’ترنول پھاٹک بھی آبنائے ہرمز ہے‘: اسلام آباد میں ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر ’غیرمعمولی‘ گرفتاری

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

’ترنول پھاٹک بھی آبنائے ہرمز سے کم نہیں، اسے اگر بند کر دیا جائے تو ہمارے سارے مسئلے حل ہو جائیں گے۔‘

اسلام آباد کے نواحی علاقے ترنول میں ٹرین کے گزرنے کے اوقات کے دوران پھاٹک بند ہونے کی وجہ سے ٹریفک جام کے حوالے سے ایک شخص کی جانب سے سوشل میڈیا پوسٹ پر اسلام آباد پولیس نے اس کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے جیل بھیج دیا ہے۔

مذکورہ شخص نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر کی گئی ایک پوسٹ میں اسلام آباد کے ایک علاقے کو ’آبنائے ہرمز‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اس علاقے کو بند کر دیا جائے تو تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔

یہ مقدمہ اسلام آباد کے نواحی علاقے ترنول کے تھانے میں درج کیا گیا ہے۔ اس مقدمے میں پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر دفعہ 188 اور دیگر دفعات لگائی ہیں۔ یہ مقدمہ تھانہ ترنول میں تعینات سب انسپکٹر کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

پولیس نے یہ مقدمہ ڈھوک پراچہ کے رہائشی خرم نذیر کے خلاف درج کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جس روز یہ مقدمہ درج کیا گیا اسی روز ملزم کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

اس مقدمے میں جب ملزم کو متعلقہ عدالت میں پیش کیا گیا تو عدالت نے ملزم کو جو ڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ترنول روڈ پر واقع پھاٹک کو پشاور جانے والی ٹرین کے گزرنے کے اوقات میں بند کر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک کچھ دیر کے لیے روک دی جاتی ہے۔ تاہم ٹرین کے گزرنے کے بعد اسے دوبارہ ٹریفک کے لیے کھول دیا جاتا ہے۔

پولیس کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لیے ملزم نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس پھاٹک کو آبنائے ہرمز سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ اگر اس کو بھی کچھ عرصے کے لیے بند کردیا جائے، تو ان کے مسائل حل ہو جائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ علاقہ مجسٹریٹ نے جب سوشل میڈیا پر اس تحریر کو پڑھا تو انھوں نے ملزم کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کا حکم دیا۔

فوجدادری مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل راجہ عمران علی کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ ایک 144 کی خلاف ورزی پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت کارروائی ہوتی ہے۔

راجہ عمران کا کہنا ہے کہ عمومی طور پر دفعہ 144 کا نفاذ شہر میں ڈبل سواری پر پابندی، پانچ یا پانچ سے زیادہ افراد کے ایک جگہ پر جمع ہونے، لاؤڈ سپیکر کا استعمال اور ہیلتھ ایمرجنسی کی صورت میں کیا جاتا ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کے پروفیشل کیریئر میں پہلی مرتبہ ہے کہ کسی شخص نے سوشل میڈیا پر پوسٹ لگائی ہو اور اس کے خلاف سیکشن 144 کی خلاف ورزی کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہو۔

سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور ڈیجیٹیل کرائم کو روکنے کے لیے نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگین اتھارٹی موجود ہے لیکن انھوں نے ملزم کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

دفعہ 144 کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر مجرم کو ایک ماہ قید اور 6 سو روپے جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ جس روز ملزم کو گرفتار کر کے متعقلہ عدالت میں پیش کیا گیا تو عدالت نے اسی روز ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجے جانے کے بعد ان کے وکیل نے متعقلہ عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کی ہے جس کی سماعت آج ہونی ہے۔

مقدمے کے تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ عمومی طور پر ایسے مقدمات میں ملزم کی پہلی پیشی پر ہی ضمانت ہوجاتی ہے۔

ایران اور امریکہ کے تنازع کو لے کر دونوں ملکوں کے درمیان مزاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہونا ہے جس میں دونوں ملکوں کی اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔

اسی وجہ سے اسلام اباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے شہر میں داخل ہونے والے راستوں کو کہیں سے جزوی اور کہیں سے مکمل طور پر بند کردیا ہے۔ سڑکوں کی بندش کی وجہ سے شہر میں اشیائے خوردونوش کی سپلائی میں کمی دیکھی گئی ہے جبکہ ہیوی ٹریفک کی اسلام آباد میں داخلے پر پابندی کی وجہ سے شہر میں واقع مختلف پیٹرول پمپس میں پیٹرول اور ڈیزل کی کمی کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔

تاہم ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اشیائے خوردونوش سے بھرے ہوئے ٹرکوں کو مخصوص اوقات میں شہر کے مختلف علاقوں سے گزرنے کی اجازت ہے۔

اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی میں بھی واقع محتلف مارکیٹوں کی طرف جانے والے راستوں کو ٹینٹ لگا کر بند کر دیا گیا ہے جس پر ان مارکیٹوں میں کام کرنے والے تاجر سراپا احتجاج ہیں۔

متعدد تاجروں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ضلعی انتظامیہ نے انھیں اپنی دکانیں کھولنے کی اجازت تو دی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان مارکیٹوں کی طرف جانے والے راستوں کو بند کر دیا ہے۔

ان تاجروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ پانچ روز سے وہ دکانیں کھول کر بیٹھے ہیں لیکن گاہک سڑک کی بندش کی وجہ سے واپس چلے جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ گاہکوں کے نہ ہونے کی وجہ سے دکاندار زہنی اذیت کا شکار ہیں۔

دوسری جانب مسلسل پانچویں روز بھی ریڈ زون میں واقع متخلف وزارتوں اور پارلیمنٹ ہاوس کے ملازمین کو ورک فرام ہوم کرنے کا کہا گیا ہے جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت نے بھی عدالتی سرگرمیاں معطل کر رکھی ہیں۔ سپریم کورٹ کا محدود عملہ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ اکثریت گھروں سے ہی کام کر رہی ہے۔