آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اسلام آباد میں وزیر اعظم ہاؤس کے عقب میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران کیا ہوا؟
- مصنف, آسیہ انصر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
اسلام آباد پولیس نے وزیر اعظم ہاؤس کے عقب میں واقع محلہ نوری باغ (نور پور شاہاں) میں تجاوزات کے خلاف ہونے والے ایک آپریشن کے دوران مقامی افراد کی جانب سے مبینہ طور پر سرکاری گاڑیاں نذر آتش کرنے، اہلکاروں کو زخمی کرنے، اقدام قتل اور سرکاری کاموں میں مداخلت سمیت دیگر الزامات کے تحت درجنوں معلوم و نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کے افسر کی مدعیت میں درج ہونے والے اس مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
منگل کے روز وفاقی دارالحکومت میں وزیر اعظم ہاؤس کے عقب میں واقع مزار بری امام کے قریب محلہ نوری باغ میں غیرقانونی سٹرکچرز کو گرانے کے اس آپریشن میں پیش آئے پُرتشدد واقعات میں سرکاری اہلکاروں کے علاوہ مقامی افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس کے مطابق اس موقع پر جوابی کارروائی کے دوران درجنوں ملزمان کو گرفتار بھی کیا گیا۔
تاہم بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے متاثرین نے دعویٰ کیا کہ اس آپریشن کے دوران اُن کے خلاف سرکاری اداروں کی جانب سے بے جا طاقت کا استعمال کیا گیا اور یہ کہ وہ جن گھروں میں رہتے ہیں وہ ان کی قانونی ملکیت ہیں کیونکہ انھوں نے لاکھوں روپے کے عوض یہ مکان خریدے تھے۔
تاہم سی ڈی اے انھیں غیرقانونی اور تجاوزات قرار دیتی ہے۔
وزیر اعظم ہاؤس کے عقب میں آپریشن کیوں کیا گیا؟
سی ڈی اے حکام نے اس معاملہ پر موقف دیتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ’احتجاج کرنے والے غیر قانونی ہاؤسنگ میں رہ رہے تھے۔ ایسی زمین پر جس پر کوئی پراپرٹی ٹیکس نہیں اور جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ چونکہ اس جگہ پر اب ترقیاتی کام ہونے ہیں، چنانچہ حکام نے یہاں غیرقانونی رہائش پذیر افراد کو نکلنے کا کہا تاہم غیرقانونی طور پر مقیم افراد نے اس کے خلاف مزاحمت کی۔‘
سی ڈی اے کے مطابق اس آپریشن کے دوران ’منگل کے روز 60 کنال زمین وا گزار کروائی گئی جبکہ مجموعی طور پر مسلم کالونی سمیت دیگر علاقوں میں اب تک 600 ایکڑ زمین وا گزار کروائی جا چکی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُن کے مطابق ’نوری باغ میں کُل 70 گھر خالی کروائے گئے جبکہ تجاوزات خالی کرنے کا کام جاری ہے۔‘
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’غیر قانونی سٹرکچرز پورے اسلام آباد سے ختم کرنے کے لیے احتیاط مگر تیزی سے کام جاری ہے۔‘
اُن کے مطابق ’عدالتی احکامات کے بعد جب قبضہ چھڑوانے کے لیے ٹیمیں وہاں گئیں تو قانون نافڈ کرنے والوں پر حملہ کیا گیا جس میں اہلکار زخمی ہوئے جبکہ سرکاری گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’یہ زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو پچھلی حکومتوں سے اس زمین کے عوض معاوضہ لے چکے ہیں اور جگہ خالی کرنے سے متعلق بیشتر مواقع پر وعدے وعید بھی کر چکے تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ اسلام آباد میں غیرقانونی تجاوزات اور قبضے کے خلاف آپریشن بغیر کسی دباؤ کے جاری رہے گا۔
