک اوباما ایران کے ساتھ نہ صرف اچھا رویہ رکھتے تھے بلکہ بہت زیادہ نرم تھے اور انھوں نے اسرائیل اور امریکہ کے دیگر اتحادیوں کو نظر انداز کیا اور ایران کو ایک نئی، مضبوط معاشی مہلت فراہم کی۔‘
امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کو سینکڑوں ارب ڈالر دیے گئے، جن میں 1.7 ارب ڈالر نقد رقم ’’چاندی کی تھالی میں رکھ کر‘ پیش کی گئی۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’واشنگٹن ڈی سی، ورجینیا اور میری لینڈ کے بینکوں سے یہ رقم نکالی گئی اور یہ اتنی زیادہ تھی کہ ایران پہنچنے پر ایرانی حکام کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس کا کیا کریں۔‘
ٹرمپ کے بیان کے مطابق ’ایرانیوں نے اس سے پہلے کبھی اتنی بڑی رقم نہیں دیکھی تھی۔ یہ پیسے ہوائی جہاز سے بیگوں اور سوٹ کیسوں میں اتارے گئے اور ایرانی اپنی خوش قسمتی پر یقین نہیں کر پا رہے تھے۔‘
امریکی صدر نے اوباما پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس تمام عمل کے دوران ایرانیوں کو ’سب سے بڑا فائدہ‘ ملا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق باراک اوباما امریکہ کے لیے ایک ناکام لیڈر ثابت ہوئے، تاہم وہ صدر جو بائیڈن سے کم خراب تھے۔
انھوں نے مزید کہا کہ پچھلے 47 برسوں کے دوران ایران امریکہ کو انتظار میں رکھتا رہا، سڑک کنارے بموں کے ذریعے امریکیوں کو نشانہ بنایا، احتجاج کو کچلا، اور حال ہی میں 42 ہزار بے گناہ، غیر مسلح مظاہرین کو ہلاک کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران امریکہ پر ہنستا رہا ہے، تاہم امریکہ اب دوبارہ مضبوط ہو چکا ہے اور ایران کوآئندہ ایسا کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔‘
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب ضلع مستونگ کے علاقے لکپاس میں واقع کسٹمز کے ویئر ہاؤس میں آگ بھڑک اٹھنے سے بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا ہے۔
بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق آگ کی وجہ سے 35 افراد زخمی ہوگئے۔
پی ڈی ایم اے کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ صبح تقریباً 11 بجے کے قریب آگ کی اطلاع موصول ہونے پر ریلیف کمشنر اور ڈی جی پی ڈی ایم اے بلوچستان کی ہدایات پر فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ موقع پر 30 ریسکیورز، 13 ایمبولینسز، چار فائر ٹرکس اور سات واٹر باؤزرز لگا دیے گئے۔
امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو فوری طور پر شیخ زید ہسپتال منتقل کیا جہاں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد شدید زخمیوں کو سول ہسپتال کوئٹہ اور بی ایم سی برن یونٹ منتقل کر دیا گیا۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق فیلڈ اسسمنٹ کے دوران ایک بڑے ایل پی جی باؤزر میں دھماکے کے نتیجے میں ڈی جی پی ڈی ایم اے، ڈپٹی کمشنر مستونگ، ونگ کمانڈر ایف سی اور اسسٹنٹ کمشنر سریاب بھی معمولی زخمی ہو گئے۔
پی ڈی ایم اے کے اعلامیہ کے مطابق ویئر ہاؤس کے اندر بڑی تعداد میں ایل پی جی سلنڈرز، ایندھن اور کیمیکل موجود ہونے کے باعث صورتحال انتہائی خطرناک رہی۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق اس کے پیش نظر ریسکیو ٹیموں نے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے محدود انداز میں کارروائیاں جاری رکھیں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ محکمہ کسٹمز کے مطابق ویئر ہائوس میں اربوں روپے مالیت کی پکڑی جانے والی غیر ملکی گاڑیاں اور قیمتی اشیاء موجود تھیں جو کہ آگ کی وجہ سے جل گئی ہیں۔
ایران نے کہا ہے کہ ان کی جانب سے ’جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکہ کی تازہ مجوزہ دستاویز‘ پر اپنا جواب آج پاکستان کے ذریعے بھیج دیا ہے۔‘
دوسری جانب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک تقریب سے خطاب کے دوران امریکہ کی تجاویز پر ایران کا جواب موصول ہونےکی تصدیق کی ہے۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں آپریشن بنیان المرصوص کا ایک سال مکمل ہونے پر تقریب سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ انھیں ’فیلڈ مارشل نے آگاہ کیا ہے کہ ایران کا جواب موصول ہوگیا ہے۔‘
