جب ٹوائلٹ ٹوٹ جانے کے بعد خاتون تین گھنٹے تک انسانی فضلے میں پھنسی رہیں

    • مصنف, کیلی این جی
  • مطالعے کا وقت: 4 منٹ

آسٹریلیا میں روڈ ٹرپ پر نکلی ایک خاتون کو اس وقت مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب راستے میں وہ رفع حاجت کے لیے سرک کنارے بنے ایک بیت الخلا میں گئیں اور ٹوائلٹ ٹوٹنے کے باعث وہ اس کے نیچے انسانی فضلہ جمع کرنے کے لیے بنائے گئے گڑھے میں دھنس گئیں۔

حکام کے مطابق وہ تقریباً تین گھنٹے تک انسانی فضلے سے بھرے گڑھے میں پھنسی رہیں اور بالآخر انھیں وہاں سے گزرنے والے ایک کاریگر نے رسی کی مدد سے ریسکیو کیا۔

فیس بک پر ایکشن فار ایلِس نامی کمیونٹی پیج پر جاری معلومات کے مطابق یہ خاتون اپنے شوہر اور دو بچوں کے ہمراہ سفر کر رہی تھیں۔

مذکورہ ٹوائلٹ ہینبری میٹی رائٹس کنزرویشن زون میں واقع ہے اور یہاں سے نزدیک ترین قصبہ ایلس سپرنگز 145 کلومیٹر فاصلے پر ہے۔

یہ دراصل ایک بنا فلش کا بنیادی قسم کا ٹوائلٹ تھا جو کسی گٹر کے نظام سے منسلک نہیں ہوتے۔ اس قسم کے بیت الخلا کو ’پِٹ ٹوائلٹ‘ کہا جاتا ہے اور کے نیچے ایک گہرا گڑھا بنایا جاتا ہے جہاں اس کا سارا فضلہ جمع ہوتا ہے۔ دیہات اور دور دراز علاقوں میں اس طرز کے بیت الخلا کافی عام ہوتے ہیں۔

آسٹریلیا کی نارتھرن ٹیرٹری میں کام کی جگہوں پر صحت اور حفاظت کی ذمہ دار این ٹی ورک سیف کا کہنا ہے کہ ہینبری کنزرویشن زون کی انتطامیہ کو اس متعلق اطلاع کر دی گئی ہے۔ این ٹی ورک سیف کا کہنا ہے کہ اس حادثے کے بعد تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

ایک عینی شاہد نے مقامی خبر رساں ادارے این ٹی نیوز کو بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والی خاتون کے شوہر کافی دیر کے بعد وہاں سے گزرنے والے ایک کاریگر سے مدد لینے میں کامیاب ہوئے۔

عینی شاہد کے مطابق اس کاریگر نے ایک رسی گڑھے میں لٹکائی جس کو خاتون نے پکڑا اور پھر کریگر نے انھیں اپنی گاڑی کی مدد سے باہر کھینچ کر نکالا۔

عینی شاہد نے این ٹی نیوز کو بتایا کہ اس سارے عمل میں تقریباً 45 منٹ لگے۔ عینی شاہد جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کا کہنا تھا کہ گڑھے میں انسانی فضلے اور پیشاب کے علاوہ بچوں کے استعمال شدہ پیمپرز بھی پڑے ہوئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق خاتون کو ہسپتال لے جایا گیا لیکن انھیں کوئی چوٹیں نہیں آئی ہیں۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ آسڑیلیا میں کسی ’پٹ ٹوائلٹ‘ میں ایسا واقعہ پیش آیا ہو۔

جولائی 2024 میں فائر فائٹرز کو ریاست وکٹوریہ میں ایسے ہی ایک ٹوائلٹ میں پھنس جانے والے شخص کو نکالنے کے لیے ٹوائلٹ توڑنا پڑا تھا۔

اس سے قبل 2012 میں ایک 65 سالہ خاتون کو سینٹرل کوئینز لینڈ میں ایسے ہی ایک ٹوائلٹ میں گرنے کے بعد ایئر لفٹ کر کے ہسپتال پہنچانا پڑا تھا۔ دی کوریئر میل کے مطابق اس حادثے میں ان کی ٹانگ کی ہڈی فریکچر ہو گئی تھی۔

کئی دیگر ممالک میں بھی پٹ لیٹرین کے باعث جان لیوا حادثات ہو چکے ہیں۔

2014 میں ایسے ہی ایک ٹوائلٹ کے گرنے کے نتیجے میں جنوبی افریقہ میں ایک پانچ سالہ طالبعلم کی موت ہو گئی تھی۔ 2018 میں ایک اور طالبعلم کی موت کے بعد انکشاف ہوا تھا کہ جنوبی افریقہ میں تقریباً 4 ہزار 500 سکولوں میں اسی طرز کے ٹوائلٹس ہیں۔ اس ہی سال جنوبی افریقہ کی حکومت نے تمام سکولوں سے اس طرح کے ٹوائلٹس ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