وزیر مملکت کے مطابق تجاوزات کے ذریعے اسلام آباد کی گرین لینڈ کو ’براؤن لینڈ‘ میں بدل دیا گیا اور اب اس حوالے سے حکومت کی واضح پالیسی ہے کہ پورے اسلام آباد سے اس نوعیت کے غیرقانونی کام کا خاتمہ کیا جائے گا۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ مقامی افراد کے دعوؤں کے برعکس یہ آپریشن راتوں رات نہیں کیا گیا اور اس ضمن میں تین ماہ پہلے نوٹسز دیے گئے تھے جبکہ تجاوزارت پر مارکنگ کی گئی تھی اور بینرز آویزاں کیے گئے تھے۔
سی ڈی اے نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں بہت سے مقامی افراد اس جگہ کی ملکیت کا دعویٰ لے کر متعدد عدالتوں بشمول ہائیکورٹ گئے مگر تمام عدالتوں سے فیصلے اُن کے خلاف آئے اور تمام تر قانونی کارروائیاں پوری کرنے کے بعد یہ آپریشن کیا گیا۔
مقامی آبادی کا دعویٰ
بی بی سی اُردو سے بات کرنے والے مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ وہ اس جگہ کے قانونی مالک ہیں جسے سی ڈی اے بذریعہ آپریشن ان سے لینا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق اس عمل کے دوران بے جا طاقت کا استعمال کیا گیا جس کے باعث کافی افراد زخمی ہوئے ۔
اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پولی کلینک کے حکام نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو تصدیق کی ہے کہ اس پرتشدد احتجاج کے بعد سات زخمی پولی کلینک لائے گئے تھے جنھیں ربڑ کی گولیاں لگی تھیں تاہم معمولی نوعیت کے زخم ہونے کے باعث مرہم پٹی کر کے انھیں واپس بھیج دیا گیا۔
نورپور شاہان کے رہائشی سعید نے اپنے 12 سالہ بیٹے کے زخمی ہونے کا احوال بی بی سی کو بتایا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ منگل کی دوپہر ’تقریباً ساڑھے چار بجے شام کا وقت تھا جب مجھے فائرنگ کی آواز آئی۔ میں نے گھر میں بچوں کے بارے میں پوچھا تو پتا چلا کے میرا بیٹا گھر سے دودھ لینے نکلا ہے۔ ابھی میں اسے دیکھنے نکلنے لگا تھا کہ دو بچے میرے بیٹے کو لے کر آئے جس کی ٹانگیں اور کمر زخمی تھی اور اس کے کپڑے خون سے تر تھے۔‘
بی بی سی سے بات کرنے والے متعدد افراد کا الزام ہے کہ منگل کی سہہ پہر جب احتجاج تھم چکا تھا تو اُس وقت پولیس کی جانب سے ’بلاوجہ‘ ربڑ کی گولیاں چلائی گئیں، آنسو گیس فائر کی گئی اور فائرنگ کی گئی۔
تاہم اس واقعے سے متعلق درج ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس کارروائی کے دوران معلوم اور نامعلوم مسلح افراد نے پولیس اور مقامی افراد پر اندھا دھند فائرنگ کی اور پیٹرول بم پھینکے گئے۔ مقامی افراد کا الزام ہے کہ فائرنگ پولیس کی جانب سے کی گئی۔
سعید کے مطابق وہ اپنے بیٹے کو لے کر قریب واقع سرکاری ہسپتال پولی کلینک گئے جہاں سے انھیں پمز ہسپتال ریفر کیا گیا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہم پمز آئے تو یہاں پولیس نے میرے بیٹے کے زخمی ہونے کی رپورٹ نہیں بنائی۔‘
سعید کے مطابق ’جن لوگوں کے گھر منگل کے روز مسمار کیے گئے تھے، انھوں نے جب احتجاج کیا تو ان کو پولیس پکڑ کر لے گئی۔ آج آپریشن والے علاقے میں اس وقت صورتحال یہ نظر آ رہی ہے کہ وہاں اس وقت لوگ اپنے ٹوٹے گھروں سے سامان سمیٹ رہے ہیں۔‘
’تجاوزات کے نام پر آپریشن نئی بات نہیں‘