تاہم ساتھ ہی انھوں نے واضح کیا کہ اس سے متعلق وہ مزید تفصیلات نہیں بتا سکتے۔
یاد رہے کہ ایرانی وزارت خارجہ کا اس سے قبل یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ’مکمل جائزہ اور حتمی مشاورت کے بعد‘ امریکی پیشکش کا جواب دے گی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ’مجوزہ منصوبے کے تحت اس مرحلے پر مذاکرات کا محور خطے میں جنگ کے خاتمے کے موضوع پر ہوگا۔‘
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکہ نے ایران کو ایک نئی تجویز پیش کی تھی، جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار کہہ چکے تھے کہ وہ تہران کے جواب کے منتظر ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی حالیہ تجویز ایک صفحے پر مشتمل 14 نکات پر مبنی تھیں۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں آپریشن بنیان مرصوص کا ایک سال مکمل ہونے پر تقریب سے خطاب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’ہم سجدہ شکر ادا کرتے ہیں کہ جس نے ہمیں اس مُشکل وقت میں کامیابی دی اور مُلک کے تحفظ کے لیے جان دینے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔‘
اسلام آباد میں پاکستان مونومنٹ پر خصوصی تقریب میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف سمیت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور مسلح افواج کے سربراہان شریک ہوئے۔
تقریب میں سپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ اور وفاقی وزرا بھی شریک ہیں۔ مختلف ممالک کے سفیر، سول اور عسکری حکام، شہدا کے لواحقین بھی تقریب میں موجود تھے۔
وزیر اعظم اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ ’انڈیا نے پہلگام واقعے کو بنیاد بناکر الزامات لگائے، ہم نے ہر قسم کی مہم جوئی کے انجام سے آگاہ کیا تھا، ہم نے واقعے کی ہرطرح کی تحقیقات کی پیشکش بھی کی تھی، مگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی جو کا افواجِ پاکستان نے تاریخی جواب دیا۔‘
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’ایک سال گزرنے کے باوجود انڈیا آج تک کوئی ثبوت پیش نہ کرسکا، میں 10 مئی کو یوم ’معرکہ حق‘ کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کرتا ہوں، ’معرکہ حق‘ ہرسال بھرپور جوش وجذبے سے منایا جائےگا۔‘
بعدازاں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے خطاب میں کہا کہ ’انڈیا نے پاکستان پر بلااشتعال حملہ کیا اور اس کے دوران انڈین فوج کی جانب سے عام شہریوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان پر انڈین فوج کے اس حملے کا جواب پاکستان کی مسلح افواج نے بھر پور انداز میں دیا۔‘
پاکستان کی صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں چوکی فتح خیل پر شدت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ پولیس لائن بنوں میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔
ریجنل پولیس آفس بنوں کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ میں ڈی آئی جی بنوں ریجن سجاد خان، ڈی پی او بنوں یاسر آفریدی، ڈی پی او لکی مروت نذیر خان، ایس پی سی ٹی ڈی فضل الواحد، ایس پی ہیڈکوارٹر محمود نواز، ایس پی سٹی توحید خان، ایس پی رورل حیدر خان سمیت اعلیٰ پولیس افسران، پولیس اہلکاروں اور ہلاک ہونے والوں کے لواحقین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈی آئی جی بنوں ریجن سجاد خان نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’بنوں پولیس ایک بہادر فورس ہے جس نے ہر مشکل اور کٹھن حالات میں جرات و بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔‘
ڈی آئی جی بنوں ریجن سجاد خان نے کہا کہ ’شدت پسندوں کی یہ بزدلانہ کارروائی ناقابلِ برداشت ہے اور ہلاک ہونے والوں کے خون کا حساب لیا جائے گا اور شدت پسندوں کو چن چن کر منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔‘
واضح رہے کہ پاکستان کی صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس چوکی پر شدت پسندوں کے حملے کے نتیجے میں 15 پولیس اہلکاروں ہلاک ہوئے جو کہ حملے کے وقت چوکی میں ڈیوٹی پر موجود تھے۔
اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک پولیس اہلکار کے حوالے سے بتایا تھا کہ شدت پسندوں کی جانب سے بارودی مواد سے لیس گاڑی پولیس کی چوکی سے ٹکرائی گئی تھی۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اُن کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغے گئے دو ڈرونز کو کامیابی سے نشانہ بنا کر فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے۔
واقعے میں کسی قسم کے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اس سے کچھ دیر قبل کویت نے بھی اپنی فضائی حدود میں ڈرونز کی شناخت اور انھیں بروقت نشانہ بنانے کی اطلاع دی تھی۔
تاہم یو اے ای کی جانب سے ان الزامات کے جواب میں ایران نے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر علی عبدالہی نے مُلک کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں کسی تصویر یا ویڈیو کے بغیر بتایا گیا ہے کہ خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کی مسلح افواج کی تیاریوں سے متعلق رپورٹ پیش کی، جس میں ایرانی فوج، پاسدارانِ انقلاب، سکیورٹی و پولیس فورسز، سرحدی محافظ دستے، وزارت دفاع اور بسیج فورس شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران مسلح افواج کی کارکردگی کو سراہا۔
دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی سات مئی کو رہبرِ اعلیٰ سے تقریباً ڈھائی گھنٹے کی ملاقات کا ذکر کیا تھا، تاہم اس ملاقات کے وقت کی وضاحت نہیں کی گئی۔
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے رہبرِ اعلیٰ کے دفتر پر حملے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای کی کوئی تصویر یا ویڈیو سامنے نہیں آئی اور ایرانی میڈیا صرف ان کے تحریری پیغامات ہی جاری کر رہا ہے۔
غزہ کے ریسکیو حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں میں کم از کم تین فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔
غزہ کے محکمہ صحت کے حکام نے اتوار کے روز بتایا کہ ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں حماس کے زیرِ انتظام پولیس فورس کے دو اہلکار بھی شامل ہیں۔
ریسکیو اہلکاروں کے مطابق ایک فضائی حملے میں غزہ کے المغازی پناہ گزین کیمپ میں ایک شخص ہلاک ہوا۔
دوسری جانب غزہ کی وزارت داخلہ نے بتایا کہ ایک اور حملے میں خان یونس پولیس کے سربراہ اور ان کے معاون کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لے جانے والا ’الخریطیات‘ نامی قطر کا ایک ٹینکر ایران کی اجازت سے آبنائے ہرمز عبور کر گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس جہاز کو ایک روز قبل آبنائے ہرمز کے داخلی مقام پر دیکھا گیا تھا، جس کے بعد اس نے اپنا خودکار شناختی نظام بند کر دیا تھا۔
فارس کے مطابق پاکستان جانے والا یہ جہاز پہلا غیر ایرانی ٹینکر ہے جسے ایرانی بحریہ کی جانب سے آبنائے ہرمز عبور کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
میرین ٹریفک ڈیٹا کے حوالے سے بتایا گیا کہ آخری موصول ہونے والے سگنل کے مطابق جہاز گزشتہ روز شام کے وقت آبنائے ہرمز میں جزیرہ قشم کے جنوب مشرق میں تقریباً 44 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود تھا۔ اس کے بعد تقریباً 14 گھنٹے تک اس کا سگنل بند رہا اور آبنائے ہرمز عبور کرنے کے بعد دوبارہ یہ مال برداد بحری جہاز ریڈار پر ظاہر ہوا۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے ایک ’باخبر ذریعے‘ کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ قطر کے ساحل کے قریب نشانہ بننے والا کارگو جہاز امریکہ کا تھا اور وہ ’امریکی پرچم‘ کے تحت سفر کر رہا تھا۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے نے بھی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والا کارگو جہاز امریکی ملکیت تھا اور امریکی پرچم کا استعمال کر رہا تھا۔
تاہم اس حوالے سے امریکہ کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے اس سے قبل یہ خبر دی تھی کہ ایک جہاز قطر کے دارالحکومت دوحہ سے تقریباً 43 کلومیٹر شمال مشرق میں ’نامعلوم قسم کے پروجیکٹائل‘ کا نشانہ بنا، جس کے نتیجے میں جہاز کو معمولی نقصان پہنچا اور اس میں آگ لگنے کی اطلاعات موصول ہوئی جس پر قابو پا لیا گیا۔
بلوچستان حکومت نے کوئٹہ شہر سے دو سوشل میڈیا ایکٹویسٹس کی گرفتاری سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف شکایات پہلے سے موجود تھیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند کا کہنا ہے کہ بلوچستان حکومت آزادی اظہارِ رائے کے آئینی حق پر یقین رکھتی ہے۔