قائد اعظم یونیورسٹی سے وابستہ ایسوسی ایٹ پروفیسر عاصم سجاد اختر نے اس حوالے سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اسلام آباد میں تجاوزات کےنام پر آپریشن کوئی نئی بات نہیں، یہ ہر چند سال کے بعد ایسی لہر آتی ہے جس میں سی ڈی اے ایسا آپریشن کر گزرتی ہے۔‘
اُن کے مطابق ’پہلے کیونکہ مشترکہ جائیدادوں کا تصور عام تھا اور یہ پراپرٹیز 1960 کے سی ڈی اے آرڈیننس کے تحت اونے پونے داموں خریدیں گئیں۔ بہت سے لوگ ان پڑھ ہونے کے بعث ان معاہدوں کو سمجھنے سے بھی قاصر تھے۔ کئی جگہ پر کاغذی کارروائیاں تو ہوئیں مگر کس کو کیا ملنا تھا اس پر ابھی تک ابہام ہے۔‘
عاصم سجاد اختر کہتے ہیں کہ ’کچی آبادیوں کے خلاف آپریشن تو مختلف چیز ہے، یعنی وہ مقامات جہاں سی ڈی اے نے سینیٹری ورکرز سمیت کافی ورکرز کو خود بسایا لیکن بہت سی آبادیاں ایسی ہیں جہاں اسلام آباد بننے سے پہلے کے گاؤں آباد ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’انکروچمنٹ کے نام سے ایک بلینکٹ ٹرم استعمال کر کے سی ڈی اے کچی آبادی سمیت کئی ایسی جگہ پر آپریشن کر رہی ہے مگر اس بات کا جواب نہیں دے رہی کہ محنت کش خاندانوں کی رہائش کے لیے اسلام آباد میں کون سے منصوبے بنائے گئے ہیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ کم آمدنی والے طبقے کی رہائش کے لیے پلاننگ کا بحران دکھائی دیتا ہے اس سے قطع نظر کہ اسلام آباد باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بسایا گیا تھا ۔
ویژن 2027: اسلام آباد کو سمارٹ سٹی بنانے کا مبینہ منصوبہ
سی ڈی اے حکام کے مطابق بری امام سے ملحق علاقوں کو خالی کروانے کا مقصد یہاں ڈولیپمنٹ کرنا ہے تاہم انھوں نے اس کی وصاحت نہیں کی کہ یہاں تعمیرات کا کون سا منصوبہ زیر غور ہے۔
تاہم اس کا ایک اشارہ وزیر داخلہ محسن نقوی کے کراچی چیمبر اور کامرس میں دیے گئے ایک حالیہ بیان سے ملتا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ’اسلام آباد میں پرائم منسٹر ہاؤس کے پیچھے اور مارگلہ کے پہاڑوں کے ساتھ ایک جگہ ہے، جسے ہم شنگھائی اور مین ہیٹن کے طرز تعمیر کا مکسچر بنا رہے ہیں جہاں بلند و بالا عمارتیں ہوں گی اور وہ ایک نیا شہر بننے جا رہا ہے جہاں بزنس اور سرمایہ کاروں کے لیے بہترین مواقع ہیں۔‘
محسن نقوی نے اس موقع پر اسلام آباد میں نئے ہوٹلز کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے سرمایہ کاروں کو انویسٹمنٹ کی دعوت دی۔
تو پہاڑوں کے دامن میں واقع دنیا کے خوبصورت دارلحکومتوں میں شمار کیے جانے والے اسلام آباد میں مزید تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
ہم نے اس کا جواب ڈھونڈنے کے لیے وزارت داخلہ کے حکام سے رابطہ کیا تو نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک افسر نے بتایا کہ ویژن 2027 کے نام سے اسلام آباد کو پہلا سمارٹ سٹی بنائے جانے کا ایک منصوبہ زیر غور ہے۔
حکام کےمطابق اس منصوبے میں پانی، سالڈ ویسٹ کو ٹھکانے لگائے جانے سمیت دیگر ایسے منصوبوں پر کام کیا جانا شامل ہے جس میں سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع میسر آ سکیں۔
حکام کے مطابق ’ویژن 2027 کے نام سے منسوب اس منصوے کو دو سے تین سال تک پایہ تکمیل پہنچانے کا عزم ہے تاہم امریکہ ایران جنگ اور اس کے بعد پاکستان کے رول کے باعث اس منصوبے کو ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا جا سکا۔‘