دونوں سوشل میڈیا ایکٹویسٹس مقبول احمد جعفر اور ثنااللہ اچکزئی کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب کوئٹہ سے گرفتار کیا تھا۔
دونوں کے خلاف سائبر کرائمز ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ آن لائن منظم جھوٹے پروپیگنڈے اور ہتک عزت کی مہم میں مبینہ طور پر ملوث تھے۔
دونوں کو سنیچر کے روز جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرکے ان کی ریمانڈ حاصل کیے گئے۔
دونوں سوشل میڈیا ایکٹویسٹس حکومتی منصوبوں اور شخصیات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔
این سی سی آئی اے کا ان کی گرفتاری کے حوالے سے کیا کہنا ہے؟
بی بی سی کو مقبول جعفر کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر کی نقل موصول ہوئی جو کہ محکمہ داخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کی شکایت پر درج کی گئی ہے۔
این سی سی آئی اے کے ترجمان کی جانب سے میڈیا کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق ملزم ثناءاللہ اور مقبول احمد جعفر ایف آئی آر نمبر 14/2026 اور 16/2026 بجرم دفعہ 20، 26 اے پیکا 2016 (ترمیم شدہ 2025) تھانہ این سی سی آئی اے کوئٹہ میں مطلوب تھے۔
این سی سی آئی اے کا دعویٰ ہے کہ ’تفتیش سے انکشاف ہوا کہ ملزمان مسلسل مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے سینئر سرکاری افسران، شہریوں اور ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹا، گمراہ کن، ہتک آمیز اور اشتعال انگیز مواد پھیلا رہے تھے۔‘
این سی سی آئی اے کے ترجمان کے مطابق ’بلوچستان کے موجودہ سکیورٹی حالات میں ایسی منظم غلط معلومات کی مہمات کو عام سوشل میڈیا سرگرمی نہیں سمجھا جا سکتا۔‘
این سی سی آئی اے کے مطابق ’ریاست مخالف پروپیگنڈا اور بدنیتی پر مبنی ڈیجیٹل بیانیے، کالعدم عسکری تنظیموں اور ان سے وابستہ نیٹ ورکس کو سائبر سپیس کے ذریعے نفسیاتی ہیرا پھیری، نوجوانوں کی ذہن سازی اور امن و عامہ کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ریاست مخالف جذبات کو فروغ دینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔‘
دونوں گرفتار سوشل میڈیا ایکٹویسٹس کی جوڈیشل مجسٹریٹ الیون کوئٹہ کی عدالت سے ریمانڈ حاصل کیا گیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نے مقبول جعفر کو دو روزہ جبکہ ثنا اچکزئی کو پانچ روزہ ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے کردیا۔
گرفتار ہونے کی وجہ سے سوشل میڈیا ایکٹویسٹس کا موقف حاصل نہیں کیا جاسکا تاہم گرفتاری سے قبل وہ اپنے سوشل میڈیا پوسٹس میں حکومتی منصوبوں اور بعض سرکاری اہلکاروں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔
مقبول جعفر مبینہ حقوق انسانی کی پامالی کے حوالے سے بھی حکومتی اداروں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔
’دونوں کے خلاف شکایات پہلے سے موجود تھیں‘
وزیر اعلیٰ کے معاون برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند کا ان کی گرفتاری کے بعد ایک بیان کہا کہ ان گرفتاری سے بلوچستان حکومت کا کوئی تعلق نہیں۔
انھوں نے کہا کہ دونوں سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کے خلاف ایف آئی اے میں مختلف شکایات پہلے سے موجود تھیں۔
’ایک ایکٹوسٹ کے خلاف دو سرکاری افسران نے ذاتی حیثیت میں شکایات درج کرائیں۔ دوسرے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے خلاف ایک شہری کی درخواست پر انکوائری ابتدائی مرحلے میں تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ ایف آئی اے ایک وفاقی تحقیقاتی ادارہ ہے جو قوانین کے مطابق کارروائی کر رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سرکاری افسران نے اگر قانونی فورم سے رجوع کیا ہے تو حکومت ان کے حق دفاع کی حمایت کرے گی۔
پاکستان کے ساحلی شہر کراچی کی ملیر جیل میں پاکستان فوج کے اعزاز میں منعقدہ تقریب کے دوران ایک مجرم فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ فرار ہونے والا ملزم صحافی ولی بابر کے قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ ہے۔
ملیر کے شاھ لطیف ٹاؤن پولیس سٹیشن میں اسٹنٹ سپریٹینڈنٹ کی جانب سے دائر ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ سنیچر کی شام ساڑھے چھ بجے کے قریب پیش آیا جب جیل میں پاکستان فوج کے حق (انڈیا اور پاکستان کی مئی 2025 کی لڑائی کے ایک سال مکمل ہونے کی یاد) میں ایک تقریب جاری تھی جس میں جیل انتظامیہ اور سکیورٹی عملہ مصروف تھا۔
مدعی کے مطابق اسی دوران سرکل نمبر 01 کی بیرک نمبر03 میں قید سید طاہر نوید پراسرار طور پر غائب ہو گیا۔
سید طاہر نوید تھانہ جوہر آباد میں درج قتل اور اغوا کے مقدمے (دفعہ 302/365) میں ملوث تھا اور اسے حال ہی میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے حکم پر جیل منتقل کیا گیا تھا۔
اسٹنٹ سپریٹینڈنٹ کی جانب سے دائر ایف آئی آر میں پولیس اہلکاروں پر لاپروائی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ہیڈ کانسٹیبل اشرف، پولیس کانسٹیبل نور احمد بلوچ اور پولیس کانسٹیبل ہادی کو اس واقعے میں ملوث قرار دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ صحافی ولی خان بابرکو 13 جنوری 2011 کو کراچی میں قتل کیا گیا تھا، مارچ 2014 میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت نے اس کیس کا فیصلہ سنایا تھا جس کے مطابق دو مرکزی ملزمان، فیصل محمود اور کامران عرف ذیشان کو ان کی غیر حاضری میں سزائے موت سنائی گئی تھی جبکہ سید طاہر نوید، محمد علی رضوی، فیصل محمود اور محمد شاہ رخ خان کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
ملزمان نے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے جو تاحال زیر سماعت ہے۔
پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں جدید ٹکنالوجی بشمول سائبر وارفیئر اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس اہم کردار ادا کریں گی۔
اتوار کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا، ’مستقبل کی جنگیں ملٹی ڈومین آپریشنز پر مشتمل ہوں گی جس میں جدید ٹکنالوجی بشمول سائبر اور الیکٹرانک وارفیئر، ڈرونز، لان رینج ویکٹرز اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس اہم ترین کردار ادا کریں گی۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اس تناظر میں پاکستان میں ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹر قائم کر دیا گیا ہے، خلائی پروگرام کو وسعت دی جا رہی ہے اور آرمی راکٹ فورس کمانڈ بھی قائم کی جا چکی ہے۔
’پاکستانی فضائیہ کے لیے جدید ترین جنگی جہازوں کا حصول اور فتح میزائل سیریز اسی تسلسل کی چند ایک مثالیں ہیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ انڈیا کی ساتھ لڑائی میں فتح کا پاکستان کی خارجہ پالیسی سفارتی اہمیت پر بھی مثبت اثر پڑا ہے۔
فیلڈ مارشل کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اپنی موثر، ذمہ دارانہ اور غیر جانب دار سفارتکاری کے ذریعے تاریخی امن مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے۔
پاکستان کی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا، ’اقوام عالم نے جنگ بندی کرانے اور فریقین کو مذاکرات کے ذریعے خطے اور دنیا کو ایل ہولناک تباہی سے بچانے کی پاکستانی کوششوں کو سراہا ہے۔‘
’ہم ایران اور امریکہ بالخصوص صدر ٹرمپ کے انتہائی مشکور ہیں جنھوں نے اس مشکل کام کے لیے پاکستان پر اعتماد کیا۔‘
انھوں نے الزام لگایا کہ انڈیا اور افغانستان سے پاکستان کے اندر دہشتگردی جاری ہے۔
’افغانستان سے پاکستان کا صرف ایک مطالبہ ہے کہ وہ انڈیا کی ایما پر فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی پشت پناہی بند کرے اور اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے مراکز اور آماجگاہوں کا مکمل خاتمہ کرے۔‘
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس چوکی پر شدت پسندوں کے حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی تعداد 15 تک پہنچ گئی ہے۔
میڈیکل اینڈ ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ بنوں کے ترجمان نعمان خان نے تصدیق کی ہے کہ فتح خیل چوکی پر حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 15 ہو گئی ہے۔
ان کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام افراد پولیس اہلکار ہیں۔
اس کے علاوہ تین زخمیوں کو بھی ہسپتال لایا گیا تھا جن کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
اس سے قبل بنوں کے رینجل پولیس افسر سجاد خان کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ فتح خیل چوکی کی عمارت کے ملبے سے 12 پولیس اہلکاروں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ تین اہلکاروں کو زندہ ملبے سے نکال لیا گیا ہے۔
پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ برس پاکستان اور انڈیا کے درمیان جاری رہنے والی چار روزہ لڑائی کے بعد انڈیا نے جنگ بندی کی درخواست کی تھی۔
وہ اتوار کے روز پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والی لڑائی کے ایک سال مکمل ہونے کے حوالے سے راولپنڈی میں جی ایچ کیو میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ مئی 2025 کی لڑائی کے دوران پاکستان نے اپنی فضائیہ اور فتح میزائلوں کی مدد سے دشمن کے 26 سے زیادہ عسکری اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی فوجی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ’انڈیا نے جنگ بندی کی خواہش کا اظہار عالمی اور دیگر بیرونی قوتوں سے کیا۔‘
’شکست خوردہ انڈیا نے امریکہ کی سیاسی قیادت کے ذریعے ثالثی کی پیشکش کی، جسے پاکستان نے خطے کے وسیع تر امن کی خاطر قبول کیا۔‘
یاد رہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان تقریباً چار روز تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان اور انڈیا سیز فائر کے لیے راضی ہو گئے۔ وہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ رکوانے کا سہرا اپنے سر پر باندھتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری عسکری حکمتِ عملی کا محور جارحیت نہیں بلکہ امن کا تحفظ ہے۔
پاکستانی فوج کے سربراہ نے خبردار کیا کہ ’پاکستان کے خلاف آئندہ کسی بھی مہم جوئی کی کوشش کی گئی تو اس بار جنگ کے اثرات محدود نہیں بلکہ انتہائی وسیع، خطرناک، دوررست اور تکلیف دہ ہوں گے۔‘
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس چوکی پر شدت پسندوں کے حملے کے نتیجے میں 12 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی۔
بنوں کے رینجل پولیس افسر سجاد خان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فتح خیل چوکی کی عمارت کے ملبے سے 12 پولیس اہلکاروں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ تین اہلکاروں کو زندہ ملبے سے نکال لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق لاشوں اور زخمیوں کر فوری طور پر بنوں کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور ریسکیو و سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔
اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک پولیس اہلکار کے حوالے سے بتایا تھا کہ شدت پسندوں کی جانب سے بارودی مواد سے لیس گاڑی پولیس کی چوکی سے ٹکرائی گئی تھی۔
بنوں کے رینجل پولیس آفسر سجاد خان نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ حملے کے وقت چوکی میں 15 اہلکار ڈیوٹی پر موجود تھے۔
ایران نے آئندہ ماہ شروع ہونے والے فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کا اعلان کیا ہے، تاہم ٹیم کی شرکت کے حوالے سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں اس نے فیفا اور ٹورنامنٹ کے میزبانوں سے متعدد ضمانتوں کا مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے فیفا کے سامنے 10 شرائط رکھی ہیں۔ یہ ٹورنامنٹ 11 جون کو امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا میں شروع ہو رہا ہے۔
سنیچر کو جاری کیے گئے بیان میں شامل مطالبات میں اس بات کی ضمانت بھی شامل ہے کہ ٹیم کے ساتھ سفر کرنے والے تمام کھلاڑیوں، کوچز اور عہدیداروں کو ویزے جاری کیے جائیں گے بشمول ان افراد کے جنھوں نے ماضی میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب میں فوجی خدمات انجام دی ہیں۔
یہ مطالبات گذشتہ ماہ مہدی تاج کو فیفا کانگریس سے قبل کینیڈا میں داخلے کی اجازت نہ دیے جانے کے بعد سامنے آئے۔
پاسدارانِ انقلاب کینیڈا اور امریکہ میں دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد ہے، اور مہدی تاج کو اس تنظیم سے تعلق کے الزام میں کینیڈا میں داخل ہونے سے روکا گیا تھا۔